خوش آمدید

یہاں آپ علی محمد فرشی کے شعری مجموعے،ان کے فن پر لکھے گئے تنقیدی مضامین،نظموں کے تجزیاتی مطالعات اور مختلف بین الاقوامی اور قومی زبانوں میں ان کی نظموں کے تراجم ملاحظہ فرمائیں گے۔

علی محمد فرشی۳؍دسمبر۱۹۵۵ءکوراولپنڈی کےقُرب ’چونترہ‘ میں پیدا ہوئے؛لیکن سکول میں داخلے کے وقت غلطی سے ان کی تاریخِ پیدائش۲۴؍جنوری ۱۹۵۶ءدرج ہوگئی۔ چناں چہ اُن کی تمام دستاویزات میں یہی تاریخ درج ملتی ہے۔ اپنےادبی سفر کا آغاز انھوں نے ۱۹۷۳ ء میں افسانے سے کیا لیکن جلد ہی نظم کو اپنے تخلیقی اظہار کا ذریعہ بنا لیا۔ اُن کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’تیز ہوا میں جنگل مجھے بلاتا ہے‘‘ ۱۹۹۵ء میں شائع ہوا ۔ ناقد ین اور قارئین نے مشمولہ نظموں کے تر و تازہ ڈکشن، موضوعاتی تنوّع ، سمبالک اُسلوب اور معنیاتی وسعت کے حوالوں سے اس کتاب کو خصوصی اہمیت دی ۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ’’فرشی کے ہاں امیج سے آگے جانے اور معنی کی تہ در تہ سطحوں پر اس امیج سے آخری قطرہ تک نچوڑ لینے کی قدرت موجود ہے‘‘۔ڈاکٹر فہیم اعظمی نے اپنے مضمون میں لکھا’’یہ علی محمد فرشی کی پہلی کتا ب ہے لیکن فن کے اعتبار سے ان کی شاعری وژن کی شاعری معلوم ہوتی ہے جو کہنہ مشقی کے بعد ہی ممکن ہے‘‘۔’’ ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے اپنی کتاب ’’نظم کیسے پڑھیں‘‘ ،مطبوعہ ۲۰۱۸ء، میں اس مجموعے سے ایک نظم ’سانپ نے اندھے لفظ کا لنچ کیا ‘کو مفصل تجزیے کے لیے منتخب کیا۔ گویا بیس برس کے بعد بھی اس کتاب کی اہمیت اپنی جگہ قائم تھی۔ علی محمد فرشی کی پچاس برس پہلے لکھی گئی نظمیں بھی شعری تازگی،فنی رچاؤ اور تاریخی و سماجی شعور کے باعث زمانۂ حال کی عکاس دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے آٹھ شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں جن کا ڈیجیٹل مطالعہ آپ ’’تصانیف‘‘کے صفحے پرکرسکتے ہیں

 (نظمیں) تیز ہوا میں جنگل مجھے بلاتا ہے
(اردو ماہیے) دکھ لال پرندہ ہے
(طویل نظم) علینہ
(نظمیں) زندگی خودکشی کا مقدمہ نہیں
(نظمیں) غاشیہ
محبت سے خالی دنوں میں (نظمیں)
قید سے لبالب پنجرہ (طویل نظم)
آٹھواں رنگ الفاظ کا (نظمیں)

اس وقت اُن کے تین شعری مجموعے اشاعت کے منتظرہیں

(طویل نظم)مشینہ
مرتے ہوئے خواب کا بوسہ (نظمیں)
اوک سمندر (مختصر نظمیں)

علی محمد فرشی کا اہم ترین وصف یہ ہے کہ سترسال عمر میں بھی وہ نہایت ترو تازہ نظمیں لکھ رہے ہیں۔ ان کی نظموں کا متعدد بین الاقوامی اور  قومی زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے جن میں انگریزی، جاپانی، عربی، ترکی، فارسی، ہندی، سندھی،ہندکو شامل ہیں۔ان کی متنوع ادبی جہات کو یہاں اختصار کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی رائے میں ’’فرشی صاحب کی نظمیں ہمیں غنودگی سے، ایک جھٹکے کے ساتھ جگاتی محسوس ہوتی ہیں اور ہمیں حقیقی دنیا کے ضمن میں پہلے سے زیادہ حساس بناتی ہیں، کیوں کہ ان نظموں کی پیچیدگی خالصتاً استعاراتی یعنی معانی سے لبریز ہے۔فرشی صاحب کی نظم میں ایک لفظ تک زائد نہیں!یہی نہیں،بلکہ وہ اوقاف کی علامتوں اور کاغذ کی خالی جگہوں تک کو نظم کے لیے بروے کار لاتے ہیں۔ ‘‘ناول نگار،مترجم،نقاد اور ادبیاتِ عالم پر گہری نظر رکھنے والے سکالر زیف سید نے علی محمد فرشی کی نظم’ سائبیریا‘پراپنے تنقیدی تجزیاتی مضمون نے لکھا ہے کہ یہ نظم اردو کا پہلا ڈسٹوپیا ہے۔ ضیا جالندھری نے لکھا ہے،’’ فرشی لفظ کی کئی معنوی سطحیں دریافت کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ اس کی نظموں میں موجود لفظوں کے شیڈز سے اَن کہی بات کی پرتیں کھلتی چلی جاتی ہیں’’علینہ‘‘ ان نظموں میں سے ہے جو آپ کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔یہ ایسی شہکار نظم ہے جو تخلیق نہیں کی جاتی بلکہ ہو جاتی ہے۔‘‘علی محمد فرشی نے پنجابی لوک صنف ’’ماہیا‘‘ کا اردو میں احیا کیا۔ان کے ۲۴۰ اردو ماہیوں کا مجموعہ ۱۹۹۸ءمیں شائع ہوا۔یوں پاکستان میں سب سے زیادہ بولی والی جانے زبان کی مقبول لوک صنف کو قومی زبان میں رائج کردیا۔ پنجاب کی رنگا رنگ ثقافت کی اردو زبان میں شمولیت کے باعث قومی یکجہتی کو فروغ ملا ۔علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے بی ایس اردو کے نصاب میں ماہیا کو شامل ہونے سے اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔اب اردو میں ماہیا نگاروں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔پاکستان تقریباًنصف صدی سے دہشت گردی کا شکار ہے۔ جس میں لاکھوں (براہِ راست یا بالواسطہ ) انسانی زندگیاں ضائع ہوئیں۔فرشی کی شاعری میں جس شدت اور کثرت سے اس موضوع کو برتا گیا ہے، اردو شاعری میں اس کی مثال مشکل سے ملے گی ’’سفید کاسہ لہو سے لبریز ہو چکا ہے‘‘، ’’بارود گھر‘‘، ’’ ہم زاد‘‘،’’خواب جلنے کی بو‘‘اس ضمن میں بہت اہم نظمیں ہیں۔کرۂ ارض کا ہر ذی شعور فرد براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایٹمی جنگ  کے خوف میں مبتلا ہے،’’کاش ہم زندگی استعمال کر لیتے‘‘، ’’دھوئیں کا درخت‘‘،،’’کینچوے کے بل میں‘‘،’’تماشائی حیرت زدہ رہ گئے‘‘، طویل نظم ’’علینہ‘‘ کا بارہواں اور سولہواں منظر،’’ موٹا حرامی‘‘اور ’’چھوٹا حرامی‘‘ ایسی جھنجوڑ دینے والی نظمیں ہیں جو ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کا احساس دلاتی ہیں۔ان کی نظمیں جدید زندگی سے جڑے عصری نفسیاتی مسائل سے نجات کا راستہ دکھاتی ہیں ۔وہ برصغیر کی صوفیانہ روایت کو ذات اور معاشرت سے جڑے مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔ان کی متعدد نظمیں خالص صوفیانہ موضوعات کی حامل ہیں۔ ’’ میں مکے سے میلی آئی‘‘، ’’ جیون دو دھاری تلوار ‘‘ ،’’گوری آپ مقدر والی‘‘، ’’ستر ماؤں کا پیار‘‘، ’’ساری ماؤں کے نام‘‘،’’ میں باہر کے اندر‘‘، ’’ترنجن‘‘ اوریک کتابی طویل نظم ’’علینہ‘‘ اسی منزہ  فکر کی شعری تعبیرات سے عبارت ہیں۔ ڈاکٹر رشید امجد نےاپنے طویل مضمون ’’علی محمد فرشی کے نظم کدے کی کلید‘‘ میں لکھا ہے کہ عورت کے حوالے سے فرشی نے جو استعارے بنائے ہیں اور اپنی بلاغت کے باعث ان کے وسیع تصورِ تانیث کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کے ہاں عورت نہ صرف جنم دینے والی ایک عظیم ہستی ہے بلکہ ہمارے معاشرتی نظام میں دکھ سہنے والی ایک ایسی قوت بھی، جس نے سماجی مسائل کا تمام کرب اپنے شانوں پر ذمہ داری سے سنبھالا ہوا ہے۔ فرشی کی عورت گھر کی چاردیواری کے اندر بھی فعال اور دیالو ہے‘‘علی محمد فرشی کی نظموں میں تا نیثی شعور ان کی شعری فکریا ت میں اہم عنصر کا درجہ رکھتا ہے۔ ڈاکٹر طارق ہاشمی نے ان کی تانیثی فکر کو موضوع بنانے والی پچاس سے زائد نظموں کو ’’نیلی شال میں لپٹی دھند‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل دی ۔ یہ مجموعہ ۲۰۲۱ء میں شائع ہوا۔ اسی برس فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی کی طالبہ ندا کرن نے’’علی محمد فرشی بہ طور تانیثی شاعر‘‘کےعنوان سے ایم فل کے لیے تحقیقی مقالہ بھی لکھا۔ ماحولیاتی آلودگی کے خلاف ان کی نظم’’تم اپنے سمندر بچاؤ‘‘ گزشتہ صدی کے آخری برسوں میں تخلیق ہوئی۔جو’’زندگی  کا خودکشی کا مقدمہ نہیں ‘‘ ،اشاعت۲۰۰۴ میں شامل ہے۔ اس وقت تک ہمارے ہاں ماحولیاتی آلودگی کا سوال بطور مسئلہ سامنے نہیں آیا تھا۔ ان کی متعدد نظمیں اس عالمی مسئلے کی ہولناکی کا اظہار کرتی ہیں۔ جن میں’’ خالی صفحہ‘‘،’’آدمی نادمی‘‘، ’’آکاس بیل کا بیلی ‘‘،’’جنت ارضی‘‘ ،’’دو پایہ مشینیں‘‘ اور’’جبلت جان‘‘ ماحولیاتی آلودگی کے مضمرات سے آگاہ کرتی ہیں۔علی محمد فرشی کرۂ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں سے یکساں محبت کرتے ہیں۔ ان کی متعدد نظموں میں انسانی تہذیب اورقدرتی حیات کو درہیش خطرات کا شدید احساس موجود ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ ان خطرات سے بچ نکلنے کی راہ بھی دکھاتے ہیں،’’غاشیہ‘‘، ’’ مشینہ‘‘،’’گے بی‘‘،’’کھائی‘‘،’’پریس نوٹ‘‘،’’مردہ زندگی کا الہام‘‘، جڑواں سوالات کی موت‘‘، ’’تماشائی حیرت زدہ رہ گئے‘‘،’’ہوا کا بیج‘‘، ’’چوپائیگی‘‘، ’’قارعہ‘‘، ’’پیچھا کرتی لاشیں‘‘، ’’ بے اساس‘‘،’’وقت‘‘، ’’عورت گیان‘‘اور ’’پینو راما اور پرندہ‘‘ اسی قبیل کی نظمیں ہیں۔ محبت،امن، بھائی چارہ اور انسان دوستی کے ساتھ ماحول دوستی ایسے موضوعات ہیں جو دنیا کی ہر زبان میں بڑی شاعری کا لازمہ رہے ہیں۔ علی محمد فرشی کی نظموں  کا خمیر بھی انھی عناصر سے اٹھا ہے۔ البتہ صوفیانہ طرزِ احساس، سچی اور بے لوث دردمندی،شعری تجربے کی صداقت، تخلیقی اظہاراور منفرد جمالیاتی رچاؤ کے ساتھ نویلے اسلوب میں موضوعات کی پیش کش ان کی شاعری کو اردو میں خاص شناخت عطا کرتی ہے۔علی محمد فرشی جدید نظم کے اہم نقاد بھی ہیں۔انھوں نے راشد،میراجی،مجید امجد،ضیا جالندھری، وزیرآغا، ساقی فاروقی، آفتاب اقبال شمیم، ستیہ پال آنند، اصغر ندیم سید،جاوید انور اور یامین کی نظموں پر تجزیاتی تنقیدی مضامین لکھے ہیں۔ انھوں نےاکادمی ادبیات پاکستان کے مشاہیر پر کتابوں کے سلسلے میں’’ضیا جالندھری:شخصیت اورفن‘‘ کے عنوان سے ضیا صاحب پر ایک کتاب بھی لکھی ہے۔علی محمد فرشی کی ایک نمایاں جہت ادبی صحافت بھی ہے جسے وہ ادبی عبادت خیال کرتے ہیں۔انھوں نے ادبی صحافت کا آغاز۱۹۸۴یں روزنامہ’’جنگ راولپنڈی‘‘ میں عروض پر ہفتہ وار کالم لکھنے سے کیا۔ وہ معروف ادبی رسالے سہ ماہی ’’سمبل‘‘ کی ادارت بھی کر رہے ہیں جس کے اب تک بیس شمارے شائع ہو چکے ہیں۔ اس رسالے کو اردو دنیا میں اعلیٰ معیار کے ادب کا ’سمبل‘ خیال کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر کے نامور ادیبوں، شاعروں، مترجمین اور نقادین کی تحریریں شامل ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر رشید امجد

علی محمد فرشی کے نظم کدے کی کلید

علی محمد فرشی کا شمار ان چند اہم نظم نگاروںمیں ہوتا ہے جنھوں نے اردو نظم کو غیر غزلیہ آہنگ سے روشناس کرایا ہے اور یوں جدید اردو نظم کی اُس روایت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے جو اردو غزل کے آہنگی مزاج سے علاحدہ اپنی شناخت بنا چکی ہے۔ اپنے موضوعات، طریقہ کار، فنی استعداد کے حوالے سے وہ اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ مختصر اور طویل نظم میں ان کا مکالماتی انداز، کردار نگاری اور فلسفیانہ رویہ جہاں شناسی کے ساتھ ساتھ آشوبِ ذات کی غواصی کا پتا دیتا ہے، وہیں سیاسی سماجی معاملات سے جڑے ہونے کا بھر پور احساس بھی دلاتا ہے۔بنیادی طور پر وہ ایک امیجسٹ شاعر ہیں جو چھوٹے چھوٹے پیکروں سے ایک بڑی تصویر بناتا ہے۔ ان کا آغاز غزل ہی سے ہوا تھا لیکن آہستہ آہستہ وہ نظم کی طرف راغب ہو گئے۔ ان کی نظم نگاری کے پیچھے فنی ریاضت کی روایت مستحکم ہے۔ انھوں نے طویل اور مختصر دونوں طرح کی نظم لکھی ہے۔
بنیادی طور پر وہ نظم کی اس روایت سے منسلک ہیں جس میں مصرع کی طوالت، مصرع کہاں توڑنا ہے، نیا مصرع کہاں سے شروع کرنا ہے کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ یوں ان کی نظم ایک مکمل معنوی اکائی کی حامل ہے۔ ان کی پیکر تراشی، پیکر سے علامت میں ڈھل جاتی ہے۔ مثلاً ’’ہوا مر گئی ہے‘‘، جیسا ٹکڑا منظر بنانے کے ساتھ ساتھ علامتی معنویت بھی رکھتا ہے۔ آزادی کا ختم ہو جانا ایک سیاسی علامت بھی ہے۔ فرشی کے پیکر فکری پہلو رکھتے ہیں۔ ان میں سماجی ، سیاسی، تاریخی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ عصری سائنسی انکشافات کا عمل ان کی نظموں کو عصری شناخت کے ساتھ ساتھ جدید حسیت سے بھی ہم آہنگ کرتا ہے۔
اس جدید حسیت کا احساس ان کی ہر سطر سے ہوتا ہے۔ نظم طویل ہو یا مختصر فرشی کی مصرع سازی ایک فنی رچاؤ اور تخلیقی دَبازَت کی حامل ہے۔ مصرع سازی کا یہ طریقہ کار جدید نظم کو پرانی نظم سے علاحدہ کرتا ہے۔ فرشی کی نظموں کا اس حوالے سے جائزہ لیا جائے تو مصرعوں کا ربط خاص طور پر توجہ مبذول کراتا ہے۔ ان کا ہر مصرع ایک فنی طریقے سے دوسرے مصرع سے جڑا ہوا ہے اور پیکر مختلف مصرعوں کے تسلسل سے اس طرح وجود میں آتا ہے کہ تصویر مکمل ہوتی چلی جاتی ہے۔ امیجز کے ساتھ علامت بنانا یا علامت کو ایک صورت دینا ان کا وصفِ خاص ہے۔
وہ امیج کے ساتھ علامت کو جو صورت دیتے ہیں وہ اُن کے کمالِ فن کی دلیل ہے

وہ رات کیسی تھی
جس نے اپنے تمام بچے نگل کے
سورج کا خون تھوکا
تو صبح گلیوں میں دن نہیں
دن کی لاش نکلی

ہوا کے ہاتھوں پہ پاؤں رکھ کر
جو آسمانوں کو چھیڑتا تھا
زمیں پہ خوشیاں بکھیرتا تھا
وہ آج اُس کے نحیف شانوں پہ
یوں پڑا تھا
کہ جیسے ماں کی جھکی کمر پر
جوان لختِ جگر کا لاشہ” (ایک دن کی لاش)
اس کمال میں علامتوں اور اور پیکروں کو اس طرح ایک دوسرے سے جوڑ دیا گیا ہے کہ ایک کو دوسرے سے علاحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ امیجز کا یہ تسلسل ہے جو معنویت کی گرہیں کھولتا چلا جاتا ہے۔ اتنی بڑی تصویر بہت کم کہیں نظر آتی ہے۔فرشی کا اختصاص ہے کہ وہ ایک ہی ٹکڑےمیں امیجز کا ایک ایسا تسلسل قائم کرتے ہیں کہ ایک نئے معنوی جہان کی پرتیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔
کالے جوتوں کو چمکاتے چمکاتے
سرد سیاہی کی کیچڑ میں ننگے پاؤں چلتے چلتے
تم خوابوں کے روشن میدانوں تک جا پہنچے ہو
دھوپ کی گیند کے پیچھے بھاگ رہے ہو
خوشبو دار ہری چمکیلی گھاس پہ گر پڑتے ہو
نرم محبت تمھیں اٹھا کر اپنی گود میں بھر لیتی ہے
ست رنگی نیند پری کی لوری سنتے سنتے ہنستے ہو تو
نیلی چادر چاند ستاروں سے بھر جاتی ہے
آنسو سِکّوں کی مانندمیرے خالی پن کے اندر گرتے ہیں‘‘(نیند پری کی موت)
ہر سطر میں ایک تصویر اور پھر تصویروں کا ایک تسلسل جو نظم کے مرکزی خیال کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ ان سات سطروں میں بہ ظاہر مختلف تصویریں ہیں لیکن مل کر کولاژ کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ یہ فرشی کے فن کا ایک انوکھا حسن ہے۔ ان کی ہر سطر اپنی جگہ نظم کی بنیاد رکھتی ہے اور اگلی سطر سے جڑ کر اس کی معنوی اکائی کو پھیلاتی چلی جاتی ہے۔ نئی اردو نظم میں اس طرح کی پیکر تراشی بہت کم ہے اور پھر یہ کہ یہ محض اکہرے پیکر نہیں بلکہ ایک دوسرے میں پیوست ہو کر پوری نظم کی فکری اساس کو مستحکم کرتے چلے جاتے ہیں۔ فرشی کی نظموں میں فعال سماجی زندگی کے زاویے بہت نمایاں ہیں لیکن اس کے پہلو بہ پہلو ذات و صفات کے معاملات کا تنوع بھی موجود ہے۔ ہر دو مقام پر اخلاص کا رویہ اہم ہے کہ زندگی کے تمام معاملات و مراکز میں ان کی شمولیت خارج و باطن دونوں سطح پر موجود ہے۔ اس لیے اُن کے یہاں تصور کے ساتھ ساتھ زندگی کے عملی پہلوؤں کی پیکر تراشی بھی ہوتی ہے جس میں طبقاتی شعور بھی نمایاں ہے۔ وہ اپنے ہم عصر نظم نگاروںسے اس حوالے سے مختلف و منفرد بھی ہیں کہ وہ بالا دستوں کے لگائے زخموں کا اظہار صرف لب کشائی کی سطح تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اس اظہار میں دل کی دھڑکنوں کازیر وبم بھی سنائی دیتا ہے۔
کوئی بھی اہم فن کار اپنے عصر سے علاحدہ نہیں ہوتا۔ عصری مسائل کسی بھی نوعیت کے ہوں اپنے عہد کی فکری صورت حال سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہ صورت حال بہ یک وقت سائنسی، مابعد الطبیعیاتی اور کسی حد تک روحانی بھی ہوتی ہے۔ سچائی انھی کے درمیان کہیں موجود ہوتی ہے۔ اس تک پہنچنا ،اسے محسوس کرنا اور پھر اسے ایک فنی تجلی کی صورت دینا ہی بڑا آرٹ ہے۔ فرشی محض فنی ریاضت کے قائل نہیں بلکہ عملاً بھی سماجی شراکت داری کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ ان کا تصور سماج اپنے معاشرتی تاريخی تناظر سے جڑا ہوا ہے۔
سورج ہمارے گھروں پر سے
رستہ بدل کر گزرتا رہا ہے
یہاں سات عشروں کی ہر ڈائری سے
بس اتنی شہادت ملے گی
اگرچہ پلاننگ کمیشن کی میزوں پہ
رکھی ہوئی فائلوں میں
بدلتا رہا ہے زمانہ
زمانے کا سکہ
زمانے کے سقوں کی شاہی!‘‘ (نئے سال کی فائل)
فرشی اس حوالے سے ایک کمٹڈنظریاتی شاعر ہیںلیکن پرانے ترقی پسندوںکی طرح ان کے لہجے میںنہ تو بلند آہنگی ہےاور نہ نظریے کا والہانہ پن، بلکہ وہ نہایت ملائم اور دھیمے انداز سے صورتِ حال کی نہ صرف عکاسی کرتے ہیںبلکہ ان کی تشویش بھی مؤثر طریقے سے نمایاں ہوتی ہے
نئے سال کے جشن میں
ہم،کھلونے بجاتے رہے تالیاں
اور گڑیا کی شادی رچانے کے
خوابوں میں سوتے رہے
بادشاہی مساجد کے مینار روتے رہے!‘‘ (نئے سال کی فائل)
آخری سطر میںپوری مسلم تاریخ کے المیے کو جس طرح سمو دیا گیا ہے اس پر صفحات کے صفحات لکھے جاسکتے ہیں۔فرشی کا تصورِ سماج واضح اوراُن کے سماج سے گہرے جڑاؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ انھوں نے آزاد نظم سے نثری نظم کی طرف جس سفر کا آغاز کیا تھا اب وہ عصری نظم کی پہچان بن رہا ہے۔
فرشی کی طویل نظم ’’علینہ‘‘میں اُن کے تصورِ عورت کے کئی چہرے دیکھے جا سکتے ہیں۔ عورت کا وجود لڑکی سے دیوی اور پھر عظیم مادر کے روپ میں ڈھلتا چلا جاتا ہے۔نظم کا مرکزی کردار ایک عام عورت کی صورت میں ظہور پذیر ہوتا ہےلیکن آہستہ آہستہ ایک ازلی و ابدی ہستی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور ’’علینہ‘‘ایک عظیم ماں کا روپ دھار لیتی ہے جس کے وجود سے پوری کائنات جنم لیتی اورپھلتی پھولتی ہے۔مادرِ عظیم کا یہ تصور اساطیری بھی ہے جو خالق کو کبھی کبھی تخلیقی عمل کے حوالے سے تانیثیت کی طرف لے جاتا ہے۔اس تانیثیت میں جنم دینے کا درد انگیزعمل کرب و ایذا سے جڑا ہوا ہے۔’’علینہ‘‘ میں عورت کے جو مختلف روپ سامنے آئے ہیںان میں عظیم ترین وجود جنم دینے والی ہستی کا ہے۔
علینہ محبت کی متنوع جہات کا سمبل ہے جس نے اُن تمام داستانی کرداروں کی علامتوں کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے جنھوں نے محبت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کردیا۔
علینہ
میں خود ماروی کی کہانی میں
سَسّی کی نیندوں کے جنگل میں
جلتی جوانی میں
سوہنی کے جوشیلے پانی میں
گھلتی ہوئی کچی مٹی کے دکھ میں
وصالوں کے سکھ میں
کئی بار تجھ سے ملا ہوں
محبت کے باغات میں جب کھلا ہوں
تو خوشبو مری
آسمانوں سے تجھ کو بلاتی رہی ہے
تو اکثر نئے رنگ پہنے
زمینی سیاحت پہ آتی رہی ہے
مری چند روزہ کہانی علینہ
زمانے کو، تجھ کو رُلاتی رہی ہے‘‘ (علینہ)
علینہ یہاں ایک مہا سمبل میں ڈھل جاتی ہے جہاں سارے رشتےناتے، جذبے اور رویے یکجا ہو کر ایک عورت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ یہ نظم اپنے ایک الگ تجزیے کی متقاضی ہے۔ یہاں اس نظم کے حوالے سےصرف فرشی کے تصورِ تانیث کو سمجھنے کی سعی کی گئی ہے۔
عورت کے حوالے سے فرشی نے جو استعارے بنائے ہیں اور اپنی بلاغت کے باعث ان کے وسیع تصور تانیث کی وضاحت کرتے ہیں۔
عورت کیا ہے
کیکر پر انگور کا دکھ ہے
دکھ کا کیا ہے
اپنے دل پر سہ لینا ہے
سہنا کیا ہے
دوزخ جلتے رہنا ہے
دوزخ کیا ہے
جیون سارا دوزخ ہے
جیون کیا ہے
جس کو عورت جنتی ہے
جب وہ جنت بنتی ہے‘‘ (بھید میں چھپ کر بیٹھا بھید)
فرشی عورت کو ایک وسیع سماجی تناظر میں دیکھنے کی سعی کرتے ہیں۔اس نظم میں عورت ماں کی علامت میں آفاقی صداقت کی بلندی پر دکھائی دیتی ہے۔ ان کے ہاں عورت نہ صرف جنم دینے والی ایک عظیم ہستی ہے بلکہ ہمارے معاشرتی نظام میں دکھ سہنے والی ایک ایسی قوت جس نے سماجی مسائل کا تمام کرب اپنے شانوں پر ذمہ داری سے سنبھالاہوا ہے۔فرشی کی عورت گھر کی چاردیواری کے اندر بھی فاعل اور دیالو ہے اور کارپوریٹ کلچر میں ایک ذمہ درانہ شناخت کی علامت بھی۔
’’دفاتر کے دفتر میں وہ اک سٹینو گرافر تھی
سولہ برس سے بہت خوب صورت
کہ صاحب کی ساری عنایات
ظالم کی ایڑی کے نیچے سسکتی تھیں
لیکن کبھی اس نے کاپی کے پھولوں سے
باہر نکل کر نہ دیکھا
اُسے ساری دنیا کے غم نوٹ کرنے کی عادت تھی
مصروفیت میںوہ شام و سحر یوں الٹتی پلٹتی
کہ جیسے قیامت کے آڈٹ کا دن آگیا ہو
اُسے کچھ خبر ہی نہیں تھی کہ دفترمیں، سڑکوںپہ،بس میں
اُسے پوجنے والی آنکھوں میں
حسرت کے سائے گھنے ہو رہے ہیں
اُسے ایک دُھن تھی
خدائی کے غم مختصر کر کے،اک خط میں ڈالے
اُسے پوسٹ کر دے
کہ جس نے اُسے اِس مہارت کاانعام
محبت نویسی کے اول وثیقے میںلکھ کر روانہ کیا تھا‘‘ ـ(ڈیڈ لیٹر)
یہ چند سطور دفتری زندگی میں عورت کی وہ تصویر بناتی ہیں جس کے جسمانی حسن کے قدموں میں سڑکوں پر پیدل چلتے، بس میں ساتھ سفر کرتےاور دفتر میں اس کے ساتھ کام کرنے والے مرد اپنی پلکیں بچھاکر اس کی اک نگاہِ دلبرانہ کی طلب میں گرفتار ہیں،حتیٰ کہ اُس کا باس بھی ہر نوع کی عنایات سے اُس کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کےتمام گر آزماتا ہے لیکن وہ اپنے دفتری فرائض کی بجاآوری کے علاوہ جس جانب دیوانہ وار لپکتی ہے وہ اُس کا آدرش ہے۔اردو نظم میں عورت کی ایسی علامت اگر موجود ہے تو کم از کم میری نظر سے نہیں گزری۔یہ سٹینو گرافر عورت فرشی کے تصورِ تانیثیت کے تخلیقی پہلو کا استعارہ ہے۔جو مشکلاتِ معاش اور دردِ زہ کے ساتھ تخلیقی کرب سے بھی گزرنا جانتی ہے۔اس کی شخصیت کا تخلیقی پہلو بھی محض جمالیاتی تسکین سے مملو نہیں بلکہ ایک بڑے آدرش کے لیے تخلیقی جدوجہد سے عبارت ہے، جو فی نفسہٖ فرشی کی فنی کومٹ منٹ کا پرتو ہے۔
ہر بڑے شاعر کی طرح انھوں نے زمان و مکاں کے فلسفے پر بھی غور کیا ہے۔ ان کا تصورِ وقت اسلامی فکری تہذیب سے جڑا ہوا ہے۔ازل سے ابد اور ابد سے ازل کا سفر بہ ظاہر بہت پھیلاؤ رکھتا ہے لیکن بنیادی طور پر ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ یہ ایک ہی نقطے کے دو پہلو ہیں۔ یہاں فرشی وحدت الوجود سے متاثر نظر آتے ہیں۔وہ زندگی کو ازل اور ابد کے درمیان ایک وقفہ سمجھتے ہیں جو ہے بھی اور نہیں بھی۔ ان کا تصورِ وقت سائنسی نہیں بلکہ مابعد الطبیعیاتی ہےیوں وہ بعض مسلمان مفکرین کے قریب ہو جاتے ہیں۔
یہ سچ ہے
زمانہ خدا ہے
مگر وہ خدا ’’کن‘‘ کے نقطے سے
جس نے نکالاتھا ہم کو زمانہ نہیں
وہ خدا ،ماورا ہے
زمانے سے،دریا سے
دریا میں بہتی ہوئی کشتیوں سے‘‘ (عنوان خور نظم)
خدا کا یہ تصور مذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی سائنسی قدر بھی رکھتا ہے۔ ’’عظیم دھماکا‘‘ میں مکاں وجود میں آیا تھا۔ یہ سوال اپنی جگہ رہا ہے کہ وقت کب اس کے ساتھ آکر جڑا۔ کیا وقت پہلے سے ہی موجود تھا، اگر تھاکس صورت میں۔وقت خدا نہیں لیکن خدا کی صفات میں شمار ہوتا ہے۔ خدا تو مختلف صفتیں رکھنے والی ایک قوت ہےجس کے ہزار روپ، ہزار رنگ ہیں۔فرشی کی طویل نظم ’’علینہ‘‘ میںوقت کے مختلف پہلوؤں کو فکری گہرائی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
علینہ
تجلی بھری لاٹ کی
جھلملاتی تمازت میں
لپٹی ہوئی زندگی کی طرح
اپنے حجلے سے باہر قدم رکھ
زمانہ زمیں بوس ہو
اک جھلک دیکھنے کو تری
کائناتیں جھکیں
گردشیں آسمانی رکیں
وقت کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں
تیرے دیدار کی،شربتی دھوپ میں
خاک پر
سر جھکائے کھڑی سرمدی بیل پر
دل کشا دل کشاپھول کھلنےلگیں
آدمی او رخدا عید ملنےلگیں‘‘ (علینہ)
تخلیقِ کائنات کا عمل اگر سات دنوں میں مکمل ہوا تواس کے بعد زمان و مکاں وجود میں آئے۔فرشی نے اس حوالے کوایک منفرد صورت میں دیکھا ہے۔
میں اک شاعرہ کے ستاروں میں سوتا رہا
سات دن، سات راتوں کے
چکر سے باہر
کہیں دو وووور
صدیوں کی گنتی کی فرسودگی سے پرے
خواب گہ میں
زمانوں کا ریشم لپیٹے ہوئے
یونہی لیٹے ہوئے
بے خیالی میں ٹی وی کے ریموٹ کو چُھو لیا
اک دھماکا ہوا
زندگی کے پرخچے اُڑے
لوتھڑے آدمیت کے بکھرے پڑے تھے
قیامت کے میدان تک !‘‘ (خواب جلنے کی بو)
ایک ہی جست میں ازل سے ابد تک کا سفران کے تصورِ وقت کوایک طرف ماضی اور دوسری طرف مستقبل سے جوڑ دیتا ہے۔
علی محمد فرشی خواب دیکھنے والے شاعر ہیںاور ذاتی و معاشرتی خوابوں کوتعبیر دینے کے خواہاں ہیں۔یہ ان کی نظموں کا رجائی پہلو ہےاور یہ ان کی ذات، تخلیقی عمل اور معاشرتی کرب سے جڑا ہوا ہے۔ان کے کردار آئیڈیل اور زندگی کے عملی پہلوؤں کے امتزاج سے وجود میں آئے ہیں۔مکالمہ ان کی نظموں کا بنیادی وصف ہے۔ یہ مکالمہ ذات سے ذات اور خارج سے خارج تک دونوں سطحوں پر موجودہے۔ان کی باطنی ذات کبھی عورت اور کبھی مرد کی صورت اختیار کر کے زندگی کا استعارہ اور پھر عظیم تخلیق کار کی علامت میں ڈھلتی ہے توایک معنوی دائرہ مکمل ہوتا ہے۔ ان کے ہاں سیاسی سماجی پس منظر صرف پس منظر رہتا ہے، نمایاں رجحانات ذات اور اس کے ارد گرد باطن کا سمندرایک ہیجان خیز کیفیت و تلاطم کو جنم دے کر اسے متھنےکا عمل شروع کرتا ہے۔ اس متھن کے نتیجے میںجو فکری بالیدگی جنم لیتی ہے وہ فرشی کی نظموں کی کلید ہے۔
ایک منفرد نظم نگار کی حیثیت سے علی محمد فرشی کی شناخت ہی ان کے بڑے شاعر ہونے کی دلیل ہے۔ اچھے نقاد اور ’’سمبل‘‘ کےحوالے سے ایک منفرد مدیر کی حیثیت سےاُن کی شخصیت کی جن پرتوں کا اظہار ان کےہاں ہوا ہے انھوں نےان کے فکری نظام کی تعمیرمیں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
فرشی جہاں اپنے سماجی رویوں کے ترجمان ہیں،وہیں ان کی نظر اس عالمگیر مارکیٹ اکانومی اور صارفیت پر بھی ہے جہاں ہر چیز بکاؤ ہے، جہاں سماجی اقدار کی بے بسی اور اخلاقی گراوٹ ایک ایسے معاشرے کو جنم دے رہی ہےجہاں رشتے اور جذبے ناکام ہو چکے ہیں، جہاں خواب نہیں ڈالر بنیادی قدر ہے۔
بک رہی تھی مشینوں پہ عورت کی خوشبو
جسے اپنی بغلوں میں چھڑکاؤ کرکے
انھیں نیند آتی تھی
کھانے کے خوابوں‘ کی قلت تھی شاید
سبھی اک جھلک دیکھنے کے لیے
کیمرے آن کرکے کھڑے تھے
ہنسی اور کھلونے عجائب گھروں میں سجے تھے
فراکوں کے سارے نمونے بھی
ونڈو میں محفوظ تھے
اور بچوں کے ماڈل بھی
یادوں کی دنیا میں ایسے کھڑے تھے
(Cyberia)”کہ جیسے ابھی ہنس پڑیں گے
لا تعلقی،بے گانگی اور ایک دوسرے سے قریب ہونے کے باوجود ایک دوری جس طرح جدید عہد کا مقدر بن چکے ہیں اس نے ساری اخلاقی اقدار کو خزاں زدہ کر دیا ہے۔
علی محمد فرشی فنی اور فکری دونوں حوالوں سے ایک توانا شاعر ہیں۔ان کے فکری دائرے اپنے عصری سماجی تناظرکو سمیٹتے ہوئے عالمگیریت تک پہنچتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ سائنسی انکشافات کے اثرات بھی نظر آتے ہیں۔ان کا تصورِ زمان ومکاں تاریخ اور تہذیب سے جڑا ہوا ہےاس لیے ان کی نظموں کا فکری دائرہ بہت وسیع ہے۔ فرد اور اجتماع کا تعلق،رشتہ اور جدید عہد میں اس کے بگڑتے مسخ ہوتے نشانات ان کی علامتوں اور استعاروں کا خمیر ہیں۔ فرد کی آشفتگی اور اپنے ہونے کی پہچان کے قضایا ان کے یہاں خارجی اور داخلی دونوں سطحوں پر موجود ہیں۔ ایک حوالے سے وہ وجودی افکار و کیفیات سے بھی ہمکنار ہوتے دریافت کے از سرِ نو عمل کی بات کرتے ہیں۔
فنی طور پر وہ امیجسٹ شاعر ہیں جو چھوٹے چھوٹے پیکروں سے ایک بڑا پیکر بناتا ہے،اس پیکر میں رنگ بھی ہے اور حرکت بھی۔
مشینہ
زمانہ ہے
دیوانہ پا رقص کرتا
دھمکتا ،دھرپتا ہوا
تیرے چو گرد شہزادے
جوکر بنے،ناچتے ہیں‘‘ (مشینہ)

علینہ
زمانہ ابھی تک
تری مرمریں برجیوں کے تلے
کاغذی پیرہن کو سنبھالے ہوئے
دست بستہ کھڑا منتظر ہے
ترے نقرئی اسم کا ورد کرتے ہوئے
کپکپاتے لبوں سے
کئی بار اس نے مری یخ زدہ
انگلیوں پروہی سرخ بوسے اتارے ہیں
میں جن کی حدت سے زندہ ہوں اب تک!‘‘ (علینہ)
فرشی کے پیکر محض تصویر تک محدود نہیں بلکہ ایک فکری سطح بھی رکھتے ہیں۔ یہ فکر حرکت کرتی اور کائنات کی وسعتوں کو چھوتی دکھائی دیتی ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تووہ اپنے ہم عصر نظم نگاروں میں ایک ایسی انفرادیت کے حامل ہیںجو اُن کی اپنی پہچان بناتی ہے۔ایک تخلیقی رچاؤ، غنائیت،روانی اور فکری دَبازَت اُن کی اِس پہچان کے بنیادی عناصر ہیں۔

(ڈاکٹررشید امجد،’’علی محمد فرشی کے نظم کدے کی کلید‘‘’’آثار‘‘۹، لاہور،ص۶۱ )

ڈاکٹر ناصرعباس نیر

نظم کےمعنی،نظم سے باہر بھی ہیں‘‘علی محمد فرشی کی نظم’’

معاصر اردو نظم کیا ہے؟ یہ سوال اکثراٹھایا جاتا ہے۔ معاصر نظم اپنی موجود گی کا احساس جس شدت سے دلاتی ہے، اس سے کہیں زیادہ شدت سے اس کی پہچان کا سوال سامنے آتا ہے۔اردو کی شاید ہی کسی دوسری صنف کو اس نوع کی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔معاصر نظم کا سارا دبدھا، سارے تناقضات، سارا ابہام، اس کے ردّو قبول کی ساری متھ ، اسی صورتِ حال میں مضمر ہے۔ ممکن ہے معاصر نظم (اور یہاں آ پ جدید نظم کو بھی شامل سمجھیے ، جس کی توسیع معاصر نظم ہے)اپنے حقیقی قارئین کاایک بڑا اور مؤثر حلقہ پیدا کرنے میں ناکام ہوئی ہو،مگر وہ اپنی موجودگی کو باور کرانے میں جس طور کام یاب ہوئی ہے، اس کی کوئی دوسری مثال کسی اور شعری صنف میں نہیں ملتی۔ غزل میں بھی نہیں۔ نظم کی موجودگی کا مفہوم یہ نہیں کہ یہ محض رسائل کے صفحات، کمپیوٹر سکرین اور کتابوں میں بالعموم نظر آتی ہے۔ یہ تو اس نظم کے وجود کی شہادتیں ہیں۔ کسی شے کا وجود ،اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ ’موجودگی‘ کا حامل بھی ہے۔ایک لاش ،مردہ لفظوں کا کوئی منظوم پیکر بھی وجود رکھتے ہیں،مگر وہ ’موجود‘ نہیں ہیں؛وہ دکھائی دیتے ہیں، مگر ہم تک احساس و معنی کی ترسیل نہیں کرتے۔ وہ اپنے وجود کی واضح،غیر مشتبہ حد میں مقید و مقفل ہیں۔ معنی کا کوئی نور، احساس کی کوئی مہک ان سے ظہور نہیں کرتی۔ان میں سے کوئی بات معاصر نظم کے سلسلے میں وہ شخص بھی نہیں کہے گا، جس کا دل تغزل کے عشق میں جدید نظم سے کھٹا ہو چکا ہو ، یا جسے نظم کی علامت و ابہام پسندی کے ہزار شکوے ہوں۔ موجودگی،وجود کی مادی حدوں کو لخت لخت کرکے پھیل جانے اور جہاں جہاں رسائی ہو،وہاں وہاں حقیقی وجود کے طور پر اثرا نداز ہونے کا نام ہے۔ نظم کی موجودگی بھی کسی ایک نظم یا کسی ایک شاعر کی نظموں کی اس حد کے باہر وجود رکھتی ہے،جسے ہم کاغذ یا سکرین پر دیکھتے ہیں۔ اسے آپ معاصر؍ جدید نظم کی شعریات، آرٹ کا بھی نام دے سکتے ہیں،جو حقیقتاً کسی انفرادی نظم سے ’باہر‘ موجود ہے،مگر جب تک کوئی شاعر اس کی آگ کو اپنی نظم میں انڈیلتا نہیں، وہ جدید نظم نہیں لکھتا، بے معنی مصرعے موزوں کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے،ناکام نظموں کا بھی ایک کردار ہوتا ہے؛ان کے تقابل سے نہ صرف کامیاب نظمیں اجاگر ہوتی ہیں،بل کہ ان راستوں کی بھی نشان دہی کرتی ہیں،جن سے اچھے نظم گو کو بچ کے چلنا چاہیے ۔کوئی بڑا فن پارہ کئی ناکام کوششوں کے نتیجے ہی میں ظہور پذیر ہوتا ہے،اور یہ ناکام کوششیں ایک شخص کی نہیں،ادبا کے ایک گروہ،یا پوری ایک نسل کی ہو سکتی ہیں۔

بہ ہر کیف جدید نظم کی شعریات؍آرٹ کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اس کی گواہی ہمیں کسی نقاد سے لینے کی ضرورت نہیں(اس لیے نہیں کہ نقاد کی گواہی معتبر نہیں،بل کہ اس لیے کہ یہاں اس کی ضرورت نہیں)،اس کا ثبوت نظم کے وہ شعرا ہیں،جنھوں نے نظم کے آرٹ کے کوہِ سینا سے اخذِ نور کرنے میں اپنی بہترین تخلیقی قوتیں صرف کر دیں۔ معاصر نظم کی جس موجودگی کا ہم ذکر کر رہے ہیں، وہ اس ہالے میں جھلملا رہی ہے جو میراجی، راشد، مجید امجد، اختر الایمان، منیر نیازی، وزیر آغا، جیلانی کامران،ضیا جالندھری،عزیز حامد مدنی،ساقی فاروقی، آفتاب اقبال شمیم، فہمیدہ ریاض، علی محمد فرشی، افضال احمد سید، ثروت حسین، نصیر احمد ناصر،ابراراحمد، ستیہ پال آنند، جاوید انور،وحید احمد،انوار فطرت، رفیق سندیلوی ،یامین، فرخ یار،پروین طاہر کی مساعی سے ’موجود‘ ہے۔ (واضح رہے کہ یہ سب ایک مرتبے کے شاعر نہیں،نہ ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے چند دہائیوں بعد لوگوں کو کئی ناموں کو شاملِ فہرست کیے جانے پر باقاعدہ حیرت ہو،خاص طور پر معاصر شعرا میں بالآخر دو تین نام ہی دائمی اہمیت حاصل کر پائیں گے۔ تاریخ اپنے فیصلے سخت سنگدلی سے مگربے تعصب ہو کرکرتی ہے! )۔ جس ہالے نے ان سب شعرا کی نظموں کو اپنے محیط میں لے رکھا ہے، وہ ہما شما کو اپنی موجودگی باور کراتا ہے؛ اور ٹھیک اسی طرح باور کراتا ہے، جس طرح کوئی بھی ’موجودگی‘، یعنی اس کی تحسین کی جاتی،اس کا احترام کیا جاتا، اس کے وجود کی عظمت کا احساس کیا جاتا ہے؛اور اسے’ غیرموجودگی‘ میں بھی محسوس کیا جاتا ہے۔ بایں ہمہ اس کی پہچان معاصر شعری تنقید کا اہم مسئلہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں جدید نظم کاآرٹ جس قدر تحسین حاصل کرنے میں کام یاب ہوا، اس قدر تفہیم نہیں۔ جدید نظم کی مخالفت کا سارا ڈسکورس اس کے عسیر الفہم ہونے کے مفروضے پر استوار ہے۔

علی محمد فرشی کی نظموں کے مجموعے’ غاشیہ(ان کی دیگر کتابوں میں’تیز ہوا میں جنگل مجھے بلاتا ہے‘،’دکھ لال پرندہ ہے‘،’زندگی خود کشی کا مقدمہ نہیں‘،’علینہ‘ اور ’محبت سے خالی دنوں میں‘شامل ہیں‘)سے متعلق یہ تمہید بر سبیلِ تذکرہ نہیں،اس صورتِ حال کو واضح کرنے کی کوشش ہے،جس کا سامنافرشی صاحب کی نظموں کو ’پڑھنے‘ کی کوشش کے دوران میں ہوتا ہے۔راقم کو جدید نظم کے لیے ’پڑھنے‘ کا فعل غیر مناسب تو نہیں، البتہ ناکافی ضرور لگتا ہے۔جدید نظم کی ساری مشکل پسندی بڑی حد تک اس لیے ہے کہ لوگ اسے ’پڑھنے‘ تک محدود رہتے ہیں؛اور یہ گمان کرتے ہیں کہ جدید نظم فقط ’پڑھنے‘ کی چیز ہے۔ اس بات پر شاید ہی غور کیا گیا ہو کہ آرٹ فقط ’پڑھنے ‘کی چیز نہیں؛تمام غیرے فن تحریریں پڑھنے کے لیے ہیں؛آرٹ ’پڑھنے‘ کے علاوہ بھی ہے۔پڑھنا ،فقط ایک قسم کی ذہنی صلاحیت ،فوری یادداشت کو بہ رُوے کار لاتا ہے؛ہم کسی متن کو پڑھتے ہوئے جو کچھ اخذ کرتے ہیں،اس کا مفہوم فی الفور ہماری یادداشت کی مدد سے طے ہوتا ہے،یا پڑھتے ہوئے اگر کچھ نیا سیکھتے ہیں تو اسے بھی یادداشت میں محفوظ کرتے ہیں؛پڑھنا اصل میں سیکھنا ہے ،یا سیکھے ہوئے کا احیا ہے ۔دوسری طرف آرٹ سے ہم کنار ہونے کے لیے ہمیں ایک سے زیادہ ذہنی صلاحیتیں درکار ہیں۔غور کیجیے ؛کیا اپنی اصل میں مصوری ، موسیقی، رقص، داستان،مجسمے ’پڑھنے‘ کا آرٹ ہیں؟اگر آپ انھیں فقط ’پڑھیں‘ تو کیا ان کا بصری وسمعی جمال آپ پر منکشف ہو سکے گا؟ تسلیم کہ آرٹ کے ان تمام نمونوں میں اپنے ’پڑھے جانے‘ کے خلاف مزاحمت موجود نہیں،مگر اس کا تقاضا بھی موجود نہیں۔ ہم اپنے فہم کی توسیع کی خاطر ،یا ان کے جمال کے سرچشموں اور جمال کے اثرات کو سمجھنے کے لیے انھیں پڑھ سکتے ہیں،مگر وہ ہماری قرأت کے بغیر اپنے آپ میں مکمل ہیں ،اور ہم پر اپنی روح ِ جمال کو منکشف کرنے کے لیے ہماری سعیِ قرأت کے محتاج نہیں۔جدید نظم بھی آرٹ ہے؛ایک مکمل آرٹ۔اسے محض ’پڑھنے‘ کی کوشش کی گئی؛اس سے ہم کنار ہوکر،اس کی رمز کشائی کی سعی بس خال خال ہوئی ۔راقم جو کچھ عرض کرنا چاہتا ہے، اس کی وضاحت میں فرشی صاحب کی نظموں سے یہ ٹکڑے دیکھیے
سوال نامے ہزار ہا دائرے بناتے”
مجھی کو مجھ سے ملانے آتے ہیں
“پاس آتے ہیں ٹ و ٹ جاتے ہیں
ریگِ رواں پر”
ری ں گ ت ے ،ری ں گ ت ے
“عمریں ب ی ت ی ں
بے کراں وسعت سے باہر”
گِر
پڑا
تھا
وہ
“ذرا سی زندگی میں
میں نے دیکھی نہیں”
خواب بنتی ہوئی سندسی انگلیاں
جن کا لمسِ گداز ایک دن
وقت کے سرد گالوں سے بہتا ہوا
میرے ہونٹوں پہ آیا؍تو صدیوں کی نمکینیاں
سنگ بستہ دلوں کے سمندر میں
“ابھرے پہاڑوں کا ایک سلسلہ بن چکی تھیں
غاشیہ میں شامل مختلف نظموں کے یہ اقتباسات ہمیں علی محمد فرشی کی نظم کے آرٹ کی بعض بنیادی رمزوں سے آشنا کرتے ہیں،بشر طے کہ ہم محض انھیں پڑھ کر ان کے مفہوم تک پہنچنے کی عجلت سے باز آسکیں۔فرشی صاحب کی نظم کہنے ؍بتانے کے ساتھ ساتھ ’دکھانے‘ کو اہمیت دیتی ہے۔اس کا صاف مطلب ہے کہ وہ اپنی نظم کو محض کسی خیال کی ترسیل تک محدود نہیں کرتے۔اگر آپ ان کی نظمیں فقط اس نیت سے پڑھیں کہ ان میں پیش کیے گئے خیال کا سرافی الفورآپ کے ہاتھ آجائے تو آپ کو مایوسی تو شاید نہ ہو،مگردقت ضرور پیش آئے گی۔ یہ دقت نظم کی وجہ سے نہیں، آپ کی نیت کی وجہ سے ہوگی ۔قصہ یہ ہے کہ خیال کی ترسیل کے لیے ’کہنا ‘کافی ہے لیکن جب کسی ’موجود‘ کا اظہار مطلوب ہو تو ’دکھانے‘ کے سوا چارہ نہیں۔ ان کی نظم جس تجربے سے نمود کرتی ہے ، اس کے اجزا میں حسی، فکری، اساطیری ، داستانی، مذہبی ،تاریخی اور عصری عناصر شامل ہیں۔ فرشی صاحب تجربے کے رونما ہو چکنے کی بعد کی صورت حال ؍نتیجے کا اظہار نہیں کرتے، اسے رونما ہوتے دکھاتے بھی ہیں(اور یہیں سے کچھ ڈرامائی عناصر ان کی نظم میں پیدا ہوتے ہیں)۔اور یہ جانتے ہیں کہ ان کے پاس تجربے کو ’دکھانے‘ کا جو وسیلہ ہے ،وہ ناکافی ، محدوداور اپنی اصل میں سخت قدامت پسند ہے۔زبان سے بڑھ کرکوئی شے قدامت پسند نہیں؛اس امر کا جتنا احساس ،اور اس کی طرف سے مزاحمت کا جس قدر سامنا جدید نظم کو کرنا پڑا ہے، شاید ہی کسی دوسری صنف کو کرنا پڑا ہو۔ فرشی صاحب کی نظم زبان کے ناکافی ، محدود ،اور قدامت پسند ہونے کے خلاف شعوری جدوجہد نہیں کرتی(اگر ایسا کرتی توخاصی میکانکی ہو کر رہ جاتی )،تاہم زبان ہی میں کچھ ایسے رخنے، کچھ ایسی صورتیں ضرور دریافت کرتی ہے کہ واقعے،کیفیت اورعمل کو رونما ہوتے دکھا سکے۔ اس کے لیے ان کی نظم آرٹ کی کچھ دوسری صورتوں کی بعض تکنیکوں سے کام لیتی ہے۔ خاص طور پر موسیقی اور مصوری سے۔ مثلاً مندرجہ بالا پہلے اور دوسرے اقتباس میں موسیقی سے مدد لی گئی ہے۔ جس طرح موسیقی میں کسی احساس کے ابلاغ کے لیے اونچا سر لگا یا جاتا ہے، فرشی صاحب نے دائرے کے ٹوٹنے، ریگ رواں پر رینگنےاورعمروں کے بیتنے کو ’دکھانے‘ کے لیے انھیں توڑ کے لکھا ہے۔عمر کا بیتنا، ایک عام خیال ہے،مگر’عمریں ب ی ت ی ں‘کو جب آپ رُک رُک کر،آہستہ سہج انداز میں ادا کرتے ہیں تو عمریں کس طرح رفتہ رفتہ، شکستہ،ٹوٹی پھوٹی حالت میں ،کج مج انداز میں گزریں، اس کا نقشہ چشمِ تخیل میں پھر جاتا ہے۔تیسرے اقتباس میں بچے کی پیدائش کا منظر دکھایا گیا ہے۔یہاں مصوری کے آرٹ کو زبان پر آزمایا گیا ہے۔ ’بے کراں وسعت سے باہر گر پڑا تھا وہ ذرا سی زندگی میں‘کو جس طرح لکھا گیا ہے،گِر ،پڑا، تھا،وہ کو خاصی سپیس دے کر الگ الگ ،اور گِر کو ترچھے انداز میں لکھ کر وہ ڈرامائی منظر دکھایا گیا ہے،جوبچے کی پیدائش کو ہبوطِ آدم کی تمثیل سے جا ملاتا ہے، اور اس تاثر کو بیدار کرتا ہے کہ عدن کی وسعت بے کراں سے زوالِ آدم کا قصہ ہر روز،ہر لمحے دہرایا جارہا ہے۔
اب آپ ہی فیصلہ کیجیے کہ اگر ان نظموں کو فقط پڑھا جائے ،اور ان کے بنیادی پیغام کو اسی طرح حاصل کرنے کی کوشش کی جائے،جس طرح کسی لفافے میں بند پیغام کے سلسلے میں کی جاتی ہے؛لفافہ پھاڑ کر پھینک دیا جاتا اور پیغام پڑھ کر اندر کا کاغذ بھی ردی میں ڈال دیا جاتا ہے،توکیا نظم سے انصاف ہوسکے گا ؟یعنی نظم کی تکنیک کو لفافہ سمجھ کر اس سے صرفِ نظر کر لیا جائے ، اور اس کے معنی کو سمجھنے کے بعد فراموش کر دیا جائے کہ وہ معنی ’کیسے،کس رنگ میں،کس آواز، کس بھاؤ میں‘ آپ تک پہنچا،تواسے نظم کا ’پڑھنا ‘ تو کَہ سکتے ہیں، اس کے اسرارسے ہم کنار ہونا،اور اس اسرار کے اندر سفر کرنا نہیں۔یہ تو بالکل ایسے ہے کہ ایک بے صبرا عاشق چھوٹتے ہی محبوب کا بندِ قبا چاک کر ڈالے؛اس کے وجود کے نو بہ نو جلووں ،خدوخال کے نور، قوسوں،لکیروں کے اسرار سے ’ہم کنار‘ ہوئے بغیریہ جا وہ جا۔ جدید نظم کی بد قسمتی یہ ہے کہ اسے بے صبرے (عاشق نہیں)قارئین ملے۔ خیر! غنا، مصوری اور ڈرامے کی عمومی تکنیک سے فرشی صاحب کی نظم ایک حد تک مدد لیتی ہے، اور نسبتاً منفرد انداز میں۔ مثلاً ان کی نظم ’کنکریٹ پوئٹری‘ سے واضح علاقہ نہیں رکھتی۔کنکریٹ پوئٹری میں نظم کو اس انداز میں لکھا جاتا ہے کہ اس سے ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے؛لفظ ، مصرعے لکیروں کا کام دیتے ہیں۔لفظ اور مصرعے کے ذریعے کسی شے ،وقوعے ،عمل ، کیفیت کو ’دکھانے ‘ کا تصور کنکریٹ پوئٹری سے لیا ہوا لگتا ہے ،مگر کیسے دکھایا جائے ، یہ اختراع فرشی صاحب کی اپنی ہے ۔ اسی طرح ان کی نظم محض غنائی اصوات پر بھی منحصر نہیں، جیساکہ مختار صدیقی نے اپنی بعض نظموں میں صوتی تاثر کو ’دکھانے‘ کے لیے مخصوص آوازوں کی تکرار سے کام لیا تھا ۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ علی محمد فرشی کی نظم میں دوسروں اور خود کو دہرانے کے سلسلے میں احتیاط ملتی ہے۔دوسری وجہ تجربے کی پہلو داری ہے۔
یہاں ایک اہم نکتے کی وضاحت ضروری ہے۔زبان کا اصلی وظیفہ’ کہنا؍بتانا‘ ہے، ’دکھانا ‘نہیں۔جب کوئی شاعر کسی بات کو کہنے سے زیادہ اسے رونما ہوتے ہوئے ’دکھانے‘ کی سعی کرتا ہے تو زبان کی اصل کے خلاف چلتا ہے۔زبان کی اصل کو وجود میں لانے اور اس کا تحفظ کرنے کی ذمہ داری زبان کے رواجِ عام پر ہے۔ رواج ِ عام کے آگے کئی ’رجسٹر‘ ہیں جن میں ’کہنے؍بتانے ‘کے اصول ،طریقے ،رسمیات درج ہیں۔ جدید نظم ایک نیا ’رجسٹر‘ وجود میں لاتی ہے،جس میں رواجی زبان کی رسمیات کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔جو لوگ نظم کے اس ’رجسٹر‘ کو بالاے طاق رکھتے ہیں،انھیں نظم بے معنی نظر آتی ہے۔ جس طرح آپ فلسفیانہ زبان کے رجسٹر سے مذہبی زبان کے رجسٹر کی تھاہ نہیں پا سکتے، اسی طرح عام علمی یا روزمرہ زبان کو حکم بناتے ہوئے جدید نظم کی صحیح تفہیم نہیں کر سکتے۔علی محمد فرشی کی نظم میں ’دکھانے‘کی مذکورہ بالا صورتوں کے علاوہ غالباً سب سے طاقت ور صورت تمثالیت ہے،جو ابتدا ہی سے ان کی نظموں میں چلی آتی ہے۔وہ زبان کی ’کہنے؍بتانے‘ کی اہلیت کو ’دکھانے‘ کی صلاحیت میں تبدیل کرتے ہیں؛معنی کو صورت دیتے ہیں؛سامع کو ناظر میں تبدیل کرتے ہیں اور متکلم کو مصور میں۔ مگر یہ سب کچھ اسی وسیلے کی مدد سے اور اس کے بنیادی نظام کے اندر رہتے ہوئے کرتے ہیں،جس کے ناکافی ہونے کا انھیں بہ طور شاعر احساس ہے۔ وہ زبان کی قلبِ ماہیت بان ہی کے ذریعے کرتے ہیں،مگر جن رسمیات کو کام میں لاتے ہیں،وہ وسیع مفہوم میں شاعرانہ اورمخصوص معنی میں جدید نظم کی رسمیات ہیں:یعنی مماثلت، قربت، تخالف، متوازیت ۔ انھی سے استعارہ، مجاز، تمثیل ، محال، ابہام اور تضاد پیدا ہوتے ہیں،جن سے طرح طرح کی تمثالیں وجود میں آتی ہیں۔کہنے کا مقصود یہ کہ فرشی صاحب کی نظم کی تمثالیں حقیقت نگاری پر مبنی مصوری کی مانند نہیں ہیں،بل کہ کہیں استعارہ ہیں،کہیں پیراڈاکس،کہیں علامت ہیں۔یہ پڑھے جانے سے زیادہ رمز کشائی چاہتی ہیں۔ان کے مفاہیم جس قدر سطح پر ہیں، ان سے زیادہ زیر سطح ہیں۔یہ جتنا کچھ دکھاتی ہیں، اس سے بڑھ کر چھپاتی ہیں۔کسی بھی متن کے زیرِ سطح مفاہیم دریافت طلب نہیں، تعبیر طلب ہوتے ہیں۔وہ قاری کو ایک صارف (کنزیومر) نہیں،شریکِ کار بناتے ہیں۔نظم ’ایک دن کی لاش ‘ سے یہ ٹکڑا دیکھیے
وہ رات کیسی تھی”
جس نے اپنے تمام بچے نگل کے
سورج کا خون تھوکا
تو صبح گلیوں میں دن نہیں
“دن کی لاش نکلی
یہ لائنیں’ بھنبھوڑنے والی ماں‘(Devouring Mother)کی تمثال سامنے لاتی ہیں۔(آگے چل کر ہم بحث کریں گے کہ فرشی صاحب کی نظم میں مادرِعظمیٰ کا آرکی ٹائپ مرکزی اہمیت رکھتا ہے)۔ ہندو صنمیات میں اسے کالی ماتا کانام ملا ہے۔ ’وہ رات‘ کالی کا استعارہ ہے۔ اس تمثال میں جو کچھ ’دکھایا‘ گیا ہے، اس سے زیادہ چھپایا گیا ہے۔ کالی ،بچوں ،مردوں ،سورمائوں کی غارت گر ہے۔ جنھیں جنم دیتی ہے،انھی کو بھنبھوڑ ڈالتی اور نگل جاتی ہے۔تخلیق کی بہ جاے تخریب، زندگی کی بہ جاے موت ، امید کی بہ جاے خوف کی علامت بنتی ہے۔ آگے چل کر معلوم ہوتا ہے کہ ’وہ رات ساتویں ماہ کے پانچویں دن کی تھی‘ ، پانچ جولائی،ہماری تاریخ کی سیاہ رات۔ جس کے بعد شہر پتھر کا ہوگیا اور آدمی مٹی کا ڈھیر؛دونوں نمو اورتخلیق کی قوتوں سے محروم ہوگئے ۔ان قوتوں سے محرومی کا نتیجہ بنجر پن کے ساتھ ساتھ بربریت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ شاعر نے جو استعارہ وضع کیا ہے ،وہ تاریخ اور اساطیر کی مماثلت پر استوار ہے۔زمانی واقعیت اورلازمانی علامت میں مماثلت دیکھ کر ایک تمثال بنائی ہے،جو گہری رمزوں کی حامل ہے۔ان رمزوں کو فرشی صاحب کی نظم ’دکھاتی‘ ہے، مگر ان کی تعبیر کی ذمہ داری، ایک ذمہ دار قاری پر ہی عائد ہوتی ہے۔
یہیں فرشی صاحب کی نظم کے آرٹ کی ایک ایسی خصوصیت سامنے آتی ہے،جس کی حیثیت نہ صرف ان کی شاعری میں بل کہ جدید نظم کی شعریات میں بھی ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے۔رابرٹ فراسٹ نے ایک جگہ جدید نظم کی بابت لکھا ہے:’کہنا ایک بات،مراد دوسری بات لینا‘۔فراسٹ نے Sayingاور Meaningکے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ یعنی نظم جو کچھ کہتی ہے، اس کے معانی عام مروجہ زبان کے ذریعے طے نہیں ہوتے، نظم کی شعریات؍موجودگی؍آرٹ یا اس کے لسانی رجسٹر سے متعین ہوتے ہیں۔گویا نظم(کے معانی ) کا سلسلہ ،نظم کے ’باہر ‘تک پھیلا ہوتا ہے۔ جن کے یہاں اس ’باہر‘ کا تصور نہیں ہوتا ،یا ہوتا ہے تو ناقص ہوتا ہے ،انھی کو نظم بے معنی نظر آتی ہے ۔وہ نظم کی تفہیم مروجہ زبان کی مدد سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں،اور نظم جو کچھ کہتی ہے ،اس سے ’کچھ دوسرا‘مراد نہیں لیتے ، اس لیے ٹھوکر کھاتے ہیں۔مگر اصل سوال یہ ہے کہ نظم کیسے ’باہر‘ تک پھیلی ہوتی ہے ؟جیسا کہ پہلے بیان ہوا،نظم زبان کے خلاف جتنے قدم اٹھاتی ہے،وہ زبان کے ذریعے ،اور اسی کے اندر اٹھاتی ہے۔( یہ قول ِ محال ہے)۔نظم اپنے محدود متن سے باہر قدم اٹھانے کے لیے بھی زبان ہی کی سیڑھی استعمال کرتی ہے۔مگر یہ عام سیڑھی نہیں، اس میں کئی قدم ہوتے ہی نہیں،متعدد ’خلا، خالی جگہیں‘ ہوتی ہیں۔ لفظوں کے مابین مماثلتوں، قربتوں ،تخالف وغیرہم نیم واضح ہوتے ہیں۔نظم میں استعارے اور تمثالیں واضح ،مگر یہ جن مماثلتوں اور قربتوں کی بنیاد پر وضع ہوتے ہیں ،وہ نیم واضح ہوتے ہیں۔ یہی وہ نیم واضح منطقے ہیں،جو نظم سے ’باہر‘ ہیں۔ فرشی صاحب کی نظم کی جس خصوصیت کا ابھی ذکر ہواہے ،وہ یہی نیم واضح منطقے ہیں۔ اس امر کی وضاحت کے لیے نظم ’غاشیہ‘ کا تمہیدی حصہ دیکھیے۔ یہاں واضح اور نیم واضح منطقے کو ساتھ ساتھ لکھا جارہا ہے
میں کشمکش کے کنارے بیٹھا ہوں۔۔۔
[کشمکش ایک ندی کی طرح ہے،دو کناروں میں مقید، مسلسل بہتی ہوئی۔کشمکش ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتی]
کنکری ایک پھینکتا ہوں
[آہستہ روپانی میں کنکری پھینکنا، اس کی روانی میں مخل ہوناہے؛اس کی سطح میں تبدیلی لانا ہے؛مسلسل ،یکساں بہاؤ سے پیدا ہونے والی تکرار میں رخنہ ڈالنا، اپنی موجودگی باور کراناہے؛اور ایک سیال شے میں ٹھوس شے سے ارتعاش پیدا کرنا ہے ]
سوال نامے ہزار دائرے بناتے
[کنکری ایک سوال کی طرح ہے،جس سے کشمکش کی ندی میںدائرے بنتے ہیں؛کشمکش کا ایک سمت سے دوسری سمت کی طرف جاری رہنامتاثر ہوتا ہے؛دائرے کی صورت کچھ واضح ہیئت نظر آنے لگتی ہے]
پاس آتے ہیں، ٹ و ٹ جاتے ہیں
[مگر یہ ہیئت عارضی ہے۔ایک ٹھوس حقیقت ،سیال کیفیت میں عارضی تبدیلی لاتی ہے۔کشمکش جاری رہتی ہے]
اس کنارے سے اس کنارے کے درمیاں
میں اکیلا خود سے بچھڑتا رہتا ہوں
[کشمکش کی ندی،کنکری، سوال نامے ،دائرے ،یہ سب ’میں‘ ہی ہوں۔خود سے ملتا اور خود سے بچھڑتا رہتا ہوں]
آسماں کو زمیں کے دل سے ملانے والا
[کیا دبدھا، کیا المیہ، کیا عجب صورت ہے کہ جس نے آسماں کو زمیں سے ،ذہن کو دل سے، آدم کو حوا سے، نور کو مٹی سے،عرفان کو حسی تجربے سے،بلندی کو پستی سے ، تقسیم کو وحدت سے ملایا، وہ خودکو اپنے آپ سے نہ ملا سکا!آدمی کی خود سے جدائی ازل ابد کے درمیان کھنچی ہوئی ہے۔]
نظم میں نیم واضح منطقوں کا ہونا،ایک حقیقت ہے،مگر اس کی تعبیر مختلف ہو سکتی ہے۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ آپ ان منطقوں کے خاکے سے کوئی مختلف تصویر بنائیں۔چوں کہ یہ منطقے نظم سے ’باہر‘ ہیں، اس لیے نظم ان کے خاص طرح سے تعبیر کیے جانے پر کلی اختیار نہیں رکھتی،نہ اس اختیار کی جویا رہتی ہے۔نظم صرف اشارے کرتی ہے ۔وہ اپنے مزاج میں اس آمریت کو پیدا نہیں ہونے دیتی ،جس میں جو کچھ کہا جاتاہے، وہی کچھ مراد بھی لیا جاتا ہے؛اس آمریت میںدوسرے کومعنی یابی کے عمل میں شریک کرنے کی بہ جائے،اس پرخاص معنی مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جدید نظم کی جمالیات میں اس جمہوری اور ایک خاص معنی میں سیاسی جہت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔جدید نظم اپنے قاری کے لیے گنجائش پید اکرتی ہے کہ وہ سامنے کی دنیا کی تعبیر اور ایک نئی دنیا کی تعمیر میں اس کے ہم رکاب ہو۔
نظم ’غاشیہ‘(نظم کا عنوان غاشیہ،قرآن کریم کی ۸۸ویں سورہ الغاشیہسے لیا گیا ہے جس کا مطلب ڈھانپ لینے والی (قیامت) کا ہے۔)اس سے آگے چلتی ہے ،اور اسی طرح تمثالوں، علامتوں کے سہارے۔ زیادہ تر تمثال سازی کا عمل اس طور انجام پاتا ہے کہ لفظوں کی رعایتیں،مناسبتیں ،نسبتیں تمثال کو مکمل کرتی ہیں۔ایک لمحے کو ایسا لگتا ہے کہ جیسے زبان نے شاعر کے تخلیقی عمل پر قدرت حاصل کر لی ہے ،اور شاعر کے عندیے پر زبان کا نحوی رخ حاوی ہو گیا ہے ۔ بادی النظر میں تو یہ شاعر کے منشا کی زبان کے ہاتھوں شکست ہے ،مگر حقیقت یہ ہے کہ عام اظہار سے لے کر تخلیقی اظہار تک ،نہ صرف ہمارا منشا زبان کے اندر تشکیل پاتا ہے ، بل کہ ’ہمارے اظہار‘ پر زبان کا فرق و مماثلت پر مبنی نظام حاوی ہوتا چلا جاتا ہے ۔اس بات کا تجربہ ہر لکھنے والے کو ہوتا ہے کہ لکھنے سے پہلے ذہن میں ایک مبہم خاکہ ہوتا ہے ،پھر ایک ’موزوں لفظ‘ ہمیں سوجھتا ہے ،آگے کا سارا سفر لاشعوری طور پر اسی سمت میں ہوتا ہے جہاں ہمیں وہ ’موزوں لفظ‘،اپنی مناسبتیں،تلازمات ،افتراقات تلاش کرتے ہوئے لے جاتا ہے۔ ہماری کلاسیکی اور جدید شاعری میں زبان کے اس کردار کا شعور موجود ہے،بعض امتیازات کے ساتھ۔ جدید نظم اپنے لسانی وجود کے سلسلے میں خاصی آگاہ اور حساس ہے۔تمثال سازی سے لے کر ،نئے اور منفرداسلوب کی تلاش اسی ضمن میں ہے۔بہ ہر کیف یہ تمثالیں بھی کہتی کچھ، مراد کچھ اور لیتی ہیں۔ایک بصری ،متحرک منظرہمارے حواس کو جگاتا ہے ،جو تکرار کی وجہ سے کند ہوچکے ہوتے ہیں،اور پھر اس منظرکے قرب وجوارمیںنئے معانی طلوع ہوتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً یہ ٹکڑا دیکھیے:
سوال خود اک سحر کی صورت گلی میں آتا”
تو سب دریچے اسی کی آہٹ پہ کان رکھتے
دلوں کے باغوں میں سوئی سانسیں
تمام سینوں میں جاگ اٹھتیں
نکل کے بستر سے دن مچلتا کہ آئو جھولے دھنک کے ڈالیں
“تو سب کے چہرے چہکنے لگتے
 طلوعِ سحر سوال کا استعارہ ہے، اور کیا خوب استعارہ ہے ۔روایتی طور پر سوال کا استعارہ ملگجی شام ہے کہ دونوں میں ابہام قدر مشترک ہے۔طلوعِ سحر کو تو سوال کا جواب سمجھا گیا ہے،مگر یہاں سوال کا ظہور ،صبح کے طلوع کے مماثل قرار دیا جارہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ شاعر جس سوال کی بات کر رہا ہے ،وہ عام قسم کا پہیلی نما سوال نہیں۔اصل یہ ہے کہ طلوعِ سحر اپنے تمام معانی سمیت ،اس متن سے ’باہر‘ ہے،مگر یہ ٹکڑا کیا مراد لیتا ہے،یہ سب اسی ’باہر‘ میں مضمر ہے۔ نئی صبح آتی ہے تو ہر شے ایک ’نئی زندگی‘ پاتی ہے،نیند ، غفلت سے نجات پاتی ہے۔(نظم کا عنوان غاشیہ بھی غفلت کا مفہوم لیے ہوئے ہے) ٹھہری ہوئی زندگی آگے بڑھنے کے لیے قدم اٹھاتی ہے،نئے عزم، نئے ولولے اور نئی مسرتوں کے ساتھ۔گویا یہ ایک ایسا سوال ہے جو زندگی سے نہیں، نئی زندگی سے متعلق ہے؛زندگی میں موجود کسی الجھن سے متعلق نہیں، ایک نئے کشف،تازہ عرفان کی بابت ہے۔لہٰذا اس سوال کے بغیر زندگی میں نئی صبح،تازہ کھلی کھلی ،نرم ،روشنی نہیں آتی۔پوری نظم کے تناظر میں سوال زندگی کی بنیادی حقیقت کے اس عرفان سے متعلق ہے ،جسے صرف چند لوگ ہی اٹھاتے ہیں۔وگرنہ تو معیشہ (معیشت)کے اٹھے لہنگے سے جھانکتی رانوں کی لذت میں اسیر لوگ حیات کی تمام عشرت گنوا بیٹھتے ہیں۔جو چند لوگ سوال،اور ان کا بار اٹھاتے ہیں،ا ن میں ایک کردار حاتم طائی کا بھی ہے، جو اس نظم کے متن میں زیرِسطور موجود ہے۔معیشت اور دوسری لذتوں کی ہزار چشمی بلاؤں کا خاتمہ یہی حاتم طائی کرتا ہے۔مگر اب (حاتم طائی کی) کہانی باقی نہیں رہی، اس لیے اب لوگ ایک ایسی کھائی میں ہیں جہاں پرانی داستانوں کی نہ تو ہزار چشمی بلائیں ہیں،نہ کو ئی موذی ہزار پایہ ہے
سواے ایک بے وجود سایہ”
عجیب دنیا بنا رہا ہے
نہ میں ہوں جِس میں
“نہ تم ہو اِس میں
سوال باقی تھے تو ہر شے واضح تھی۔شہزادی ہو، ہزار چشمی بلا ہو یا کوئی ہزارپایہ موذی ہو۔ان کو پہچاننا اور ان کا قلع قمع کرناآسان تھا،مگر اب صرف سایوں کی دنیا ہے۔’بے وجود سایہ‘ جدید ادب کی مرکزی علامت رہا ہے ۔جدید عالمی اور اردو ادب میں انسان کی شناخت یا تو سائے کے طور پر کی گئی ہے ،یا کسی حقیر جانور، معمولی کیڑے ،مکروہ حشرات کی صورت ۔دونوں صورتوں میں انسان اپنے اس شرف سے محروم ہے ،جس کا تصورقرونِ وسطیٰ اور کلاسیکی عہد میں کیا گیا۔ (یہاں اقبال استثنیٰ کی حیثیت رکھتے ہیں جنھوں نے قرونِ وسطیٰ کی عظمتِ آدم کا بیانیہ لکھا،اور اسی بناپر یہ بحث آج بھی کی جاتی ہے کہ اقبال کے یہاں جدید حسیت کا اظہا ر ہو ایا نہیں)۔جدیدیت میں سایہ ،جدید انسان کی شناخت کے اس عظیم بحران کی نمائندگی کرتا تھاجو عظیم جنگوں، آمریتوں، کبیری بیانیوں کی وجہ سے پیدا ہوا تھا ۔مگر آج سائے کی معنویت بدل گئی ہے ۔ مابعد جدید دنیا میںاشیا نہیں، ان کے امیج اہم ہیں؛آدمی نہیں، اس سے متعلق کوئی بیانیہ یا ڈسکورس اہم ہے۔شخصیت نہیں، اس کی شناخت اہم ہے جسے اس پر مسلط کر دیاگیا ہے۔میں اور تم ،جو حقیقی دنیا کی شناخت کو ممکن بناتے ہیں،جو سوال اٹھاتے، اور ان کے جواب رکھتے ہیں، ان سایوں ، امیجز، بیانیوں، تاریکیوں میں کھو گئے ہیں۔
 اس نظم کے سلسلے میں ایک اور بات بھی قابلِ ذکر ہے۔ ہزار چشمی بلاؤں کی جگہ بے وجود سائے نے لے لی ہے،اور یہ (ہماری)کہانی کا اہم موڑ ہے۔ یہاں واضح اشارہ ایک روایت کے خاتمے کی طرف ہے۔یہ روایت علامتوں سے معمور تھی۔اس میں سوال،سوال کرنے والا، سوالوں کے جواب کی تلاش میں جنگلوں میں مارا مارا پھرنے والا، طرح طرح کی بلائوں سے دوچار ہونے والے اور ان پر غالب آنے والاکردار،سب علامتیں تھیں،جن کے معانی اجتماعی ثقافتی شعور میں جگمگاتے تھے۔واضح رہے کہ یہ علامتیں دنیا و کائنات کے معنی تلاش کرنے کا تخیلی وسیلہ تھیں۔ان کے معانی اجتماعی ثقافتی ذہن میں روشن کیا ہوتے تھے کہ ایک ’بامعنی دنیا‘ کا نقشہ ابھر آتا تھا،جس میں لوگ اپنا مرتبہ،کردار،اپنے وجود کے معانی پالیتے تھے۔گویا جس میں، مَیں اور تم معنی سازی کے عمل میں شریک رہتے تھے،مگر اس روایت کی جگہ جس بے وجود سائے کی دنیا نے لی ہے، اس میں مَیں اور تم ہی نہیں ہیں۔ہر چند سایہ بھی علامت ہے،مگر شناخت کے تاریک ، بے نشان ہونے کی ؛مَیں اور تم کے غائب ہونے کی؛ایک بے معنویت کی علامت،جس میں روشنی کی کوئی کرن اگر ہے تو بس یہ کہ اس بے معنویت،بے وجود سائے کی آگہی نظم کے متکلم کو حاصل ہے،اور اس آگہی کو اپنی تقدیر سمجھ کر خاموش ہوجانے کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت۔ فرشی صاحب کی نظم محض ہماری ثقافتی روایت کی کہانی کے ایک موڑ کا قصہ ہی نہیں لکھتی ،خود اپنے لیے ایک ’موتف‘بھی ایجاد کرتی ہے۔انفصال کا موتف۔خود سے، تُوسے ،ماضی سے انفصال۔واضح رہے کہ انفصال موتف ہے ،موضوع نہیں۔ لہٰذا ان کی نظم میں فصل، ہجر، جدائی، مفارقت، مہاجرت بنیادی موضوع کم بنتے ،نظم کی مجموعی ہیئت میں زیادہ شامل ہوتے ہیں۔
نظم ’غاشیہ ‘ میں ہم خود سے انفصال کی کچھ صورتیں دیکھ چکے ہیں۔ ’بہتی ریت میں‘ میں ریگ رواں کی تمثال فصل کی علامت بنی ہے۔’ستر مائوں کا پیار‘ کی سطر سطر میں تُو سے فصل کا دکھ سرایت کیے ہوئے ہے۔نظم’نیند میں چلتی موت‘ تُو کی مناجات پر مشتمل ہے۔مَیں کی تُو سے مناجات اس جدائی کے پس منظر میں ہے جسے دنیا میں دھنستے چلے جانے کا احساس مزید گہرا کرتا جاتاہے۔انفصال کا یہی موتف ایک دوسرے رنگ میں ’ٹوٹم ٹ و ٹ گیا‘ میں موجود ہے۔ ’حقیقت‘، ’اجل جل میں کنول‘،’دوسرا کون ہے‘ ،’ہم زاد‘،’داؤ‘میں بھی آپ کو فصل وجدائی کارفرما نظر آئے گی۔خود سے، تُو سے اور تاریخ و روایت سے فصل ان نظموں میں شدت سے ظاہر ہے۔لہٰذا ان کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ میں جس بات کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں،وہ انفصال بہ طور موتف ہے۔موتف اصلاً کہانی کی اصطلاح ہے ۔چوں کہ فرشی صاحب کی اکثر نظمیں نہ صرف بیانیہ اسلوب اختیار کرتی ہیں ،جگہ جگہ داستانی ،اساطیری بیانیوں کے کرداروں،واقعات ، تھیم سے دل چسپی ظاہر کرتی ہیں،بل کہ کہانی کے پیٹرن کو بھی اختیار کرتی ہیں؛ا س لیے موتف کی اصطلاح بے محل نہیں۔موتف سے مراد ایک ایسا اصل الاصول ہے جو کبھی مخفی،کبھی نیم عریاں،کبھی ایک لفظ، کبھی ایک سطر؍مصرع،کبھی بین السطور،کبھی وراے سطور ظاہر ہوتا ہے،مگر کہانی کے مرکزی مفاہیم کی شیرازہ بندی کرتا ہے۔اس کی معنویت،اس کے واضح ،راست ،بیش از بیش اظہار سے نہیں، اس کے علامتی،بالواسطہ اظہار سے ہوتی ہے۔
فرشی صاحب کی نظم میں مادر ِ عظمیٰ کا آرکی ٹائپ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ صفحات میں بھنبھوڑنے والی ماں کی تمثال کا ذکر آچکا ہے۔مادر ِ عظمیٰ بہ یک وقت پیدا اور برباد کرنے والی قوت کی علامت ہے ۔یہ آرکی ٹائپ اس اہم ترین حقیقت کو منکشف کرتا ہے کہ تخلیق کا معنی تخریب ہی کے مقابل قائم ہوتا ہے ،اور کوئی خالق اس وقت تک اپنا اثبات نہیں کر سکتا ،جب تک وہ اسی درجے کی شکست و ریخت اور بربادی کی صلاحیت کا مظاہرہ نہ کرے ،جس درجے کی وہ تخلیق کی صلاحیت رکھتا ہے ۔تاہم پیشِ نظر رہے کہ یہ دیوتائی اور شیطانی صفات کا اجتماعِ ضدین نہیں؛تخلیق کی قوت کے مظاہرے کی دو متضاد صورتیں ہیں۔مادرِ عظمیٰ کا آرکی ٹائپ کئی صورتوں میں فرشی صاحب کی نظموں میں ظاہر ہوا ہے ۔مثلاً پہلی صورت اس ہزار شیوہ جمال کی ہے جو کہیں واضح اور کہیں تلازمات کی سطح پر نسوانی ہے۔بدن ،خوش بو، لمس، آبنوسی پھول،ریشم بھرے خواب جیسے الفاظ اور ان کے تلازمات سے حسن کی نسائی تمثال سامنے آتی ہے۔پھر نظم کے لفظوں، مصرعوں اور بندوں میں ایک ایسا تناسب قائم کرنا کہ کوئی ایک لفظ زائد نہ ہو،اور اس سے حسن کا تاثر پیدا کرنا۔ آپ کَہ سکتے ہیں کہ اگر مادرِ عظمیٰ کا آرکی ٹائپ نہ بھی ہوتا تو ان کی نظم کو ایک جمال پارہ بننے کے لیے اپنی ہیئت میں توازن و تناسب سے کام لینا پڑتا،درست۔مگر یہ دیکھیے کہ نظم کے پیٹرن کا جمال کیا فطرت کی اس عظیم الشان تخلیقی قوت سے کوئی نسبت رکھتا ہے یا نہیں ،جس کی ایک نمائندہ مادر عظمیٰ ہے؟
 فرشی صاحب کی نظم میں مادرِ عظمیٰ کے آرکی ٹائپ کے اظہار کی اگلی صورت زیادہ واضح ہے۔ جن نظموں میں ،مَیں اور تُو کے فصل سے پیدا ہونے والے دکھ کو پیش کیا گیا ہے،ان میں بھی تُوکے خدوخال مادرِعظمیٰ سے یا تو مماثل ہیں،یا اس سے لیے گئے ہیں،یا اس کی یاد کی موجودگی میں ظاہر ہوئے ہیں۔ایک نظم کا تو عنوان ہی ’ستر ماؤں کا پیار ‘ ہے۔خدا کی محبت ،ستر ماؤں کے پیار سے بڑھ کر ہے۔ اس قول کی تہ میں مادرِ عظمیٰ ہی کا آرکی ٹائپ موجود ہے۔مادری تہذیبوں کی اساطیر میں حقیقت عظمیٰ کی شناخت نسائی پیکر کے طور پر کی گئی۔مذکورہ نظم کی یہ لائنیں ماں ہی کی تمثال لیے ہوئے ہیں
کہاں ہے؟”
تُوخود اپنی شیریں صدا سے
مری تیرہ بختی میں
شبھ رات کی مصریاں گھول دے
ماں تو ناراض ہے
“اب کئی روز سے بولتی بھی نہیں
اسی طرح جن نظموں میں برصغیر کی مشترکہ ثقافت کے استعمار کے ہاتھوں غارت ہونے کا موضوع نظم ہوا ہے،(جیسے ’زمانہ ہمیں دیکھ کر ہنس رہا تھا‘)، ان میں مشترکہ ثقافت، ماں ہی کا ایک روپ ہے ، اور اس سے جدائی کا وہی کرب ،وہی خسارہ ہے جو ماں سے بچھڑنے پر بچوں کو سہنا پڑتا ہے۔
مادر عظمیٰ کا آرکی ٹائپ صرف ان شعرا کے یہاں ظاہر ہوتا ہے ،جن کے یہاں مَیں اور تُو، آدم وحوا، زمین و آسماں ،عصر اور روایت کے انفصال نے ایک بنیادی نفسیاتی صداقت کا درجہ اختیار کر لیا ہو۔ اس کی شخصی جڑیں خود اپنی ماں اور مٹی سے دائمی جدائی کے گہرے جذباتی تجربے سے عدم مصالحت میں ہو سکتی ہیں۔مادرِ عظمیٰ کا آرکی ٹائپ طرح طرح سے ،بھیس بدل کر ، کچھ دوسری علامتوں کے ذریعے یعنی اپنی Displacement کر کے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی سب سے اہم مثال علی محمد فرشی کی طویل نظم ’علینہ‘ ہے،جسے جدید اردو نظم میں ایک لافانی نظم کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔’ علینہ‘اپنے خدو خال کے اعتبار سے مادرِ عظمیٰ کا آرکی ٹائپ ہے علینہ اپنے پیکر ، خدوخال اور کردار کے اعتبار سے کائنات کی عظیم قوت ِ تخلیق کی علامت ہے۔ پوری نظم ’علینہ‘ ، مادر عظمیٰ ، کائنات کی مقدس قوت ِ تخلیق سے انفصال کا قصہ بیان کرتی ہے ۔نظم کا متکلم علینہ سے اس انداز میں مخاطب ہوتا ہے جیسے اس کی روح جدائی کی زخموں سے چور ہے۔اس کے لہجے میں پکار، دعا اور مناجات ہے ۔ نیز’ علینہ ‘کے نام ہی میں انفصال کی ایک کیفیت ہے جسے شاعر نے نمایاں کیا ہے: علینہ=علی نہ۔ یہاں اس نظم پر تفصیل سے لکھنے کی گنجائش نہیں۔ صرف ایک حصہ پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں ،یہ واضح کرنے کے لیے کہ کس طرح مادرِ عظمیٰ کا آرکی ٹائپ، انفصال سے معنوی ربط رکھتا ہے۔
!علینہ”
غار سے نکلیں
کوئی رستہ بنائیں
اس گھنی ،گاڑھی، سیاہی سے نکلنے کا
اندھیرے ،اندھے،زہریلے دھوئیں میں
کاربن ہوتی ہوئی عمریں کہاں ہیرا بنائیں گی
کسی نیکلس،انگوٹھی اور جھمکے میں
چمک اٹھنا کہاں دل کا مقدر ہے
ہمارے کوئلہ ہوتے دنوں کا غم
ہمالہ نے کہاں رونا ہے
“کس تاریخ کا چہرہ بھگونا ہے
یہ کون سا غار ہے جس سے نظم کا متکلم نکلنے کے لیے علینہ سے مخاطب ہے؟ اصل یہ ہے جب انفصال ،شکستگی، دوئی ذات کو بری طرح کھدیڑنے لگتی ہے تو آدمی لنگر کی تلاش میں اپنے ہی اندر مارا مارا پھرتا ہے تو لاشعور ی طور پراس کا سامنامادرِ عظمیٰ کے آرکی ٹائپ سے ہوتا ہے۔یہ ساری تلاش دوئی کو اکائی میں بدلنے کی خاطر ہوتی ہے۔دوئی کا اوّلین تجربہ آدمی ،بہ قول ژاک لاکاں ’مراۃ کی منزل‘میں کرتا ہے،جب بچہ اپنا عکس آئینے،یا آئینہ نما شے میں دیکھتا ہے۔زبان اور کلچر کے دیگر مظاہر میں آدمی کی شرکت سے دوئی کا گھاؤ بڑھتا جاتا ہے۔دوسرے لفظوں ہم جیسے جیسے بڑے ہوتے جاتے ہیں ،اظہار کے نئے نئے وسائل پر دسترس حاصل کرتے جاتے ہیں، دوئی کا زخم مزید گہرا اور چوڑا ہوتا جاتا ہے۔آدمی کی تنہائی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ،اور اسی نسبت سے اس زمانے کا تخیل شوخ ہوتا جاتا ہے جب آدمی وحدت کی گود میں تھا؛تنہائی اور دوئی دونوں کے ڈنک سے محفوظ تھا۔ایسے میں وحدت کی اوّلین حالت کی طرف مراجعت، آدمی کا سب سے بڑا خواب بن جاتی ہے،اور یہ خواب ہی مادرِ عظمیٰ کے آرکی ٹائپ کو بیدار کرتا اور اسی خواب میں مادر ِ عظمیٰ بیدار ہوتی ہے۔مادرِ عظمیٰ کی طرف مراجعت کے سفر میں کئی منزلیں، علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ان میں ایک اہم علامت غار ہے۔
 مادرِ عظمیٰ کی طرح غار کی علامت بھی متضاد خصوصیات کی حامل ہے۔ ایک طرف یہ تاریکی، خوف،موت ،گھٹن کی علامت ہے تو دوسری طرف روشنی،رجا،زندگی ،آزادی کی ؛ماں کی کوکھ کی ایک بے خطا تمثیل۔ غار کے اندرگھنی گاڑھی سیاہی ،مگر اس کے کنارے پر روشنی ہے،بس اس کا راستہ دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔’علینہ‘سے یہی راستہ دریافت کرنے کی آرزو کی گئی ہے،کہ مادر ِ عظمیٰ ہی اس راستے سے آگاہ ہو سکتی ہے۔’ غاشیہ ‘میں شامل نظم ’کھائی‘ میں بھی غار کی علامت ظاہر ہوئی ہے۔مگریہاں غار ماں کی کوکھ ،اساطیری مذہبی مقدس مقام کی علامت ہے ، جس سے جدائی دائمی ہے۔ اس ’غار‘ کے آگے فقط کھائی ہے۔یہاں شاعر نے انسانی صورت ِ حال کے ایک عجب دبدھے کو پیش کیا ہے ۔آدمی غار سے نکل کر روشنی کے کنارے پہنچنا چاہتا ہے ،مگر یہ کنارہ ایک کھائی کا ہوتا ہے۔کھائی نشیب ،گہرائو،خوف ، شر،موت کی علامت ہے،نیز یہ وہی کھائی ہے جس میں بے وجود سایوں کا راج ہے۔یہ نظم آدمی کے سفر کی رائیگانی کو پیش کرتی ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ نظم اس سلسلے میں خاموش نہیں ہے کہ آخر غار کے آگے کھائی کیوں ہے،یاتاریکی کے بعد فراز، روشنی کیوں نہیں؟نظم کا آغاز ان مصرعوں سے ہوتاہے
ہم جس خواب کی انگلی تھامے”
غار سے نکلے
“اُس کو سارے رستوں سے آگاہی تھی
یہی خواب(جو وحدت کی حالت حاصل کرنے کا خواب ہے) انھیں کھائی تک لے جانے کا ذمہ دار ہے۔نظم میں غار سے نکل کر خوش خوش سفر کرتے چلے جانے ،اور پھر تھک جانے کے بعد متکلم پوچھتا ہے ’’غار آخر کب آئے گا؟‘‘اور اسے جواب ملتا ہے کہ آگے کوئی غار نہیں ہے۔ جس کاایک مطلب یہ ہے کہ وہ غار سے نکلے ہی نہیں،دوسرا مفہوم یہ ہے کہ وہ ایک غار سے نکل کر دوسرے غار میں جانا چاہتے ہیں۔ اگر یہاں دوسرے غار کا ذکر ہے تو یہ کون سا غار ہے؟نیز ایک غار سے نکل کر دوسرے غار میں پہنچنے کا مفہوم کیا ہے ؟اگر ہم پہلے غار کو ماں کی کوکھ تصور کریں ،اور دوسرے غار کو تفکر و مراقبے کا مقدس مقام خیال کریں ،تو بھی ان دونوں سے جدائی دائمی ہے،خواہ اس کا ذمہ دار کوئی خواب دکھانے والا ہو، یا خواب دیکھنے والا۔یہی انسانی وجود کی تقدیر ہے!آدمی جب تک ماں کی کوکھ میں،غار میں تھا، اکائی تھا؛اس کے بعد ساری عمر اس اکائی ، اس جنت گم گشتہ کی تلاش کا سفر ہے،اور اکثر رائیگانی کا سفر ۔
اسی طرح نظم ’دہانہ ‘ میں ایک بار پھر غار ظاہر ہوتا ہے، ’دور اندر کہیں غار ہے ؍جس میں بیٹھا ہوا دیو کھاتا ہے ؍کیڑوں کی محنت ‘۔ اس غار میں کیڑے ،انسان کئی عمروں کی خوراک گرائیں تب بھی اس کا دہانہ نہیں بھرتا۔یہاں غاراس قدیم ترین تاریک مسکن کی علامت ہے جب انسان آگ سے متعارف نہیں ہوا تھا،غار کے استبداد سے آزاد ہونے کی صورت سے واقف نہیں ہواتھا۔یعنی پرومیتھیس کے آگ چرانے کی کہانی کی ماقبل صورتِ حال۔تاہم غار ہی کے ضمن میں اس نظم کا ایک ذیلی متن(Sub-text) بھی ہے ۔یونانی اسطورہ میں مادر عظمیٰ کو دیمیتر کا نام ملا ہے، جو زمین اورزرخیزی کی دیوی ہے۔ اس کا جشن منانے کا انوکھا طریقہ تھا۔ ایک غار میں ننھے سؤر، سانپ ،انناس (جو بڑی حد تک قضیب کی علامت تھے)ڈال دیے جاتے ،تاکہ زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہو۔یہ واضح کرنے کی ضرورت نہیں کہ غار کس شے کی علامت تھا۔فرشی صاحب کی نظم بتاتی ہے کہ آج غارمیں دیمیتر کی جگہ کوئی دیو بیٹھ گیا ہے ،جسے انسانی مساعی، اس کی علامتوں کا احترام نہیں۔زرخیزی کے کلٹ کی جگہ ہوس کے ادارے نے لے لی ہے۔ یہ بھی اصل سے جدا ہونے کی ایک صورت ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ فرشی صاحب کی نظم داستانی، اساطیری عناصرکی طرف التفات بھی انفصال کے موتف کے تحت اور مادرِ عظمیٰ کے آرکی ٹائپ کی وجہ سے کرتی ہے۔
مادرِ عظمیٰ کا آرکی ٹائپ فطرت کی ان عظیم تخلیقی قوتوں سے متعلق ہے،جن کا انتہائی پر شکوہ، تقدیس سے لبریزتصور اساطیری ذہن نے کیا، اور انھیں پرستش کے قابل سمجھا۔ شعری تخیل میں یہ آرکی ٹائپ اپنے ظہور ہی سے اس امر کا اعلان ہے کہ فطرت کی عظیم تخلیقی قوت قابلِ تعظیم ہے اوراس کی کارفرمائی ان تمام طاقتوں کے مقابلے میں اس قوت کا تحفظ کرتی ہے ،جو مردانہ، تخریبی ، ہوس پرستانہ ہیں ، اور جو فطرت، زمین، عورت،شاعری،جمالیات ،عشق (جو اپنی خصوصیت کے اعتبار سے نسائی ہیں)کو وجودی اور علامتی دونوں سطحوں پر غارت کرتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کسی آرکی ٹائپ سے شاعر کی گہری باطنی وابستگی،اسے اپنے عصر سے بے نیازنہیں کرتی؛البتہ اسے اپنے عصر کی تفہیم کا ایک ایسا زاویہ ضرور دیتی ہے ،جو عصر کے سیدھے سادے سیاسی، سماجی تجزیوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ شاعر آرکی ٹائپ کے ذریعے بنیادی انسانی صورتِ حال تک پہنچتا ہے؛ دانش قدیم ،اس کے جوہر،اس کے علامتی مظاہر تک رسائی حاصل کرتا ہے، پھر اس کی روشنی میں زمانے ، عصر اور تاریخ کی سمت دکھائی دینے لگتی ہے۔وہ دانشِ قدیم کو حکم نہیں بناتا، فقط اس کی علامتوں کے ناخن سے عصر کی پیچیدہ صورتِ حال کی گرہیں کھولتا اور زمانے کو دکھاتا ہے۔ فرشی صاحب کی نظموں میں ہمیں معاصر عالمی اور مقامی تخریبی طاقتوں(سیاسی ، ٹیکنالوجیکل،صارفی) کی چیرہ دستیوں کا انکشاف ملتا ہے۔ان میں سے بعض نظمیں شہر آشوبیہ کہلائی جا سکتی ہیں۔خاص طور پر ’یعنی لایعنی ‘ اور’ مچھلی کا نٹا‘۔ یہ دونوں نظمیں معاصر صارفی کلچر کے لایعنی عناصر کو ’لایعنی انداز‘ میں سامنے لاتی ہیں۔ بے سمت، بے مہار سماجی اور صارفی قوتوں کو اسی اسلوب میں اجاگر کیا گیا ہے۔ اردو میں آپ انھیں نئی تجرباتی نظمیں بھی کَہ سکتے ہیں۔ اسی طرح ’ملت اسلامیہ ‘ (معلوم نہیں اس نام کی کوئی حقیقی شے موجود بھی ہے کہ نہیں) کی صورت حال کو نظم ’بندریا‘ میں گہرے ،مخفی طنز کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ مسلمانوں کی’ ہمچو ما دیگرے نیست ‘والی ذہنیت پر شاعر نے کئی طرح سے چوٹ کی ہے۔بندریا[ایک نسائی کردار] کس کی تمثیل ہے اور تماشائی کس کی نمائندگی کرتے ہیں،یہ باتیں شاعر نے قارئین کے غور کے لیے چھوڑ دی ہیں۔ خیریہ بات ہمیں ان کے معاصر شعرا کے یہاں بھی ملتی ہے۔ا س ضمن میں فرشی صاحب کی نظم کا امتیاز یہ ہے کہ اس کی تہ میں تخلیق کی عظیم الشان ،دیوتائی نسائی علامت موجود ہے۔ اس ضمن میں نظم ’ریت‘ کو بہ طور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ نظم عراق پر امریکا اور نیٹو(آج کی مردانہ، تخریبی،ہوس پرستانہ قوتیں)کے حملے کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔نظم کا آغاز ایک اسطورہ کے حوالے سے ہوتا ہے جس میں سرخ سیلاب کی پیش گوئی پرومیتھیس کے آگ چرانے کے واقعے سے بھی پہلے ،یعنی ماضی بعید میں کہیں کی گئی تھی۔یہاں غالباًاشارہ گل گامش کے رزمیے کی طرف ہے جو دنیا کی قدیم ترین کہانی ہے۔ گل گامش ڈھائی ہزار قبل مسیح کے آس پاس عروق (کم و بیش موجودہ عراق)کا بادشاہ تھا،جب یونانی اساطیروجود میں نہیں آئی تھیں۔گل گامش کے رزمیے میں اتناپشتم سیلاب کا قصہ سناتا ہے۔ فرشی صاحب کی اس نظم کے جس پہلو کی وضاحت ہم کرنا چاہتے ہیں،وہ ریت کی تمثال ہے،جس کی جغرافیائی نسبت عراق سے ہے۔نظم میں ریت، بھنبھوڑنے والی ماں کی علامت بنی ہے،جس کی بھنبھوڑنے، نگل جانے کی پیاس کبھی نہیں بجھتی۔
تو نہیں جانتا ریت کی پیاس کو؍ریت کی بھوک کو”
ریت کی بھوک ایسی کہ جس میں سماجائیں
لوہا اگلتے پہاڑوں کے سب سلسلے
پیاس ایسی کہ جس میں اُتر جائیں
“سارے سمندر؍ترے آنسوؤں کے
یہاں دو باتیں غور طلب ہیں۔ لوہا اگلتے پہاڑوں کو نگل لینے کے باوجود ریت کی بھوک پیاس نہیں مٹتی۔یہ Devouring Motherکا ایک مکمل امیج ہے۔ یہ برباد کر دینے والی، مٹا ڈالنے والی قوت ہے ،مگرماں ہے،اور فطرت ہی کی مخفی قوت کی مظہر ہے۔لہٰذا اس کی بربادی کی قوت دنیا میں انتشارِ محض پھیلانے کا موجب نہیں،بل کہ اس کی تخریب کی تہ میں تنبیہ کے ساتھ ساتھ تعمیرِ نو کا تصور موجود ہے۔یہ نظم دنیا کی مردانہ،سراپا تخریب قوتوں کے لیے انتباہ کا درجہ رکھتی ہے۔ اہم بات یہ کہ انتباہ کی نوعیت سیاسی نہیں، اسطوری، آرکی ٹائپل اورپیغمبرانہ ہے۔ یہ سیاست کے یک رخے مزاحمتی رویے کے مقابلے میں کہیں گہری ،دوررس صداقت کی حامل تنبیہ ہے! کوئی ہے سننے والا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
،ڈاکٹرناصرعباس نیر،’’نظم کے معنی ،نظم سے باہر بھی ہیں -علی محمد فرشی کی نظم نگاری
یہ قصہ کیا ہے معنی کا‘‘،سنگِ میل  پبلی کیشنز،لاہور،۲۰۲۲، ص۱۱۹’’

کاپی رائٹ © علی محمد فرشی