خوش آمدید

یہاں آپ علی محمد فرشی کے شعری مجموعے،ان کے فن پر لکھے گئے تنقیدی مضامین،نظموں کے تجزیاتی مطالعات اور مختلف بین الاقوامی اور قومی زبانوں میں ان کی نظموں کے تراجم ملاحظہ فرمائیں گے۔

علی محمد فرشی۳؍دسمبر۱۹۵۵ءکوراولپنڈی کےقُرب ’چونترہ‘ میں پیدا ہوئے؛لیکن سکول میں داخلے کے وقت غلطی سے ان کی تاریخِ پیدائش۲۴؍جنوری ۱۹۵۶ءدرج ہوگئی۔ چناں چہ اُن کی تمام دستاویزات میں یہی تاریخ درج ملتی ہے۔ اپنےادبی سفر کا آغاز انھوں نے ۱۹۷۳ ء میں افسانے سے کیا لیکن جلد ہی نظم کو اپنے تخلیقی اظہار کا ذریعہ بنا لیا۔ اُن کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’تیز ہوا میں جنگل مجھے بلاتا ہے‘‘ ۱۹۹۵ء میں شائع ہوا ۔ ناقد ین اور قارئین نے مشمولہ نظموں کے تر و تازہ ڈکشن، موضوعاتی تنوّع ، سمبالک اُسلوب اور معنیاتی وسعت کے حوالوں سے اس کتاب کو خصوصی اہمیت دی ۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ’’فرشی کے ہاں امیج سے آگے جانے اور معنی کی تہ در تہ سطحوں پر اس امیج سے آخری قطرہ تک نچوڑ لینے کی قدرت موجود ہے‘‘۔ڈاکٹر فہیم اعظمی نے اپنے مضمون میں لکھا’’یہ علی محمد فرشی کی پہلی کتا ب ہے لیکن فن کے اعتبار سے ان کی شاعری وژن کی شاعری معلوم ہوتی ہے جو کہنہ مشقی کے بعد ہی ممکن ہے‘‘۔’’ ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے اپنی کتاب ’’نظم کیسے پڑھیں‘‘ ،مطبوعہ ۲۰۱۸ء، میں اس مجموعے سے ایک نظم ’سانپ نے اندھے لفظ کا لنچ کیا ‘کو مفصل تجزیے کے لیے منتخب کیا۔ گویا بیس برس کے بعد بھی اس کتاب کی اہمیت اپنی جگہ قائم تھی۔ علی محمد فرشی کی پچاس برس پہلے لکھی گئی نظمیں بھی شعری تازگی،فنی رچاؤ اور تاریخی و سماجی شعور کے باعث زمانۂ حال کی عکاس دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے آٹھ شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں جن کا ڈیجیٹل مطالعہ آپ ’’تصانیف‘‘کے صفحے پرکرسکتے ہیں

 (نظمیں) تیز ہوا میں جنگل مجھے بلاتا ہے
(اردو ماہیے) دکھ لال پرندہ ہے
(طویل نظم) علینہ
(نظمیں) زندگی خودکشی کا مقدمہ نہیں
(نظمیں) غاشیہ
محبت سے خالی دنوں میں (نظمیں)
قید سے لبالب پنجرہ (طویل نظم)
آٹھواں رنگ الفاظ کا (نظمیں)

اس وقت اُن کے تین شعری مجموعے اشاعت کے منتظرہیں

(طویل نظم)مشینہ
مرتے ہوئے خواب کا بوسہ (نظمیں)
اوک سمندر (مختصر نظمیں)

علی محمد فرشی کا اہم ترین وصف یہ ہے کہ سترسال عمر میں بھی وہ نہایت ترو تازہ نظمیں لکھ رہے ہیں۔ ان کی نظموں کا متعدد بین الاقوامی اور  قومی زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے جن میں انگریزی، جاپانی، عربی، ترکی، فارسی، ہندی، سندھی،ہندکو شامل ہیں۔ان کی متنوع ادبی جہات کو یہاں اختصار کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی رائے میں ’’فرشی صاحب کی نظمیں ہمیں غنودگی سے، ایک جھٹکے کے ساتھ جگاتی محسوس ہوتی ہیں اور ہمیں حقیقی دنیا کے ضمن میں پہلے سے زیادہ حساس بناتی ہیں، کیوں کہ ان نظموں کی پیچیدگی خالصتاً استعاراتی یعنی معانی سے لبریز ہے۔فرشی صاحب کی نظم میں ایک لفظ تک زائد نہیں!یہی نہیں،بلکہ وہ اوقاف کی علامتوں اور کاغذ کی خالی جگہوں تک کو نظم کے لیے بروے کار لاتے ہیں۔ ‘‘ناول نگار،مترجم،نقاد اور ادبیاتِ عالم پر گہری نظر رکھنے والے سکالر زیف سید نے علی محمد فرشی کی نظم’ سائبیریا‘پراپنے تنقیدی تجزیاتی مضمون نے لکھا ہے کہ یہ نظم اردو کا پہلا ڈسٹوپیا ہے۔ ضیا جالندھری نے لکھا ہے،’’ فرشی لفظ کی کئی معنوی سطحیں دریافت کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ اس کی نظموں میں موجود لفظوں کے شیڈز سے اَن کہی بات کی پرتیں کھلتی چلی جاتی ہیں’’علینہ‘‘ ان نظموں میں سے ہے جو آپ کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔یہ ایسی شہکار نظم ہے جو تخلیق نہیں کی جاتی بلکہ ہو جاتی ہے۔‘‘علی محمد فرشی نے پنجابی لوک صنف ’’ماہیا‘‘ کا اردو میں احیا کیا۔ان کے ۲۴۰ اردو ماہیوں کا مجموعہ ۱۹۹۸ءمیں شائع ہوا۔یوں پاکستان میں سب سے زیادہ بولی والی جانے زبان کی مقبول لوک صنف کو قومی زبان میں رائج کردیا۔ پنجاب کی رنگا رنگ ثقافت کی اردو زبان میں شمولیت کے باعث قومی یکجہتی کو فروغ ملا ۔علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے بی ایس اردو کے نصاب میں ماہیا کو شامل ہونے سے اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔اب اردو میں ماہیا نگاروں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔پاکستان تقریباًنصف صدی سے دہشت گردی کا شکار ہے۔ جس میں لاکھوں (براہِ راست یا بالواسطہ ) انسانی زندگیاں ضائع ہوئیں۔فرشی کی شاعری میں جس شدت اور کثرت سے اس موضوع کو برتا گیا ہے، اردو شاعری میں اس کی مثال مشکل سے ملے گی ’’سفید کاسہ لہو سے لبریز ہو چکا ہے‘‘، ’’بارود گھر‘‘، ’’ ہم زاد‘‘،’’خواب جلنے کی بو‘‘اس ضمن میں بہت اہم نظمیں ہیں۔کرۂ ارض کا ہر ذی شعور فرد براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایٹمی جنگ  کے خوف میں مبتلا ہے،’’کاش ہم زندگی استعمال کر لیتے‘‘، ’’دھوئیں کا درخت‘‘،،’’کینچوے کے بل میں‘‘،’’تماشائی حیرت زدہ رہ گئے‘‘، طویل نظم ’’علینہ‘‘ کا بارہواں اور سولہواں منظر،’’ موٹا حرامی‘‘اور ’’چھوٹا حرامی‘‘ ایسی جھنجوڑ دینے والی نظمیں ہیں جو ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کا احساس دلاتی ہیں۔ان کی نظمیں جدید زندگی سے جڑے عصری نفسیاتی مسائل سے نجات کا راستہ دکھاتی ہیں ۔وہ برصغیر کی صوفیانہ روایت کو ذات اور معاشرت سے جڑے مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔ان کی متعدد نظمیں خالص صوفیانہ موضوعات کی حامل ہیں۔ ’’ میں مکے سے میلی آئی‘‘، ’’ جیون دو دھاری تلوار ‘‘ ،’’گوری آپ مقدر والی‘‘، ’’ستر ماؤں کا پیار‘‘، ’’ساری ماؤں کے نام‘‘،’’ میں باہر کے اندر‘‘، ’’ترنجن‘‘ اوریک کتابی طویل نظم ’’علینہ‘‘ اسی منزہ  فکر کی شعری تعبیرات سے عبارت ہیں۔ ڈاکٹر رشید امجد نےاپنے طویل مضمون ’’علی محمد فرشی کے نظم کدے کی کلید‘‘ میں لکھا ہے کہ عورت کے حوالے سے فرشی نے جو استعارے بنائے ہیں اور اپنی بلاغت کے باعث ان کے وسیع تصورِ تانیث کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کے ہاں عورت نہ صرف جنم دینے والی ایک عظیم ہستی ہے بلکہ ہمارے معاشرتی نظام میں دکھ سہنے والی ایک ایسی قوت بھی، جس نے سماجی مسائل کا تمام کرب اپنے شانوں پر ذمہ داری سے سنبھالا ہوا ہے۔ فرشی کی عورت گھر کی چاردیواری کے اندر بھی فعال اور دیالو ہے‘‘علی محمد فرشی کی نظموں میں تا نیثی شعور ان کی شعری فکریا ت میں اہم عنصر کا درجہ رکھتا ہے۔ ڈاکٹر طارق ہاشمی نے ان کی تانیثی فکر کو موضوع بنانے والی پچاس سے زائد نظموں کو ’’نیلی شال میں لپٹی دھند‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل دی ۔ یہ مجموعہ ۲۰۲۱ء میں شائع ہوا۔ اسی برس فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی کی طالبہ ندا کرن نے’’علی محمد فرشی بہ طور تانیثی شاعر‘‘کےعنوان سے ایم فل کے لیے تحقیقی مقالہ بھی لکھا۔ ماحولیاتی آلودگی کے خلاف ان کی نظم’’تم اپنے سمندر بچاؤ‘‘ گزشتہ صدی کے آخری برسوں میں تخلیق ہوئی۔جو’’زندگی  کا خودکشی کا مقدمہ نہیں ‘‘ ،اشاعت۲۰۰۴ میں شامل ہے۔ اس وقت تک ہمارے ہاں ماحولیاتی آلودگی کا سوال بطور مسئلہ سامنے نہیں آیا تھا۔ ان کی متعدد نظمیں اس عالمی مسئلے کی ہولناکی کا اظہار کرتی ہیں۔ جن میں’’ خالی صفحہ‘‘،’’آدمی نادمی‘‘، ’’آکاس بیل کا بیلی ‘‘،’’جنت ارضی‘‘ ،’’دو پایہ مشینیں‘‘ اور’’جبلت جان‘‘ ماحولیاتی آلودگی کے مضمرات سے آگاہ کرتی ہیں۔علی محمد فرشی کرۂ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں سے یکساں محبت کرتے ہیں۔ ان کی متعدد نظموں میں انسانی تہذیب اورقدرتی حیات کو درہیش خطرات کا شدید احساس موجود ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ ان خطرات سے بچ نکلنے کی راہ بھی دکھاتے ہیں،’’غاشیہ‘‘، ’’ مشینہ‘‘،’’گے بی‘‘،’’کھائی‘‘،’’پریس نوٹ‘‘،’’مردہ زندگی کا الہام‘‘، جڑواں سوالات کی موت‘‘، ’’تماشائی حیرت زدہ رہ گئے‘‘،’’ہوا کا بیج‘‘، ’’چوپائیگی‘‘، ’’قارعہ‘‘، ’’پیچھا کرتی لاشیں‘‘، ’’ بے اساس‘‘،’’وقت‘‘، ’’عورت گیان‘‘اور ’’پینو راما اور پرندہ‘‘ اسی قبیل کی نظمیں ہیں۔ محبت،امن، بھائی چارہ اور انسان دوستی کے ساتھ ماحول دوستی ایسے موضوعات ہیں جو دنیا کی ہر زبان میں بڑی شاعری کا لازمہ رہے ہیں۔ علی محمد فرشی کی نظموں  کا خمیر بھی انھی عناصر سے اٹھا ہے۔ البتہ صوفیانہ طرزِ احساس، سچی اور بے لوث دردمندی،شعری تجربے کی صداقت، تخلیقی اظہاراور منفرد جمالیاتی رچاؤ کے ساتھ نویلے اسلوب میں موضوعات کی پیش کش ان کی شاعری کو اردو میں خاص شناخت عطا کرتی ہے۔علی محمد فرشی جدید نظم کے اہم نقاد بھی ہیں۔انھوں نے راشد،میراجی،مجید امجد،ضیا جالندھری، وزیرآغا، ساقی فاروقی، آفتاب اقبال شمیم، ستیہ پال آنند، اصغر ندیم سید،جاوید انور اور یامین کی نظموں پر تجزیاتی تنقیدی مضامین لکھے ہیں۔ انھوں نےاکادمی ادبیات پاکستان کے مشاہیر پر کتابوں کے سلسلے میں’’ضیا جالندھری:شخصیت اورفن‘‘ کے عنوان سے ضیا صاحب پر ایک کتاب بھی لکھی ہے۔علی محمد فرشی کی ایک نمایاں جہت ادبی صحافت بھی ہے جسے وہ ادبی عبادت خیال کرتے ہیں۔انھوں نے ادبی صحافت کا آغاز۱۹۸۴یں روزنامہ’’جنگ راولپنڈی‘‘ میں عروض پر ہفتہ وار کالم لکھنے سے کیا۔ وہ معروف ادبی رسالے سہ ماہی ’’سمبل‘‘ کی ادارت بھی کر رہے ہیں جس کے اب تک بیس شمارے شائع ہو چکے ہیں۔ اس رسالے کو اردو دنیا میں اعلیٰ معیار کے ادب کا ’سمبل‘ خیال کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر کے نامور ادیبوں، شاعروں، مترجمین اور نقادین کی تحریریں شامل ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر ناصرعباس نیر

نظم کےمعنی،نظم سے باہر بھی ہیں‘‘علی محمد فرشی کی نظم’’

معاصر اردو نظم کیا ہے؟ یہ سوال اکثراٹھایا جاتا ہے۔ معاصر نظم اپنی موجود گی کا احساس جس شدت سے دلاتی ہے، اس سے کہیں زیادہ شدت سے اس کی پہچان کا سوال سامنے آتا ہے۔اردو کی شاید ہی کسی دوسری صنف کو اس نوع کی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔معاصر نظم کا سارا دبدھا، سارے تناقضات، سارا ابہام، اس کے ردّو قبول کی ساری متھ ، اسی صورتِ حال میں مضمر ہے۔ ممکن ہے معاصر نظم (اور یہاں آ پ جدید نظم کو بھی شامل سمجھیے ، جس کی توسیع معاصر نظم ہے)اپنے حقیقی قارئین کاایک بڑا اور مؤثر حلقہ پیدا کرنے میں ناکام ہوئی ہو،مگر وہ اپنی موجودگی کو باور کرانے میں جس طور کام یاب ہوئی ہے، اس کی کوئی دوسری مثال کسی اور شعری صنف میں نہیں ملتی۔ غزل میں بھی نہیں۔ نظم کی موجودگی کا مفہوم یہ نہیں کہ یہ محض رسائل کے صفحات، کمپیوٹر سکرین اور کتابوں میں بالعموم نظر آتی ہے۔ یہ تو اس نظم کے وجود کی شہادتیں ہیں۔ کسی شے کا وجود ،اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ ’موجودگی‘ کا حامل بھی ہے۔ایک لاش ،مردہ لفظوں کا کوئی منظوم پیکر بھی وجود رکھتے ہیں،مگر وہ ’موجود‘ نہیں ہیں؛وہ دکھائی دیتے ہیں، مگر ہم تک احساس و معنی کی ترسیل نہیں کرتے۔ وہ اپنے وجود کی واضح،غیر مشتبہ حد میں مقید و مقفل ہیں۔ معنی کا کوئی نور، احساس کی کوئی مہک ان سے ظہور نہیں کرتی۔ان میں سے کوئی بات معاصر نظم کے سلسلے میں وہ شخص بھی نہیں کہے گا، جس کا دل تغزل کے عشق میں جدید نظم سے کھٹا ہو چکا ہو ، یا جسے نظم کی علامت و ابہام پسندی کے ہزار شکوے ہوں۔ موجودگی،وجود کی مادی حدوں کو لخت لخت کرکے پھیل جانے اور جہاں جہاں رسائی ہو،وہاں وہاں حقیقی وجود کے طور پر اثرا نداز ہونے کا نام ہے۔ نظم کی موجودگی بھی کسی ایک نظم یا کسی ایک شاعر کی نظموں کی اس حد کے باہر وجود رکھتی ہے،جسے ہم کاغذ یا سکرین پر دیکھتے ہیں۔ اسے آپ معاصر؍ جدید نظم کی شعریات، آرٹ کا بھی نام دے سکتے ہیں،جو حقیقتاً کسی انفرادی نظم سے ’باہر‘ موجود ہے،مگر جب تک کوئی شاعر اس کی آگ کو اپنی نظم میں انڈیلتا نہیں، وہ جدید نظم نہیں لکھتا، بے معنی مصرعے موزوں کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے،ناکام نظموں کا بھی ایک کردار ہوتا ہے؛ان کے تقابل سے نہ صرف کامیاب نظمیں اجاگر ہوتی ہیں،بل کہ ان راستوں کی بھی نشان دہی کرتی ہیں،جن سے اچھے نظم گو کو بچ کے چلنا چاہیے ۔کوئی بڑا فن پارہ کئی ناکام کوششوں کے نتیجے ہی میں ظہور پذیر ہوتا ہے،اور یہ ناکام کوششیں ایک شخص کی نہیں،ادبا کے ایک گروہ،یا پوری ایک نسل کی ہو سکتی ہیں۔

بہ ہر کیف جدید نظم کی شعریات؍آرٹ کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اس کی گواہی ہمیں کسی نقاد سے لینے کی ضرورت نہیں(اس لیے نہیں کہ نقاد کی گواہی معتبر نہیں،بل کہ اس لیے کہ یہاں اس کی ضرورت نہیں)،اس کا ثبوت نظم کے وہ شعرا ہیں،جنھوں نے نظم کے آرٹ کے کوہِ سینا سے اخذِ نور کرنے میں اپنی بہترین تخلیقی قوتیں صرف کر دیں۔ معاصر نظم کی جس موجودگی کا ہم ذکر کر رہے ہیں، وہ اس ہالے میں جھلملا رہی ہے جو میراجی، راشد، مجید امجد، اختر الایمان، منیر نیازی، وزیر آغا، جیلانی کامران،ضیا جالندھری،عزیز حامد مدنی،ساقی فاروقی، آفتاب اقبال شمیم، فہمیدہ ریاض، علی محمد فرشی، افضال احمد سید، ثروت حسین، نصیر احمد ناصر،ابراراحمد، ستیہ پال آنند، جاوید انور،وحید احمد،انوار فطرت، رفیق سندیلوی ،یامین، فرخ یار،پروین طاہر کی مساعی سے ’موجود‘ ہے۔ (واضح رہے کہ یہ سب ایک مرتبے کے شاعر نہیں،نہ ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے چند دہائیوں بعد لوگوں کو کئی ناموں کو شاملِ فہرست کیے جانے پر باقاعدہ حیرت ہو،خاص طور پر معاصر شعرا میں بالآخر دو تین نام ہی دائمی اہمیت حاصل کر پائیں گے۔ تاریخ اپنے فیصلے سخت سنگدلی سے مگربے تعصب ہو کرکرتی ہے! )۔ جس ہالے نے ان سب شعرا کی نظموں کو اپنے محیط میں لے رکھا ہے، وہ ہما شما کو اپنی موجودگی باور کراتا ہے؛ اور ٹھیک اسی طرح باور کراتا ہے، جس طرح کوئی بھی ’موجودگی‘، یعنی اس کی تحسین کی جاتی،اس کا احترام کیا جاتا، اس کے وجود کی عظمت کا احساس کیا جاتا ہے؛اور اسے’ غیرموجودگی‘ میں بھی محسوس کیا جاتا ہے۔ بایں ہمہ اس کی پہچان معاصر شعری تنقید کا اہم مسئلہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں جدید نظم کاآرٹ جس قدر تحسین حاصل کرنے میں کام یاب ہوا، اس قدر تفہیم نہیں۔ جدید نظم کی مخالفت کا سارا ڈسکورس اس کے عسیر الفہم ہونے کے مفروضے پر استوار ہے۔

علی محمد فرشی کی نظموں کے مجموعے’ غاشیہ(ان کی دیگر کتابوں میں’تیز ہوا میں جنگل مجھے بلاتا ہے‘،’دکھ لال پرندہ ہے‘،’زندگی خود کشی کا مقدمہ نہیں‘،’علینہ‘ اور ’محبت سے خالی دنوں میں‘شامل ہیں‘)سے متعلق یہ تمہید بر سبیلِ تذکرہ نہیں،اس صورتِ حال کو واضح کرنے کی کوشش ہے،جس کا سامنافرشی صاحب کی نظموں کو ’پڑھنے‘ کی کوشش کے دوران میں ہوتا ہے۔راقم کو جدید نظم کے لیے ’پڑھنے‘ کا فعل غیر مناسب تو نہیں، البتہ ناکافی ضرور لگتا ہے۔جدید نظم کی ساری مشکل پسندی بڑی حد تک اس لیے ہے کہ لوگ اسے ’پڑھنے‘ تک محدود رہتے ہیں؛اور یہ گمان کرتے ہیں کہ جدید نظم فقط ’پڑھنے‘ کی چیز ہے۔ اس بات پر شاید ہی غور کیا گیا ہو کہ آرٹ فقط ’پڑھنے ‘کی چیز نہیں؛تمام غیرے فن تحریریں پڑھنے کے لیے ہیں؛آرٹ ’پڑھنے‘ کے علاوہ بھی ہے۔پڑھنا ،فقط ایک قسم کی ذہنی صلاحیت ،فوری یادداشت کو بہ رُوے کار لاتا ہے؛ہم کسی متن کو پڑھتے ہوئے جو کچھ اخذ کرتے ہیں،اس کا مفہوم فی الفور ہماری یادداشت کی مدد سے طے ہوتا ہے،یا پڑھتے ہوئے اگر کچھ نیا سیکھتے ہیں تو اسے بھی یادداشت میں محفوظ کرتے ہیں؛پڑھنا اصل میں سیکھنا ہے ،یا سیکھے ہوئے کا احیا ہے ۔دوسری طرف آرٹ سے ہم کنار ہونے کے لیے ہمیں ایک سے زیادہ ذہنی صلاحیتیں درکار ہیں۔غور کیجیے ؛کیا اپنی اصل میں مصوری ، موسیقی، رقص، داستان،مجسمے ’پڑھنے‘ کا آرٹ ہیں؟اگر آپ انھیں فقط ’پڑھیں‘ تو کیا ان کا بصری وسمعی جمال آپ پر منکشف ہو سکے گا؟ تسلیم کہ آرٹ کے ان تمام نمونوں میں اپنے ’پڑھے جانے‘ کے خلاف مزاحمت موجود نہیں،مگر اس کا تقاضا بھی موجود نہیں۔ ہم اپنے فہم کی توسیع کی خاطر ،یا ان کے جمال کے سرچشموں اور جمال کے اثرات کو سمجھنے کے لیے انھیں پڑھ سکتے ہیں،مگر وہ ہماری قرأت کے بغیر اپنے آپ میں مکمل ہیں ،اور ہم پر اپنی روح ِ جمال کو منکشف کرنے کے لیے ہماری سعیِ قرأت کے محتاج نہیں۔جدید نظم بھی آرٹ ہے؛ایک مکمل آرٹ۔اسے محض ’پڑھنے‘ کی کوشش کی گئی؛اس سے ہم کنار ہوکر،اس کی رمز کشائی کی سعی بس خال خال ہوئی ۔راقم جو کچھ عرض کرنا چاہتا ہے، اس کی وضاحت میں فرشی صاحب کی نظموں سے یہ ٹکڑے دیکھیے
سوال نامے ہزار ہا دائرے بناتے”
مجھی کو مجھ سے ملانے آتے ہیں
“پاس آتے ہیں ٹ و ٹ جاتے ہیں
ریگِ رواں پر”
ری ں گ ت ے ،ری ں گ ت ے
“عمریں ب ی ت ی ں
بے کراں وسعت سے باہر”
گِر
پڑا
تھا
وہ
“ذرا سی زندگی میں
میں نے دیکھی نہیں”
خواب بنتی ہوئی سندسی انگلیاں
جن کا لمسِ گداز ایک دن
وقت کے سرد گالوں سے بہتا ہوا
میرے ہونٹوں پہ آیا؍تو صدیوں کی نمکینیاں
سنگ بستہ دلوں کے سمندر میں
“ابھرے پہاڑوں کا ایک سلسلہ بن چکی تھیں
غاشیہ میں شامل مختلف نظموں کے یہ اقتباسات ہمیں علی محمد فرشی کی نظم کے آرٹ کی بعض بنیادی رمزوں سے آشنا کرتے ہیں،بشر طے کہ ہم محض انھیں پڑھ کر ان کے مفہوم تک پہنچنے کی عجلت سے باز آسکیں۔فرشی صاحب کی نظم کہنے ؍بتانے کے ساتھ ساتھ ’دکھانے‘ کو اہمیت دیتی ہے۔اس کا صاف مطلب ہے کہ وہ اپنی نظم کو محض کسی خیال کی ترسیل تک محدود نہیں کرتے۔اگر آپ ان کی نظمیں فقط اس نیت سے پڑھیں کہ ان میں پیش کیے گئے خیال کا سرافی الفورآپ کے ہاتھ آجائے تو آپ کو مایوسی تو شاید نہ ہو،مگردقت ضرور پیش آئے گی۔ یہ دقت نظم کی وجہ سے نہیں، آپ کی نیت کی وجہ سے ہوگی ۔قصہ یہ ہے کہ خیال کی ترسیل کے لیے ’کہنا ‘کافی ہے لیکن جب کسی ’موجود‘ کا اظہار مطلوب ہو تو ’دکھانے‘ کے سوا چارہ نہیں۔ ان کی نظم جس تجربے سے نمود کرتی ہے ، اس کے اجزا میں حسی، فکری، اساطیری ، داستانی، مذہبی ،تاریخی اور عصری عناصر شامل ہیں۔ فرشی صاحب تجربے کے رونما ہو چکنے کی بعد کی صورت حال ؍نتیجے کا اظہار نہیں کرتے، اسے رونما ہوتے دکھاتے بھی ہیں(اور یہیں سے کچھ ڈرامائی عناصر ان کی نظم میں پیدا ہوتے ہیں)۔اور یہ جانتے ہیں کہ ان کے پاس تجربے کو ’دکھانے‘ کا جو وسیلہ ہے ،وہ ناکافی ، محدوداور اپنی اصل میں سخت قدامت پسند ہے۔زبان سے بڑھ کرکوئی شے قدامت پسند نہیں؛اس امر کا جتنا احساس ،اور اس کی طرف سے مزاحمت کا جس قدر سامنا جدید نظم کو کرنا پڑا ہے، شاید ہی کسی دوسری صنف کو کرنا پڑا ہو۔ فرشی صاحب کی نظم زبان کے ناکافی ، محدود ،اور قدامت پسند ہونے کے خلاف شعوری جدوجہد نہیں کرتی(اگر ایسا کرتی توخاصی میکانکی ہو کر رہ جاتی )،تاہم زبان ہی میں کچھ ایسے رخنے، کچھ ایسی صورتیں ضرور دریافت کرتی ہے کہ واقعے،کیفیت اورعمل کو رونما ہوتے دکھا سکے۔ اس کے لیے ان کی نظم آرٹ کی کچھ دوسری صورتوں کی بعض تکنیکوں سے کام لیتی ہے۔ خاص طور پر موسیقی اور مصوری سے۔ مثلاً مندرجہ بالا پہلے اور دوسرے اقتباس میں موسیقی سے مدد لی گئی ہے۔ جس طرح موسیقی میں کسی احساس کے ابلاغ کے لیے اونچا سر لگا یا جاتا ہے، فرشی صاحب نے دائرے کے ٹوٹنے، ریگ رواں پر رینگنےاورعمروں کے بیتنے کو ’دکھانے‘ کے لیے انھیں توڑ کے لکھا ہے۔عمر کا بیتنا، ایک عام خیال ہے،مگر’عمریں ب ی ت ی ں‘کو جب آپ رُک رُک کر،آہستہ سہج انداز میں ادا کرتے ہیں تو عمریں کس طرح رفتہ رفتہ، شکستہ،ٹوٹی پھوٹی حالت میں ،کج مج انداز میں گزریں، اس کا نقشہ چشمِ تخیل میں پھر جاتا ہے۔تیسرے اقتباس میں بچے کی پیدائش کا منظر دکھایا گیا ہے۔یہاں مصوری کے آرٹ کو زبان پر آزمایا گیا ہے۔ ’بے کراں وسعت سے باہر گر پڑا تھا وہ ذرا سی زندگی میں‘کو جس طرح لکھا گیا ہے،گِر ،پڑا، تھا،وہ کو خاصی سپیس دے کر الگ الگ ،اور گِر کو ترچھے انداز میں لکھ کر وہ ڈرامائی منظر دکھایا گیا ہے،جوبچے کی پیدائش کو ہبوطِ آدم کی تمثیل سے جا ملاتا ہے، اور اس تاثر کو بیدار کرتا ہے کہ عدن کی وسعت بے کراں سے زوالِ آدم کا قصہ ہر روز،ہر لمحے دہرایا جارہا ہے۔
اب آپ ہی فیصلہ کیجیے کہ اگر ان نظموں کو فقط پڑھا جائے ،اور ان کے بنیادی پیغام کو اسی طرح حاصل کرنے کی کوشش کی جائے،جس طرح کسی لفافے میں بند پیغام کے سلسلے میں کی جاتی ہے؛لفافہ پھاڑ کر پھینک دیا جاتا اور پیغام پڑھ کر اندر کا کاغذ بھی ردی میں ڈال دیا جاتا ہے،توکیا نظم سے انصاف ہوسکے گا ؟یعنی نظم کی تکنیک کو لفافہ سمجھ کر اس سے صرفِ نظر کر لیا جائے ، اور اس کے معنی کو سمجھنے کے بعد فراموش کر دیا جائے کہ وہ معنی ’کیسے،کس رنگ میں،کس آواز، کس بھاؤ میں‘ آپ تک پہنچا،تواسے نظم کا ’پڑھنا ‘ تو کَہ سکتے ہیں، اس کے اسرارسے ہم کنار ہونا،اور اس اسرار کے اندر سفر کرنا نہیں۔یہ تو بالکل ایسے ہے کہ ایک بے صبرا عاشق چھوٹتے ہی محبوب کا بندِ قبا چاک کر ڈالے؛اس کے وجود کے نو بہ نو جلووں ،خدوخال کے نور، قوسوں،لکیروں کے اسرار سے ’ہم کنار‘ ہوئے بغیریہ جا وہ جا۔ جدید نظم کی بد قسمتی یہ ہے کہ اسے بے صبرے (عاشق نہیں)قارئین ملے۔ خیر! غنا، مصوری اور ڈرامے کی عمومی تکنیک سے فرشی صاحب کی نظم ایک حد تک مدد لیتی ہے، اور نسبتاً منفرد انداز میں۔ مثلاً ان کی نظم ’کنکریٹ پوئٹری‘ سے واضح علاقہ نہیں رکھتی۔کنکریٹ پوئٹری میں نظم کو اس انداز میں لکھا جاتا ہے کہ اس سے ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے؛لفظ ، مصرعے لکیروں کا کام دیتے ہیں۔لفظ اور مصرعے کے ذریعے کسی شے ،وقوعے ،عمل ، کیفیت کو ’دکھانے ‘ کا تصور کنکریٹ پوئٹری سے لیا ہوا لگتا ہے ،مگر کیسے دکھایا جائے ، یہ اختراع فرشی صاحب کی اپنی ہے ۔ اسی طرح ان کی نظم محض غنائی اصوات پر بھی منحصر نہیں، جیساکہ مختار صدیقی نے اپنی بعض نظموں میں صوتی تاثر کو ’دکھانے‘ کے لیے مخصوص آوازوں کی تکرار سے کام لیا تھا ۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ علی محمد فرشی کی نظم میں دوسروں اور خود کو دہرانے کے سلسلے میں احتیاط ملتی ہے۔دوسری وجہ تجربے کی پہلو داری ہے۔
یہاں ایک اہم نکتے کی وضاحت ضروری ہے۔زبان کا اصلی وظیفہ’ کہنا؍بتانا‘ ہے، ’دکھانا ‘نہیں۔جب کوئی شاعر کسی بات کو کہنے سے زیادہ اسے رونما ہوتے ہوئے ’دکھانے‘ کی سعی کرتا ہے تو زبان کی اصل کے خلاف چلتا ہے۔زبان کی اصل کو وجود میں لانے اور اس کا تحفظ کرنے کی ذمہ داری زبان کے رواجِ عام پر ہے۔ رواج ِ عام کے آگے کئی ’رجسٹر‘ ہیں جن میں ’کہنے؍بتانے ‘کے اصول ،طریقے ،رسمیات درج ہیں۔ جدید نظم ایک نیا ’رجسٹر‘ وجود میں لاتی ہے،جس میں رواجی زبان کی رسمیات کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔جو لوگ نظم کے اس ’رجسٹر‘ کو بالاے طاق رکھتے ہیں،انھیں نظم بے معنی نظر آتی ہے۔ جس طرح آپ فلسفیانہ زبان کے رجسٹر سے مذہبی زبان کے رجسٹر کی تھاہ نہیں پا سکتے، اسی طرح عام علمی یا روزمرہ زبان کو حکم بناتے ہوئے جدید نظم کی صحیح تفہیم نہیں کر سکتے۔علی محمد فرشی کی نظم میں ’دکھانے‘کی مذکورہ بالا صورتوں کے علاوہ غالباً سب سے طاقت ور صورت تمثالیت ہے،جو ابتدا ہی سے ان کی نظموں میں چلی آتی ہے۔وہ زبان کی ’کہنے؍بتانے‘ کی اہلیت کو ’دکھانے‘ کی صلاحیت میں تبدیل کرتے ہیں؛معنی کو صورت دیتے ہیں؛سامع کو ناظر میں تبدیل کرتے ہیں اور متکلم کو مصور میں۔ مگر یہ سب کچھ اسی وسیلے کی مدد سے اور اس کے بنیادی نظام کے اندر رہتے ہوئے کرتے ہیں،جس کے ناکافی ہونے کا انھیں بہ طور شاعر احساس ہے۔ وہ زبان کی قلبِ ماہیت بان ہی کے ذریعے کرتے ہیں،مگر جن رسمیات کو کام میں لاتے ہیں،وہ وسیع مفہوم میں شاعرانہ اورمخصوص معنی میں جدید نظم کی رسمیات ہیں:یعنی مماثلت، قربت، تخالف، متوازیت ۔ انھی سے استعارہ، مجاز، تمثیل ، محال، ابہام اور تضاد پیدا ہوتے ہیں،جن سے طرح طرح کی تمثالیں وجود میں آتی ہیں۔کہنے کا مقصود یہ کہ فرشی صاحب کی نظم کی تمثالیں حقیقت نگاری پر مبنی مصوری کی مانند نہیں ہیں،بل کہ کہیں استعارہ ہیں،کہیں پیراڈاکس،کہیں علامت ہیں۔یہ پڑھے جانے سے زیادہ رمز کشائی چاہتی ہیں۔ان کے مفاہیم جس قدر سطح پر ہیں، ان سے زیادہ زیر سطح ہیں۔یہ جتنا کچھ دکھاتی ہیں، اس سے بڑھ کر چھپاتی ہیں۔کسی بھی متن کے زیرِ سطح مفاہیم دریافت طلب نہیں، تعبیر طلب ہوتے ہیں۔وہ قاری کو ایک صارف (کنزیومر) نہیں،شریکِ کار بناتے ہیں۔نظم ’ایک دن کی لاش ‘ سے یہ ٹکڑا دیکھیے
وہ رات کیسی تھی”
جس نے اپنے تمام بچے نگل کے
سورج کا خون تھوکا
تو صبح گلیوں میں دن نہیں
“دن کی لاش نکلی
یہ لائنیں’ بھنبھوڑنے والی ماں‘(Devouring Mother)کی تمثال سامنے لاتی ہیں۔(آگے چل کر ہم بحث کریں گے کہ فرشی صاحب کی نظم میں مادرِعظمیٰ کا آرکی ٹائپ مرکزی اہمیت رکھتا ہے)۔ ہندو صنمیات میں اسے کالی ماتا کانام ملا ہے۔ ’وہ رات‘ کالی کا استعارہ ہے۔ اس تمثال میں جو کچھ ’دکھایا‘ گیا ہے، اس سے زیادہ چھپایا گیا ہے۔ کالی ،بچوں ،مردوں ،سورمائوں کی غارت گر ہے۔ جنھیں جنم دیتی ہے،انھی کو بھنبھوڑ ڈالتی اور نگل جاتی ہے۔تخلیق کی بہ جاے تخریب، زندگی کی بہ جاے موت ، امید کی بہ جاے خوف کی علامت بنتی ہے۔ آگے چل کر معلوم ہوتا ہے کہ ’وہ رات ساتویں ماہ کے پانچویں دن کی تھی‘ ، پانچ جولائی،ہماری تاریخ کی سیاہ رات۔ جس کے بعد شہر پتھر کا ہوگیا اور آدمی مٹی کا ڈھیر؛دونوں نمو اورتخلیق کی قوتوں سے محروم ہوگئے ۔ان قوتوں سے محرومی کا نتیجہ بنجر پن کے ساتھ ساتھ بربریت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ شاعر نے جو استعارہ وضع کیا ہے ،وہ تاریخ اور اساطیر کی مماثلت پر استوار ہے۔زمانی واقعیت اورلازمانی علامت میں مماثلت دیکھ کر ایک تمثال بنائی ہے،جو گہری رمزوں کی حامل ہے۔ان رمزوں کو فرشی صاحب کی نظم ’دکھاتی‘ ہے، مگر ان کی تعبیر کی ذمہ داری، ایک ذمہ دار قاری پر ہی عائد ہوتی ہے۔
یہیں فرشی صاحب کی نظم کے آرٹ کی ایک ایسی خصوصیت سامنے آتی ہے،جس کی حیثیت نہ صرف ان کی شاعری میں بل کہ جدید نظم کی شعریات میں بھی ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے۔رابرٹ فراسٹ نے ایک جگہ جدید نظم کی بابت لکھا ہے:’کہنا ایک بات،مراد دوسری بات لینا‘۔فراسٹ نے Sayingاور Meaningکے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ یعنی نظم جو کچھ کہتی ہے، اس کے معانی عام مروجہ زبان کے ذریعے طے نہیں ہوتے، نظم کی شعریات؍موجودگی؍آرٹ یا اس کے لسانی رجسٹر سے متعین ہوتے ہیں۔گویا نظم(کے معانی ) کا سلسلہ ،نظم کے ’باہر ‘تک پھیلا ہوتا ہے۔ جن کے یہاں اس ’باہر‘ کا تصور نہیں ہوتا ،یا ہوتا ہے تو ناقص ہوتا ہے ،انھی کو نظم بے معنی نظر آتی ہے ۔وہ نظم کی تفہیم مروجہ زبان کی مدد سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں،اور نظم جو کچھ کہتی ہے ،اس سے ’کچھ دوسرا‘مراد نہیں لیتے ، اس لیے ٹھوکر کھاتے ہیں۔مگر اصل سوال یہ ہے کہ نظم کیسے ’باہر‘ تک پھیلی ہوتی ہے ؟جیسا کہ پہلے بیان ہوا،نظم زبان کے خلاف جتنے قدم اٹھاتی ہے،وہ زبان کے ذریعے ،اور اسی کے اندر اٹھاتی ہے۔( یہ قول ِ محال ہے)۔نظم اپنے محدود متن سے باہر قدم اٹھانے کے لیے بھی زبان ہی کی سیڑھی استعمال کرتی ہے۔مگر یہ عام سیڑھی نہیں، اس میں کئی قدم ہوتے ہی نہیں،متعدد ’خلا، خالی جگہیں‘ ہوتی ہیں۔ لفظوں کے مابین مماثلتوں، قربتوں ،تخالف وغیرہم نیم واضح ہوتے ہیں۔نظم میں استعارے اور تمثالیں واضح ،مگر یہ جن مماثلتوں اور قربتوں کی بنیاد پر وضع ہوتے ہیں ،وہ نیم واضح ہوتے ہیں۔ یہی وہ نیم واضح منطقے ہیں،جو نظم سے ’باہر‘ ہیں۔ فرشی صاحب کی نظم کی جس خصوصیت کا ابھی ذکر ہواہے ،وہ یہی نیم واضح منطقے ہیں۔ اس امر کی وضاحت کے لیے نظم ’غاشیہ‘ کا تمہیدی حصہ دیکھیے۔ یہاں واضح اور نیم واضح منطقے کو ساتھ ساتھ لکھا جارہا ہے
میں کشمکش کے کنارے بیٹھا ہوں۔۔۔
[کشمکش ایک ندی کی طرح ہے،دو کناروں میں مقید، مسلسل بہتی ہوئی۔کشمکش ہے کہ ختم ہی نہیں ہوتی]
کنکری ایک پھینکتا ہوں
[آہستہ روپانی میں کنکری پھینکنا، اس کی روانی میں مخل ہوناہے؛اس کی سطح میں تبدیلی لانا ہے؛مسلسل ،یکساں بہاؤ سے پیدا ہونے والی تکرار میں رخنہ ڈالنا، اپنی موجودگی باور کراناہے؛اور ایک سیال شے میں ٹھوس شے سے ارتعاش پیدا کرنا ہے ]
سوال نامے ہزار دائرے بناتے
[کنکری ایک سوال کی طرح ہے،جس سے کشمکش کی ندی میںدائرے بنتے ہیں؛کشمکش کا ایک سمت سے دوسری سمت کی طرف جاری رہنامتاثر ہوتا ہے؛دائرے کی صورت کچھ واضح ہیئت نظر آنے لگتی ہے]
پاس آتے ہیں، ٹ و ٹ جاتے ہیں
[مگر یہ ہیئت عارضی ہے۔ایک ٹھوس حقیقت ،سیال کیفیت میں عارضی تبدیلی لاتی ہے۔کشمکش جاری رہتی ہے]
اس کنارے سے اس کنارے کے درمیاں
میں اکیلا خود سے بچھڑتا رہتا ہوں
[کشمکش کی ندی،کنکری، سوال نامے ،دائرے ،یہ سب ’میں‘ ہی ہوں۔خود سے ملتا اور خود سے بچھڑتا رہتا ہوں]
آسماں کو زمیں کے دل سے ملانے والا
[کیا دبدھا، کیا المیہ، کیا عجب صورت ہے کہ جس نے آسماں کو زمیں سے ،ذہن کو دل سے، آدم کو حوا سے، نور کو مٹی سے،عرفان کو حسی تجربے سے،بلندی کو پستی سے ، تقسیم کو وحدت سے ملایا، وہ خودکو اپنے آپ سے نہ ملا سکا!آدمی کی خود سے جدائی ازل ابد کے درمیان کھنچی ہوئی ہے۔]
نظم میں نیم واضح منطقوں کا ہونا،ایک حقیقت ہے،مگر اس کی تعبیر مختلف ہو سکتی ہے۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ آپ ان منطقوں کے خاکے سے کوئی مختلف تصویر بنائیں۔چوں کہ یہ منطقے نظم سے ’باہر‘ ہیں، اس لیے نظم ان کے خاص طرح سے تعبیر کیے جانے پر کلی اختیار نہیں رکھتی،نہ اس اختیار کی جویا رہتی ہے۔نظم صرف اشارے کرتی ہے ۔وہ اپنے مزاج میں اس آمریت کو پیدا نہیں ہونے دیتی ،جس میں جو کچھ کہا جاتاہے، وہی کچھ مراد بھی لیا جاتا ہے؛اس آمریت میںدوسرے کومعنی یابی کے عمل میں شریک کرنے کی بہ جائے،اس پرخاص معنی مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جدید نظم کی جمالیات میں اس جمہوری اور ایک خاص معنی میں سیاسی جہت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔جدید نظم اپنے قاری کے لیے گنجائش پید اکرتی ہے کہ وہ سامنے کی دنیا کی تعبیر اور ایک نئی دنیا کی تعمیر میں اس کے ہم رکاب ہو۔
نظم ’غاشیہ‘(نظم کا عنوان غاشیہ،قرآن کریم کی ۸۸ویں سورہ الغاشیہسے لیا گیا ہے جس کا مطلب ڈھانپ لینے والی (قیامت) کا ہے۔)اس سے آگے چلتی ہے ،اور اسی طرح تمثالوں، علامتوں کے سہارے۔ زیادہ تر تمثال سازی کا عمل اس طور انجام پاتا ہے کہ لفظوں کی رعایتیں،مناسبتیں ،نسبتیں تمثال کو مکمل کرتی ہیں۔ایک لمحے کو ایسا لگتا ہے کہ جیسے زبان نے شاعر کے تخلیقی عمل پر قدرت حاصل کر لی ہے ،اور شاعر کے عندیے پر زبان کا نحوی رخ حاوی ہو گیا ہے ۔ بادی النظر میں تو یہ شاعر کے منشا کی زبان کے ہاتھوں شکست ہے ،مگر حقیقت یہ ہے کہ عام اظہار سے لے کر تخلیقی اظہار تک ،نہ صرف ہمارا منشا زبان کے اندر تشکیل پاتا ہے ، بل کہ ’ہمارے اظہار‘ پر زبان کا فرق و مماثلت پر مبنی نظام حاوی ہوتا چلا جاتا ہے ۔اس بات کا تجربہ ہر لکھنے والے کو ہوتا ہے کہ لکھنے سے پہلے ذہن میں ایک مبہم خاکہ ہوتا ہے ،پھر ایک ’موزوں لفظ‘ ہمیں سوجھتا ہے ،آگے کا سارا سفر لاشعوری طور پر اسی سمت میں ہوتا ہے جہاں ہمیں وہ ’موزوں لفظ‘،اپنی مناسبتیں،تلازمات ،افتراقات تلاش کرتے ہوئے لے جاتا ہے۔ ہماری کلاسیکی اور جدید شاعری میں زبان کے اس کردار کا شعور موجود ہے،بعض امتیازات کے ساتھ۔ جدید نظم اپنے لسانی وجود کے سلسلے میں خاصی آگاہ اور حساس ہے۔تمثال سازی سے لے کر ،نئے اور منفرداسلوب کی تلاش اسی ضمن میں ہے۔بہ ہر کیف یہ تمثالیں بھی کہتی کچھ، مراد کچھ اور لیتی ہیں۔ایک بصری ،متحرک منظرہمارے حواس کو جگاتا ہے ،جو تکرار کی وجہ سے کند ہوچکے ہوتے ہیں،اور پھر اس منظرکے قرب وجوارمیںنئے معانی طلوع ہوتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً یہ ٹکڑا دیکھیے:
سوال خود اک سحر کی صورت گلی میں آتا”
تو سب دریچے اسی کی آہٹ پہ کان رکھتے
دلوں کے باغوں میں سوئی سانسیں
تمام سینوں میں جاگ اٹھتیں
نکل کے بستر سے دن مچلتا کہ آئو جھولے دھنک کے ڈالیں
“تو سب کے چہرے چہکنے لگتے
 طلوعِ سحر سوال کا استعارہ ہے، اور کیا خوب استعارہ ہے ۔روایتی طور پر سوال کا استعارہ ملگجی شام ہے کہ دونوں میں ابہام قدر مشترک ہے۔طلوعِ سحر کو تو سوال کا جواب سمجھا گیا ہے،مگر یہاں سوال کا ظہور ،صبح کے طلوع کے مماثل قرار دیا جارہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ شاعر جس سوال کی بات کر رہا ہے ،وہ عام قسم کا پہیلی نما سوال نہیں۔اصل یہ ہے کہ طلوعِ سحر اپنے تمام معانی سمیت ،اس متن سے ’باہر‘ ہے،مگر یہ ٹکڑا کیا مراد لیتا ہے،یہ سب اسی ’باہر‘ میں مضمر ہے۔ نئی صبح آتی ہے تو ہر شے ایک ’نئی زندگی‘ پاتی ہے،نیند ، غفلت سے نجات پاتی ہے۔(نظم کا عنوان غاشیہ بھی غفلت کا مفہوم لیے ہوئے ہے) ٹھہری ہوئی زندگی آگے بڑھنے کے لیے قدم اٹھاتی ہے،نئے عزم، نئے ولولے اور نئی مسرتوں کے ساتھ۔گویا یہ ایک ایسا سوال ہے جو زندگی سے نہیں، نئی زندگی سے متعلق ہے؛زندگی میں موجود کسی الجھن سے متعلق نہیں، ایک نئے کشف،تازہ عرفان کی بابت ہے۔لہٰذا اس سوال کے بغیر زندگی میں نئی صبح،تازہ کھلی کھلی ،نرم ،روشنی نہیں آتی۔پوری نظم کے تناظر میں سوال زندگی کی بنیادی حقیقت کے اس عرفان سے متعلق ہے ،جسے صرف چند لوگ ہی اٹھاتے ہیں۔وگرنہ تو معیشہ (معیشت)کے اٹھے لہنگے سے جھانکتی رانوں کی لذت میں اسیر لوگ حیات کی تمام عشرت گنوا بیٹھتے ہیں۔جو چند لوگ سوال،اور ان کا بار اٹھاتے ہیں،ا ن میں ایک کردار حاتم طائی کا بھی ہے، جو اس نظم کے متن میں زیرِسطور موجود ہے۔معیشت اور دوسری لذتوں کی ہزار چشمی بلاؤں کا خاتمہ یہی حاتم طائی کرتا ہے۔مگر اب (حاتم طائی کی) کہانی باقی نہیں رہی، اس لیے اب لوگ ایک ایسی کھائی میں ہیں جہاں پرانی داستانوں کی نہ تو ہزار چشمی بلائیں ہیں،نہ کو ئی موذی ہزار پایہ ہے
سواے ایک بے وجود سایہ”
عجیب دنیا بنا رہا ہے
نہ میں ہوں جِس میں
“نہ تم ہو اِس میں
سوال باقی تھے تو ہر شے واضح تھی۔شہزادی ہو، ہزار چشمی بلا ہو یا کوئی ہزارپایہ موذی ہو۔ان کو پہچاننا اور ان کا قلع قمع کرناآسان تھا،مگر اب صرف سایوں کی دنیا ہے۔’بے وجود سایہ‘ جدید ادب کی مرکزی علامت رہا ہے ۔جدید عالمی اور اردو ادب میں انسان کی شناخت یا تو سائے کے طور پر کی گئی ہے ،یا کسی حقیر جانور، معمولی کیڑے ،مکروہ حشرات کی صورت ۔دونوں صورتوں میں انسان اپنے اس شرف سے محروم ہے ،جس کا تصورقرونِ وسطیٰ اور کلاسیکی عہد میں کیا گیا۔ (یہاں اقبال استثنیٰ کی حیثیت رکھتے ہیں جنھوں نے قرونِ وسطیٰ کی عظمتِ آدم کا بیانیہ لکھا،اور اسی بناپر یہ بحث آج بھی کی جاتی ہے کہ اقبال کے یہاں جدید حسیت کا اظہا ر ہو ایا نہیں)۔جدیدیت میں سایہ ،جدید انسان کی شناخت کے اس عظیم بحران کی نمائندگی کرتا تھاجو عظیم جنگوں، آمریتوں، کبیری بیانیوں کی وجہ سے پیدا ہوا تھا ۔مگر آج سائے کی معنویت بدل گئی ہے ۔ مابعد جدید دنیا میںاشیا نہیں، ان کے امیج اہم ہیں؛آدمی نہیں، اس سے متعلق کوئی بیانیہ یا ڈسکورس اہم ہے۔شخصیت نہیں، اس کی شناخت اہم ہے جسے اس پر مسلط کر دیاگیا ہے۔میں اور تم ،جو حقیقی دنیا کی شناخت کو ممکن بناتے ہیں،جو سوال اٹھاتے، اور ان کے جواب رکھتے ہیں، ان سایوں ، امیجز، بیانیوں، تاریکیوں میں کھو گئے ہیں۔
 اس نظم کے سلسلے میں ایک اور بات بھی قابلِ ذکر ہے۔ ہزار چشمی بلاؤں کی جگہ بے وجود سائے نے لے لی ہے،اور یہ (ہماری)کہانی کا اہم موڑ ہے۔ یہاں واضح اشارہ ایک روایت کے خاتمے کی طرف ہے۔یہ روایت علامتوں سے معمور تھی۔اس میں سوال،سوال کرنے والا، سوالوں کے جواب کی تلاش میں جنگلوں میں مارا مارا پھرنے والا، طرح طرح کی بلائوں سے دوچار ہونے والے اور ان پر غالب آنے والاکردار،سب علامتیں تھیں،جن کے معانی اجتماعی ثقافتی شعور میں جگمگاتے تھے۔واضح رہے کہ یہ علامتیں دنیا و کائنات کے معنی تلاش کرنے کا تخیلی وسیلہ تھیں۔ان کے معانی اجتماعی ثقافتی ذہن میں روشن کیا ہوتے تھے کہ ایک ’بامعنی دنیا‘ کا نقشہ ابھر آتا تھا،جس میں لوگ اپنا مرتبہ،کردار،اپنے وجود کے معانی پالیتے تھے۔گویا جس میں، مَیں اور تم معنی سازی کے عمل میں شریک رہتے تھے،مگر اس روایت کی جگہ جس بے وجود سائے کی دنیا نے لی ہے، اس میں مَیں اور تم ہی نہیں ہیں۔ہر چند سایہ بھی علامت ہے،مگر شناخت کے تاریک ، بے نشان ہونے کی ؛مَیں اور تم کے غائب ہونے کی؛ایک بے معنویت کی علامت،جس میں روشنی کی کوئی کرن اگر ہے تو بس یہ کہ اس بے معنویت،بے وجود سائے کی آگہی نظم کے متکلم کو حاصل ہے،اور اس آگہی کو اپنی تقدیر سمجھ کر خاموش ہوجانے کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت۔ فرشی صاحب کی نظم محض ہماری ثقافتی روایت کی کہانی کے ایک موڑ کا قصہ ہی نہیں لکھتی ،خود اپنے لیے ایک ’موتف‘بھی ایجاد کرتی ہے۔انفصال کا موتف۔خود سے، تُوسے ،ماضی سے انفصال۔واضح رہے کہ انفصال موتف ہے ،موضوع نہیں۔ لہٰذا ان کی نظم میں فصل، ہجر، جدائی، مفارقت، مہاجرت بنیادی موضوع کم بنتے ،نظم کی مجموعی ہیئت میں زیادہ شامل ہوتے ہیں۔
نظم ’غاشیہ ‘ میں ہم خود سے انفصال کی کچھ صورتیں دیکھ چکے ہیں۔ ’بہتی ریت میں‘ میں ریگ رواں کی تمثال فصل کی علامت بنی ہے۔’ستر مائوں کا پیار‘ کی سطر سطر میں تُو سے فصل کا دکھ سرایت کیے ہوئے ہے۔نظم’نیند میں چلتی موت‘ تُو کی مناجات پر مشتمل ہے۔مَیں کی تُو سے مناجات اس جدائی کے پس منظر میں ہے جسے دنیا میں دھنستے چلے جانے کا احساس مزید گہرا کرتا جاتاہے۔انفصال کا یہی موتف ایک دوسرے رنگ میں ’ٹوٹم ٹ و ٹ گیا‘ میں موجود ہے۔ ’حقیقت‘، ’اجل جل میں کنول‘،’دوسرا کون ہے‘ ،’ہم زاد‘،’داؤ‘میں بھی آپ کو فصل وجدائی کارفرما نظر آئے گی۔خود سے، تُو سے اور تاریخ و روایت سے فصل ان نظموں میں شدت سے ظاہر ہے۔لہٰذا ان کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ میں جس بات کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں،وہ انفصال بہ طور موتف ہے۔موتف اصلاً کہانی کی اصطلاح ہے ۔چوں کہ فرشی صاحب کی اکثر نظمیں نہ صرف بیانیہ اسلوب اختیار کرتی ہیں ،جگہ جگہ داستانی ،اساطیری بیانیوں کے کرداروں،واقعات ، تھیم سے دل چسپی ظاہر کرتی ہیں،بل کہ کہانی کے پیٹرن کو بھی اختیار کرتی ہیں؛ا س لیے موتف کی اصطلاح بے محل نہیں۔موتف سے مراد ایک ایسا اصل الاصول ہے جو کبھی مخفی،کبھی نیم عریاں،کبھی ایک لفظ، کبھی ایک سطر؍مصرع،کبھی بین السطور،کبھی وراے سطور ظاہر ہوتا ہے،مگر کہانی کے مرکزی مفاہیم کی شیرازہ بندی کرتا ہے۔اس کی معنویت،اس کے واضح ،راست ،بیش از بیش اظہار سے نہیں، اس کے علامتی،بالواسطہ اظہار سے ہوتی ہے۔
فرشی صاحب کی نظم میں مادر ِ عظمیٰ کا آرکی ٹائپ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ صفحات میں بھنبھوڑنے والی ماں کی تمثال کا ذکر آچکا ہے۔مادر ِ عظمیٰ بہ یک وقت پیدا اور برباد کرنے والی قوت کی علامت ہے ۔یہ آرکی ٹائپ اس اہم ترین حقیقت کو منکشف کرتا ہے کہ تخلیق کا معنی تخریب ہی کے مقابل قائم ہوتا ہے ،اور کوئی خالق اس وقت تک اپنا اثبات نہیں کر سکتا ،جب تک وہ اسی درجے کی شکست و ریخت اور بربادی کی صلاحیت کا مظاہرہ نہ کرے ،جس درجے کی وہ تخلیق کی صلاحیت رکھتا ہے ۔تاہم پیشِ نظر رہے کہ یہ دیوتائی اور شیطانی صفات کا اجتماعِ ضدین نہیں؛تخلیق کی قوت کے مظاہرے کی دو متضاد صورتیں ہیں۔مادرِ عظمیٰ کا آرکی ٹائپ کئی صورتوں میں فرشی صاحب کی نظموں میں ظاہر ہوا ہے ۔مثلاً پہلی صورت اس ہزار شیوہ جمال کی ہے جو کہیں واضح اور کہیں تلازمات کی سطح پر نسوانی ہے۔بدن ،خوش بو، لمس، آبنوسی پھول،ریشم بھرے خواب جیسے الفاظ اور ان کے تلازمات سے حسن کی نسائی تمثال سامنے آتی ہے۔پھر نظم کے لفظوں، مصرعوں اور بندوں میں ایک ایسا تناسب قائم کرنا کہ کوئی ایک لفظ زائد نہ ہو،اور اس سے حسن کا تاثر پیدا کرنا۔ آپ کَہ سکتے ہیں کہ اگر مادرِ عظمیٰ کا آرکی ٹائپ نہ بھی ہوتا تو ان کی نظم کو ایک جمال پارہ بننے کے لیے اپنی ہیئت میں توازن و تناسب سے کام لینا پڑتا،درست۔مگر یہ دیکھیے کہ نظم کے پیٹرن کا جمال کیا فطرت کی اس عظیم الشان تخلیقی قوت سے کوئی نسبت رکھتا ہے یا نہیں ،جس کی ایک نمائندہ مادر عظمیٰ ہے؟
 فرشی صاحب کی نظم میں مادرِ عظمیٰ کے آرکی ٹائپ کے اظہار کی اگلی صورت زیادہ واضح ہے۔ جن نظموں میں ،مَیں اور تُو کے فصل سے پیدا ہونے والے دکھ کو پیش کیا گیا ہے،ان میں بھی تُوکے خدوخال مادرِعظمیٰ سے یا تو مماثل ہیں،یا اس سے لیے گئے ہیں،یا اس کی یاد کی موجودگی میں ظاہر ہوئے ہیں۔ایک نظم کا تو عنوان ہی ’ستر ماؤں کا پیار ‘ ہے۔خدا کی محبت ،ستر ماؤں کے پیار سے بڑھ کر ہے۔ اس قول کی تہ میں مادرِ عظمیٰ ہی کا آرکی ٹائپ موجود ہے۔مادری تہذیبوں کی اساطیر میں حقیقت عظمیٰ کی شناخت نسائی پیکر کے طور پر کی گئی۔مذکورہ نظم کی یہ لائنیں ماں ہی کی تمثال لیے ہوئے ہیں
کہاں ہے؟”
تُوخود اپنی شیریں صدا سے
مری تیرہ بختی میں
شبھ رات کی مصریاں گھول دے
ماں تو ناراض ہے
“اب کئی روز سے بولتی بھی نہیں
اسی طرح جن نظموں میں برصغیر کی مشترکہ ثقافت کے استعمار کے ہاتھوں غارت ہونے کا موضوع نظم ہوا ہے،(جیسے ’زمانہ ہمیں دیکھ کر ہنس رہا تھا‘)، ان میں مشترکہ ثقافت، ماں ہی کا ایک روپ ہے ، اور اس سے جدائی کا وہی کرب ،وہی خسارہ ہے جو ماں سے بچھڑنے پر بچوں کو سہنا پڑتا ہے۔
مادر عظمیٰ کا آرکی ٹائپ صرف ان شعرا کے یہاں ظاہر ہوتا ہے ،جن کے یہاں مَیں اور تُو، آدم وحوا، زمین و آسماں ،عصر اور روایت کے انفصال نے ایک بنیادی نفسیاتی صداقت کا درجہ اختیار کر لیا ہو۔ اس کی شخصی جڑیں خود اپنی ماں اور مٹی سے دائمی جدائی کے گہرے جذباتی تجربے سے عدم مصالحت میں ہو سکتی ہیں۔مادرِ عظمیٰ کا آرکی ٹائپ طرح طرح سے ،بھیس بدل کر ، کچھ دوسری علامتوں کے ذریعے یعنی اپنی Displacement کر کے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی سب سے اہم مثال علی محمد فرشی کی طویل نظم ’علینہ‘ ہے،جسے جدید اردو نظم میں ایک لافانی نظم کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔’ علینہ‘اپنے خدو خال کے اعتبار سے مادرِ عظمیٰ کا آرکی ٹائپ ہے علینہ اپنے پیکر ، خدوخال اور کردار کے اعتبار سے کائنات کی عظیم قوت ِ تخلیق کی علامت ہے۔ پوری نظم ’علینہ‘ ، مادر عظمیٰ ، کائنات کی مقدس قوت ِ تخلیق سے انفصال کا قصہ بیان کرتی ہے ۔نظم کا متکلم علینہ سے اس انداز میں مخاطب ہوتا ہے جیسے اس کی روح جدائی کی زخموں سے چور ہے۔اس کے لہجے میں پکار، دعا اور مناجات ہے ۔ نیز’ علینہ ‘کے نام ہی میں انفصال کی ایک کیفیت ہے جسے شاعر نے نمایاں کیا ہے: علینہ=علی نہ۔ یہاں اس نظم پر تفصیل سے لکھنے کی گنجائش نہیں۔ صرف ایک حصہ پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں ،یہ واضح کرنے کے لیے کہ کس طرح مادرِ عظمیٰ کا آرکی ٹائپ، انفصال سے معنوی ربط رکھتا ہے۔
!علینہ”
غار سے نکلیں
کوئی رستہ بنائیں
اس گھنی ،گاڑھی، سیاہی سے نکلنے کا
اندھیرے ،اندھے،زہریلے دھوئیں میں
کاربن ہوتی ہوئی عمریں کہاں ہیرا بنائیں گی
کسی نیکلس،انگوٹھی اور جھمکے میں
چمک اٹھنا کہاں دل کا مقدر ہے
ہمارے کوئلہ ہوتے دنوں کا غم
ہمالہ نے کہاں رونا ہے
“کس تاریخ کا چہرہ بھگونا ہے
یہ کون سا غار ہے جس سے نظم کا متکلم نکلنے کے لیے علینہ سے مخاطب ہے؟ اصل یہ ہے جب انفصال ،شکستگی، دوئی ذات کو بری طرح کھدیڑنے لگتی ہے تو آدمی لنگر کی تلاش میں اپنے ہی اندر مارا مارا پھرتا ہے تو لاشعور ی طور پراس کا سامنامادرِ عظمیٰ کے آرکی ٹائپ سے ہوتا ہے۔یہ ساری تلاش دوئی کو اکائی میں بدلنے کی خاطر ہوتی ہے۔دوئی کا اوّلین تجربہ آدمی ،بہ قول ژاک لاکاں ’مراۃ کی منزل‘میں کرتا ہے،جب بچہ اپنا عکس آئینے،یا آئینہ نما شے میں دیکھتا ہے۔زبان اور کلچر کے دیگر مظاہر میں آدمی کی شرکت سے دوئی کا گھاؤ بڑھتا جاتا ہے۔دوسرے لفظوں ہم جیسے جیسے بڑے ہوتے جاتے ہیں ،اظہار کے نئے نئے وسائل پر دسترس حاصل کرتے جاتے ہیں، دوئی کا زخم مزید گہرا اور چوڑا ہوتا جاتا ہے۔آدمی کی تنہائی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ،اور اسی نسبت سے اس زمانے کا تخیل شوخ ہوتا جاتا ہے جب آدمی وحدت کی گود میں تھا؛تنہائی اور دوئی دونوں کے ڈنک سے محفوظ تھا۔ایسے میں وحدت کی اوّلین حالت کی طرف مراجعت، آدمی کا سب سے بڑا خواب بن جاتی ہے،اور یہ خواب ہی مادرِ عظمیٰ کے آرکی ٹائپ کو بیدار کرتا اور اسی خواب میں مادر ِ عظمیٰ بیدار ہوتی ہے۔مادرِ عظمیٰ کی طرف مراجعت کے سفر میں کئی منزلیں، علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ان میں ایک اہم علامت غار ہے۔
 مادرِ عظمیٰ کی طرح غار کی علامت بھی متضاد خصوصیات کی حامل ہے۔ ایک طرف یہ تاریکی، خوف،موت ،گھٹن کی علامت ہے تو دوسری طرف روشنی،رجا،زندگی ،آزادی کی ؛ماں کی کوکھ کی ایک بے خطا تمثیل۔ غار کے اندرگھنی گاڑھی سیاہی ،مگر اس کے کنارے پر روشنی ہے،بس اس کا راستہ دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔’علینہ‘سے یہی راستہ دریافت کرنے کی آرزو کی گئی ہے،کہ مادر ِ عظمیٰ ہی اس راستے سے آگاہ ہو سکتی ہے۔’ غاشیہ ‘میں شامل نظم ’کھائی‘ میں بھی غار کی علامت ظاہر ہوئی ہے۔مگریہاں غار ماں کی کوکھ ،اساطیری مذہبی مقدس مقام کی علامت ہے ، جس سے جدائی دائمی ہے۔ اس ’غار‘ کے آگے فقط کھائی ہے۔یہاں شاعر نے انسانی صورت ِ حال کے ایک عجب دبدھے کو پیش کیا ہے ۔آدمی غار سے نکل کر روشنی کے کنارے پہنچنا چاہتا ہے ،مگر یہ کنارہ ایک کھائی کا ہوتا ہے۔کھائی نشیب ،گہرائو،خوف ، شر،موت کی علامت ہے،نیز یہ وہی کھائی ہے جس میں بے وجود سایوں کا راج ہے۔یہ نظم آدمی کے سفر کی رائیگانی کو پیش کرتی ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ نظم اس سلسلے میں خاموش نہیں ہے کہ آخر غار کے آگے کھائی کیوں ہے،یاتاریکی کے بعد فراز، روشنی کیوں نہیں؟نظم کا آغاز ان مصرعوں سے ہوتاہے
ہم جس خواب کی انگلی تھامے”
غار سے نکلے
“اُس کو سارے رستوں سے آگاہی تھی
یہی خواب(جو وحدت کی حالت حاصل کرنے کا خواب ہے) انھیں کھائی تک لے جانے کا ذمہ دار ہے۔نظم میں غار سے نکل کر خوش خوش سفر کرتے چلے جانے ،اور پھر تھک جانے کے بعد متکلم پوچھتا ہے ’’غار آخر کب آئے گا؟‘‘اور اسے جواب ملتا ہے کہ آگے کوئی غار نہیں ہے۔ جس کاایک مطلب یہ ہے کہ وہ غار سے نکلے ہی نہیں،دوسرا مفہوم یہ ہے کہ وہ ایک غار سے نکل کر دوسرے غار میں جانا چاہتے ہیں۔ اگر یہاں دوسرے غار کا ذکر ہے تو یہ کون سا غار ہے؟نیز ایک غار سے نکل کر دوسرے غار میں پہنچنے کا مفہوم کیا ہے ؟اگر ہم پہلے غار کو ماں کی کوکھ تصور کریں ،اور دوسرے غار کو تفکر و مراقبے کا مقدس مقام خیال کریں ،تو بھی ان دونوں سے جدائی دائمی ہے،خواہ اس کا ذمہ دار کوئی خواب دکھانے والا ہو، یا خواب دیکھنے والا۔یہی انسانی وجود کی تقدیر ہے!آدمی جب تک ماں کی کوکھ میں،غار میں تھا، اکائی تھا؛اس کے بعد ساری عمر اس اکائی ، اس جنت گم گشتہ کی تلاش کا سفر ہے،اور اکثر رائیگانی کا سفر ۔
اسی طرح نظم ’دہانہ ‘ میں ایک بار پھر غار ظاہر ہوتا ہے، ’دور اندر کہیں غار ہے ؍جس میں بیٹھا ہوا دیو کھاتا ہے ؍کیڑوں کی محنت ‘۔ اس غار میں کیڑے ،انسان کئی عمروں کی خوراک گرائیں تب بھی اس کا دہانہ نہیں بھرتا۔یہاں غاراس قدیم ترین تاریک مسکن کی علامت ہے جب انسان آگ سے متعارف نہیں ہوا تھا،غار کے استبداد سے آزاد ہونے کی صورت سے واقف نہیں ہواتھا۔یعنی پرومیتھیس کے آگ چرانے کی کہانی کی ماقبل صورتِ حال۔تاہم غار ہی کے ضمن میں اس نظم کا ایک ذیلی متن(Sub-text) بھی ہے ۔یونانی اسطورہ میں مادر عظمیٰ کو دیمیتر کا نام ملا ہے، جو زمین اورزرخیزی کی دیوی ہے۔ اس کا جشن منانے کا انوکھا طریقہ تھا۔ ایک غار میں ننھے سؤر، سانپ ،انناس (جو بڑی حد تک قضیب کی علامت تھے)ڈال دیے جاتے ،تاکہ زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہو۔یہ واضح کرنے کی ضرورت نہیں کہ غار کس شے کی علامت تھا۔فرشی صاحب کی نظم بتاتی ہے کہ آج غارمیں دیمیتر کی جگہ کوئی دیو بیٹھ گیا ہے ،جسے انسانی مساعی، اس کی علامتوں کا احترام نہیں۔زرخیزی کے کلٹ کی جگہ ہوس کے ادارے نے لے لی ہے۔ یہ بھی اصل سے جدا ہونے کی ایک صورت ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ فرشی صاحب کی نظم داستانی، اساطیری عناصرکی طرف التفات بھی انفصال کے موتف کے تحت اور مادرِ عظمیٰ کے آرکی ٹائپ کی وجہ سے کرتی ہے۔
مادرِ عظمیٰ کا آرکی ٹائپ فطرت کی ان عظیم تخلیقی قوتوں سے متعلق ہے،جن کا انتہائی پر شکوہ، تقدیس سے لبریزتصور اساطیری ذہن نے کیا، اور انھیں پرستش کے قابل سمجھا۔ شعری تخیل میں یہ آرکی ٹائپ اپنے ظہور ہی سے اس امر کا اعلان ہے کہ فطرت کی عظیم تخلیقی قوت قابلِ تعظیم ہے اوراس کی کارفرمائی ان تمام طاقتوں کے مقابلے میں اس قوت کا تحفظ کرتی ہے ،جو مردانہ، تخریبی ، ہوس پرستانہ ہیں ، اور جو فطرت، زمین، عورت،شاعری،جمالیات ،عشق (جو اپنی خصوصیت کے اعتبار سے نسائی ہیں)کو وجودی اور علامتی دونوں سطحوں پر غارت کرتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کسی آرکی ٹائپ سے شاعر کی گہری باطنی وابستگی،اسے اپنے عصر سے بے نیازنہیں کرتی؛البتہ اسے اپنے عصر کی تفہیم کا ایک ایسا زاویہ ضرور دیتی ہے ،جو عصر کے سیدھے سادے سیاسی، سماجی تجزیوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ شاعر آرکی ٹائپ کے ذریعے بنیادی انسانی صورتِ حال تک پہنچتا ہے؛ دانش قدیم ،اس کے جوہر،اس کے علامتی مظاہر تک رسائی حاصل کرتا ہے، پھر اس کی روشنی میں زمانے ، عصر اور تاریخ کی سمت دکھائی دینے لگتی ہے۔وہ دانشِ قدیم کو حکم نہیں بناتا، فقط اس کی علامتوں کے ناخن سے عصر کی پیچیدہ صورتِ حال کی گرہیں کھولتا اور زمانے کو دکھاتا ہے۔ فرشی صاحب کی نظموں میں ہمیں معاصر عالمی اور مقامی تخریبی طاقتوں(سیاسی ، ٹیکنالوجیکل،صارفی) کی چیرہ دستیوں کا انکشاف ملتا ہے۔ان میں سے بعض نظمیں شہر آشوبیہ کہلائی جا سکتی ہیں۔خاص طور پر ’یعنی لایعنی ‘ اور’ مچھلی کا نٹا‘۔ یہ دونوں نظمیں معاصر صارفی کلچر کے لایعنی عناصر کو ’لایعنی انداز‘ میں سامنے لاتی ہیں۔ بے سمت، بے مہار سماجی اور صارفی قوتوں کو اسی اسلوب میں اجاگر کیا گیا ہے۔ اردو میں آپ انھیں نئی تجرباتی نظمیں بھی کَہ سکتے ہیں۔ اسی طرح ’ملت اسلامیہ ‘ (معلوم نہیں اس نام کی کوئی حقیقی شے موجود بھی ہے کہ نہیں) کی صورت حال کو نظم ’بندریا‘ میں گہرے ،مخفی طنز کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ مسلمانوں کی’ ہمچو ما دیگرے نیست ‘والی ذہنیت پر شاعر نے کئی طرح سے چوٹ کی ہے۔بندریا[ایک نسائی کردار] کس کی تمثیل ہے اور تماشائی کس کی نمائندگی کرتے ہیں،یہ باتیں شاعر نے قارئین کے غور کے لیے چھوڑ دی ہیں۔ خیریہ بات ہمیں ان کے معاصر شعرا کے یہاں بھی ملتی ہے۔ا س ضمن میں فرشی صاحب کی نظم کا امتیاز یہ ہے کہ اس کی تہ میں تخلیق کی عظیم الشان ،دیوتائی نسائی علامت موجود ہے۔ اس ضمن میں نظم ’ریت‘ کو بہ طور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ نظم عراق پر امریکا اور نیٹو(آج کی مردانہ، تخریبی،ہوس پرستانہ قوتیں)کے حملے کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔نظم کا آغاز ایک اسطورہ کے حوالے سے ہوتا ہے جس میں سرخ سیلاب کی پیش گوئی پرومیتھیس کے آگ چرانے کے واقعے سے بھی پہلے ،یعنی ماضی بعید میں کہیں کی گئی تھی۔یہاں غالباًاشارہ گل گامش کے رزمیے کی طرف ہے جو دنیا کی قدیم ترین کہانی ہے۔ گل گامش ڈھائی ہزار قبل مسیح کے آس پاس عروق (کم و بیش موجودہ عراق)کا بادشاہ تھا،جب یونانی اساطیروجود میں نہیں آئی تھیں۔گل گامش کے رزمیے میں اتناپشتم سیلاب کا قصہ سناتا ہے۔ فرشی صاحب کی اس نظم کے جس پہلو کی وضاحت ہم کرنا چاہتے ہیں،وہ ریت کی تمثال ہے،جس کی جغرافیائی نسبت عراق سے ہے۔نظم میں ریت، بھنبھوڑنے والی ماں کی علامت بنی ہے،جس کی بھنبھوڑنے، نگل جانے کی پیاس کبھی نہیں بجھتی۔
تو نہیں جانتا ریت کی پیاس کو؍ریت کی بھوک کو”
ریت کی بھوک ایسی کہ جس میں سماجائیں
لوہا اگلتے پہاڑوں کے سب سلسلے
پیاس ایسی کہ جس میں اُتر جائیں
“سارے سمندر؍ترے آنسوؤں کے
یہاں دو باتیں غور طلب ہیں۔ لوہا اگلتے پہاڑوں کو نگل لینے کے باوجود ریت کی بھوک پیاس نہیں مٹتی۔یہ Devouring Motherکا ایک مکمل امیج ہے۔ یہ برباد کر دینے والی، مٹا ڈالنے والی قوت ہے ،مگرماں ہے،اور فطرت ہی کی مخفی قوت کی مظہر ہے۔لہٰذا اس کی بربادی کی قوت دنیا میں انتشارِ محض پھیلانے کا موجب نہیں،بل کہ اس کی تخریب کی تہ میں تنبیہ کے ساتھ ساتھ تعمیرِ نو کا تصور موجود ہے۔یہ نظم دنیا کی مردانہ،سراپا تخریب قوتوں کے لیے انتباہ کا درجہ رکھتی ہے۔ اہم بات یہ کہ انتباہ کی نوعیت سیاسی نہیں، اسطوری، آرکی ٹائپل اورپیغمبرانہ ہے۔ یہ سیاست کے یک رخے مزاحمتی رویے کے مقابلے میں کہیں گہری ،دوررس صداقت کی حامل تنبیہ ہے! کوئی ہے سننے والا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
،ڈاکٹرناصرعباس نیر،’’نظم کے معنی ،نظم سے باہر بھی ہیں -علی محمد فرشی کی نظم نگاری
یہ قصہ کیا ہے معنی کا‘‘،سنگِ میل  پبلی کیشنز،لاہور،۲۰۲۲، ص۱۱۹’’

علی محمد فرشی کی اس نظم میں’’ مشینہ‘‘ محض’’مشین‘‘کی تانیث تک محدود نہیں رہتی بلکہ ایک کثیرالمعنی علامت بن کر پورے عہد، اس کی نفسیات، اس کی تہذیبی سمت اور انسانی رشتوں کی نئی صورتِ حال کو سمیٹ لیتی ہے۔ اب تک اس نظم کے جو مناظر پیش کیے گئے ہیں انھیں یکجا پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ مشینہ ایک کردار نہیں، ایک وجودی کیفیت ہے جو بیک وقت محبوبہ، سماج، ٹیکنالوجی، صارفیت اور خود انسان کی مسخ شدہ آدمیت کی نمائندگی کرتی ہے۔
ابتدائی منظر میں مشینہ ایک ایسی غیر مرئی ہستی کے طور پر سامنے آتی ہے جو سوشل میڈیا، خاص طور پر فیس بک کے آئینے میں جلوہ گر ہے۔ یہاں وہ انسان ہے نہ محض شبیہ، وہ شناختوں کے ہجوم میں گم ایک چہرہ ہے جسے شاعر پہچان تو لیتا ہے مگر اس تک پہنچ نہیں سکتا۔ مشینہ ڈیجیٹل عہد کی وہ محبوبہ ہے جو ’’تصویری کہانی‘‘ میں ڈھل چکی ہےجس میں لمس ہے نہ موجودگی نہ آواز۔ یوں وہ جدید انسان کے تنہائی زدہ تعلقات کی علامت بن جاتی ہے۔
دوسرے منظر میں یہ علامت مزید تہہ دار ہو جاتی ہے۔ مشینہ اب محض ایک ڈیجیٹل شبیہ نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی ذہنی و وجودی ساخت بن جاتی ہے جس میں انسان اپنی زخم خوردہ تمناؤں کو اسکرین کے اندر دفن کر دیتا ہے۔ اِن باکس کا درد ہو، تصویر میں مسکرانا ہو یا آنکھوں تک نہ آنے والے آنسو ہوں، یہ سب اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ مشینہ احساسات کو محفوظ تو کر لیتی ہے مگر انھیں شفا، تطہیر یا نجات فراہم نہیں کر سکتی۔ یہاں جذبات جینے کا تجربہ نہیں بنتے بلکہ ڈیٹا، فائل، امیج اور سرفیس میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور محبت آہستہ آہستہ فیشن سے باہر کی شے بن جاتی ہے۔
تیسرے منظر میں ’’گُل پری‘‘ایک نہایت معنی خیز کردار کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گُل پری کوئی حقیقی عورت یا محض محبوبہ نہیں بلکہ وہ خواب، امکان، معصومیت، محبت اور رومان کا استعارہ ہے۔ ایک ایسی ہستی ہے جو ابھی مکمل طور پر مشینی تہذیب میں ضم نہیں ہوئی تھی۔ شاعر کی تلاش دراصل اسی گم شدہ خواب کی تلاش ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسان سے جوڑتا تھا مگر یہ گُل پری، مشینہ کے سحر میں آ کر یا تو کھو جاتی ہے یا اپنی ماہیت بدل لیتی ہے؛ اسی لیے شاعر کا خوفناک سوال ابھرتا ہے کہ کہیں گُل پری خود ہی ’’مش ی ی ی نہ‘‘میں نہ ڈھل گئی ہو۔ یہ سوال اس المیے کی طرف اشارہ ہے کہ مشینی تہذیب صرف رشتوں کو نہیں، خوابوں کو بھی مسخ کر دیتی ہے۔ اسی طرح عورت کی خوشبو کا ’’مشینوں پر بکنا‘‘، ہنسی اور کھلونوں کا عجائب گھروں میں قید ہونا اور بچوں کے ماڈلز کا ونڈوز میں سجا دیا جانا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ مشینہ محض ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک سرمایہ دارانہ، صارفیت زدہ نظام ہے جہاں ہر وجود شے میں بدل جاتا ہے حتیٰ کہ عورت، بچپن، یادیں اور خواب بھی۔ گُل پری اسی انسانی امکان کی علامت ہے جو اس نظام میں زندہ نہیں رہ سکتی اور اگر رہتی ہے تو اپنی اصل کھو بیٹھتی ہے۔
چوتھے منظر میں مشینہ محبوبہ کے روپ میں سامنے آتی ہے مگر یہ محبوبہ بھی روایتی نہیں۔ یہ وہ عورت ہے جو دھات کی ’’سنہری چمک‘‘کی طرف راغب ہو جاتی ہے، جو میلے کی موج میں شاعر کوموت کے کنویں میں گرا کر آگے بڑھ جاتی ہے مگر یہاں نظم عورت پر اخلاقی الزام عائد نہیں کرتی بلکہ مشینہ کے ذریعے اس عہد کی اس مجبوری کو دکھاتی ہے جہاں تعلقات شاعری کے ذریعے نہیں، منڈی کے ذریعے طے ہوتے ہیں۔ شاعر کا اعتراف کہ وہ لفظوں کو زندہ تو کر سکتا ہے مگر ان پر سونے کا پانی نہیں چڑھا سکتا، مشینہ کے معاشی و تہذیبی مفہوم کو مزید واضح کرتا ہے۔
پانچویں منظر میں مشینہ پوری طرح عہدِ جدید کا مجسم استعارہ بن جاتی ہے۔ تاریخ، جنگ، سرمایہ، سرکس، میڈیا، طاقت، ہیروشیما، ہٹلر، چرچل، امریکی و روسی، سب ایک تماشے میں بدل جاتے ہیں۔ یہاں مشینہ وہ عظیم مشین ہے جس میں آدمی خود اپنی انگلی پر ناچتا ہے، اپنی لاش اٹھائے اپنی میت کی سیلفی بناتا ہے۔ اس مقام پر مشینہ نہ عورت رہتی ہے، نہ محبوبہ، بلکہ ایک ایسا طاقتور نظام بن جاتی ہے جو فرد کے شعور اور ارادے کو قابو کر کے اس کی خود شناسی کو تباہ کر دیتا ہے۔
چھٹے، ساتویں اور آٹھویں منظر میں داخل ہوتے ہی نظم مشینہ ایک فیصلہ کن فکری موڑ لیتی ہے۔ اگر ابتدائی مناظر میں مشینہ ڈیجیٹل محبوبہ، سرمایہ دارانہ تہذیب اور صارفیت زدہ سماج کی علامت تھی تو اب وہ ایک ایسی مہیب اور نیم دیومالائی قوت میں تبدیل ہو جاتی ہے جو براہِ راست انسانی آدمیت، اخلاقیات، روحانیت اور تخلیقی جوہر پر حملہ آور ہے۔ یہاں مشینہ محض عہد کی نمائندہ نہیں رہتی بلکہ خود عہد کی خالق، اس کی قاتل اور اس کی واحد معبود بن جاتی ہے۔
چھٹے منظر میں شاعر مشینہ کو پہلی بار ایک واضح اخلاقی اور تہذیبی کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے۔ یہاں مشینہ کو’’وحشی قابیل‘‘ سے تشبیہ دینا انسان کی پہلی اخلاقی شکست کی یاد دہانی ہے۔ قابیل وہ پہلا انسان تھا جس نے جبلت کو وحی، طاقت کو محبت اور ملکیت کو اخوت پر ترجیح دی۔ مشینہ اسی قابیل کی جدید صورت ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب قتل ایک فرد کا نہیں بلکہ آدمیت کا ہو رہا ہے۔ اس منظرمیں آسمانی رحمت کو’’تاراج‘‘ کرنے کا استعارہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی اور جدید نظام نے وہ تمام امکانات جو محبت، صداقت، حسن اور تخلیق کے لیے نازل کیے گئے تھے، انھیں طاقت، منافع اور لذت میں بدل دیا ہے۔ مشینہ یہاں ایک ایسی مخلوق ہے جو نچلے بالوں کے جنگل میں چھپی وحشت کی قیدی بن چکی ہے؛ یعنی وہ شعور کی بلندی سے کٹ کر جبلت کے اسفل درجے میں جا گری ہے۔ یہاں شاعر کا خطاب محض تنقیدی نہیں بلکہ اصلاحی بھی ہے۔ وہ مشینہ کو آسمان کی طرف دیکھنے کی تلقین کرتا ہے تو یہ محض رہنمائی ہی نہیں بلکہ اس کے اندر چھپی ہوئی انسانی بصیرت کو جھنجھوڑنے کی ایک کوشش ہے۔’’عقلِ معاد‘‘کا حوالہ بھی یہی بتاتا ہے کہ مشینہ کی تقلیب صرف اخلاقی بیداری اور ما بعد الطبیعیاتی شعور میں مضمر ہے نہ کہ کسی مادی یا تکنیکی تبدیلی میں۔ پہلی بار نظم میں مشینہ کے لیے ’’آدم ‘‘بننے کا امکان ابھرتا ہے، اور اگرچہ یہ امکان کمزور ہے، پھر بھی اس میں انسانیت کی نشانی موجود ہے جو ممکنہ نجات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
ساتواں منظر اس نظم کا سب سے زیادہ تہذیبی، جمالیاتی اور فکری طور پر پیچیدہ حصہ ہے۔ یہاں مشینہ جدید دنیا کی اس بے حسی کی علامت بن جاتی ہے جو انسانی دکھ، فن، تاریخ اور جمالیات کو محض قیمت اور افادیت کے پیمانے پر پرکھتی ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ کی ’’شانتی، شانتی، شانتی‘‘جو روحانی سکون اور اختتام کی علامت ہے، مشینہ کے لیے محض ایک صوتی تخاطب رہ جاتی ہے۔ وہ مڑ کر دیکھتی تو ہے مگر اس نظر میں ہمدردی نہیں، صرف لوہے کے غمزے ہیں۔ گرتے ہوئے پل کے نیچے بیٹھے روتے انسان کے مقابل، مشینہ کے لیے اہم مسئلہ دریا میں بہتا ہوا تیل ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مشینہ مکمل طور پر سرمایہ دارانہ تہذیب کا مجسم پیکر بن جاتی ہے۔ ’’گورنیکا‘‘ کے میورل کے نیچے کھڑا خاموش آدمی ہو یا ڈالی کے شاہکار پر برسنے والے قہقہے، یہ سب اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ جدید مشینی ذہن کے لیے فن، احتجاج، تاریخ اور المیہ محض بصری اشیا ہیں جن سے اس کا کوئی اخلاقی یا انسانی رشتہ باقی نہیں رہا۔ یہاں حیض کا عدم انجذاب نظم کا سب سے زیادہ چونکا دینے والااور تکلیف دہ استعارہ بن کر ظاہر ہوتا ہے جس سے باور آتا ہے کہ مشینہ اب فن سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ زندگی کے حیاتیاتی اور تجارتی پہلوؤں کو جذب کرے، نہ کہ انسانی درد، روحانی سوال یا اخلاقی سچائی کو۔ گویا مشینہ کے عہد میں فن، محبت، احتجاج اور اخلاق سب غیر ضروری ہو چکے ہیں، کیونکہ وہ منڈی اور طاقت کے بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتے۔
آٹھواں منظر اس نظم کا سب سے فلسفیانہ، تمثیلی اور نسبتاً امید افزا حصہ ہے۔ یہاں شاعر پہلی بار مشینہ سے براہِ راست یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ’’مصنوعی زندگی کا بٹن آف‘‘ کرے۔ یہ محض ٹیکنالوجی پر بندش عائد کرنے کی بات نہیں بلکہ مصنوعی شعور، جعلی ترقی اور جھوٹی ہمہ دائی سے دستبرداری کی دعوت ہے۔ حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس کا حوالہ علم، طاقت اور معجزے کی نئی تعبیر پیش کرتا ہے۔ یہاں معجزہ خدائی نہیں، انسانی ہنر اور علم کا موجب ہے اور یہ بات مشینہ کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مشین کے مقابلے میں انسان ہی تخلیقی ہو سکتا ہے اور حیرت آفرین بھی۔ یہاں ہوا کی پری کا پرندوں سے خطاب بھی حدودِ علم کا استعارہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شاعر واضح کرتا ہے کہ ہر شے کو جان لینے، ہر حد کو توڑنے اور ہر راز کو فتح کرنے کی خواہش دراصل موت کی طرف دوڑ ہے۔ مشینہ کی اصل غلطی یہی ہے کہ وہ دانائی کے واہمے میں مبتلا ہے۔ اس واہمے کے مقابل ’’حیرت‘‘ کو زندگی کا حاصل قرار دینا نظم کا سب سے گہرا فلسفیانہ بیان ہے۔ حیرت وہ کیفیت ہے جو نہ ڈیٹا میں محفوظ ہو سکتی ہے، نہ اسے مشین پیدا کر سکتی ہے۔ لیکن یہی حیرت انسان کو بچا سکتی ہے، اگر وہ بچنا چاہے۔ اس منظر کے اختتام پر قیامت کا استعارہ محض مذہبی نہیں بلکہ تہذیبی ہے۔ زمین کی کہانی ختم ہو رہی ہے مگر شاعر کا یہ اصرار ہے کہ ذرا سی خوشی، ذرا سی حیرت اور ذرا سی انسانیت اب بھی ایک بڑی قوت بن سکتی ہے۔
اس تجزیے کے تناظر میں دیکھا جائے تو مشینہ کا استعارہ جاتی بیانیہ بتدریج خارجی تنقید سے داخلی کرب کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور نظم ایک تہذیبی مرثیے سے آگے بڑھ کر فکری اور وجودی نوحہ بن جاتی ہے۔ غور کیجیے تو اس میں’’اسارت‘‘کا تصور پوری شدت کے ساتھ ابھرتا ہے جو نظم کے پورے بیانیے میں مسلسل سرایت کیے ہوئے ہے۔ یہ اسارت شعور اور جذبات تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ جسم اور جبلت کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ آگے چل کر یہی قید تاریخ اور نظام کی سطح پر ظاہر ہوتی ہے اور معنی کے زوال، وقت کی قید اور انسانی تجربے کی سطحیت بھی اسارت ہی کی صورتیں بن جاتی ہیں۔ سب سے گہری سطح لاادراک اسارت کی ہے جہاں قیدی کو اپنی قید کا شعور بھی نہیں رہتا۔ جب غلامی کو سہولت، تفریح اور ترقی کے نام پر قبول کر لیا جائے تو اس سے بڑی ذہنی اور فکری اسارت ممکن نہیں ہوتی۔ یہی اس نظم کا سب سے گہرا اور کرب ناک سچ ہے۔

نظم کے تیسرے منظر کا آغاز ہمیں علینہ کی یاد دلاتا ہے۔
یہ اُس رُت کا قصہ ہے
جب میںترے کان میں
’گُل پری‘ کَہ کےسرگوشی کرتا
تو رخسار تیرے گُل سرخ بن کردہکتے
مہکتے، بہکتے ہوئے تُو
چلی آئی یو ں ہی
مری نظم کے خواب میں
یہاں فرشی صاحب کی ایک پرانی نظم “Cyberia “کا اتصال نظم مشینہ کے اندر اس طرح وجود پذیر ہوا ہے کہ پوری کی پوری نظم مشینہ کے متن کا حصہ بن گئی ہے ۔ یہ بین المتونیت(Intertextuality) کی نادر مثال ہے کہ اس سے پہلےاردو نظم میں کہیں شاعر کی اپنی نظم کا Direct Quote دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس عمل سے بہت سی باتیں سامنے آئی ہیں۔ ایک یہ کہ شاعر کا اپنے ہی متن کو انٹر ٹیکسچویلٹی کے طور پر استعمال کرنا اس کے تخلیقی انفراد اور ذہانت کی دلیل ہے۔ دوسرے یہ کہ شاعر کے زرخیز ذہن میں اس نظم (مشینہ) کے Traces پہلے سے موجود تھے اور اگر کوئی نظم شاعر کے حافظےمیں پچیس تیس برس تک پڑی رہے تو اس کا مطلب ہے کہ زندگی اُس کے ہاں زمانی مکانی کے ٹکڑوں میں بٹی ہوئی نہیں بلکہ ایک فلسفیانہ تخلیقی کلیت میں ڈھلی ہوئی نامیاتی وحدت ہےاوراُس کے وجود کےلاشعوری سمندر میں انسانی تاریخ، آرکی ٹائپس ،کائناتی شعور،تہذیبی رشتوں،مابعد الطبیعیاتی تصورِ حیات اور تخلیقی وجدان کے ہفت رنگی شعاعوں کی یکجائی کی منزل پرابدیت آشنا ہوچکا ہے۔ اس کی نگاہ دور بین ، سرمایہ دارانہ نظام کے ارتقا یعنی اس کے ماضی سے مستقبل بعید تک کا احاطہ کر سکتی ہے۔نظم “Cyberia ” کی تخلیق کا زمانہ 2002 سے پہلے کا ہے کیوں کہ یہ پہلی بار ’’آفاق‘‘راولپنڈی کے ستمبر2002کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ اس وقت ہمارے دوست، ذہین نقاد اور منفرد تخلیق کار زیف سید نے اس کا بڑا خوبصورت تجزیہ کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ نظم اردو کا پہلا ڈسٹوپیا ہے۔ اس نظم کی دنیا ایک دور دراز اور دور ازکار دنیا ہے لیکن انسان اس کی طرف بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ آج بائیس برس بعد یہ تجزیہ پڑھ کر ہم سوچتے ہیں کہ اس دنیا میں دکھائی جانے والی بہت سی باتیں تو ظہور پذیر ہو چکی ہیں۔یہ انوکھی دنیا کیا ہے ،زیف سید کے الفاظ میں پڑھیے:
” نظم کا عنوان دو انگریزی مادوں، یعنی سائبر اور ایریا کے ادغام سے وضع کیا گیا ہے، جس سے ذہن کمپیوٹر کی دنیا کی طرف مائل ہوتاہے۔ لیکن لفظ سائبیریا کی صوتیات ہمیں روس کے صوبے کی طرف بھی متوجہ کرتی ہیں۔ نظم میں مونتاژ کی تکنیک سے کام لیتے ہوئے چھوٹے چھوٹے کئی مناظر بیان کیے گئے ہیں جو ہمیں اس سائبیریا کے بارے میںمعلومات فراہم کرتے ہیں۔ یہ مستقبل بعید کا ایک ایسا زمانہ ہے جس میں انسان غالباً مکمل طور پر کمپیوٹر سے ہم کنار ہو چکا ہے۔ انسان اور کمپیوٹر کی یکجائی اور یکجانی کے بارے میں بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ مستقبل میں ایسا ممکن ہے کہ انسان کے جسمانی دماغ (brain) کو کمپیوٹر سے منسلک کرکے شعوری دماغ (mind) کو ہارڈ ڈسک پر اتار (download) لیا جائے۔ اگر انھی خطوط پر سوچتے ہوئے آگے بڑھا جائے تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ ایسے دماغ انٹرنیٹ کی وساطت سے ساری دنیا میں جاری وساری ہو جائیں گے اور ا یک cyber-community وجود میں آ جائے گی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسےنظم “Cyberia ” کے انسان بھی اسی طرح کی کسی کمیونٹی میں ’’بس‘‘ رہے ہیں جہاں وہ ’’جسم‘‘ او ر اس کے متعلقات سے مکمل طور پر چھٹکارا حاصل کر چکے ہیں۔ نظم کے بند ۲ تا ۵ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں جنس سے حظ حاصل کرنے کا تصوربھی فنا ہو چکا ہے اور جہاں عورت کی خوش بو ’’بغلوں‘‘ میں چھڑک کر کام چلایا جاتاہے۔ جہاں کھانے پینے کا تصور بھی ناپید ہوچکا ہے اور لوگ اپنے اپنے کیمروں میں کھانے کے خواب دیکھتے ہیں۔ جہاں ہنسی ، بچپن، معصومیت، بچے، سبھی عجائب گھروں کی زینت بن چکے ہیں۔ اس عہد میں مقدر، دعا اور محبت جیسے جذبے بھی موت کے گھاٹ اتر گئے ہیں۔”
(زیف سید، آفاق راولپنڈی، 4 جنوری 2004، ص 173)
اور بھی بہت سی قابل غور چیزیں ہیں جو اس نظم سائبیریا میں دکھائی اور بتائی گئی ہیں۔اگر ان پر بات کریں تو یہ تحریر طوالت کا شکار ہو جائے گی۔ زیر تذکرہ نظم (مشینہ) کے تیسرے منظر میں جب اس نظم کا اقتباس اختتام کو پہنچتا ہے تو نظم کی آخری سطر کا ان کہا واضح طور پر نظر آنے لگتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ گل پری وہی علینہ ہے جو اب اپنے پاکیزہ لباس کو اتار کر مشینہ کے روپ میں ڈھل چکی ہے۔علینہ کا زمانہ یکسر بدل چکا ہے۔ کیا وقت تھا جب ہمارے شاعر کو علینہ نے ایسا پرم رس پلایا تھا کہ پھر وہ اس کے باغوں سے واپس نہ آ سکا۔اسے ان باغوں کی سیر سے اتنی بھی فرصت نہیں تھی کہ علینہ کے ان باغات کی کہانی لکھ سکے جہاں اس کی جوانی سانس روکے کھڑی تھی۔اور اب یہ عالم ہے کہ نہ علینہ رہی، نہ وہ باغات ۔ اب تو پھول پر تتلی کے بوسے کی طرح اترتا ہوا وہ نام بھی ہمیں نہیں مل پائے گا جس کا رس لوری کے بولوں میں گھل کر ہمیں خوابوں کی جنت میں پہنچا دیتا تھا۔یہ کون سا علاقہ ہےجس میں نہ تو پھول ہوتے ہیں نہ تتلیاں اور نہ ہی وہ آنکھیں جو دیدۂ بینا کہلا سکیں۔ جمود برف کی طرح جم چکا ہے ۔۔۔ کہیں یہ سائبیریا تو نہیں۔۔ سائبر کا مفتوحہ علاقہ جہاں مشینہ کی حکم رانی قائم ہو چکی ہے۔

نظم کے ساتویں منظر میں جہاں مشینی اقتدار کی ستھِرتا دکھائی گئی ہےوہاں اس کی انسان دشمنی کے خلاف اٹھنے والے ستھیارتھی کو بھی ایلیٹ کی شکل میں دکھایا گیا ہے۔ شاعری کے ساتھ ساتھ دیگر فنون لطیفہ جن کی تخلیق انسان دوستی کے خمیر سے اٹھتی ہے ان کی نمائندہ تخلیقات کا ذکر کر کے آرٹ کے منصب کا تعین بھی کیا گیا ہے کہ آرٹ (بشمول شاعری جس میں کہ آرٹ کے تمام تر فنون جمع ہو جاتے ہیں ۔جیسا کہ اس نظم میںا بھی آرٹ کے کئی مظاہر ہیں جنھیں دیکھا ، سنا اور محسوس کیا جا سکتا ہے) ہی اس سرمایہ داری کی تہذیب پر ضرب کاری لگانے کا اہل ہے اگر اس نے اپنے تہذیبی سرچشمے سے اپنی زبان تر کی ہو۔ نظم کے اس ساتویں منظر میں ہمیں آرٹ نے کیا کیا دکھایا ہے۔ پکاسو، ڈالی اور ایم ایف حسین جسے بھارت کا پکاسو کہا گیا۔ گج گامنی میں پھرتی ہوئی حسن کی تصویریں، لندن برج اور وہ امیج جن میں ٹیمز خوبصورتی سے بہہ رہا ہے۔ ہنسی کے انگار، پھولوں کے افکار، کینوس ، ڈالر کی کمر تھامے ہوئے گوریاں ، ذرا تصور کریں کہ شاعر نے طاقت ورکرنسی کو کیسے پرسونیفائی کیاہے۔یہ وہ پتلی کمر ہے جو مشرق و مغرب میں یکساں مقبول ہے۔اڑتے لبادے اور مے کے پیالے ،روبوٹ جو مدہوش جسموں پر گرتے ہیں۔یہاں جو امیج استعارے اور ایکسٹنڈڈ میٹافر کے کمالات نظر آ رہے ہیں ان کی جمالیات پر ایک علاحدہ مضمون لکھا جا سکتا ہے۔ تمام تر امیجری، اور سمبلزم جو اس نظم کے اندر کار فرما ہے فن کا ایک اچھوتا مظاہرہ ہے اور یہ شاعری آرٹ کی تمام شاخوں کی تازہ کاری کا عظیم مرقع بن گئی ہے۔
یہ محبت کا تھل جو ہمارے آس پاس پھیلا ہوا ہے اس کو کون اپنے آنسووں سے سرسبز گلستان میں بدل سکتا ہے۔ ایسا صاحب نظر ایک تو دریائے ٹیمز کے کنارے پر تھا اور دوسرا سندھو کے اندر اپنی کہانی میں غرق ہو کر اپنے خوابوں سے محبت کے تھل کو شانتی کے باغ میں تبدیل کرنے کا خواب دکھا رہا ہے۔
مشینہ:(آٹھواں منظر)یامین
ویسے تو نظم “مشینہ ” کا سارا منظرنامہ آدمی سے نادمی بننے کی داستان ہےلیکن اس کا چھٹا منظر ہمیں آدم کی داستان کے بالکل آغاز میں لے جاتا ہے۔ جبلت کی اسفل سطح کے اظہار کے لیے قابیل سے زیادہ بلیغ علامت اور کوئی نہیں۔حسد کی آگ ، برتری کا جذبہ اور دوسرے کو تسلیم نہ کرنے کی خو انسانی جبلت میں موجود ہیں ۔ یہ ہمارے باطنی حواس؍حقائق ہیں۔ یہ جب تک اپنا ظہور نہیں کرتے معروضی حقیقت نہیں بنتے۔ معروض میں ان کا ظہور ہی آدم کے امتحان کا جواز ہے۔ ایسی صورت حال میں امید کا پرچم بلند رکھنا اور مشینی فکر سے نجات کا راستہ تلاش کرنا نظم کا بڑا موضوع ہے۔ افتخار بخاری صاحب نے خوب نشاندہی کی ہےکہ آخری سطر انسان کی مشینیت اور وحشت سے نجات کا راستہ دکھاتی ہے۔ فرشی صاحب کی اس نظم کا خاصہ یہی ہے کہ اس میں مشینی زندگی کا بالعکس نقشا بھی ہمیں نظر آتا ہے اور اس نقشے میں امید کا ٹمٹماتا ہوا ستارہ ، عقل معاد کی علامت میںڈھل کر راہ نجات کو روشن کرتا ہے۔
آٹھویں منظر میں قرآنی تلمیحات کے گنج گراں مایہ میں سے ایک خوبصورت تلمیح اٹھائی گئی ہے اور اس کے ذریعے یہ باور کرایا گیا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی مصنوعی، عارضی اور نا پائدار ہے۔حضرت سلیمان کی حاکمیت کا رنگ اور ریاست کا نظم چلانے کا طریقہ آج کے صنعتی انقلاب اور سرمایہ داری نظام سے کہیں زیادہ شاندار حقیقی اور ترقی یافتہ تھا۔معاشرے کا ہر فرد ( آدمی) اپنی تمام تر صلاحیتوں سے لیس تھا اور جانتا تھا کہ اس کے دست قدرت میں کیا کیا ہے۔ ایک آدمی جس کا نام آصف بن برخیا خیال کیا جاتا ہے کس قدر طاقتور روحانی قوتوں کا تصرف کرنے کا اہل تھا۔ یہ وہی روحانی تجربہ ہے جسے اقبال اپنے پہلے خطبہ Knowledge and Relegious Experience میں وجدان سے تعبیر کرتے ہیں۔ ہماری تہذیبی روایت میں مذہبی مشاہدات کا غالب اثر نظر آتا ہے۔ اقبال اپنے پہلے خطبے میں اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ مذہبی مشاہدات کے حقائق بھی دوسرے انسانی تجربات کی طرح معتبر حقائق ہیں اس لیے اس تجربے کو محض وہم کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔ آصف بن برخیا کے پاس وجدان سے حاصل کردہ علم ہی تھا جس کے ذریعے اس نے پلک جھپکنے میں کوسوں کا سفر طے کر لیا تھا۔
اس منظر میں سرمایہ دارانہ ترقی، مادیت پرستی اور حرص و ہوس کی نمائندہ مشینہ کو عہد سلیمانی کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے۔ یہ منظر دکھانے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی ترقی صرف مادے کی ترقی نہیں ہے بلکہ پورے انسان کی ترقی ہے۔ ساتھ ہی شاعر نے ایک مصلح ، دانشور اور صاحب علم کی حیثیت سے دعوت کا فریضہ بھی ادا کر دیا ہے۔ فلک سے بغاوت نے آدمی کو نادمی بنا دیا ہے۔شاعر نے یہ بات پرندوں کی علامت کے ذریعے سمجھائی ہے۔ اگرچہ پرندوں کی زبان میٹھی ہوتی ہے ، وہ بلند پرواز ہوتے ہیں ، ان پر الہامی قوتیں اپنا تصرف رکھتی ہیں اور ان کی جبلت انھیں راستوں کی پہچان کروا دیتی ہے لیکن مقراض لا تک ان کی پہنچ کیسے ہو سکتی ہے۔جہاں جبریل کے پر جلتے ہوں وہاں ہما شما کی کیا حیثیت ہے۔ اس نظم میں پرندوں کا در آنا دراصل ان خوبیوں کی وجہ سے ہے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ مشینہ کا کرداران سارے رازوں سے واقف ہے ۔ وہ سب علامتوں کو سمجھتی ہے مگر چپ ہے۔ شاید اندر سے یہ سمجھتی ہو کہ ٹیکنالوجی ان پرندوں کی علامتیں بھی اپنے تصرف میں لا چکی ہے۔ٹویٹ کا شہرہ عام اس کی ایک نمایاںمثال ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اندر ہی اندر اپنی فتح پر خوش ہے۔وہ خوش تو ہے لیکن وہ سرخوشی سےآشنا نہیں ہے۔آدمی کے پاس تو حیرت سے نمود کرنے والی سرخوشی کا خزانہ ہے۔نادمی کے پاس کیا ہے۔ شاعر کی آرزو ہے کہ اب، جب زمین کی کہانی ختم ہونے والی ہے ، مشینہ (نادمی) کو چاہیے کہ وہ حیرت بھری سرخوشی کو بچا لے۔یہ وہ آرزو ہے جس کو اقبال نے اپنی نظم ” ابلیس کی مجلسِ شوریٰ” میں “شرار ِآرزو “کہا ہے۔ ہما رے عہد سے پہلے اقبال واحد ادبی شخصیت تھے جو سرمایہ داری کے سامنے پورے سیاسی سماجی اور دینی شعور کے ساتھ تنہا کھڑےتھے۔ آج علی محمد فرشی اسی مقام پر کھڑے نظر آتے ہیں اور افسوس کہ وہ بھی تنہا ہیں۔

مشینہ کا نواں منظر بھی روح عصر کے ساتھ ساتھ تاریخ کے گہرے شعور اور مستقبل کے ادراک کو پورے شعری جوہر کے ذریعے بیان کرتا ہے۔اس منظر کا آغازمصنوعی ذہانت ( اے۔آئی)کی حیران کن صلاحیت اور اس دنیائے کاف و نون میں اس کی عملداری کے اعتراف میں چند سطروں سے ہوتا ہے:
’’مشینہ!
تو سب جانتی ہے
ترا پیٹ اے آئی کا حاملہ
ان گنت پوتھیوں،تھیلیوں سے بھرا
جن میں لاکھوں برس زندگی کی
کہانی کے اسرار محفوظ ہیں
ایک ننھے سے تارے میں
جھرمٹ ہوں جیسے
کئی کہکشاؤںکےرقصاں
گھمرتے،جھمرتے
گھمریاکے چکر سے
باہر نکلنےکو بے تاب !
جیسے کہ نوری زمانوںکا سیلاب اُمڈ تا ہے
صدیوں سے لمبے فلیتےنکلتے ہیں‘‘
اس کے بعد کی ساری سطریں اور نظم کا سارا متن مشینہ کی مئے بے رنگ کے سامنے سقراط، داتا علی ہجویری، للّہ عارفہ، مولائے روم اور علی بخش حیدری کی مئے گلفام کی قدرو منزلت کو اجاگر کرتا ہے۔ (یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام بہت ہے۔۔۔غالب) ہمارے ان تہذیبی و تاریخی کرداروںسے ہماری نسل تو خوب واقف ہے لیکن ما بعد انسانی عہد میں ان کا تعارف گم شدہ جوہر انسانی کا تعارف بن جاتا ہے۔مجھ سے پہلے اپنے تجزیے میں برادرم افتخار بخاری نےاس فکر کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔وہ مشینہ کو ایک ایسی مابعد انسانی ہستی قرار دیتے ہیں جو حافظے، سرعت رفتار اور بصارت میں انسان سے کہیں زیادہ صلاحیت کی مالک ہے۔ لیکن اس ہستی کوذرا بھی علم نہیں کہ وہ اخلاقی وجود، شعور ذات اور عرفان و صداقت جیسی نعمتوں سے یکسر محروم ہے۔ یہ منظر درحقیقت بصیرت ، فراست اور صداقت کے عہد زوال کا نوحہ ہےاگرچہ گوہر معانی تک رسائی میں کوئی دقت نہیں ہےلیکن ان فنی حربوں کو پہچاننا اگر ضروری نہیں تو ان پر ایک طالب علمانہ نگاہ ڈالنے میں کوئی حرج بھی نہیں جن کو بروئے کار لانے سےمعانی کا طلسم وجود میں آیا ہے۔مشینہ کا تانیثی کردار اور اس کا اے آئی سے حاملہ ہو جانا اور وہ بھی نظم کے نویں منظر میںلفظی و معنوی مناسبت کا خوبصورت اظہار ہے۔زبان اگرچہ سادہ ہے لیکن سمبل و علامتیں ایسی ہیں کہ ادب و شعر کا ذوق دونا ہو جاتا ہے۔ تنقیدی تحریروں میں ، تشبیہات کا ذکر آ جائے تو ہم اکثر نادر تشبیہ کی ترکیب استعمال کرتے ہیں۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ نادر تشبیہ لانا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ یہاں اس نظم اور اس منظر میں واقعی تشبیہات میں نادر و نایاب امیج نظر آتے ہیں۔ ان نوادر کی تخلیق و تکوین کا عمل اگرچہ لاشعوری رو میں خود بہ خود ظہور پذیر ہو جاتا ہے لیکن اس کے پیچھے وقت کا متخیلہ اور علم کا کتنا بڑا سفر ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ذرا دیکھیے یہ الفاظ، یہ تراکیب اور یہ امیج کیسے آپ کے ذہن کو گرماتے اور للچاتے ہیں:’’ پوتھیوں، تھیلیوں سے بھرا پیٹ‘‘،’’ صدیوں سے لمبے فلیتے‘‘، ’’ہتھیلی پہ آسودہ نازک بدن نازنین‘‘،’’ مچلتی چھاتیوں کے بٹن‘‘، ’’حیرت کی بجلی‘‘، ’’غیبی خزانے‘‘،’’ ساونی بادل‘‘،’’ معانی و الفاظ کی آبشاریں‘‘، ’’دانش کی پکنک‘‘، ’’حیرت کا ساحل‘‘، ‘‘معصومیت کے گھروندے‘‘،’’ ست کا پیالہ‘‘ ،’’ سہ قطرہ امرت‘‘، ’’غلامی کے جوتے‘‘، ’’معلوم و موجود کا باد گردی حمام‘‘،’’ دولے انسان‘‘۔اس فہرست میں نہ صرف نئی نکور اور نادر و نایاب تشبیہات ہیں بلکہ سمبل، علامتیں، استعارے، کنسیٹ، استعارے اور امیجز بھی ہیں جن کو الگ الگ دکھانے اور ان پر بحث کرنے کا محل نہیں ہے۔ تاہم توسیعی استعارے (Extended Metaphor) کی ایک جھلک دکھانے سے شاید کچھ اذہان کو اچھا لگے:
میں نے للّہ (۲)کے
ست کے پیالے سے چھلکے ہوئے
ایک سہ قطرہ امرت کے
چھینٹے میں دل کو بھگویا
وہ نورانی بارش
مجھے دھو گئی اس طرح
جیسے زم زم کے جھالوںسے
ہونے نہ ہونے کاسارا جہاں دُھل گیا ہو!
ست کا پیالہ، ایک توسیعی استعارہ ہے جس سے ایک اور توسیعی استعارہ’’سہ قطرہ امرت‘‘بھی جنم لیتا ہے۔ اور پورے پیراگراف پر اپنی ایک الگ فضا بنا کر تاثر کو گہرائی عطا کرتا ہے۔ست کا مفہوم جوہر حیات بھی ہے، سچائی اور راستی بھی، پاک دامنی و پارسائی بھی، استقامت و استحکام بھی۔ خالص ذات اور خالص شعور بھی یعنی دانش اور حکمت جو للّہ کے ذہن رسا سے چھلک رہی تھی اور شاعر کے ذہن میں اتر رہی تھی، اسے دکھانے کے لیے شاعر نے ست کے پیالے کا استعارہ بنا کر اس کے چھلکنے، اس کے امرت قطرے کے چھینٹے سے دل کو بھگونے نورانی بارش اور زم زم کے جھالوں کے مناظر تک اس استعارے کو توسیع دے کر شاعر نے ہماری اور اپنی ذات کو ہی نہیں سارے جہان کی پاکیزگی کو پھول کی طرح مہکا دیا ہے۔ یہ کام توسیعی استعارے کے بغیر ممکن نہیں تھا۔اے آئی کو ہماری تہذیب کے جن کرداروں سے شاعر نے متعارف کروایا ہے ان میں سے مولائے روم اور للّہ عارفہ کی شاعری کو اس نظم کے اندر ایک مرصع ساز کی طرح ٹانک دیا ہے۔ للّہ عارفہ کی وہ دانش شاعر نےخوبصورت لفظوں میں بیان کر دی ہے۔ کہ اگر سننا چاہتے ہو تو بہرے بن جاؤ، کچھ کہنا چاہتے ہو تو گونگے ہو جاؤ اور اگر دیکھنا چاہتے ہو تو اندھے بن کر رہو۔للّہ عارفہ کی یہ روشنی اس نظم کے کئی منظروں میں چمک رہی ہے۔ بلکہ اس نظم کی تکمیل میں بھی للّہ عارفہ کی روحانی توجہ کا دخل ہے۔ نظم کے زیر نظر منظر کا جوہر للّہ عارفہ کی واکھ سے اخذ کردہ دانش ہے یعنی:
’’مشینہ!
صداقت ہمیشہ بہت کم ملے گی
مگر دیکھتے ہی اسے
دل مچلنے لگے گا
کہ تسلیم ہے !
ہاں !یہی حسنِ اوّل کی تعظیم ہے!!‘‘

کاپی رائٹ © علی محمد فرشی