خوش آمدید
یہاں آپ علی محمد فرشی کی یک کتابی طویل نظم ’’علینہ‘‘ کے متعلق معتبرادیبوں کی تنقیدی تحریریں ملاحظہ فرمائیں گے۔

ڈاکٹر ستیہ پا ل آنند
علینہ اور عرفان کی سطح مرتفع
ادھر بیس پچیس برسوں سے کچھ ایسے ہونے لگا ہے کہ تنقید نگار کے پاس سوائے توصیفی تبصرے لکھنے ، کتابوں کے فلیپ پر اشاعت کے لیے تعریفی کلمات تحریر کرنے اور یا (کبھی کبھار) مغرب کی تنقیدی تھیوریوں کا بھرکس نکال کر ، انھیں چبا چبا کر ، ان کا ملغوبہ پیش کرنے کے اور کوئی کام نہیں رہ گیا۔
علی محمد فرشی کی ’’ علینہ ‘‘ کو میں نے کوئی چھہ سات مرتبہ پڑھا ہے ۔ اس کے تہ در تہ معانی ، پرتوں کے اندر پوشیدہ پرتوں ، بدلتی رتوں کی طرح شاعر کے تخاطب میں ( اور لہجے میں ) نوعی تبدیلیاں ، اندازِ گفتگو میں تحلل وحلو ل ۔ اور ان سب میں ایک دائمی پائیداری ، مربوط تسلسل ، جو شاعر اور علینہ کے باہمی رشتے کو تغیر وتبدل میں بھی استقامت و استقلال بخشتے ہیں ۔ چھہ سات بار کے مطالعے نے ان منزلوں سے بار بار گزرتے ہوئے مجھے رستے میں کئی بار رُک کر اطراف کا جائزہ لینے پر بھی مجبور کیا ہے کہ کہیں بھٹک نہ جائوں ۔
’’ علینہ ‘‘ کو دیکھیں ، تو سب سے پہلے ٹائٹل کی خواب ناک فضا متاثر کرتی ہے ۔ گنبد اور مینار پس منظر میں تہ در تہ پھیلے ہوئے ہیں ۔ جیسے چھٹکی ہوئی چاندنی زیب تن کیے ہوئے ہوں ۔ پیش منظر میں خشک ٹہنے پر لٹکتی ہوئی ایک سر سبز شاخ یا ہری بھری بیل ہے ۔ ٹہنے پر یا بیل پر ایک لمبے بال وپر والاپرندہ جو شاید آرٹسٹ کے ذہنی اختلاط باہمی میں ہنس اور طائوس کا مرکب ہے ۔ البتہ یہ بال وپر ایک حسینہ کے شانوں تک یا ا س سے بھی نیچے تک لٹکے ہوئے بال بھی ہوسکتے ہیں جو مسجد کی محراب تک پھیلے ہوئے ہیں ۔
میں نے تفصیل سے ٹائٹل کا ذکر صرف مسجد یا مقبرے کے حوالے سے او رپیش منظر میں سوکھے ہوئے ٹہنے پرلٹکتی ہوئی ہر ی بھری بیل اور پر اسرار یت کے ماحول میں اس خوبصورت پرندے کا ذکر شاید اس لیے کیا ہے کہ مجھے اس پرند ے میں اور ققنس کا جو نقشہ میرے ذہن میں ہے۔ اس میں ایک خاص قسم کی مشابہت نظر آئی اور مجھے ایسے لگاکہ علینہ نے ققنس کی طرح عورت کی شکل میں ایک ملکوتی فوق التصور دیوی کے روپ میں فرشی کی شاعری میں جنم لیا ہے ۔ اس شعری چولے میں وہ ’جونو ‘بھی ہوسکتی ہے۔’ اروشی‘ یا ’گیلا تیا ‘بھی ۔ میں کوشش کروں گا کہ کچھ آگے چل کرمیں اس پر کچھ اور لکھوں ۔
’’علینہ ‘‘ کا پیچیدہ علامتی پیٹرن یکسر پیچیدہ نہیں رہتا اگر اسے واکر نے کی کلید ہمارے ہاتھ میں ہو۔ سبھی تمثالیں معاصر زندگی سے لی گئی ہیں۔ سبھی استعارے جانی پہچانی لفظیات کا لباس پہنے ہمارے سامنے آئے ہیں ۔ نہ تو غز ل کی فرسودہ روایت سے مستعا ر،علالت زدہ عاشقی اور اذیت پرستی کی لذتیت !ان استعاروں کو نیمے دروں نیمے بروں رہنے کا ہنر سکھاتی ہے اور نہ جدید یت کی انتشار پسند ی، انحطاط ،عریاں نگاری اور معاشرتی تقاضے سے گریز اِن استعاروں کے پیچھے کا رفرماہے ۔
یہ نظم مجھے عرفان کی سطح مرتفع پر ایک پرانے مقبرے کی طرح بھی دکھائی دی ، جو ماضی سے چل کر زمانۂ حال تک پہنچا ہے اور جو ں کا توں اپنی سفیدی کا ’’چوناگچ ‘‘ چولاپہنے کھڑا ہے ۔ دوسری طرف ایک اور سطح پریہی نظم حساسیت سے مملو ذاتی ، شخصی ، جسمانی ، اور خالص طبیعی زمین پر مضبوطی سے قدم جمائے ہوئے ہے۔اگر مجھے آڈن کے تتبع میں ایک اصطلاح استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئے تو میں اِ ن دونوں کے اشتراک کو ’’مادی عرفان‘‘کہوں گا۔
میں نے پہلے جدیدیت کا ذکر کچھ تضحیک آمیز لہجے میں کیا ۔ شاید یہ زیادتی تھی کیوںکہ جدیدیت کے دورنے ترقی پسند تحریک اور آج علی محمد فرشی کے قبیلے کے شعرا کے مابین ایک پُل کا کام بھی کیا ہے او راس لحاظ سے جدیدیت کی ’خدما ت ‘ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ کسی زمانے میں جدیدیت کے علم بردار وں نے ترقی پسند تحریک سے بغاوت کے شوروغوغے میں اس بات پراصرار کرنا معیوب نہیں سمجھا تھا کہ اصلی شاعری وہ ہے جو سماجی ، تاریخی اور ادبی منظر سے قطعِ نظر اور ثقافتی و سیاسی شعور کو بالائے طاق رکھ کر صرف اور صرف اپنے تاثر پر انحصار کرتی ہے ۔ اسے کسی پس منظر یا پیش منظر کی بیساکھیاں درکار نہیں ہیں ۔ اسے شاید عینیت پرستی کا رویہ سمجھا جائے اور میں اس رویے کو رد کرتا ہوابھی اس کے ایک پہلو سے اتفاق کرتاہوں کہ ہم لوگ شاعری کا جو معیار بھی قائم کریں ، ایک نظم چاہے وہ پچاس سطروں کی ہو یا پانچ سو سطروں کی ، جب تک اپنے اندر دیر پا تاثر قائم کرنے اور اسے قائم رکھنے کی قدرت سے عاری ہے ۔ وہ نظم جلد یا بہ دیر تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دی جاتی ہے۔
’’علینہ ‘‘ کو پرکھنے کے لیے میرے پاس کچھ پیرامیٹرزہیں جن سے میں چند ایک کو چن کر ایک فیتے کی طرح اس نظم کو ماپنے کی کوشش کروں گا ۔ شاید کوئی فیتہ کہیں فٹ بیٹھ جائے۔
سب سے پہلا اور سب سے آسان پیمانہ ’’علینہ ‘‘ کو شاعر کی ذاتی ڈائری کے طور پر پرکھنے کا ہے سلیم احمد نے ن م راشد کے بارے میں اپنے ایک مضمون میں حیات اللہ انصاری پر یہ اعتراض کیا تھا کہ موصوف نے راشد پر اپنی کتا ب میں جو، ایک عرصے تک حرفِ آخر کی طرح پڑھی گئی، راشد کی شاعری کو ان کی ذاتی ڈائری کے طور پر پڑھا او ر راشد اور ان کے دوست اور ہم عصر میر اجی کے ذہنی اور نفسیاتی امراض کو گنواتے ہوئے ان کی منظومات کی چیر پھاڑ ایسے کی جیسے ایک سائیکا ٹرسٹ کرتا ہے یعنی راشد کے دور کے ادبی پس منظر (بہ شمول تنقیدی رویوں ) سماجی اور معاشرتی پس منظر (بہ شمول سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ ) اور تاریخی پس منظر (بہ شمول قومی اور بین الاقوامی سیاست ) کو یکسر فراموش کردیا ۔ مجھے سلیم احمد کی بات سے اتفاق ہے اور مجھے ڈر ہے کہ ’’علینہ ‘‘ کو شاعر کی ذاتی ڈائری کے طور پر پرکھنے میں ان تقاضات کو اگر یکسر فراموش کردیا جائے تو یہ بہ جانہ ہوگا۔
ایک منٹ کے لیے اگر یہ فرض کریں کہ علینہ ہی ڈائری ہے اور علینہ ہی اس ڈائری میں مندرج واحد متکلم ( فرشی ، شاعر ، علیزے) کے رُوبہ رُوکھڑی ہوئی عور ت ہے ۔ اور اگر اب یہ بھی فرض کرلیں کہ ڈائری اور ڈائری میں مندرج علینہ کا چہر ہ مہرہ ، خدوخال ، اس کے شاعر کے تیئںجذبات واحساسات ، ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں تو مشکل کچھ آسان ہوجاتی ہے یعنی ایلن فرینک کی ڈائری سے لے کر میری شیلی، ژاں کرائچن اور بوسنیا کے نظر بندی کے کیمپ میں تحریر کردہ مامت غفور کی ڈائریاں ، جو بہ یک وقت ڈائری نویس کی خود نوشت، روزانہ زندگی کی منظوم تفصیل سے مملو سوانح بھی ہیں اور کہیں دوسرے فرد یا پوری قوم یا پوری دنیا کے نام تحریر کردہ ایک رسالہ بھی ۔ تو میری مشکل کچھ اور آسان ہوجاتی ہے ۔ مجھے پہلے منظر میں ہی او ّلین سطور اس ڈائری کا زمینی ، زمانی اور منطقی نقطۂ آغاز نظر آئیں۔
علینہ
سن رہی ہے تُو ؟
پرانی ہڈیوں میں دوڑتی
دیمک کی بے چینی
لہو میں ہانپتی ، رکتی ، تھکی ہاری
حرارت کی بکھرتی ، ٹوٹتی سانسیں
لبوں پر تھرتھراتی
ایک معمولی تمنا کی دعائیں
اور آنکھوں سے اُترتی
ریت کی بارش میں گرتی التجائیں
گم شدہ منظرکی آہیں
سن رہی ہے تُو ؟
تو لیجیے ، زمینی اور زمانی نقطۂ آغاز قائم ہوگیا ۔ ایک مقبرہ ، ایک پرانی قبر ، ایک استخواں۔ ان ہڈیوں میں دوڑتی ہوئی بے چین دیمک ، او راستخوانی ہاتھ کی ۔۔۔
شہاد ت کی چمکتی
نور انگلی کے اشارے سے
مجھے تونے بتایا تھا
زمانہ ایک دریا ہے
اور اس پر ’آج ‘کاپُل ہے
اِسی پُل پر کھڑے ہو کر
کبھی تو نے مجھے آواز دی تھی۔۔۔
ماضی کی علینہ اپنے استخوانی ڈھانچے سے باہر نکل کر ایک ڈائری کی شکل میں علی محمد فرشی کے اندر کے شاعر کو بہ نفسہٖ ایسے آواز دیتی ہے جیسے ایلن فرینک کی ڈائری آج کے قاری کو نازی مظالم کی داستان سنائے یا مامت غفور کی ڈائری بوسنیا میں ہونے والے وحشت اور بربریت کے برہنہ رقص کی تصویر پیش کرے ۔ لیکن یہ موازنہ صرف اس حد تک ہے کہ علینہ ہی ڈائری ہے او ر علینہ ہی واحد متکلم کے رُو بہ رُو کھڑی ہوئی عورت ۔ وحشت اور بربریت ان دو ڈائریوں کے صفحات کا حصہ ہیں ’’ علینہ ‘‘ کا نہیں
پہلے منظر میں ہی شاعر اپنی علینہ تک ’ نارسیدگی‘ یعنی اس کے جو ہر تک نہ پہنچ سکنے کا عذر پیش کرتا ہے جیسے کہہ رہا ہو نہ ،علینہ مجھ سے یہ کام نہیں ہو سکے گا ۔ میں بے بال وپر ہوں میں اس پُل کو پار کرنے کی ہمت نہیں رکھتا ۔
علینہ
اب یہاں اک سوختہ ،خستہ
شکستہ ہڈیوں کا بھر بھر ا پُل ہے
اور اس کے ہر طرف پھیلا ہوا کُل ہے
میں اس ٹوٹے ہوئے پُل سے
ازل سے تا ابد پھیلے ہوئے کُل میں
بکھرتی ریت کے منظر میں گرتا جارہا ہوں
پرانی ہڈیاں ، دیمک ، ٹوٹنے ، رکنے ، تھکنے ،ہارنے، بکھرنے کا یہ فی نفسٖہ منظر صوتی اعتبار سے ایک یا ددہانی کی شکل میں ہے ۔ سن رہی ہے تو ؟ میں استفہام کا چبھتا ہو اکانٹا یاد دلاتا ہے کہ ’’علینہ!تم اور میں دونوں پیش از مرگ آگاہی کے اعلامیے سے واقف نہیں ہیں ۔‘‘ لیکن پھر بھی ۔۔۔ کیا تو سن رہی ہے کہ موت کا نقار ہ بج چکا ہے اور یہ آوازیں اس پر صا د ہیں کہ جسم نے اس آواز کو سن لیا ہے ۔
پہلے منظر میں ( اسے ایک دن ایک ہفتے ، ایک ماہ یا ایک برس کی ڈائری کے اندراج سمجھنے میں کوئی قباحت نہیں ) علینہ کا تشخص مادی پیکر کی شکل میں نہیں ۔ صرف ایک ہیولے کی شکل میں ابھر تا ہے ۔ علینہ نے ہی یعنی ڈائری نے ہی شاعر یعنی’’ ڈائری ‘‘کے قاری کو آگاہ کیا تھا۔ ’’زمانہ ایک دریا ہے‘‘ علینہ نے ہی گزرے ہوئے’’ کل‘‘ کی اندھیری دھند سے خود نکلنے اور آنے والے کل اور آج کے اندھیرے سے اسے نکالنے کے لیے آواز دی تھی یہ بتانے کے لیے کہ اس دریا پر’’ آج کا پُل ہے‘‘ جس پر وہ کھڑی ہے اور جہاں اُجالا ہے شاید علی یا علیزے اس پُل تک پہنچا ہو ۔ شاید وہ چند لمحے علینہ کا ہاتھ پکڑکر نور کی بارش میں نہایا بھی ہو مگر اب اسے احساس ہے کہ وہ’ تب‘ تھا یہ ’اب‘ ہے اور’ اب‘ کے تناظر میں وقت کی الل ٹپ تقسیم نہیں ہو سکتی۔ ماضی،حال اور مستقبل ایک کُلیت ہیں۔ ’تب‘ ایک مفروضہ تھا۔ ’اب‘ ایک حقیقت ہے اور اب کی حقیقت ’’سوختہ ،خستہ، شکستہ ہڈیوں کا پُل‘‘ ہے جس کے چاروں طرف کُل یعنی کُلیت ہے۔
(۲)
پہلا منظر ڈرامے کا ابتدائیہ ہے اب اسٹیج کا پردہ اٹھ چکا ہے۔ شاعر کا مونولاگ علینہ کو واحد مخاطبــ تُو،میں مخاطب کر کے جاری ہو چکاہے۔ دوسرا منظر استفہام سے کچھ آگے بڑھ کر تجویز و تجدید کا ہے۔
علینہ
غار سے نکلیں
کوئی رستہ بنائیں
اِس گھنی‘ گاڑھی سیاہی سے نکلنے کا
اس تجویز میں اپیل بھی ہے عاجزانہ درخواست بھی ہے اور علینہ کو یہ باور کرانے کی کوشش بھی ہے کہ غار سے نکلنے میں دونوں کی ’’مکتی‘‘ ہے رہائی ہے۔۔۔
علینہ!
اب دنی دنیا سے اوپر بھی اٹھا لے نا!
زمیں پر پائوں جلتے ہیں
تیسرا منظر لے ،سُر،تال اور طبلے کی تھاپ میں پہلے دونوں مناظر سے مختلف ہے لیکن تخاطب کا لہجہ وہی ہے پہلے دونوں مناظر بحرہزج مثمن سالم (مفاعیلن مفاعیلن کی تکرار) میں تھے۔ یہ منظر متقارب سالم (فعولن فعولن کی تکرار) میں ہے۔ اس سے نظم کے بہائو میں تو ایک موڑ آتا ہی ہے سُر اور تال میں بھی تیزی اور تیز روِی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ (ہزج کو ’’خوابیدہ بحر‘‘ کہا گیاہے‘ جب کہ متقارب اپنی روانی میں گھوڑے کی ٹاپوں کا صوتی نقشہ پیش کرتی ہے۔ بہ ہر حال یہ منظر بھی علینہ کے حضور میں شاعر کی استدعا اور التماس سے آگے نہیں بڑھ پایا۔ البتہ اس گزارش میں اب کچھ ناصیہ فرسائی کا عنصر شامل ہو گیا ہے۔ امیجز کی سطح پر کچھ اچھوتے امیج بھی ہیں، جو بہت کم شاعروں کے ہاں پائے جاتے ہیں۔
ایساغم!
ایسے غم کا سمندر عطا کر مجھے
جس کے ساحل پہ
اک بار پھر زندگی آنکھ کھولے
پرندہ نئے بول بولے
وہی زمز مے
جو مرے سنگ سینے سے
باہر ہمکنے کو بے تاب ہیں
ان پہ تخلیق کا بند در کھول دے
تو مجھے بھی کبھی سُوت میں تول دے
وقت کا قافلہ رواں دواں ہے، رکنے کا نام تک نہیں لیتا۔ رتیں بدلتی ہیں۔ موسم کروٹ لیتے ہیں۔ ہریالی زمین کو ڈھک دیتی ہے۔ درخت نئے پتوں کے ملبوس پہنتے ہیں۔ موسم سرما میں نظم کے واحد متکلم کی ’’یخ بستہ انگلیاں‘‘ انھی ’’سرخ بوسوں‘‘ سے حدت پاتی ہیں،جن کی آنچ کو اپنے خون میں گھولتے گھولتے وہ تھک گیا ہے۔
زمانی رد و بدل کو نظم کا چوتھا منظر استعاروں کی جھلمل جھلمل کرتی ہوئی رنگ کشیدہ چادروں سے دیکھتے ہوئے بیان کرتا ہے چوتھا منظر اس لحاظ سے نظم کے سفر میں ایک الگ حیثیت رکھتا ہے کہ اس میں زمینی ردو بدل کے بر عکس زمانی جزر و مد نہایت چابکدستی سے تصویروں میں پروکر پیش کیے گئے ہیں۔ سرد،یخ بستہ،نیم جاں موسم کی ٹھنڈک،جو علینہ کے خیالی ہیولے کے دیدار کی گرمی سے زندگی بخش حرارت پاتی ہے۔ اس کینٹو کا پس منظر بھی ہے اور پیش منظر بھی، کچھ تراکیب جو استعاروں میں ڈھلتی ہیں،وہ کنکریٹ سی چکنی تصویر سازی کے زمرے میں آتی ہیں، لیکن کچھ ایسی بھی ہیں،جنھیں ’’ایک مساوی ایک‘‘ سطح پر سمجھنے کے لیے حواسِ خمسہ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ پہلے زمرے میں کچھ مقرون امیجزیہ ہیں۔ ’’مرمریں برجیاں‘‘ ،’’کاغذی پیرہن‘‘ ،’’اجڑے قافلے‘‘، ’’بارش کی ست رنگی محراب‘‘ ،’’منور چہرے‘‘ ’‘اونچے برج‘‘ حواس خمسہ کی رگوں میں خون بن کر دوڑتے ہوئے بیدار کرنے والی کچھ تصاویر یہ ہیں ’’نقرئی اسم‘‘، ’’سرخ بوسے‘‘ ،’’سرد اقرار‘‘، ’’نیلگوں درد‘‘ ،’’لال خواہش‘‘،’’تجلی بھری لاٹ‘‘ ،’’جھلملاتی تمازت‘‘، ’’شربتی دھوپ‘‘ ،’’سرمدی بیل‘‘ ،’’چاہت کی جھیلیں‘‘۔
ہیئت کی سطح پر واوین میں مقید الفاظ کنکریٹ کو ابسٹریکٹ سے جوڑنے کے عمل کو پیش کرتے ہیں۔ ان میں رنگ بھی ہے ۔ (نقرئی ،سرخ ،نیلگُوں،لال) اور روپ بھی (شربتی دھوپ، سرمدی بیل،چاہت کی جھلیں) لیکن جوبات اِس کینٹوکو ’’مکان سے ہٹ کر‘ زمان‘‘ کے جذر و مد کو واضح الفاظ میں پیش کرتی ہے وہ واحد متکلم کا علینہ سے اصرار ہے کہ گزرتے ہوئے ماہ وسال کو ایک لمحے کے لیے روک کر وہ اس کے سجدے کو قبول کرے جو وقت کی سجدہ گاہ میں ایک مدت سے دست بستہ کھڑا منتظر ہے،۔۔۔ التجا فقط اتنی ہے۔
علینہ
تجلی بھری لاٹ کی
جھلملاتی تمازت میں
لپٹی ہوئی زندگی کی طرح
اپنے حجلے سے باہر قدم رکھ
.
علینہ
بہت ہے
زماں در زماں
پھیلتی گردشوں میں
قرار ایک لمحے کا
.
علینہ
تری مرمریں برجیوں کے تلے
ایک جلوے کی خواہش جلائے کھڑا ہوں
.
کبھی اپنے ہونٹوں سے قُم کا
کوئی خم مجھے بھی عطا کر!
چوتھا کینٹوقرون وسطیٰ کی ان تاریخی یاقصہ کہانیوں کی امیجری سے آراستہ ہے،جس میں کوئی شہزادی یا روپ متی پری محل میں محبوس ہے اور جھروکے تک آنے کی اجازت نہ ہوتے ہوئے بھی اسے علم ہے کہ اس کا عاشق صادق ایک مدت سے قلعے کی فصیل کے اس پار دیدار کی حسرت میں امید کی شمع جلائے کھڑا ہے یہ امیجری عمارت سازی کی لفظیات سے سیناریو کو استوار کرتی ہے۔ ’مرمریں برجیاں،‘ ’حجلے‘ ،’محرابیں‘ ،’حجرے‘ ،’اونچے برج‘، ’ریشمیں چلمنیں‘، ’شش دری ممٹیاں‘ اور ان کنکریٹ تصاویر کو زندگی بخشنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں دیدہ اور نادیدہ مناظر، جن میں کبوتروں کا اپنی مقدس غڑغوں غڑغوںسے علینہ کی حمد گانا بھی شامل ہے۔ پانچواں منظر بھی نظم کے واحد متکلم کو ’گرد میں گم شدہ زمانے‘ ’بُھولابھٹکا ہوا آدمی‘کی شکل میں پیش کرتا ہے ،جسے گردشوں ،گردباروں سے باہر نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا اور جس کی ’’گرد‘‘ ’’گِل‘‘ میں تبدیل ہونے کے لیے اس پانی کی محتاج ہے جو علینہ کا ’’ایک آنسو‘‘ ہی اسے بخش سکتا ہے۔
مجھے چھٹے سے گیارہویں منظر تک اسی ایک التجا کی مکرر گونج سنائی دی، جس میں شاعر یا واحد متکلم استمرار اور زمان کی دہائی دیتے ہوئے علینہ سے متقاضی ہے کہ ’’کبھی آلباس مجاز میں‘‘ تا کہ ’’مریم کی بانہیں‘‘ رابعہ کا مصلیٰ،سیتا کے پائوں،ٹریسا کے ہاتھوں،ایک مرئی شکل بن کر اس کے سامنے آسکیں۔ گیارہویں منظر میں شاعر پہلی بار علینہ کو ایک عورت کی شکل میں دیکھنے کا اعادہ کرتا ہے۔
سب عورتوں کی محبت کے باغات میں
اور ایک بار پھر اس کی تکرار
محبت کے باغات میں جب کھِلا ہوں
لیکن یہ محبت مریم،رابعہ،سیتا،ٹریسا کی طرح پاک ہے۔ اس میں مرد عورت کے تعلقات کا دور دور تک نام نہیں ہے۔ سسّی اور سوہنی کی طرف اشارہ بھی اس پاکیزگی کو مجروح نہیں ہونے دیتا کیوںکہ ’سسی کی نیندیں، جاگتی ہوئی ہیں اور سوہنی اپنے گھڑے کی گھلتی ہوئی مٹی کے دکھ میں ڈوبتی ہوئی شاعر کو نظر آتی ہے۔ بہ ہر حال اس ایک منظر میں ہی قاری کو پہلی بار علینہ کو ہاڈ مانس کی بنی ہوئی عورت کے روپ میں دیکھنے کی واحد متکلم کی خواہش کا اندازہ ہوتا ہے۔ گیارہواں منظر یہاں ختم ہوتا ہے۔
خواب رنگے اجالے علینہ
بشارت بھری نیلی بکل سے
اجڑی ہوئی کالی دنیا کے
دن پر گرادے
مجھے آخری بار
مٹی میں ملنے سے پہلے
ہنسا دے
یہ دعا کہ علینہ نظم کے واحد متکلم کو مٹی میں ملنے سے پہلے ایک بار ہنسنے کا ہنر بھی سکھا سکتی ہے یا نہیں اس کے بعد کے مناظر سے ظاہر ہونے کی توقع ہے لیکن ایک بات جو صفحہ ۴۳ کی سطور سے ابھرتی ہے،وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ شاعر علینہ کو اور خود کو ذات اور واردات کے دائرے سے نکال کر کائنات تک پہنچانے کی سعی میں مصروف ہے ’’وہ بازوجو گجروں سے محروم ہیں‘‘ اور وہ ’’انگلیاں جو مشینوں کے بٹنوں پر چلتے ہوئے تھک گئیں‘‘ کائنات کے عصری سیناریو تک پہنچنے کی بشارت دیتی ہیں۔
(۳)
بارہواں منظر دوسری سطر سے ہی اس گریز کو متشکل کرتا ہے‘ جس کا اندازہ گیارہویں منظر میں لگ گیا تھا۔
علینہ!
نئے آدمی کے
مقدر کا نقشہ بناتے ہوئے
مغربی ساحروں نے
تری فائلوں سے چرائے ہوئے راز کو
کس قدر ایٹمی زندگی کے تصور میں شامل کیا تھا
فقط ہیرو شیما کی مٹی کو معلوم ہے
نظم اس پڑائو تک پہنچنے سے پہلے بہت سے پڑائو طے کر چکی ہے کہاں ’’عرفان کی سطح پر ایک پرانا مقبرہ‘‘ اور کہاں مغربی ساحروں کی کاکردگی جنھوں نے علینہ کی فائلوں (قدرت کے مخفی راز جو سائنس نے معلوم کر لیے) سے ان کو چرا کر ایٹمی دور کی ابتدا اس دھماکے سے کی،جس میں ہیروشیما کے لاکھوں بے گناہ انسان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اب نظم بازار میں زندگی کے ڈالروں کے عوض بکنے کا منظر پیش کرتی ہے۔ ان بدوئوں کی بات کرتی ہے جن کے پائوں تلے ’’نہریں رواں تیل کی ہو گئیں‘‘ لیکن اب بھی شاعر یہ پوچھنے کا متمنی ہے کہ تابکے؟
کتنے دنوں کی مسافت ہے
کتنے دلوں کی مساحت ہے
امید کی کن جریبوں سے ناپے گی دنیا
تیرہواں منظر اسی کیفیت کو آگے بڑھاتاہے۔ ’’اڑتے جہاز،اشتہار، اسکول کے ٹاٹ اور ان سب کے ساتھ جہازوں، اشتہاروں اور ٹاٹوں کا منطقی اختتامیہ ۔۔۔ارغوانی لہو! لیکن اسی منظر میں پردہ گرتا بھی ہے اور اٹھتا بھی ہے۔علیزے کی تصویر نظر آتی ہے جو بوڑھے استاد سے نظر بچا کر اپنی شرارتوں میں مصروف رہتا تھا۔ جس کے ’’بستے میں پریوں کے پرتھے‘‘ اور جس کے پاس ایک ’’طلسماتی تختی تھی ،جس پر سبھی اسم لکھے ہوئے تھے
علیزے، علینہ۔ علیزے، علینہ۔ یہ گردان نظم میں کب شروع ہوئی اور کیوں شروع ہوئی کب یہ ہوا کہ علیزے نے مٹی کے تودے پر علینہ کی محبت کی مورت بنائی؟ حاضری اور حضوری میں کب وہ یک جان و دو قالب ہوئے کب علیزے کو یہ علم ہوا کہ علینہ کے بغیر وہ نامکمل ہے؟
مجھے یہ کہنے کا حق تو نہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ چودہویں منظر کو تیرہویںسے ادل بدل کر کے چودہویںمنظر کو پہلے آنا چاہیے تھاکیوںکہ اس کے بعد پندرہواں اور سولھواں منظر اس کیفیت کو اور آگے لیے ہوئے چلتے ہیںجس میں ایٹمی زندگی اور ہیروشیما کی تلخ سچائیوں کی بات کہی گئی ہے پندرہواں منظر سدھارت اوریشودھرا کی کہانی سے شروع ہو کر وہیں ختم ہو جاتا ہے لیکن سولھواں منظر باپ اور بیٹے‘ آج اور مستقبل کے تناظر میں ایک بار پھر سائنس اور اس کی تباہ کن کارکردگی پیش کرتا ہے‘ جس میں
مشینی دماغوں سے
روبوٹ باہر نکل آئے تو
زندگی تیرے گڑیا گھروں میں
کہاں تک بچائے گی
ننھے کھلونوں کی ٹوٹی ہوئی آرزوئیں
ایک طرف بچہ انتظار میں ہے کہ سانتا کلاز کرسمس کھلونے لے کر اس کی الماریاں بھرنے آئے گا اور دوسری طرف خلائی شٹل کی تباہی کا ذکر ہے، ان جنگ بازوں کا چرچا ہے جن کے ریموٹ میں ڈالروں کی توانائی ہے۔ ایسی حالت میں کیا یہ ممکن ہے کہ علینہ،جو اس وقت تک ’’قدرت‘‘ کا سمبل بن چکی ہے، ایک نیا سورج بھیج کر بچے کے لیے کرسمس کا دن خوب صورت بنا دے اور راولپنڈی کے بیچوں بیچ بہنے والے نالہ لئی کے ’’کنارے پہ جنت لٹادے‘‘۔
نظم ایک بار پھر نیا موڑ لیتی ہے‘ سترہویں منظر کی شروعات ان سطروں سے ہوتی ہے
علینہ!
مری چھاتیوں میں
اگر دودھ اترے
تو پیا سے لبوں کی حرارت
مرے برف زاروں کو پگھلا کے دریا بنا دے
میری تتھاگت نظموں میں سے ایک نظم کی دو سطروں میں مہاتما بدھ بھکشو آنند
کو کہتے ہیں
شیرِ مادر مرد کی چھاتی میں اترے گا کہاں سے
یہ رضاعت عورتوں کو زیب ہے آنند بھکشو
نظم کا واحد متکلم اس بات کی خواہش کرتا ہے کہ اگر وہ شیرِمادر سے ’’برف زاروں کو پگھلا کر دریا بنا سکے‘‘ ،’’بیمار پیاسی زمینوں کی آب یاری کر سکے‘،‘ مفلوج ‘ فاقہ زدہ عہد میں گندی زندگی کے اجالے‘‘ اُگا سکے، تو اس سے بڑھ کر اور رضاعت کیا ہو گی! ماں سرچشمہ ہے زندگی کا ،اس بات کی ضمانت ہے کہ بڑھتی پھولتی‘ پھوٹتی ہوئی زندگی آگے بڑھے گی۔
اب اس سے پہلے کہ میں آخری چارمناظر کی بات کروں،مجھے یہ کہنا ہے کہ جہاں علینہ ایک ڈائری ہے ،جہاں علینہ قدرت یعنی کائنات کا سمبل ہے وہاں علینہ کی کارکردگی ایک اور سمبل میں بھی نہاں ہے علینہ اور شاعر کا واحدمتکلم ین اوریین میں یعنی ساری تخلیق کے ’نر‘ اور ’مادہ‘ دونوں کے امتزاج سے، انسلاک سے یا اختلاط سے ہی تخلیق اور تکمیل ممکن ہے۔ چینی فلسفے کے مطابق ہم سب میں اجتماعی طور پر اور ایک فرد واحد میں انفرادی طور پر دونوں عناصر کار فرما رہتے ہیں۔ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہوئے بھی یہ تخلیق کے شجرکی دو ٹہنیاں ہیں اور ان کا جوہر ہر شخص میں موجود ہے۔ سطحی طور پر اس کی مثالیں نسائیت اور مردانگی میں ہمارے دائیں بائیں بکھری ہوئی ہیں لیکن چینی فلسفے کے مطابق ہر مرد میں بنیادی طور پر یین کار فرما ہے، لیکن وہ اپنی تکمیل کے لیے اپنی پیدائش کے دن سے لے کر موت تک زندگی کے یعنی ین کے عنصر کے لیے بے تاب رہتاہے۔دوسری طرف ہر عورت ماں کی کوکھ میں سے ہی ین کی ’شکتی‘ لیے ہوئے بر آمد ہوتی ہے ۔جیسے کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے یہ دونوں قوتیں ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ انیسویں صدی میں اجنتا میں نصب مورتیوں کو ’’متھن ‘‘ کی ’’مدرا‘‘ میں دیکھ کر بہت سے فلسفوں نے بہ شمول ڈاکٹر دھیر ندر ترویدی اس مُدرا کو عورت مرد کے ملاپ سے اوپر اٹھ کر اسی سطح پر دیکھنے کی کوشش کی جس سطح پر چینی فلسفیوں نے’ین‘ اور ’یین‘ کو دیکھا تھا۔
فرشی کی علینہ اگر ایک ماورائی ہیولا ہے‘ تو ایک سطح پر وہ نظم کے واحد متکلم کے یین کی تکمیل کے لیے ین کی شکتی کی نمائندگی کرتی ہے اور یہ واحد متکلم پوری نظم میں لگاتار تڑپتا ہوا دکھائی دیتا ہے‘ منتیں سماجتیں کرتا ہے کہ کاش علینہ ایک بار اس میں مدغم ہو جائے اور وہ ’’مکمل‘‘ ہو جائے۔
صدقے میں جس کے سعادت ملی
دونوں پائوں پہ چلنے کی
مٹی پہ گھستی ہوئی چھاتیاں
وقت کے سامنے تن گئیں
آدمی بن گئیں
یعنی نظم کا واحد متکلم اپنی ین کی گھستی ہوئی چھاتیوں کی شکل گنوا کر اگر کام یاب ہوا تو صرف اس حد تک کہ وہ ’’آدمی‘‘ بن گیا۔ اسے بدلے میں صرف یین کاتحفہ عطا ہوا۔ اور وہ آج تک ین کو دوبارہ پانے کے لیے بے تاب ہے کیوںکہ اس کے بغیر وہ ادھورا ہے ، آدھا ہے ، وہ ہے بھی اور نہیں بھی۔۔۔۔
میں مٹی کے دریا کی وہ لہر ہوں
جس پہ نیندوں کی کائی جمی ہے
نہ ہونے کی، ہونے کی اندھی سیاہی جمی ہے
یہ التجا ،یہ درخواست کہ چاہے وہ خود ’’پرستانی شہزادہ‘‘ نہیں ہے تو بھی اس کی بصارت ’’خیرہ‘‘ ہو چکی ہے۔ ’’اور اس کے دل میں صدیوں کی گم صم تمنا‘‘ اسی طرح چہکنے لگی ہے اور وہ سمجھنے لگا ہے کہ وہ اس کا اہل ہے کہ علینہ کو پا سکے کیوںکہ وہ خود ’’بہت خوب صورت ہے‘‘ اس کے اپنے دل میں ’’کیوں لڑکیاں رو رہی ہیں‘‘ اور وہ ’’کس کے خوابوں کی خو ش بو سے بیدار ہونے کی خواہش‘‘ کو اپنی ’’نیندوں بھری ساعتوں‘‘ میں اوڑھے ہوئے ہے، ساری امیجری خواب کی ہے، لیکن علینہ اب بھی جیسے ’’آدمی‘‘ سے کچھ ہراساں ہے۔ین کو یین سے ملنے میں کچھ اعتراض سا ہے۔
یہ وہ سر زمین ہے علینہ!
جہاں آدمی نے
کھڑے ہو کے پہلے پہل
تیرے نیلے فلک کی طرف
ہاتھ اپنے اٹھائے
دعا اوک میں پھول بن کر کھلی
آدمی سے تجھے کچھ خوشی تو ملی
یہ وہی آدمی تھا علینہ!
ترے سرخ ہونٹوں کے آفاق پر
جس نے پہلے تکلم کی تکریم کی
جس نے لاتعلمون َکی تجسیم کی
میں اسی آدمی کی طریقت پہ
چلتا رہا ہوں،چلوں گا
جہاں تک ترا آسماں ساتھ چلتا رہے گا
لیکن یہ سفر لا اختتام ہے اور اس بات کی گواہی آخری منظر کی آخری سطور ہیں
ایلی آ! ایلی آ! کی صدا
اپنے ہونٹوں کے پیچھے چھپائے ہوئے
تیری آواز کا منتظر ہوں
مجھے اپنی تصدیق کے گنجلکے چیستانوں سے
باہر نکلنے کا رستہ بتا دے
علینا! علینا! علینا!کی رچنار چادے
’رچنا‘ یعنی ’’تخلیق‘‘۔۔۔ ’رچا دے ‘یعنی ’’خلق کر دے‘‘۔۔۔ ہائے !نظم کا واحد متکلم! وائے نامکمل یین کی ہستی جسے ین کے بغیر ایک پل بھی قرار نہیں۔
(۴)
میں نے ’’علینہ‘‘ کو ایک ڈائری کے اوراق کی طرح پڑھا۔ اسے ایک ماورائی ہیولے کی شکل میں دیکھنے کی سعی کی۔ اسے متھن اور یین ین کی سطح پر پرکھا۔ کیا ان میں سے کوئی پیمانہ علینہ پر فٹ بیٹھتا ہے؟ میںعلینہ کو پگمیلین کی گیلاتیاسے مشابہت دے کر بھی دیکھنے کا جتن کر سکتا ہوں کہ آیا یہ مورتی جو شاعری کی سطح پر علی محمد فرشی نے بنائی ہے،اس کی معبود دیوی تو نہیں ہے، جس میں جان پڑ جانے کے بعد وہ بے حد بے رحم مالکہ ثابت ہو گی، یہاں تک کہ پگملیلین کو یا تو ہتھوڑے اور چھینی۔ کی مدد سے اسے توڑنا پڑے گا،یا خود کو مٹانا پڑے گا،لیکن نہیں ،علینہ میں ایسی کوئی بات نہیں ہے،جو اسے گیلاتیا کی مِتھ سے جوڑے۔
تو پھرعلینہ کیا ہے؟ کون ہے؟ کیا علینہ کا کردار اور یہ نظم اردو میں زندہ رہیں گے؟ مجھے محمد حمید شاہد کے ساتھ اپنی آواز ملانے دیجیے۔
ــ’’مجھے اصرار ہے کہ ’’علینہ‘‘ کو اردو کی معدودے چند باقی رہ جانے والی نظموں میں شمار کیا جائے گا۔ کیوںکہ اس میں فرشی کی قوت متخیلہ کوندے کی طرح ایک ہی ساعت میں کئی زمینوں اور زمانوں پر سے لپک کر ابدیت کے کناروں کو چھولیتی ہے۔
(ستیہ پال آنند،ڈاکٹر،’’ علینہ اور عرفان کی سطحِ مرتفع ‘‘ ، ’نقاط‘ فیصل آباد، شمارہ ۳ ،دسمبر۲۰۰۶ءص ۲۴۸)

محمد حمید شاہد
علینہ:نئی اوڈیسی
علی محمد فرشی کی طویل نظم ’’علینہ‘‘ جب ٹکڑے ٹکڑے سامنے آ رہی تھی ، وقفے وقفے سے اور اپنے لیے مخصوص عنوانات پا کر، تو یوں لگتا تھا یہ عشق مزاج نظمو ںکا ایک سلسلہ سا ہے ، الگ الگ اور مکمل۔ تاہم ہر نظم پہلی سے ذرا فاصلے پر۔
وہاں شام کا جھٹپٹا ہوتا ۔۔۔ یہاں ٹیکل دوپہر۔۔۔ ادھر کل کی سیاہی ۔۔۔ اور ادھر آج کا چمکتا پُل ۔۔۔
او ر’’ علینہ‘‘ یہاں وہاں اپنا مقا م بدلتی نظرآتی ۔۔۔کبھی کبھی یوں لگتا کہ ’’ علینہ‘ آسمانوں کی وسعتوں میں نور کی طرح پھیلی ہوئی ہے اور کبھی یوں کہ جیسے اس سیماب صفت کا قافلہ ہمارے اپنے قرب ہی میں بہتے سوال اور ٹھہر کر تعفن پھیلانے والے لئی کے کنارے پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے۔
خدا لگتی کہوں تو ماجرا یوں ہے کہ میں ایک مرحلے پر اس گماں سے بھی گزرا تھا ، ہو نہ ہو نظم کی تخلیق کا یہ تجربہ اپنی نہاد میں ٹی ایس ایلیٹ کی ’’دی ویسٹ لینڈ‘‘کے زیر اثر ہو رہا ہے۔ نظم کا ایک سمت بہے جانا ،خارج کی ٹھوس اور کھردری زندگی کے نقوش ابھارتے ہوئے اور اپنے پہلو میں حسی، جمالیاتی اور معنوی جہات کے مقدس اسرار کا دھند بھرا منظر بناتے ہوئے۔ جب درمیان میں ہی کہیں فرشی نے نظموں کے اس سلسلے کو ایک مسلسل نظم کے حصے کہنا شروع کیا تو مجھے وہ عنوانات الجھاتے تھے جو اس نے ’’ویسٹ لینڈ‘‘ کی طرح نظم کے ہر ٹکڑے پر قائم کر دیے تھے۔ فرشی کی ’’علینہ‘‘ صحرا کے منظر پر کھلی ، ایلیٹ کے ’’خرابے ‘‘کی پہلی چند سطروں میں بھی مردہ زمین ،بے حس اور سوکھی ہوئی جڑوں کاذکر ہوتا ہے اور اس پتھر کا بھی جس میں پانی کی کوئی صدا نہیں گونجتی۔ فرشی کی نظم میں مذہبی احساس جھلک دینے لگا تو ایلیٹ پھر یاد آ یا۔ فورکوارٹر والااور ’ویسٹ لینڈ‘ والابھی۔ایک میں بہ قول مظفر علی سید ،خدا سے کچھ پانے کے احساس کے سبب اس کے ہاں انکسار اور سبمشنآ گیا تھا اور دوسری کا معاملہ یہ ہے کہ میں مذہبی احساس کی قوت سے کم از کم جس طرح کی توانائی پانے کی توقع رکھتا ہوں وہ بھی خرابے کی وسعت کا حصہ ہوگئی تھی یہی وجہ ہے کہ میرا اس طرف دھیان ہی نہ جاتا تھا کہ فرشی اس احساس سےکوئی قوت بھی پا سکتا تھا۔
حیف کہ عجلت میں آدمی کیسے کیسے گمان باندھ بیٹھتا ہے۔ بے شک ایسے گمانوں کا کچھ نہ کچھ محرک یا جواز تو ہوتا ہی ہوگا۔ ایسے ہی کہ جیسے ’’ویسٹ لینڈ‘‘ کے کچھ حصوں کو الگ کرکے اسے جنسی محبت اور ذہنی و جسمانی نامرادی کی نظم قرار دے ڈالنے والوں کے پاس بھی ایک جواز تھا۔ تاہم تخلیقی سچ تک پہنچنے کا یہ قرینہ نہیں ہے۔ مغالطوں کی عمر لمبی نہیں ہوتی ،ٹکڑے کل کاجز تو ہوتے ہیں، کُل کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ یہی سبب ہے کہ ’’علینہ‘‘ نے میرے ہاں جو ٹکڑوں کی صورت تصویر بنائی تھی، اس نظم کی تکمیل کے ساتھ ہی وہ تحلیل ہو گئی۔ اب ایک اجلا ،روشن اور ماورائی پیکر میرے سامنے ہے۔ ’’ علینہ‘‘ کا یہ مابعد الطبیعیاتی کردار پوری نظم میں کہیں بھی اپنے عالی منصب سے سبک دوش نہیں ہوتا۔
آخر ’’ علینہ‘‘ ہی کیوں؟ سلمیٰ ، سلیمہ ،زرینہ اور سفینہ کیوں نہیں؟ جب تک ’’ علینہ‘‘ مکمل صورت میں سامنے نہیں آئی تھی مجھے اس سوال میں کوئی عیب محسوس نہ ہوتا تھا کہ سبعہ معلقہ کے ایک شاعر امراء اُلقیس نے اپنے قصیدے کو عنیزہ کے لقب سے معروف اپنی عم زاد اورمحبوبہ ’’فاطمہ‘‘کو ’’افاطم‘‘ کے تخاطب سے شروع کرتے ہوئے کہا تھا۔ ’’اے فاطمہ کج ادائیوں سے حذر کر، اگر تو نے مجھ سے جدا ہونے کا قصد کر ہی لیا ہے تو اس کے لیے کوئی د ل کش انداز اپنا‘‘۔ یہاں ’’فاطمہ‘‘ نہ ہوتی تو امراء القیس کو کوئی بھی اور عورت مل سکتی تھی، او راسے تو ملی بھی تھیں،تبھی تو اس کے قصیدے میں بدن کستوری سے خوش بو کی لپٹیں اٹھانے والی ’’ام الحویرث‘‘ اور اس جیسی حسینہ قبیلہ طے کی شاخ بنی۔ ینہان والی ’’ام الرباب‘‘ در آئی تھیں۔ اختر شیرانی کی ’’سلمیٰ‘‘ ہو یا ن م راشد کی ’’جہاں زاد‘‘ اور مصطفی زیدی کی ’’شہناز‘‘ سب ہی کا معاملہ ایک سا ہے۔ میونخ سے ’’شالاط‘‘ کی بہ جائے کوئی اور آجاتی تو اس کی کیا ضمانت تھی کہ اس پر مجید امجد کی نظم اور اس کے دل کے دروازے بند رہتے۔ عورتوں کے نام لے لے کر نظمیں لکھنا اور نسوانی ناموں کو عنوان بنا لینا ہماری شعری روایت میں ایک عمومی سا رویہ رہا ہے۔ فرشی اگر اس روایت کو نبھاتا تو اپنی پسند اور سہولت کا کوئی بھی نام استعمال کر سکتا تھا۔ مگر اب کہ جب میں اس نظم سے پوری طرح گزر چکا ہوں یہ سوال میرے لیے سرے سے ہی لا یعنی ،غیر متعلق او ربے ہودہ ہو گیاہے۔ نظم اس سوال سے کہیں اوپر اٹھ کر بہت بڑے سوالات اٹھانے لگی ہے او ر ’’ علینہ‘‘ کا اسم ان سوالات کے تقدس اور گمبھیرتاکے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
میں نے’ علینہ‘ کو سمجھنے کے لیے اسے شاعر کے نام سے جوڑا تو یوں لگا جیسے’علی‘ کی تکمیلی صورت ’ علینہ‘ ہو گئی ہے۔ اب جو دیکھتا ہوں تو علی فرشِ زمیں میں آدھا دھنسا ’علی‘ اور ’نہ‘کو جوڑنے کے جتن کرتا دِکھتا ہے اور اوپر فلک کے کناروں سے ’علینہ ‘ کا وجود چھلک رہا ہے۔
عربی قواعد کے مطابق کسی اسم کے آخر میں’ ’ہ‘‘ کا ورود ہو تو وہ مونث قرار پاتا ہے۔ اب اسم ذات ’’اﷲ‘‘ پر غور کریں کہ اس کے آخر میں بھی تو ’’ہ‘‘ ہے۔ تاہم اس ذاتِ اولیٰ کا جلال ایسا باکمال ہے کہ تانیث کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ علی محمد فرشی نے جز ہو کر کل کی جس شناخت سے تخلیقی رشتہ جوڑا ہے وہ اپنے کامل وجود میں ہیبت کی وہ لپک نہیں رکھتا جو دلوں تک بھڑکتے شعلوں کی آنچ پہنچاتا ہے۔ اس مقدس او رماورائی کردار میں فقط نرمگیں جمال ہی جمال ہے۔ یوں اس کے کومل نام اور روشن بدن پر اپنے لیے پکارے گئے اسمِ ذات کا تانیثی پیرہن سج جاتا ہے۔
دیکھیے ۔۔۔نام کے اس عقدے کو ایک اور طرح سے بھی سلجھایا جا سکتا ہے۔ وہ یوں کہ ’’ علینہ‘‘ کے حروف کو وہ اعداد دے دیجیے جو علم الاعداد میں ان کے نام لکھے جا چکے ہیں۔ اس اسم کا ایک مفرد عدد حاصل ہوگا ’’۳‘‘، یہی مفرد عدد ’’اﷲ‘‘ کا بھی ہے۔ کیا یہ سارے اشارے ’’علینہ‘‘ کے مابعد الطبیعیاتی وجود پر دال نہیں ہیں؟
ساقی فاروقی نے اپنے ایک مضمون میں ’’دی ہیومن کنڈیشن‘‘جیسی ’’ہولناک کتاب‘‘سے اپنی یادداشت کے بل بوتے پر حوالہ نقل کرتے ہوئے آدمی کو چار سطحوں پر مجاہدے سے دوچار دکھایا تھا۔ پہلی سطح وہ ہے جسے لیبرکہتے ہیں۔ زندگی قائم رکھنے اور آسانیوں کے حصول کے لیے محنت۔ دوسری سطح میکنگ کہلائی۔ پہلی میں اگر روٹی کی طلب میں درانتی چلانے والاآتا ہے تو دوسری میں دست کار اور کاریگر۔ تیسری سطح سرگرمی کی ہے، وہی جو سیاست دانوں ،فوجیوں اور سائنس دانوں کے حصے میں آتی ہے، جب کہ مجاہدے کی ارفع سطح وہ ہے جو گیان کہلاتی ہے ،فلسفیوں ،صوفیوں اور تخلیق کاروں کا وصف۔ فرشی کی ’’ علینہ‘‘ اسی مراقبے میں در آنے والے ارفع سچ کے بھیدوں بھرے پانیوں پر منعکس ہے۔ پانیوںکا وجود بے کنار وقت کی وسعتوں میں پھیلتا جا رہا ہے ، یوں کہ وقت کے معلوم کنگرے اس میں ڈوب گئے ہیں۔ اس طرح دیکھیں تو ’’ علینہ‘‘ کا تخلیقی تجربہ نہ تو محض شعری مشقتہے، نہ فقط نظم کی تخلیق کاری کی کاریگری اور نہ ہی سماجی سطح پر شاعرانہ سرگرمی کہ یہ اس علاقے کی کہانی ہے جس میں سچے تخلیق کار اپنے زندہ لفظوں او رگہرے شعور کے سا تھ ہی داخل ہو سکتے ہیں۔ اسی گہرے اورہمہ جہت شعور نے اسے زمان و مکان کی نئی معنویت کے مقابل کر دیا ہے۔
چوبیس مناظر اور ایک ہزار(۱۰۰۰ )مصرعوں سے زائدپر مشتمل یہ طویل نظم اپنے پیٹرن کے اعتبار سے ’’ علینہ‘‘ سے مخاطبہ ہے ، جز کا کُل سے تخاطب ۔ ’’ علینہ‘‘ نظم میں یوں آئی ہے کہ اس کی آنکھوں میں آسمانوں کی وسعت سما گئی ہے۔ اس کی برجیوں تلے زمانہ دست بستہ کھڑا ہے۔ سب اس کے نقرئی اسم کا ورد کرتے ہیں۔ اس کی تجلی بھری لاٹ کو دیکھنے کے لیے زمانے زمین بوس ہیں اور جھکی ہوئی کائناتوں کی گردشیں تھم تھم گئی ہیں۔ تاہم اس نظم کےچوتھے منظرمیں وہ مقام بھی آتاہے کہ عسکری کی بات یاد آتی ہے۔۔۔
آگے کیسے بڑھوں کہ پہلے عسکری کی بات بتانی ہے اور وہ یوں کہ ایک مرتبہ اس نے مولانا روم کا وہ شعر پڑھا تھا جو’’من زتن عریاں۔۔۔‘‘سے شروع ہوتا ہے اور ساتھ ہی یہ سوال بھی کیا تھا کہ’’کون عریاں ہوا۔۔۔اور’’۔۔۔او از خیال‘‘میں خدا جو کپڑے پہنے ہوئے تھا،وہ خیال کس کا تھا۔جواب دیا گیا ’’انسان کا‘‘۔محمد حسن عسکری نے ترت کہا تھا’’انسان ہی کا ہوا ناں!‘‘تو صاحب، یہی پیراڈاکس جو آدمی کے اندر ہے،لباس بھی دیتاہے اور نہاں بھی دیکھتا ہے۔۔۔اور ہاں بات چوتھے منظر کی ہو رہی تھی اور عسکری یوں یاد آیا تھا کہ اس منظر میں ایسا مرحلہ آگیا تھا جب ازل اور ابد کے کہیں وسط میں چند لمحوں کے لیے چمکنے والے نے’’ علینہ‘‘کے سارے حجروں کو منور کر دیا تھا۔ بائیسویںمنظر کی ایک منزل کی بھی یہی منزلت ہے کہ اس میں ایک موہوم امید الوہی غرفوں میں سوئی ہوئی نیند بھری ساعتوں کو خوابوں سے بیدار ہونے کی خوشبو عطا کر دیتی ہے۔ ’’ علینہ‘‘ کا مابعد اطبیعیاتی وجود اور’’میں‘‘کا یہی زمینی کردار نظم کے شروع سے آخر تک ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔’’میں‘‘ایک دو مقامات پر’’علیزے‘‘ہو گیا ہے۔شاعر کے اپنے نام کے صوتی منبع سے پھوٹنے والے یہ دونوں اسما نظم کے کینوس کو کائنات کی سی وسعت عطا کر دیتے ہیں۔
شاعر کی اپنی ذات’’ علینہ‘‘کے ماورائی کردار سے امید کے ایک مضبوط رشتے میں گندھی ہوئی ہے۔اس کے دل سے ’’ علینہ‘‘کی کائناتوں کے اجڑے ہوئے قافلے گزرتے ہیں۔یہ صلصال کے سلسلوں سے جڑا ہوا ہے اور گرد میںڈوبے ہوئے اس زمانے جیسا ہے جسے زرد زروں کی آندھیوں سے باہر نکلنے کا اسم بھول چکا ہے۔جہاں جہاں ’’ علیزے‘‘آیا ہے وہ’’میں‘‘کے کردار کا شوخ مظہربن گیا ہے۔شوخی کی دھج دیکھیے کے وہ’’علینہ‘‘کی الماری سے خوبصورت دنوں کا راز چرا لیتا ہے۔
نظم کے کردار امیجزاور سمبلز میں معجزاتی نشانیاں بن کر وجود پذیر ہوتے ہیں۔یہ نشانیاں زندگی کے نامعلوم علاقوں کواُجالے چلی جاتی ہیں ۔کہیں تو وقت کا محدود تصور، لامحدود تصور سے پسپا ہوتاہے اور کہیں مکان کی قید سے زمانہ آزاد ہو جاتا ہے۔کہیں ہونے کا کرب نہ ہونے کی معرفت سے مصافحہ کرتا ہے اور کہیں دنی دنیا سے اوپر اٹھ کر اپنے وجود کو دائمی بقا کے ازلی نو ر سے اُجالنے کی تمنا سارے زمانوں پر محیط ہو جاتی ہے ۔
’’علینہ‘‘میں کچھ اور کردار بھی وقفے وقفے سے طلوع ہوتے ہیں اور ایک نئی معنویت کا استعارہ بن کر مجموعی منظر نامے کا حصہ ہو جاتے ہیں۔انھی میں سے ایک سدھا رتھ ہے،وہی جو زمینی کشش سے نکل کر زمانے کے زینے روشن ہو گیا تھا۔ایک اور کردار یشودھا کا بھی ہے جو حقیقی اور زمینی ہے۔تاہم اس کی راتوں میں پھیلی سرد تنہائی کو شاعر نے یوں اُجال دیا ہے کہ سدھا رتھ کی ساری ریاضت اس کے درد سینے میں ڈوب گئی ہے۔اس نظم میں ابن مریم کی پوروں سے بیمار جسموں کا دکھ محسوس کرنے والی نرسیں بھی ہیں اور وہ دق زدہ لڑکیاں بھی جن کے لیے مائرن کی ننھی سی ٹکیا ایسی گلابی پری بن جاتی ہے جو زندگی کی سانسوں سے چھاتیوں کو لبالب کر دیتی ہے۔
الٰہی! الٰہی! کی تکرار کرنے والی خلقت ہو یا اپنی بغلوں میں اسناد کی ردی دبائے منتظر نوجوان اور پنشن کی کاپیوں کے خالی خانوں میں خواہشوں کا ماہانہ اندراج کرانے والی بیوائیں،سبھی ایک لامتنا ہی دکھ کی عجیب کہانی سناتے ہیں،ایسا دکھ جو اس محدود زمان و مکاں کی آلائش سے جڑے رہنے کے سبب اس دھرتی کے باسیوں کا مقدر ہوگیاہے۔اسی محدود انسانی فکری کارکردگی کی وجہ سے مشینی دماغوں سے روندنے، کچلنے والے روبوٹ نکل آئے ہیں۔خلائی شٹل اور اُڑن طشتریوں سے ایٹمی روشنیوں کے جھماکے میں سیاہ موت برسنے لگی ہے۔آدم کی دائمی روایت سے منسلک ’’ علیزے‘‘ نے جو روشن دنوں کے راز’’ علینہ‘‘کی الماری سے چرائے تھے اسے مغربی ساحروں نے تباہ کن ایٹمی موت سے بدل دیا ہے۔ان بدوئوں کو جن کے پائوں تلے تیل کی نہریں رواں ہیں بے خبر ہیں کہ بازار میں زندگی کس بھائو بک رہی ہے۔ڈالروں کی بانجھ توانائی نے ایک مفلوج اور فاقہ زدہ عہدکو جنم دے دیا ہے ،اور یہ ایسا عہد ہے جس میں نالیوں کے کناروں پر گن گن کر جیون کے قطرے بہانے والے ایک نئے سورج کی تمنا بھی رکھتے ہیں۔
یہ تمنا ’’ علینہ‘‘کے روشن وجود سے جڑی ہوئی ہے۔پکارنے والے ’’علینہ، علینہ‘‘۔۔۔، ’’علینا،علینا‘‘۔۔۔ ’’علی نہ ،علی نہ‘‘ اور ایلی آ ،ایلی آ‘‘کی صدا لگاتے ہوئے اپنی تصدیق کے گنجلکے چیستان سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔
اسی تلاش پر یہ نظم اپنی تکمیلیت کو چھولیتی ہے،یوں کہ امیجزاور سمبلز کا ایک روشن سلسلہ لطف و آگہی اور سرشاری سے ہم کنارکر دیتا ہے۔مرمریں برجیاں، نقرئی اسم ،سرخ بوسے، سرداقرار ،درد کی نیلگوں راکھ ، دیدار کی شربتی دھوپ،شش دری ممٹیاں ،سونے چاندی کی دو روٹیاں،بھوک کے بگولے،زیر آب تیرتی مرگ مچھلیاں ،گردسے گل میں تبدیل ہونے کی تمنا ، گھنی گاڑھی سیاہی، کم خواب گھاٹیاں ،لفظوں کی صندل خوش بو ،سوت کی انٹی میں تلنا،دردیلے دن،الو ہی الائو ،گلابی تجلی، نیندوں بھری ساعتیں ۔۔۔ میں لکھتا جارہا ہوں اور فرشی کی نئی بوطیقا ’’ علینہ‘‘ کے بھید مجھ پر کھولتی چلی جاتی ہے۔
نطشے کے بہ قول ہر شخص اپنے اُسلوب سے پہچانا جاتا ہے ۔فرشی نے اپنے اُسلوب کی اساس دانشورانہ جدوجہد کے بجائے داخلی تجربے سے حقیقت کی تخلیق اور توسیع پر رکھ کر خود کودوسروں سے مختلف کر لیا ہے۔پھر وقت کے حوالے سے اُس نے ایک بھر پور تصور کو’’ علینہ‘‘کے سارے حصوں میں یوں اُجال دیا ہے کہ ہر منظر آگے آنے والے منظر کی چوکھٹ بن جاتاہے۔
رولومے نے ایک دلچسپ بات کہی تھی،دلچسپ بھی اور عجیب بھی۔اس کا کہنا تھا کہ ’’ایک کتے کو اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ ایک اور مہینہ یا ایک اور سال بیت گیا لیکن ایک انسان تو یہ سوچ کر گھبرا جاتا ہے۔‘‘فرشی کے یہاں یہی تشویش ایک خوبصورت تخلیق کا محرک بن گئی ہے،کچھ اس طرح کہ وقت نے بھی نئی معنویت کے گلابی بوسے لے لیے ہیں۔
مجموعی طور پر’’ علینہ‘‘کا نور جس نقطے پر مرتکزہورہا ہے وہ انسانی وجود ہے،وہی جسے سقراط نے عظیم بلندیوں کا گہوارہ قرار دیا تھا۔کیرکے گارڈنے سقراط کے کہے سے یہ بنیادی نکتہ نکالا تھا کہ ’’ساری کائنات اسی وجود انسانی پر مرتکز ہے۔اس کا عرفان حقیقت اولیٰ کا عرفان ہے۔‘‘ یوں’’علینہ‘‘ اور ’’علیزے‘‘ کے دونوں کردار ان دو شفاف آئینوں جیسے دکھنے لگے ہیں جو عکس در عکس ایک دوسرے کو زنجیرکیے ہوئے ہیں۔
یہی وہ اسباب ہیں جن کے برتے پر مجھے اصرار ہے کہ ’’علینہ‘‘کواردو کی معدودے چند باقی رہ جانے والی نظموں میں شمار کیا جائے گا۔آپ نے دیکھا کہ اس میں فرشی کی قوت متخیلہ کوندے کی طرح ایک ہی ساعت میں کئی زمینوں اور کئی زمانوں پر سے لپک کر ابدیت کے کناروں کو چھولیتی ہے۔وہ اپنے امیجز کی تعمیر کے لیے اس بے کنار زمانی و مکانی علاقے سے غیر مانوس مماثلتیں اور انوکھی تضادات اور پھر ان کے جوازبرآمد کرکے نظم کے کینوس پر یوں بکھیر دیتا ہے کہ ایک مربوط بصری اور معنوی نظام ترتیب پا جاتا ہے ۔اس طرح فن پارے کے بطن سے ایسا طلسماتی ماحول وجود پذیر ہوتا ہے جس میں زمان ومکاں ،قدیم و جدید،اساطیر و سائنس ،فلسفہ و تصوف، ارتقاو فنا ، مذہب وتعقل، مادہ وروح،موت اور محبت سب ایک دوسرے سے مربوط ہو کر براہ راست ترسیل کی بہ جائے امیجز کے ذریعے نئی بوطیقا تشکیل دے دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس کے ہاں نہ تو معنی کی مطلقیت اور قطعیت ہوتی ہے اور نہ شاعرانہ تصنع ۔یوں وہ اپنی نظم کے لیے ایسا نظام و ضع کر لیتا ہے جس کے ذریعے انسان اور فطرت کے نامیاتی تعلق سے پیدا ہونے والے معلوم تضادات کے کنگروں سے ورا منطقے دریافت ہونے لگتے ہیں اور نظم دانشورانہ ادراک اور ارادی شعور سے اگلی منازل کی اوڈیسی بن جاتی ہے۔
(محمد حمید شاہد،’’علینہ- نئی اوڈیسی‘‘ ماہ نامہ’’آئندہ‘‘ کراچی،جلد۷ ،شمارہ ۲۶ ،جون؍جولائی ۲۰۰۲ ءص۴۹)

ڈاکٹر طارق ہاشمی
شش دری ممٹیوں پر نقرئی اسم کا ورد
فکر وخیال کی ترسیل کے لیے اُردونظم میں جو کردارتشکیل دیے گئے ہیں اُن میں ن م راشد کی نظم ’’حسن کوزہ گر‘‘ میں جہاں زاد اور جیلانی کامران کی نظم ’’ابی نمر‘‘ میں’’ فاطمہ ‘‘کے علاوہ کوئی قابل ذ کر نسائی کردار مشکل ہی سے ملتا ہے ۔ جدید نظم کے چوتھے پڑاؤ پر موجود شعرا میں علی محمدفرشی کی ’’علینہ‘‘ اور اشرف یوسفی کی ’’سحرزادی‘‘ کے کرداروں نے ایک بھرپور معنویت کے ساتھ اپنی شناخت قائم کی ہے۔
علینہ کا کردار علی محمد فرشی کی طویل نظم میں سامنے آیا ہے۔ کردار کے نام پر معنون یہ نظم۲۴ مناظر پر مشتمل ہے۔ ہر منظر الگ نظم کے طور پر ایک انفرادی اکائی بھی رکھتا ہے جب کہ تمام مناظر مل کر ایک دائرہ تشکیل دیتے ہوئے وحدت میں بھی ڈھلتے ہیں۔علینہ اگرچہ ایک نسائی وجود ہے لیکن نظم میں یہ کردار محض ایک عورت کے روپ میں ظاہر نہیں ہوتا بلکہ زمان و مکان سے ماورا ایک ایسا ازلی و ابدی ہست ہے جس سے کائنات اور اس کے جملہ عناصر اپنے ہونے کا جوہر حاصل کرتے ہیں۔
نظم کے بعض حصوں میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے خدائی طاقت کو علینہ کے تانیثی نام سے موسوم کیا گیا ہے۔خدا کو کسی تانیثی وجود سے تعبیر کرنے کی کئی ایک اسطوری روایات ازمنۂ قدیم سے موجود ہیں۔ یونانی دیومالامیں شی گاڈکا تصوررہا ہے۔ اسی طرح ہندومت میں کئی ایک دیویوں کی پوجا کی جاتی ہے جن میں سرسوتی بطورِ خاص قابلِِ ذکر ہے۔ اِسی طرح زمین کو بھی دھرتی ماں کہا جاتا ہے۔ عرب معاشرے میں بھی عزہ، لات اور منات کا تصورخدا کی بیٹیوں کے طور پر رہا ہے۔ لازم نہیں کہ علینہ کا تخلیق کار مذکورہ تصورات سے متاثر ہو لیکن اُس نے علینہ کے روپ میں عورت کو ایک الوہی استعارے کے طور پر ضرور پیش کیا ہے۔
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اس نظم کا آغاز’’دیباچہ‘‘ سے ہوتا ہے جس میں’’علینہ‘‘ مکمل نسائی وجود میں ظاہر ہوتی ہے،کیوںکہ اس طویل نظم کی تخلیق کا باعث ایک سوال ہے جو ایک نسائی کردار ’’مہک‘‘ نے شاعر سے علینہ کے بارے میں پوچھا ، لہٰذا ابتدا ہی میں واضح ہو گیاکہ’’ مہک‘‘،شاعر اور ’’علینہ ‘‘ تینوں سہ جہاتی تقویم بھی رکھتے ہیںیہ اور بات کہ ’’مہک‘‘ کا معرفہ لطیف تر وجود کی علامت میں سامنے آیا ہے اور شاعری کی نسبت سے ’’علی‘‘ بھی لطافت کا مظہر ہے،یہیں سے یہ سراغ بھی ملتا ہے کہ ہو نہ ہو ’’علینہ‘‘ ، شاعر’’علی‘‘ سے مشتق ہے ،یوں ہم اسے شاعر کی آئیڈیل نسائی صورت قرار دے سکتے ہیں۔اگلے تمام مناظراسی کے ارتقا و ارتفع کے ابعاد ہیں۔
نظم کا واحد متکلم مذکرپوری نظم میں جا بہ جا ’’علینہ‘‘کومخاطب کرتے ہوئے زندگی کے کئی ایک پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔پہلے منظر میں وہ ازل سے اَبد تک پھیلی ہوئی کائنات کی وسعتوں میں لمحۂ حال کے انتہائی مختصر پَل کو ایک پُل قرار دیتے ہوئے اپنے زوال پر گریہ کناں ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے جیسے اُس کی رگوں میں لہو نہیں بلکہ ہڈیوں میں دیمک دوڑ رہی ہے۔ وہ کہتا ہے:
علینہ !
اب یہاں اک سوختہ، خستہ
شکستہ ہڈیوں کا بُھر بُھرا پُل ہے
اور اِس کے ہر طرف پھیلا ہوا کُل ہے
میں اِس ٹوٹے ہوئے پُل سے
ازل سے تا ابد پھیلے ہوئے کُل میں
بکھرتی ریت کے منظر میں گرتا جا رہا ہوں
دوسرے منظرمیں شاعر اِس تمنّا کا اظہار کرتا ہے کہ اُسے علینہ اِس کثافت بھری دُنیا سے اوپر اُٹھا لے۔ اُسے وہ نروان مل جائے جو برگد کے نیچے بیٹھے ہوئے گو تم کو نصیب ہوا تھا۔تیسرے منظر میں کائنات کی اِبتدا کی تمثال ہے جس میں متکلم علینہ سے ایک ایسے عظیم غم کی آرزو کرتا جو اُسے زندگی کے قریب تر کر دے۔ وہ اپنے سینے کو چٹان جیسا سخت سمجھتے ہوئے یہ تمنا کرتا ہے کہ اِس پر غم کی ایسی برچھی چلے جس سے کوئی جھرنا پھوٹے اور تخلیق کا بندٹوٹ جائے۔اس کے فوراً بعد کے منظر میں علینہ کا کردار اپنی مجموعی صفات کے ساتھ اُبھرتا ہے۔ متکلم زمانوں کے سفر کی مسافت اور تھکاوٹ کا اظہار کرتے ہوئے علینہ سے اُس کے دیدار کی تمنا کرتا ہے۔
علینہ!
تجلی بھری لاٹ کی
جھلملاتی تمازت میں
لپٹی ہوئی زندگی کی طرح
اپنے حجلے سے باہر قدم رکھ
زمانہ زمیں بوس ہو
اِک جھلک دیکھنے کو تری
کائناتیں جھکیں
گردشیں آسمانی رکیں
وقت کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں
اِس منظر میں واحد متکلم کے کردار کی بعض گتھیاں بھی سلجھتی ہیں اور اِس سوال کے جواب کا اشارہ ملتا ہے کہ علینہ کے دیدار کی تمنا کرنے والااور نروان چاہنے والایہ کرداربہ ذاتِ خود کون ہے؟
مگر ایک میں۔۔۔!
جو ازل اور اَبد کےکہیں وسط میں
چند لمحوں کو چمکاتو یک دم
ترے سارے حجرے منوّرہوئے تھے
زمانے مدوّر ہوئے تھے
یہ سطورظاہر کرتی ہیں کہ متکلم خود اِس کائنات کی روحِ رواں ہستی ہے مگر شاید اب کسی باعث زوال آشنا ہے۔ زوال کا یہی احساس ہے کہ وہ دوبارہ روحانی توانائی چاہتا ہے اور اُس کے نزدیک اِس توانائی کا مرجع علینہ ہے۔ اُس کا دیدار اور اِذن عطا ہو گا تو اُس کے اندر تخلیق کی طاقت آئے گی۔ وہ ایسے لفظ تراشے گا جو اَبد تک زندہ رہیں گے۔ وہ علینہ سے التجا کرتا ہے:
کبھی اپنے ہونٹوں سے قُم کا
کوئی خُم مجھے بھی عطا کر
میں لفظوں کے ایسے کبوتر بنائوں
تری شش دری ممٹیوں پر
ہمیشہ ہمیشہ
جو اپنی مقدس غٹرغوں غٹرغوں جگاتے رہیں
آسمانوں پہ تارے سدا جگمگاتے رہیں
میں رہوں نہ رہوں
میرے معصوم ننھے پرندے
تری حمد گاتے رہیں
نظم کے پانچویں منظرمیں علینہ معیشت یا رزق کی دیوی کے طور پر ابھرتی ہے لیکن متکلم اپنے لیے رزق یا وسائل رزق کو اہمیت نہیں دیتا کیونکہ حصولِ رزق کی کوشش انسان کو اُس زمانے کا غلام بنا دیتی ہے کہ جس کا اُسے آقا بنایا گیا ہے۔ حصولِ رزق کی مساعی ایک بگولایا گردبادہے جو انسان کو اُڑا لے جاتا ہے۔علینہ کا چھٹا منظر وقت کے بہاؤ کی تمثال ہے۔ وقت کا یہ بہاؤ اشیا کی ماہیت بدلتے ہوئے انھیں فنا سے دوچار کرتا رہتا ہے۔ اِس حصے میں علینہ کا کردار آفرینش کی اُس دیوی کے طور پر اُبھرتا ہے جو فناوبقا کے اِس سارے حیران کن عمل کو دیکھ کر مسکرا رہی ہے۔
ساتویں منظرمیں’’علینہ ‘‘کا تصوّر آرٹ کی دیوی کا ہے مگر اُس کی یہ کائنات ایسا ایزل ہے جس پر کوئی خوب صورت تصویر نہیں اُبھررہی۔مابعد دونوں مناظر میں متکلم اپنی خستہ حالی پر گریہ کرتے ہوئے اپنی عبادات کے صلے کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ یہاں متکلم نے علینہ سے تعلق کو تکونی محبت قرار دیا ہے جو مسیحی نظریۂ تثلیث کی طرف اِشارہ ہے جب کہ جن عبادات کا ذِکر کیا گیا ہے اُن کا عرصہ چالیس برس پر محیط ہے جو واضح طور پر غارِحرا میں رسولِ کریمؐ کے عرصۂ عبادت کو ظاہرکرتا ہے۔ اِس منظرمیں آدم اور خدا کے مابین اُس عہد کا بھی ذِکر ہے جو لمحۂ ازل میں ہوا تھا مگر زمین پر اُتر کر آدم نے اُس وعدے کو بھلا دیا اور کسی پل اگر یاد بھی کیا تو زمانے کے شاطروں کی چالوں نے پھر فراموشی کی نذر کر دیا۔ متکلم اِس اَمر کا بھی ادراک رکھتا ہے کہ مادی زندگی کے خدا خود کو دائمی بنانے کے لیے مصروف ہیں مگر دوام صرف عشق کی تخلیقی توانائی کو ہے۔ وہ کہتا ہے:
دائم، علینہ!
فقط تیرے پھولوں کی خوشبو ہے
جن سے چرائی ہوئی چند نظمیں ہمیشہ ہمیشہ مہکتی رہیں گی
درختوں پہ موسم بدلتے رہیں گے
پرندے محبت کے لیکن چہکتے رہیں گے
گیارہویں منظرمیں مغرب و مشرق اور عرب و عجم کی عشقیہ داستانوں کے نسائی کرداروں کا تذکرہ ہے جو فی نفسہٖ آسمانی علینہ کا زمینی روپ ہیں۔ متکلم علینہ پر اُن مصروفیات کی تھکن ظاہر کرتا ہے جو حصولِ معاش کے سلسلے میں اُس پر طاری ہیں۔ وہ اِلتجا کرتا ہے کہ مٹی میں ملنے سے پہلے علینہ اُسے دید سے نواز کر غموں سے نجات دِلادے۔بارہویں منظر میں اُن ہلاکتوں کی تمثال ہے جو اہلِ مغرب نے سائنس کی ترقی سے زمین پر برپا کیں اور اب یہ سلسلہ اِس قدر پھیل گیا ہے کہ یہ آگ عبادات اور مناجات سے بھی سرد ہونے میں نہیں آ رہی۔
’’علینہ‘‘ کا تیرہواں منظر ابتدائے آفرینش اور تخلیقِ آدم کا منظرنامہ ہے۔ اِس حصے میں ایک اور کردار علیزے کا نام بھی سامنے آتا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ یہ کردار وہی متکلم ہو جو پورے سلسلۂ نظم میں علینہ سے مخاطب ہے ۔چودہواں منظر موت کی تمثال ہے۔ متکلم کی آنکھوں میں علینہ کے دِل ربا آسمانوں پہ دیدار کی پرسکوں تابناکی ہے۔ وہ اگرچہ یہاں بھی اپنی زمینی سیاحت اور اُس کے رنگوں کو یاد کرتا ہے تاہم نیلگوں گنبدوں تک پہنچ کر ایک عجیب سکون سے سرشار ہے۔ پندرہویں منظر میں سدھارتھ اور اُس کی بیوی یشودھا کا ذِکر کرتے ہوئے متکلم اڑھائی ہزار برس تک عقیدے کے درجے پر فائز رہنے والی بدھا کی عظمت پر سوالیہ نشان لگاتا ہے کہ سدھارتھ کی رہبانیت اور نروان کی قیمت اُس کی بیوی کو چکانا پڑی۔ علی محمدفرشی نے بین السطور اسے مردانہ معاشرے کے جبر کا شاخسانہ قرار دے کر تقدس کےاس اسطورہ پرشایدپہلی بار ضرب لگائی ہے۔
کہکشائیں علینہ!
جو نظموں کی صورت
مرے آنسوؤں میں اُترتی ہیں
کیسے مداوا کریں گی
یشودھا کی راتوں میں پھیلی ہوئی
سردتنہائی کا
جس سے گرمیلی خوشبو جدا ہو گئی
تومری نظم کے آسماں کا خدا ہو گئی
اور نیچے
یشودھا کی مخلوق بے آسرا
سولہویں منظرمیں عالمی طاقتوں کی سیاسی،سماجی ، معاشی اور سائنسی ترقی کو تیسری دنیا کے عوام کی زبوں حالی کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ ایٹمی ٹیکنالوجی اور معیشت کے جدید ذرائع پر قابض عالمی استعمار نےکمزور اقوام کو چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بھی محروم کردیا ہے۔اب کرسمس کے تہوار پر بچوں کو تحفے دینے کے لیے کوئی سانتاکلاز نہیں آتا ۔عالمی سرمایہ داری نظام نے اشرافیہ کو اس قابل بنا دیا ہے کہ اس طبقے کے لوگ زمین کو چھوڑ کر کسی دوسرے سیارے پر من پسند ماحول میں بود وباش اختیار کر سکتے ہیں،جبکہ دوسری جانب ان جیسے انسانوں کی بڑی تعداد زمین پر نالی کے کیڑوں کی مانند زندہ رہنے پر مجبور کردی گئی ہے! استبداد اور استحصال کے شکنجے سے صرف الوہی طاقت علینہ ہی سے توقع کی جاسکتی ہے وہ تاریخ کا پہیا مخالف سمت میں گھماکرگندے نالوں کےکناروں پر آباد انسانوں کوجنت جیسا ماحول تخلیق کرنے پر قادر بنادے۔
سترہویں منظر میں علینہ ایک بار پھر خدائی روپ میں ظاہر ہوتی ہے اور متکلم اُس کی بارگاہ میں کھڑا اُن رحمتوں کو یاد کررہا ہے جو عرصۂ ماضی میں اُس پر نازل ہوتی تھیں۔ اِس منظر میں ’’برہماپتر‘‘ بننے کی خواہش کرتے ہوئے متکلم زمین کی پیاس بجھا کر رزق کے ہریالے منظر اُگانے کی تمنا کرتا ہے۔اٹھارہویں منظرمیں ماضی کی اِنھی رحمتوں کو بچوں کی شرارت اور ایک دوسرے کی چیزیں چرانے کی مثال دے کر علیزے یہ تمنا کرتا ہے کہ علینہ کی الماری سے اُسے ایک بار پھر کھلونے ملیں۔ بڑھاپے کی دہلیز پہ بچپن کی یہ یادیں دونوں کرداروں کا ابد اور ازل پہ موجود ہونے کا استعارہ ہیں۔ ابد کی سرحد پہ کھڑا علیزے ازل کے کنارے پہ موجود علینہ سے وصل کی آرزو کر رہا ہے۔اگلے(انیسویں منظر)میں یوں ظاہر ہوتا ہے گویا وصل کی آرزو پوری ہو گئی اور متکلم وجود کا سفر پورا کر کے عدم کی منزل پر پہنچ گیا ہے۔ ہر طرف سے ’’مبارک‘‘،’’مبارک‘‘ کی آوازیں آ رہی ہیں۔
نظم کا بیسواں منظر انسان کے ہاں آگہی کے فقدان پر گریہ ہے۔ انسان اپنی حالت میں تبدیلی کے لیے کسی مسیحا کا تو منتظر ہے لیکن خود ریاضت کے اُس عمل سے نہیں گزرتا جس سے انقلاب رونما ہوتا ہے۔متکلم اپنے غم کواکیسویں منظر میں انسانیت کے اُن تمام دکھوں سے ہم آہنگ کر دیتا ہے جو معیشت کی بدولت اُسے نصیب ہوئے ہیں۔ انسان جو آج زمین پر اِتنے دکھ سہ رہا ہے، اُس سے ایک وقت خدا نے کلام کیاتھا ۔انسان نے خداکے کلام کی تکریم کا عملی مظاہرہ بھی کیا اوراس کے بخشے ہوئے علم کی بدولت فرشتوں پراپنی برتری ثابت کر دکھائی۔
یہ وہی آدمی تھا علینہ!
ترے سرخ ہونٹوں کے آفاق پر
جس نے پہلے تکلم کی تکریم کی
جس نے لاتعلمونَ کی تجسیم کی
میں اِسی آدمی کی طریقت پہ چلتا رہا ہوں،چلوں گا
جہاں تک ترا آسماں ساتھ چلتا رہے گا
ترے دائمی آئینے میں
مرے غم کا چہرہ بدلتا رہے گا
بائیسویں منظر میں متکلم اِس اَمر پر مسرت آمیز حیرت کا اظہار کرتا ہے کہ وہ کُل کا حصہ بن گیا ہے، جس کی اُسے موہوم سی اُمید بھی نہ تھی۔کائنات کی شش دری ممٹیوں پر نقرئی اسم کا ورد کرتے اور نیلمیں گنبدوں پہ حمد گاتے کبوتراسے ایک نئے آہنگِ جہاں سے مسرورکررہے ہیں۔ اُسے یوں لگ رہا تھا کہ جب وہ دُنیائے فانی سے الگ ہو گا اور کُل کا حصہ بننے لگے گا تو شاید ستاروں کی کہکشاں اُسے روک لے گی۔ اُسے یہ بھی یقین نہیں تھا کہ جس جُزوکو کُل کاحصہ بننا ہے وہ میں ہی ہوں مگر جب ایک تجلّی کا اِشارہ مِلا تو اُسے اپنے اندر حسن کا احساس ہونے لگا۔نظم کے آخری منظرمیں متکلم علینہ سے کچھ سوالات کرتا ہے جو تصوّف،زمانہ، تقدیر، موجودوناموجود اور حقیقت انسان کے بارے میں ہیں۔
’’علینہ‘‘ کےچوبیس مناظرمیں یہ کردار کئی ایک روپ اختیار کرتے ہوئے سامنے آتا ہے اور اِن مناظر میں کوئی ایسا ارتقائی تسلسل نہیں کہ ایک مسلسل کہانی کو تلاش کرتے ہوئے اِس کردار کے وجود کا تعین کیا جا سکے۔ مجموعی طور پر تمام مناظرمیں علینہ سے جس طرح اور جن جن جہتوں سے کلام کیا گیا ہے اُن سے یہ کردار انسان سے لے کر خدا کی ذات تک کے تصوّرات کا احاطہ کرتا ہے اوراِن تصوّرات کا تعلق اساطیر،مذاہب، فلسفہ، فنون اور تصوف کی کئی ایک جہات سے ہے۔
’’علینہ‘‘ میں خطاب کرتے ہوئے کردار کو زیادہ تر مناظر میں صرف واحدمتکلم ہی ظاہر کیا گیا ہے۔دو مناظر میں علیزے نامی ایک کردار کا ذکر ہے اور نظم کے تسلسل سے یہی اِمکان ظاہر ہوتا ہے کہ واحدمتکلم ہی علیزے ہے۔ یہ کردار ہر منظر میں ایک جداتصورکے ساتھ سامنے آتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ کردا رایسے انسان کا ہے جو اپنی اصل سے بچھڑ کر مادی وجود میں آگیا ہے اور زمین پر اسی اصل سے جدائی کے دکھ کے ساتھ ساتھ کئی ایک اور غموں کے دائرے میں بھی گھرا ہوا ہے۔ وہ علینہ سے وصل کی تمنا رکھتا ہے اوراپنے جُزنما وجود کو دوبارہ کُل کا حصہ بنانے کے لیے مضطرب ہے۔ اَبد کی سرحد پر کھڑا ہوا یہ کردار ازل میں موجود علینہ کو پکارتےہوئے زمان اور مکاں کی حدود میں اور اِس سے ماورا رہتے ہوئے حیات اور کائنات کے تسلسل میں کئی ایک امیجز تراشتا ہے جو دونوں کرداروں کی طرح قطعی معنویت نہیں ر کھتے بلکہ تجریدی اسلوب میں متنوّع مفاہیم کی طرف اِشارہ کرتے ہیں۔
اُردو نظم کے تسلسل میں علینہ کا کردارحُسن ودانش کی ہنرورانہ تجسیم اور زندگی کی معلوم حقیقت اور نامعلوم معنویت کے ادراک کی ایک کامیاب سعی ہے جو کسی قطعی جواب کے عدم تعین کے باوجود قاری کو وہ حیرت ضرور عطا کرتا ہے جس سے حقیقتِ ازل کی تفہیم کے لیے درِاِمکان کھلتا ہے۔
۔
( جدید اردو نظم کی تیسری جہت سے اقتباس مع اضافہ )
(ڈاکٹرطارق ہاشمی،’’شش دری ممٹیوں ۔۔۔‘‘’’نیلی شال میں ۔۔۔‘‘،مثال پبلشرز،فیصل آباد،۲۰۲۱ءص۱۱)

اصغر عابد
علینہ ناقدین کی نظر میں
جدید نظم کے نمائندہ شاعر علی محمد فرشی کی نظمو ںکا پہلا مجموعہ ’’تیز ہوا میں جنگل مجھے بلاتا ہے‘‘ کوئی سات برس پہلے شائع ہوا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی شہرت ادبی حلقوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ اس کتاب میںشامل نظمیں اپنے منفرد اسلوب ‘ ترو تازہ امیجز ‘ انوکھے سمبلز اور موضوعاتی تنوع کی بدولت ابھی تک زیر بحث ہیں۔ اس کتاب نے جدید نظم کو نہ صرف نیا اعتماد بخشا بلکہ نئے راستوں کا تعین بھی کیا۔ ابھی ’’تیز ہوا میں جنگل مجھے بلاتا ہے‘‘ کی طلسمی فضا کا رنگ مدہم بھی نہیں ہوا تھا کہ اس کی شاہکار نظم ’’علینہ‘‘ کتابی شکل میں شائع ہو گئی۔ اس طویل نظم کی تخلیق کا سلسلہ 1996ء میں شروع ہواتھا۔ گزشتہ چھےبرسوں میں اس نظم کے مختلف کینٹوز حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد ‘ راولپنڈی اور لاہور کے تنقیدی جلسوں میں زیر بحث آتے رہے۔ ملک کے موقر ادبی جرائد میں شائع ہوتے رہے ‘ ٹی وی ‘ ریڈیو ،مشاعروں اور ادبی صفحات کے ذریعے بھی یہ نظم ادب کے سنجیدہ قارئین کی پیاس بجھاتی رہی۔ گزشتہ دو تین برسوں میں تو یہ نظم ادبی حلقوں کا موضوعِ خاص بن گئی تھی۔شاید ہی کسی کتاب کو اشاعت سے پہلے اتنی اہمیت اور مقبولیت حاصل ہوئی ہو۔ اس عرصے میں ’’علینہ‘‘ کی مختلف توجیہات ہوتی رہیں۔کسی نے اسے نسوانی پیکر قرار دیا تو کسی نے زندگی ‘ کسی کے خیال میں یہ شاعر کا آئیڈیل اور کسی کے خیال میں یہ الوہی طاقت قرار پائی۔ کسی نے اسے شاعر کی ذات کا تکملہ کہا تو کسی نے روح عظیم ‘ کہیں یہ اسطورہ سازی کی مثال بنی تو کہیں روح کائنات۔ جوں جوںنظم آگے بڑھتی رہی کتابی شکل میں اس کی اشاعت کا انتظار بھی بڑھتا چلا گیا تاکہ درست تناظر میں اس کی کلیّت دریافت کی جا سکے۔ اسی مقصدکے حصول کے لیے حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد نے ایک تنقیدی اجلاس کا انعقاد کیا جس کی صدارت ممتاز شاعر سید ضیا جالندھری نے کی۔ ممتاز نظم گو آفتاب اقبال شمیم مہمان خصوصی تھے۔ یہ خصوصی اجلاس اکادمی ادبیات پاکستان کے کانفرنس ہال میں ہو رہا تھا جس میں جڑواں شہروں کے سو سے زائد ادیب، شاعر اور ناقدین شریک تھے۔
تنقیدی اجلاس کا آغاز معروف افسانہ نگار اور نقاد محمد حمید شاہد کے ابتدائیہ ’’علینہ-نئی اوڈیسی‘‘ سے ہوا۔ انہوں نے اپنے مقالے میں ’’علینہ‘‘ کے مابعد الطبیعیاتی وجود کی پرتوں کو ایسی تنقیدی بصیرت کے ساتھ کھولا کہ نظم پر پڑے ہوئے ابہام کے پردے اٹھتے چلے گئے۔ انہوں نے اس نظم کو تخلیقی مراقبہ میں در آنے والے ارفع سچ کے اسرار کی کہانی قرار دیتے ہوئے زمان و مکان کی نئی معنویت کی دریافت کا نمونہ کہا اور علینہ کے ساتھ ساتھ ’’علیزے‘‘ کی گھتیاں بھی سلجھائیں۔

محمد حمید شاہد
علینہ کا ما بعد الطبیعیاتی وجود اور ’’میں‘‘ کازمینی کردار نظم کے شروع سے آخر تک ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔’’میں‘‘ دو مناظر میں’’علیزے‘‘کے کاسٹیوم میں بھی سامنے آیا ہے۔شاعر کے اپنے نام کے صوتی منبع سے پھوٹنے والے یہ دونوں کردار نظم کے کینوس کو کائنات کی سی وسعت عطا کر دیتے ہیں۔’’نظم کے کردار‘‘امیجز اور سمبلز نظم میں معجزاتی نشانیاں بن کر وجود پذیر ہوتے ہیں۔یہ نشانیاں نا معلوم علاقوں کو اجالے چلی جاتی ہیں۔کہیں تو وقت کا محدود تصور لا محدود تصور سے پسپا ہوتا ہے اور کہیں مکان کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے۔کہیں ہونے کا کرب نہ ہونے کی معرفت سے مصافحہ کرتا ہے اور کہیں دنی دنیا سے اوپراٹھ کر اپنے وجود کو دائمی بقا کے ازلی نور سے اجالنے کی تمنا سارے زمانوں پر محیط ہو جاتی ہے۔فرشی نے اپنے اسلوب کی اساس دانشورانہ جدوجہد کے بجائے داخلی تجربے سے حقیقت کی تخلیق اور توسیع پر رکھ کر خود کودوسروں سے مختلف کر لیا ہے پھر وقت کے حوالے سے اس نے ایک بھر پور تصور کو ’’علینہ‘‘کے سارے حصوں میں یوں اجال دیا ہے کہ ہر منظر آنے والے منظر کی چوکھٹ بن جاتا ہے۔رولومے نے کہا تھا۔’’ایک کتے کو اس بات کی پروا نہیں ہوتی کہ ایک اور مہینہ یا سال بیت گیا لیکن انسان تو یہ سوچ کر گھبرا جاتا ہے‘‘۔فرشی کے ہاں یہی تشویش ایک خوبصورت تخلیق کا محرک بن گئی ہے کچھ اس طرح سے کہ وقت نے بھی نئی معنویت کے گلابی بوسے لئے ہیں فرشی نے نئی بوطیقا تشکیل دے لی ہے اس کے ہاں نہ تو معنی کی مطلقیت اور قطعیت ہوتی ہے اور نہ شاعرانہ تصنع۔یوں وہ اپنی نظم کے لئے ایسا نظام وضع کر لیتا ہے جس کے ذریعے انسان اور فطرت کی نامیاتی تعلق سے پیدا ہونے والے معلوم تضادات کے کنگروں سے ورامظقے دریافت ہونے لگتے ہیں اور نظم دانشورانہ ادراک اور ارادی شعور سے اگلی منازل کی اوڈیسی بن جاتی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

رفیق سندیلوی
معاصر نظمیہ شاعری میں علی محمد فرشی کی اہمیت مسلم ہے کہ جدید نظم کے نہایت کڑے انتحاب اور تذکرے میں بھی علی محمد فرشی کی نظـم کا حوالہ موجود ہوتا ہے۔اس طویل نظم میں شاعر نے اجزاء کو جوڑ کرایک کل بنایا ہے لیکن یہ کل اپنے اجزا کے میزان اور مجموعے سے زائدہے جب ہم نظم کی قرات مکمل کر لیتے ہیںتو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اجزا سے کچھ زائد بھی ہماری گرفت میں آگیا ہے گسٹالٹ تھیوری کے مطابق یہ جو زآئد ہماری گرفت میں آجاتا ہے اس کا تجزیہ ممکن نہیں ہوتا۔طویل نظم زیادہ الفاظ کے استعمال،مصروں کی کثرت،وضاحتوں اور واقعات کے پھیلائو سے نہیں بنتی بلکہ نظم کے اندر تخلیقی سٹرنگ اور روانی کی بدولت ازخود اندر ہی اندر پھیلتی چلی جاتی ہے۔’’علینہ‘‘’’علی‘‘اور ’’نہ‘‘کا امتزاج ہے شاعر نے اپنی ’’ذات‘‘ اور ’’لاذات‘‘ کو ملا کر ایک نام تشکیل دیا ہے نظم میں تخاطب کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ ’’علینہ‘‘ خاموش کردار ہے اس نے ایک مکالمہ بھی نہیں بولا۔میں حمید شاہد سے اتفاق کرتا ہوں کہ علی محمد فرشی خود علیزے کے روپ میں علینہ سے مخاطب ہے انہوں نے علیزے کو نظـم کا کبیری کردار قرار دیا اور کہا کہ علینہ کوئی نسوانی پیکر نہیں جو اس کے مد مقابل آتی اوراس سے تکرار کرتی۔ علی محمد فرشی نے اسے نسوانی کردار سے اوپر اٹھا دیا ہے۔اس طرح کہ کہیں کہیں علینہ الو ہی روپ بھی اختیار کر گئی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

پروین طاہر
’’علینہ‘‘ساخت کے اعتبار سے خوبصورت ایپک موضوعات کے لحاظ سے ایک مکمل شہر آشوب اور شعری لفظیات کے حوالے سے ایک دردیلا مگر غنائیہ مونو لاگ ہے۔’’علینہ‘‘ایک رنگارنگ کولاژ ہے ایک میورل ہے جس کی ہر تصویربذات خود ایک کل بھی ہے اور ’’علینہ‘‘کے کل کا جزو بھی۔علی محمد فرشی اپنی عظیم تلاش میں غم کی اندھی گپھائوں اور تقدیر کی سیاہ خندقوں کو عبور کرتے ہوئے حقیقت عظمی کے وصال تک جاپہنچے ہیں۔عین اس مقام پر میراذاتی خیال یہ ہے کہ شاعر کی چاہت میں ایک دھیمی دھیمی تمازت ہے آتش عشق گیر نہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انوار فطرت
اپنے موضوعات کے ربط ،فضا کے تسلسل اور امیجز بھرے اسلوب کی زینہ زینہ اترتی ’’علینہ‘‘بلاشبہ اردو کی طویل نظموں کی ذیل میں ایک قابل قدر اضافہ ہے۔یہ نظم علی کا قد مزید بڑھا کر اسے کم ازکم اپنے ہم عصروں میں ممتاز ٹھہرائے گی۔میرے نزدیک اظہار کا یہ نیا تجربہ روح عصر کے قریب ترہے۔اس نظم نے علی کی مشکیںکسی ہوئی تھیں اور اسے سائکٹیرسٹ کے زیر علاج رہنا پڑا۔اسے اس نظم کی تخلیق کے دوران ذاتی طور پر بہت کچھ قربان بھی کرنا پڑا۔علی کا یہ خاص تخلیقی اندازہے کہ وہ ایک کیفیت سے دوسری کیفیت میں خاموش زناٹے کی طرح داخل ہوجاتاہے لیکن اس کمال کے ساتھ کہ قاری اس بلا کی تیزی کو محسوس بھی نہیں کر پاتا اور اپنے اس عمل کے لئے وہ درمیان میں کوئی امدادی مصرع بھی نہیں لاتا۔یہ انتہائی حیرت انگیز اور طلسماتی عمل ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس نظم کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اسے کاپی نہیں کیاجاسکتا ۔کسی بھی بڑے فن پارے کی طرز کو اختیار کرنا ممکن ہی نہیں ہوتا اور مجھے ’’علینہ ‘‘ میں یہ خوبی بدرجہ اتم نظر آئی ہے۔’’دیباچہ‘‘ہی وہ منظر ہے جہاں ہمیں ’’علینہ‘‘کا پیکر دیکھائی دیتا ہے ۔باقی تمام مناظر میں یہ پیکر معدوم ہے اور نظم شاعر کے ماورائی سفر کی روداو بن گئی ہے۔اس نظم میں زبردست تخلیقی آنچ ہے اور ایسی کشش اور گرفت ہے کہ قاری اس سے باہر نکل ہی نہیں پاتا ۔جذبے اور فکر کے توازن ‘مفاہیم کی تہہ داری اور بڑے موضوعات کی گہری معنویت نے اس کتاب کو عظیم فن پارہ بنا دیا ہے۔کم از کم گزشتہ ربع صدی میں اس سے بڑی اور اہم نظم تخلیق نہیں ہوئی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
’’علینہ‘‘شعری اسطورہ سازی میں ترفع کی اعلی پر تخیل نسائی تمثال ہے۔معنویت کے اعتبار سے یہ ایک مثبت تمثال ہے اور شاعر نے اس دیوی سے مخاطب ہوکر اپنے دل کا احوال بیان کیا ہے۔وہ اس اعتبار سے اپنے ہم عصروں میں منفرد ہے کہ اس نے ایک مثبت آئیڈیل سے مکالمہ کیاہے۔ اس شعری مکالمے میں جذبے اور احساس کی لہر بہت تیز ہے تاہم فکری طور پر ایک ادھوراپن دکھائی دیتا ہے اور نظم محض ابتلا کے احوال تک محدود رہتی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

جلیل عالی
’’علینہ کی علامت زندگی کے کسی ایک پہلو سے تعلق نہیں رکھتی ۔یہ ایک ایسی مجرد علامت ہے جس میںوجود اور ماورا کے تمام مناظر دکھائی دیتے ہیں۔فرشی اس نظم میں تہذیبی،روحانی،اخلاقی،ثقافتی،سائنسی اور کائناتی سطح پر علینہ سے مکالمہ کرتا ہے۔اگرچہ نظم میں ابتلا کا ذکر موجود ہے لیکن اس ابتلا سے نکلنے کا راستہ بھی دکھائی دیتا ہے۔فرشی نے کئی مقامات پر اس ارتفاع اور سرشاری کو چھوا ہے جو شاعر کے ہاں زندگی کا وژن بنتا ہے۔ زندگی کے کل میں جینے کی بے تابی علی محمد فرشی کی شاعری کا مرکزومحور ہے۔ اتنی طویل نظم سے اگر کوئی شخص ایک بھی کمزور اور غیر شاعرانہ مصرع نکال دکھائے تو انعام کا مستحق قرار پائے گا۔ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
جمیل آذر
جتنے بھی بڑے شاعر گزرے ہیں ان کی خواہش رہی ہے کہ ایک بڑی نظم لکھی جائے خواہ وہ ملٹن ہو،کیٹس ہو کہ شیلے ہو ۔علی محمد فرشی اس اعتبار سے خوش قسمت ہے کہ وہ ایک بڑی نظم لکھنے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔’’علینہ‘‘کی کئی پرتیں ہیں کہیں وہ آئیڈیل کی شکل میں سامنے آتی ہے تو کہیں شاعری کی دیوی کی شکل میں ۔ہر بڑے شاعر اور پیغمبر کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ انسان کے لئے جنت عظیم تخلیق کرے۔علی محمد فرشی کے ہاں بھی ایسی ہی جنت کا آئیڈیل دکھائی دیتا ہے۔نالہ لئی کے کنارے ابتلا زدہ زندگی کے لئے جنت تعمیر کرناہی اس طویل نظم میں شاعر کا وژن بنتا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

احسان اکبر
علی محمد فرشی تکمیل کار شاعر ہے وہ جس صنف کو بھی چھوتا ہے اسے بلندیوں تک پہنچا دیتا ہے۔ مختصر صنف سخن ہائیکو کے سہ مصرعی پیکر سے ’’علینہ‘‘ جیسی طویل نظم کو کامیابی سے نبھاناا س کی تخلیقی صلاحیت کا مظہر ہے۔ہائیکو اس نے اتنی کامیابی سے لکھی کہ کسی نے کہا کہ شاید اس کاتعلق جاپان سے ہے۔اسی طرح’ماہیا‘اس نے لکھا تو تمام تر تہذیبی اور ثقافتی تقاضے پورے کردئیے۔’’تیز ہوا میں جنگل مجھے بلاتا ہے‘‘میں اس نے نظم کو نئے زاویے اور ذائقے دئیے۔اب ’’علینہ‘‘شائع ہوئی ہے تو ایک اور ہی طرح کا علی محمد فرشی سامنے آیا ہے اس نظم میں علی اور علینہ کے درمیان مٹی کا دریا حائل ہے۔دکھ کا ایک سمندر ہے اور زمانوں کے فاصلے ہیں جنہیں وہ اپنے وژن کی قوت سے عبور کرتا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آفتاب اقبال شمیم
اس نظم میں شاعر نے اپنی ذات کے کرب اور دنیا کے آشوب کو ’’لا‘‘کی حالت میں دیکھا ہے اس پر ’’لا‘‘کی گرہ کھل نہیں رہی اور شاعر علینہ سے التجائیں بھی کرتا جاتا ہے اور آخر تک دعائیں بھی کرتا ہے۔نظم میں شعور اور لاشعور کی آمیزش دکھائی دیتی ہے۔یہ نظم ایک مونتاژ اور موزیک کی شکل میں تخلیق کی گئی ہے ۔علی محمد فرشی نے بہت سی اکائیوں کو جمع کرکے ایک بڑی اکائی بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔علینہ ایک بڑی نظم اور کامیاب شعری تجربہ ہے اور فرشی نے اس نظم کے ذریعے ایک بڑی تخلیق کا آغاز کیا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ضیا جالندھری
علینہ اُن نظموں میں سے ہے جن کے ساتھ آپ سانس لیتے ہیں اور جو آپ کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔ یہ بیک وقت ایک نظم بھی ہے اور کئی نظمیں بھی۔ اور اس طرح یہ مستقبل کی طویل نظم کی اِک جہت بھی معلوم ہوتی ہے۔ جیسا کہ آج کی تقریب میں بھی تمام ناقدین نے ’’علینہ‘‘ کی مختلف جہات دریافت کیں اس بات پر دال ہے کہ علی محمد فرشی ایک لفظ کی کئی معنوی سطحیں دریافت کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ فرشی کے ہاں حقیت یک رنگی نہیں ہے۔ اس نظم کا شاعر ایک پراذیت زخمی روح کو ساتھ لے کر چلتا ہے مگر اپنے تجربہ کو تخلیقی عمل سے یوں گزارتا ہے کہ قاری کے لئے خوبصور ت اور پُر کیف بناتا چلا جاتا ہے۔ جب ہم لوگ اپنے زمانے میں نظم کو پانچ کینٹوز میں تقسیم کرتے تھے تو اس زمانے کا نقاد اسے ایک نظم ماننے سے انکار کرتا تھا لیکن بعد ازاں اسے تسلیم کر لیا گیا۔ علی محمد فرشی اس سے بھی آگے نکل گیا ہے۔ اس نے ۲۴ (چوبیس) اکائیوں کو جوڑ کر ایک بڑی اکائی بنائی ہے۔ یوں زندگی کی مختلف حقیقتوں اور صداقتوں کے مختلف رنگوں کو یکجا کرکے ایک منفرد نظم تخلیق کی ہے۔
’’علینہ‘‘ ایسی شہکار نظم ہے جو تخلیق نہیں کی جاتی بلکہ ہو جاتی ہے۔ پہلی بار جب میں نے حلقہ ارباب ذوق راولپنڈی میں علی محمد فرشی کی نظمیں سنیں تو میں نے اسی وقت محسوس کر لیا تھا کہ اس کے لفظوں میں ایک روشنی ہے جو معنی اورمفہوم سے بالاہے اور جسے یہ نعمت مل جائے اسے اور کیا چاہیے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(اصغر عابد، ’آفاق‘ راول پنڈی ، شمارہ ۲ ، جون ۲۰۰۲ء،ص۹۰)