خوش آمدید
یہاں آپ علی محمد فرشی کے شعری مجموعے،ان کے فن پر لکھے گئے تنقیدی مضامین،نظموں کے تجزیاتی مطالعات اور مختلف بین الاقوامی اور قومی زبانوں میں ان کی نظموں کے تراجم ملاحظہ فرمائیں گے۔
علی محمد فرشی۳؍دسمبر۱۹۵۵ءکوراولپنڈی کےقُرب ’چونترہ‘ میں پیدا ہوئے؛لیکن سکول میں داخلے کے وقت غلطی سے ان کی تاریخِ پیدائش۲۴؍جنوری ۱۹۵۶ءدرج ہوگئی۔ چناں چہ اُن کی تمام دستاویزات میں یہی تاریخ درج ملتی ہے۔ اپنےادبی سفر کا آغاز انھوں نے ۱۹۷۳ ء میں افسانے سے کیا لیکن جلد ہی نظم کو اپنے تخلیقی اظہار کا ذریعہ بنا لیا۔ اُن کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’تیز ہوا میں جنگل مجھے بلاتا ہے‘‘ ۱۹۹۵ء میں شائع ہوا ۔ ناقد ین اور قارئین نے مشمولہ نظموں کے تر و تازہ ڈکشن، موضوعاتی تنوّع ، سمبالک اُسلوب اور معنیاتی وسعت کے حوالوں سے اس کتاب کو خصوصی اہمیت دی ۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ’’فرشی کے ہاں امیج سے آگے جانے اور معنی کی تہ در تہ سطحوں پر اس امیج سے آخری قطرہ تک نچوڑ لینے کی قدرت موجود ہے‘‘۔ڈاکٹر فہیم اعظمی نے اپنے مضمون میں لکھا’’یہ علی محمد فرشی کی پہلی کتا ب ہے لیکن فن کے اعتبار سے ان کی شاعری وژن کی شاعری معلوم ہوتی ہے جو کہنہ مشقی کے بعد ہی ممکن ہے‘‘۔’’ ڈاکٹر ناصر عباس نیر نے اپنی کتاب ’’نظم کیسے پڑھیں‘‘ ،مطبوعہ ۲۰۱۸ء، میں اس مجموعے سے ایک نظم ’سانپ نے اندھے لفظ کا لنچ کیا ‘کو مفصل تجزیے کے لیے منتخب کیا۔ گویا بیس برس کے بعد بھی اس کتاب کی اہمیت اپنی جگہ قائم تھی۔ علی محمد فرشی کی پچاس برس پہلے لکھی گئی نظمیں بھی شعری تازگی،فنی رچاؤ اور تاریخی و سماجی شعور کے باعث زمانۂ حال کی عکاس دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے آٹھ شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں جن کا ڈیجیٹل مطالعہ آپ ’’تصانیف‘‘کے صفحے پرکرسکتے ہیں
(نظمیں) تیز ہوا میں جنگل مجھے بلاتا ہے
(اردو ماہیے) دکھ لال پرندہ ہے
(طویل نظم) علینہ
(نظمیں) زندگی خودکشی کا مقدمہ نہیں
(نظمیں) غاشیہ
محبت سے خالی دنوں میں (نظمیں)
قید سے لبالب پنجرہ (طویل نظم)
آٹھواں رنگ الفاظ کا (نظمیں)
اس وقت اُن کے تین شعری مجموعے اشاعت کے منتظرہیں
(طویل نظم)مشینہ
مرتے ہوئے خواب کا بوسہ (نظمیں)
اوک سمندر (مختصر نظمیں)
علی محمد فرشی کا اہم ترین وصف یہ ہے کہ سترسال عمر میں بھی وہ نہایت ترو تازہ نظمیں لکھ رہے ہیں۔ ان کی نظموں کا متعدد بین الاقوامی اور قومی زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے جن میں انگریزی، جاپانی، عربی، ترکی، فارسی، ہندی، سندھی،ہندکو شامل ہیں۔ان کی متنوع ادبی جہات کو یہاں اختصار کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی رائے میں ’’فرشی صاحب کی نظمیں ہمیں غنودگی سے، ایک جھٹکے کے ساتھ جگاتی محسوس ہوتی ہیں اور ہمیں حقیقی دنیا کے ضمن میں پہلے سے زیادہ حساس بناتی ہیں، کیوں کہ ان نظموں کی پیچیدگی خالصتاً استعاراتی یعنی معانی سے لبریز ہے۔فرشی صاحب کی نظم میں ایک لفظ تک زائد نہیں!یہی نہیں،بلکہ وہ اوقاف کی علامتوں اور کاغذ کی خالی جگہوں تک کو نظم کے لیے بروے کار لاتے ہیں۔ ‘‘ناول نگار،مترجم،نقاد اور ادبیاتِ عالم پر گہری نظر رکھنے والے سکالر زیف سید نے علی محمد فرشی کی نظم’ سائبیریا‘پراپنے تنقیدی تجزیاتی مضمون نے لکھا ہے کہ یہ نظم اردو کا پہلا ڈسٹوپیا ہے۔ ضیا جالندھری نے لکھا ہے،’’ فرشی لفظ کی کئی معنوی سطحیں دریافت کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ اس کی نظموں میں موجود لفظوں کے شیڈز سے اَن کہی بات کی پرتیں کھلتی چلی جاتی ہیں’’علینہ‘‘ ان نظموں میں سے ہے جو آپ کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں۔یہ ایسی شہکار نظم ہے جو تخلیق نہیں کی جاتی بلکہ ہو جاتی ہے۔‘‘علی محمد فرشی نے پنجابی لوک صنف ’’ماہیا‘‘ کا اردو میں احیا کیا۔ان کے ۲۴۰ اردو ماہیوں کا مجموعہ ۱۹۹۸ءمیں شائع ہوا۔یوں پاکستان میں سب سے زیادہ بولی والی جانے زبان کی مقبول لوک صنف کو قومی زبان میں رائج کردیا۔ پنجاب کی رنگا رنگ ثقافت کی اردو زبان میں شمولیت کے باعث قومی یکجہتی کو فروغ ملا ۔علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے بی ایس اردو کے نصاب میں ماہیا کو شامل ہونے سے اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔اب اردو میں ماہیا نگاروں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔پاکستان تقریباًنصف صدی سے دہشت گردی کا شکار ہے۔ جس میں لاکھوں (براہِ راست یا بالواسطہ ) انسانی زندگیاں ضائع ہوئیں۔فرشی کی شاعری میں جس شدت اور کثرت سے اس موضوع کو برتا گیا ہے، اردو شاعری میں اس کی مثال مشکل سے ملے گی ’’سفید کاسہ لہو سے لبریز ہو چکا ہے‘‘، ’’بارود گھر‘‘، ’’ ہم زاد‘‘،’’خواب جلنے کی بو‘‘اس ضمن میں بہت اہم نظمیں ہیں۔کرۂ ارض کا ہر ذی شعور فرد براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایٹمی جنگ کے خوف میں مبتلا ہے،’’کاش ہم زندگی استعمال کر لیتے‘‘، ’’دھوئیں کا درخت‘‘،،’’کینچوے کے بل میں‘‘،’’تماشائی حیرت زدہ رہ گئے‘‘، طویل نظم ’’علینہ‘‘ کا بارہواں اور سولہواں منظر،’’ موٹا حرامی‘‘اور ’’چھوٹا حرامی‘‘ ایسی جھنجوڑ دینے والی نظمیں ہیں جو ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کا احساس دلاتی ہیں۔ان کی نظمیں جدید زندگی سے جڑے عصری نفسیاتی مسائل سے نجات کا راستہ دکھاتی ہیں ۔وہ برصغیر کی صوفیانہ روایت کو ذات اور معاشرت سے جڑے مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔ان کی متعدد نظمیں خالص صوفیانہ موضوعات کی حامل ہیں۔ ’’ میں مکے سے میلی آئی‘‘، ’’ جیون دو دھاری تلوار ‘‘ ،’’گوری آپ مقدر والی‘‘، ’’ستر ماؤں کا پیار‘‘، ’’ساری ماؤں کے نام‘‘،’’ میں باہر کے اندر‘‘، ’’ترنجن‘‘ اوریک کتابی طویل نظم ’’علینہ‘‘ اسی منزہ فکر کی شعری تعبیرات سے عبارت ہیں۔ ڈاکٹر رشید امجد نےاپنے طویل مضمون ’’علی محمد فرشی کے نظم کدے کی کلید‘‘ میں لکھا ہے کہ عورت کے حوالے سے فرشی نے جو استعارے بنائے ہیں اور اپنی بلاغت کے باعث ان کے وسیع تصورِ تانیث کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان کے ہاں عورت نہ صرف جنم دینے والی ایک عظیم ہستی ہے بلکہ ہمارے معاشرتی نظام میں دکھ سہنے والی ایک ایسی قوت بھی، جس نے سماجی مسائل کا تمام کرب اپنے شانوں پر ذمہ داری سے سنبھالا ہوا ہے۔ فرشی کی عورت گھر کی چاردیواری کے اندر بھی فعال اور دیالو ہے‘‘علی محمد فرشی کی نظموں میں تا نیثی شعور ان کی شعری فکریا ت میں اہم عنصر کا درجہ رکھتا ہے۔ ڈاکٹر طارق ہاشمی نے ان کی تانیثی فکر کو موضوع بنانے والی پچاس سے زائد نظموں کو ’’نیلی شال میں لپٹی دھند‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل دی ۔ یہ مجموعہ ۲۰۲۱ء میں شائع ہوا۔ اسی برس فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی راولپنڈی کی طالبہ ندا کرن نے’’علی محمد فرشی بہ طور تانیثی شاعر‘‘کےعنوان سے ایم فل کے لیے تحقیقی مقالہ بھی لکھا۔ ماحولیاتی آلودگی کے خلاف ان کی نظم’’تم اپنے سمندر بچاؤ‘‘ گزشتہ صدی کے آخری برسوں میں تخلیق ہوئی۔جو’’زندگی کا خودکشی کا مقدمہ نہیں ‘‘ ،اشاعت۲۰۰۴ میں شامل ہے۔ اس وقت تک ہمارے ہاں ماحولیاتی آلودگی کا سوال بطور مسئلہ سامنے نہیں آیا تھا۔ ان کی متعدد نظمیں اس عالمی مسئلے کی ہولناکی کا اظہار کرتی ہیں۔ جن میں’’ خالی صفحہ‘‘،’’آدمی نادمی‘‘، ’’آکاس بیل کا بیلی ‘‘،’’جنت ارضی‘‘ ،’’دو پایہ مشینیں‘‘ اور’’جبلت جان‘‘ ماحولیاتی آلودگی کے مضمرات سے آگاہ کرتی ہیں۔علی محمد فرشی کرۂ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں سے یکساں محبت کرتے ہیں۔ ان کی متعدد نظموں میں انسانی تہذیب اورقدرتی حیات کو درہیش خطرات کا شدید احساس موجود ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ ان خطرات سے بچ نکلنے کی راہ بھی دکھاتے ہیں،’’غاشیہ‘‘، ’’ مشینہ‘‘،’’گے بی‘‘،’’کھائی‘‘،’’پریس نوٹ‘‘،’’مردہ زندگی کا الہام‘‘، جڑواں سوالات کی موت‘‘، ’’تماشائی حیرت زدہ رہ گئے‘‘،’’ہوا کا بیج‘‘، ’’چوپائیگی‘‘، ’’قارعہ‘‘، ’’پیچھا کرتی لاشیں‘‘، ’’ بے اساس‘‘،’’وقت‘‘، ’’عورت گیان‘‘اور ’’پینو راما اور پرندہ‘‘ اسی قبیل کی نظمیں ہیں۔ محبت،امن، بھائی چارہ اور انسان دوستی کے ساتھ ماحول دوستی ایسے موضوعات ہیں جو دنیا کی ہر زبان میں بڑی شاعری کا لازمہ رہے ہیں۔ علی محمد فرشی کی نظموں کا خمیر بھی انھی عناصر سے اٹھا ہے۔ البتہ صوفیانہ طرزِ احساس، سچی اور بے لوث دردمندی،شعری تجربے کی صداقت، تخلیقی اظہاراور منفرد جمالیاتی رچاؤ کے ساتھ نویلے اسلوب میں موضوعات کی پیش کش ان کی شاعری کو اردو میں خاص شناخت عطا کرتی ہے۔علی محمد فرشی جدید نظم کے اہم نقاد بھی ہیں۔انھوں نے راشد،میراجی،مجید امجد،ضیا جالندھری، وزیرآغا، ساقی فاروقی، آفتاب اقبال شمیم، ستیہ پال آنند، اصغر ندیم سید،جاوید انور اور یامین کی نظموں پر تجزیاتی تنقیدی مضامین لکھے ہیں۔ انھوں نےاکادمی ادبیات پاکستان کے مشاہیر پر کتابوں کے سلسلے میں’’ضیا جالندھری:شخصیت اورفن‘‘ کے عنوان سے ضیا صاحب پر ایک کتاب بھی لکھی ہے۔علی محمد فرشی کی ایک نمایاں جہت ادبی صحافت بھی ہے جسے وہ ادبی عبادت خیال کرتے ہیں۔انھوں نے ادبی صحافت کا آغاز۱۹۸۴یں روزنامہ’’جنگ راولپنڈی‘‘ میں عروض پر ہفتہ وار کالم لکھنے سے کیا۔ وہ معروف ادبی رسالے سہ ماہی ’’سمبل‘‘ کی ادارت بھی کر رہے ہیں جس کے اب تک بیس شمارے شائع ہو چکے ہیں۔ اس رسالے کو اردو دنیا میں اعلیٰ معیار کے ادب کا ’سمبل‘ خیال کیا جاتا ہے۔ اس میں دنیا بھر کے نامور ادیبوں، شاعروں، مترجمین اور نقادین کی تحریریں شامل ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر ناصرعباس نیر
نظم کےمعنی،نظم سے باہر بھی ہیں‘‘علی محمد فرشی کی نظم’’
معاصر اردو نظم کیا ہے؟ یہ سوال اکثراٹھایا جاتا ہے۔ معاصر نظم اپنی موجود گی کا احساس جس شدت سے دلاتی ہے، اس سے کہیں زیادہ شدت سے اس کی پہچان کا سوال سامنے آتا ہے۔اردو کی شاید ہی کسی دوسری صنف کو اس نوع کی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا ہو۔معاصر نظم کا سارا دبدھا، سارے تناقضات، سارا ابہام، اس کے ردّو قبول کی ساری متھ ، اسی صورتِ حال میں مضمر ہے۔ ممکن ہے معاصر نظم (اور یہاں آ پ جدید نظم کو بھی شامل سمجھیے ، جس کی توسیع معاصر نظم ہے)اپنے حقیقی قارئین کاایک بڑا اور مؤثر حلقہ پیدا کرنے میں ناکام ہوئی ہو،مگر وہ اپنی موجودگی کو باور کرانے میں جس طور کام یاب ہوئی ہے، اس کی کوئی دوسری مثال کسی اور شعری صنف میں نہیں ملتی۔ غزل میں بھی نہیں۔ نظم کی موجودگی کا مفہوم یہ نہیں کہ یہ محض رسائل کے صفحات، کمپیوٹر سکرین اور کتابوں میں بالعموم نظر آتی ہے۔ یہ تو اس نظم کے وجود کی شہادتیں ہیں۔ کسی شے کا وجود ،اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ ’موجودگی‘ کا حامل بھی ہے۔ایک لاش ،مردہ لفظوں کا کوئی منظوم پیکر بھی وجود رکھتے ہیں،مگر وہ ’موجود‘ نہیں ہیں؛وہ دکھائی دیتے ہیں، مگر ہم تک احساس و معنی کی ترسیل نہیں کرتے۔ وہ اپنے وجود کی واضح،غیر مشتبہ حد میں مقید و مقفل ہیں۔ معنی کا کوئی نور، احساس کی کوئی مہک ان سے ظہور نہیں کرتی۔ان میں سے کوئی بات معاصر نظم کے سلسلے میں وہ شخص بھی نہیں کہے گا، جس کا دل تغزل کے عشق میں جدید نظم سے کھٹا ہو چکا ہو ، یا جسے نظم کی علامت و ابہام پسندی کے ہزار شکوے ہوں۔ موجودگی،وجود کی مادی حدوں کو لخت لخت کرکے پھیل جانے اور جہاں جہاں رسائی ہو،وہاں وہاں حقیقی وجود کے طور پر اثرا نداز ہونے کا نام ہے۔ نظم کی موجودگی بھی کسی ایک نظم یا کسی ایک شاعر کی نظموں کی اس حد کے باہر وجود رکھتی ہے،جسے ہم کاغذ یا سکرین پر دیکھتے ہیں۔ اسے آپ معاصر؍ جدید نظم کی شعریات، آرٹ کا بھی نام دے سکتے ہیں،جو حقیقتاً کسی انفرادی نظم سے ’باہر‘ موجود ہے،مگر جب تک کوئی شاعر اس کی آگ کو اپنی نظم میں انڈیلتا نہیں، وہ جدید نظم نہیں لکھتا، بے معنی مصرعے موزوں کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے،ناکام نظموں کا بھی ایک کردار ہوتا ہے؛ان کے تقابل سے نہ صرف کامیاب نظمیں اجاگر ہوتی ہیں،بل کہ ان راستوں کی بھی نشان دہی کرتی ہیں،جن سے اچھے نظم گو کو بچ کے چلنا چاہیے ۔کوئی بڑا فن پارہ کئی ناکام کوششوں کے نتیجے ہی میں ظہور پذیر ہوتا ہے،اور یہ ناکام کوششیں ایک شخص کی نہیں،ادبا کے ایک گروہ،یا پوری ایک نسل کی ہو سکتی ہیں۔
بہ ہر کیف جدید نظم کی شعریات؍آرٹ کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اس کی گواہی ہمیں کسی نقاد سے لینے کی ضرورت نہیں(اس لیے نہیں کہ نقاد کی گواہی معتبر نہیں،بل کہ اس لیے کہ یہاں اس کی ضرورت نہیں)،اس کا ثبوت نظم کے وہ شعرا ہیں،جنھوں نے نظم کے آرٹ کے کوہِ سینا سے اخذِ نور کرنے میں اپنی بہترین تخلیقی قوتیں صرف کر دیں۔ معاصر نظم کی جس موجودگی کا ہم ذکر کر رہے ہیں، وہ اس ہالے میں جھلملا رہی ہے جو میراجی، راشد، مجید امجد، اختر الایمان، منیر نیازی، وزیر آغا، جیلانی کامران،ضیا جالندھری،عزیز حامد مدنی،ساقی فاروقی، آفتاب اقبال شمیم، فہمیدہ ریاض، علی محمد فرشی، افضال احمد سید، ثروت حسین، نصیر احمد ناصر،ابراراحمد، ستیہ پال آنند، جاوید انور،وحید احمد،انوار فطرت، رفیق سندیلوی ،یامین، فرخ یار،پروین طاہر کی مساعی سے ’موجود‘ ہے۔ (واضح رہے کہ یہ سب ایک مرتبے کے شاعر نہیں،نہ ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے چند دہائیوں بعد لوگوں کو کئی ناموں کو شاملِ فہرست کیے جانے پر باقاعدہ حیرت ہو،خاص طور پر معاصر شعرا میں بالآخر دو تین نام ہی دائمی اہمیت حاصل کر پائیں گے۔ تاریخ اپنے فیصلے سخت سنگدلی سے مگربے تعصب ہو کرکرتی ہے! )۔ جس ہالے نے ان سب شعرا کی نظموں کو اپنے محیط میں لے رکھا ہے، وہ ہما شما کو اپنی موجودگی باور کراتا ہے؛ اور ٹھیک اسی طرح باور کراتا ہے، جس طرح کوئی بھی ’موجودگی‘، یعنی اس کی تحسین کی جاتی،اس کا احترام کیا جاتا، اس کے وجود کی عظمت کا احساس کیا جاتا ہے؛اور اسے’ غیرموجودگی‘ میں بھی محسوس کیا جاتا ہے۔ بایں ہمہ اس کی پہچان معاصر شعری تنقید کا اہم مسئلہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں جدید نظم کاآرٹ جس قدر تحسین حاصل کرنے میں کام یاب ہوا، اس قدر تفہیم نہیں۔ جدید نظم کی مخالفت کا سارا ڈسکورس اس کے عسیر الفہم ہونے کے مفروضے پر استوار ہے۔

علی محمد فرشی کی اس نظم میں’’ مشینہ‘‘ محض’’مشین‘‘کی تانیث تک محدود نہیں رہتی بلکہ ایک کثیرالمعنی علامت بن کر پورے عہد، اس کی نفسیات، اس کی تہذیبی سمت اور انسانی رشتوں کی نئی صورتِ حال کو سمیٹ لیتی ہے۔ اب تک اس نظم کے جو مناظر پیش کیے گئے ہیں انھیں یکجا پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ مشینہ ایک کردار نہیں، ایک وجودی کیفیت ہے جو بیک وقت محبوبہ، سماج، ٹیکنالوجی، صارفیت اور خود انسان کی مسخ شدہ آدمیت کی نمائندگی کرتی ہے۔
ابتدائی منظر میں مشینہ ایک ایسی غیر مرئی ہستی کے طور پر سامنے آتی ہے جو سوشل میڈیا، خاص طور پر فیس بک کے آئینے میں جلوہ گر ہے۔ یہاں وہ انسان ہے نہ محض شبیہ، وہ شناختوں کے ہجوم میں گم ایک چہرہ ہے جسے شاعر پہچان تو لیتا ہے مگر اس تک پہنچ نہیں سکتا۔ مشینہ ڈیجیٹل عہد کی وہ محبوبہ ہے جو ’’تصویری کہانی‘‘ میں ڈھل چکی ہےجس میں لمس ہے نہ موجودگی نہ آواز۔ یوں وہ جدید انسان کے تنہائی زدہ تعلقات کی علامت بن جاتی ہے۔
دوسرے منظر میں یہ علامت مزید تہہ دار ہو جاتی ہے۔ مشینہ اب محض ایک ڈیجیٹل شبیہ نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی ذہنی و وجودی ساخت بن جاتی ہے جس میں انسان اپنی زخم خوردہ تمناؤں کو اسکرین کے اندر دفن کر دیتا ہے۔ اِن باکس کا درد ہو، تصویر میں مسکرانا ہو یا آنکھوں تک نہ آنے والے آنسو ہوں، یہ سب اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ مشینہ احساسات کو محفوظ تو کر لیتی ہے مگر انھیں شفا، تطہیر یا نجات فراہم نہیں کر سکتی۔ یہاں جذبات جینے کا تجربہ نہیں بنتے بلکہ ڈیٹا، فائل، امیج اور سرفیس میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور محبت آہستہ آہستہ فیشن سے باہر کی شے بن جاتی ہے۔
تیسرے منظر میں ’’گُل پری‘‘ایک نہایت معنی خیز کردار کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گُل پری کوئی حقیقی عورت یا محض محبوبہ نہیں بلکہ وہ خواب، امکان، معصومیت، محبت اور رومان کا استعارہ ہے۔ ایک ایسی ہستی ہے جو ابھی مکمل طور پر مشینی تہذیب میں ضم نہیں ہوئی تھی۔ شاعر کی تلاش دراصل اسی گم شدہ خواب کی تلاش ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسان سے جوڑتا تھا مگر یہ گُل پری، مشینہ کے سحر میں آ کر یا تو کھو جاتی ہے یا اپنی ماہیت بدل لیتی ہے؛ اسی لیے شاعر کا خوفناک سوال ابھرتا ہے کہ کہیں گُل پری خود ہی ’’مش ی ی ی نہ‘‘میں نہ ڈھل گئی ہو۔ یہ سوال اس المیے کی طرف اشارہ ہے کہ مشینی تہذیب صرف رشتوں کو نہیں، خوابوں کو بھی مسخ کر دیتی ہے۔ اسی طرح عورت کی خوشبو کا ’’مشینوں پر بکنا‘‘، ہنسی اور کھلونوں کا عجائب گھروں میں قید ہونا اور بچوں کے ماڈلز کا ونڈوز میں سجا دیا جانا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ مشینہ محض ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک سرمایہ دارانہ، صارفیت زدہ نظام ہے جہاں ہر وجود شے میں بدل جاتا ہے حتیٰ کہ عورت، بچپن، یادیں اور خواب بھی۔ گُل پری اسی انسانی امکان کی علامت ہے جو اس نظام میں زندہ نہیں رہ سکتی اور اگر رہتی ہے تو اپنی اصل کھو بیٹھتی ہے۔
چوتھے منظر میں مشینہ محبوبہ کے روپ میں سامنے آتی ہے مگر یہ محبوبہ بھی روایتی نہیں۔ یہ وہ عورت ہے جو دھات کی ’’سنہری چمک‘‘کی طرف راغب ہو جاتی ہے، جو میلے کی موج میں شاعر کوموت کے کنویں میں گرا کر آگے بڑھ جاتی ہے مگر یہاں نظم عورت پر اخلاقی الزام عائد نہیں کرتی بلکہ مشینہ کے ذریعے اس عہد کی اس مجبوری کو دکھاتی ہے جہاں تعلقات شاعری کے ذریعے نہیں، منڈی کے ذریعے طے ہوتے ہیں۔ شاعر کا اعتراف کہ وہ لفظوں کو زندہ تو کر سکتا ہے مگر ان پر سونے کا پانی نہیں چڑھا سکتا، مشینہ کے معاشی و تہذیبی مفہوم کو مزید واضح کرتا ہے۔
پانچویں منظر میں مشینہ پوری طرح عہدِ جدید کا مجسم استعارہ بن جاتی ہے۔ تاریخ، جنگ، سرمایہ، سرکس، میڈیا، طاقت، ہیروشیما، ہٹلر، چرچل، امریکی و روسی، سب ایک تماشے میں بدل جاتے ہیں۔ یہاں مشینہ وہ عظیم مشین ہے جس میں آدمی خود اپنی انگلی پر ناچتا ہے، اپنی لاش اٹھائے اپنی میت کی سیلفی بناتا ہے۔ اس مقام پر مشینہ نہ عورت رہتی ہے، نہ محبوبہ، بلکہ ایک ایسا طاقتور نظام بن جاتی ہے جو فرد کے شعور اور ارادے کو قابو کر کے اس کی خود شناسی کو تباہ کر دیتا ہے۔
چھٹے، ساتویں اور آٹھویں منظر میں داخل ہوتے ہی نظم مشینہ ایک فیصلہ کن فکری موڑ لیتی ہے۔ اگر ابتدائی مناظر میں مشینہ ڈیجیٹل محبوبہ، سرمایہ دارانہ تہذیب اور صارفیت زدہ سماج کی علامت تھی تو اب وہ ایک ایسی مہیب اور نیم دیومالائی قوت میں تبدیل ہو جاتی ہے جو براہِ راست انسانی آدمیت، اخلاقیات، روحانیت اور تخلیقی جوہر پر حملہ آور ہے۔ یہاں مشینہ محض عہد کی نمائندہ نہیں رہتی بلکہ خود عہد کی خالق، اس کی قاتل اور اس کی واحد معبود بن جاتی ہے۔
چھٹے منظر میں شاعر مشینہ کو پہلی بار ایک واضح اخلاقی اور تہذیبی کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے۔ یہاں مشینہ کو’’وحشی قابیل‘‘ سے تشبیہ دینا انسان کی پہلی اخلاقی شکست کی یاد دہانی ہے۔ قابیل وہ پہلا انسان تھا جس نے جبلت کو وحی، طاقت کو محبت اور ملکیت کو اخوت پر ترجیح دی۔ مشینہ اسی قابیل کی جدید صورت ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب قتل ایک فرد کا نہیں بلکہ آدمیت کا ہو رہا ہے۔ اس منظرمیں آسمانی رحمت کو’’تاراج‘‘ کرنے کا استعارہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی اور جدید نظام نے وہ تمام امکانات جو محبت، صداقت، حسن اور تخلیق کے لیے نازل کیے گئے تھے، انھیں طاقت، منافع اور لذت میں بدل دیا ہے۔ مشینہ یہاں ایک ایسی مخلوق ہے جو نچلے بالوں کے جنگل میں چھپی وحشت کی قیدی بن چکی ہے؛ یعنی وہ شعور کی بلندی سے کٹ کر جبلت کے اسفل درجے میں جا گری ہے۔ یہاں شاعر کا خطاب محض تنقیدی نہیں بلکہ اصلاحی بھی ہے۔ وہ مشینہ کو آسمان کی طرف دیکھنے کی تلقین کرتا ہے تو یہ محض رہنمائی ہی نہیں بلکہ اس کے اندر چھپی ہوئی انسانی بصیرت کو جھنجھوڑنے کی ایک کوشش ہے۔’’عقلِ معاد‘‘کا حوالہ بھی یہی بتاتا ہے کہ مشینہ کی تقلیب صرف اخلاقی بیداری اور ما بعد الطبیعیاتی شعور میں مضمر ہے نہ کہ کسی مادی یا تکنیکی تبدیلی میں۔ پہلی بار نظم میں مشینہ کے لیے ’’آدم ‘‘بننے کا امکان ابھرتا ہے، اور اگرچہ یہ امکان کمزور ہے، پھر بھی اس میں انسانیت کی نشانی موجود ہے جو ممکنہ نجات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
ساتواں منظر اس نظم کا سب سے زیادہ تہذیبی، جمالیاتی اور فکری طور پر پیچیدہ حصہ ہے۔ یہاں مشینہ جدید دنیا کی اس بے حسی کی علامت بن جاتی ہے جو انسانی دکھ، فن، تاریخ اور جمالیات کو محض قیمت اور افادیت کے پیمانے پر پرکھتی ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ کی ’’شانتی، شانتی، شانتی‘‘جو روحانی سکون اور اختتام کی علامت ہے، مشینہ کے لیے محض ایک صوتی تخاطب رہ جاتی ہے۔ وہ مڑ کر دیکھتی تو ہے مگر اس نظر میں ہمدردی نہیں، صرف لوہے کے غمزے ہیں۔ گرتے ہوئے پل کے نیچے بیٹھے روتے انسان کے مقابل، مشینہ کے لیے اہم مسئلہ دریا میں بہتا ہوا تیل ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مشینہ مکمل طور پر سرمایہ دارانہ تہذیب کا مجسم پیکر بن جاتی ہے۔ ’’گورنیکا‘‘ کے میورل کے نیچے کھڑا خاموش آدمی ہو یا ڈالی کے شاہکار پر برسنے والے قہقہے، یہ سب اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ جدید مشینی ذہن کے لیے فن، احتجاج، تاریخ اور المیہ محض بصری اشیا ہیں جن سے اس کا کوئی اخلاقی یا انسانی رشتہ باقی نہیں رہا۔ یہاں حیض کا عدم انجذاب نظم کا سب سے زیادہ چونکا دینے والااور تکلیف دہ استعارہ بن کر ظاہر ہوتا ہے جس سے باور آتا ہے کہ مشینہ اب فن سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ زندگی کے حیاتیاتی اور تجارتی پہلوؤں کو جذب کرے، نہ کہ انسانی درد، روحانی سوال یا اخلاقی سچائی کو۔ گویا مشینہ کے عہد میں فن، محبت، احتجاج اور اخلاق سب غیر ضروری ہو چکے ہیں، کیونکہ وہ منڈی اور طاقت کے بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتے۔
آٹھواں منظر اس نظم کا سب سے فلسفیانہ، تمثیلی اور نسبتاً امید افزا حصہ ہے۔ یہاں شاعر پہلی بار مشینہ سے براہِ راست یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ’’مصنوعی زندگی کا بٹن آف‘‘ کرے۔ یہ محض ٹیکنالوجی پر بندش عائد کرنے کی بات نہیں بلکہ مصنوعی شعور، جعلی ترقی اور جھوٹی ہمہ دائی سے دستبرداری کی دعوت ہے۔ حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس کا حوالہ علم، طاقت اور معجزے کی نئی تعبیر پیش کرتا ہے۔ یہاں معجزہ خدائی نہیں، انسانی ہنر اور علم کا موجب ہے اور یہ بات مشینہ کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مشین کے مقابلے میں انسان ہی تخلیقی ہو سکتا ہے اور حیرت آفرین بھی۔ یہاں ہوا کی پری کا پرندوں سے خطاب بھی حدودِ علم کا استعارہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شاعر واضح کرتا ہے کہ ہر شے کو جان لینے، ہر حد کو توڑنے اور ہر راز کو فتح کرنے کی خواہش دراصل موت کی طرف دوڑ ہے۔ مشینہ کی اصل غلطی یہی ہے کہ وہ دانائی کے واہمے میں مبتلا ہے۔ اس واہمے کے مقابل ’’حیرت‘‘ کو زندگی کا حاصل قرار دینا نظم کا سب سے گہرا فلسفیانہ بیان ہے۔ حیرت وہ کیفیت ہے جو نہ ڈیٹا میں محفوظ ہو سکتی ہے، نہ اسے مشین پیدا کر سکتی ہے۔ لیکن یہی حیرت انسان کو بچا سکتی ہے، اگر وہ بچنا چاہے۔ اس منظر کے اختتام پر قیامت کا استعارہ محض مذہبی نہیں بلکہ تہذیبی ہے۔ زمین کی کہانی ختم ہو رہی ہے مگر شاعر کا یہ اصرار ہے کہ ذرا سی خوشی، ذرا سی حیرت اور ذرا سی انسانیت اب بھی ایک بڑی قوت بن سکتی ہے۔
اس تجزیے کے تناظر میں دیکھا جائے تو مشینہ کا استعارہ جاتی بیانیہ بتدریج خارجی تنقید سے داخلی کرب کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور نظم ایک تہذیبی مرثیے سے آگے بڑھ کر فکری اور وجودی نوحہ بن جاتی ہے۔ غور کیجیے تو اس میں’’اسارت‘‘کا تصور پوری شدت کے ساتھ ابھرتا ہے جو نظم کے پورے بیانیے میں مسلسل سرایت کیے ہوئے ہے۔ یہ اسارت شعور اور جذبات تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ جسم اور جبلت کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ آگے چل کر یہی قید تاریخ اور نظام کی سطح پر ظاہر ہوتی ہے اور معنی کے زوال، وقت کی قید اور انسانی تجربے کی سطحیت بھی اسارت ہی کی صورتیں بن جاتی ہیں۔ سب سے گہری سطح لاادراک اسارت کی ہے جہاں قیدی کو اپنی قید کا شعور بھی نہیں رہتا۔ جب غلامی کو سہولت، تفریح اور ترقی کے نام پر قبول کر لیا جائے تو اس سے بڑی ذہنی اور فکری اسارت ممکن نہیں ہوتی۔ یہی اس نظم کا سب سے گہرا اور کرب ناک سچ ہے۔

نظم کے تیسرے منظر کا آغاز ہمیں علینہ کی یاد دلاتا ہے۔
یہ اُس رُت کا قصہ ہے
جب میںترے کان میں
’گُل پری‘ کَہ کےسرگوشی کرتا
تو رخسار تیرے گُل سرخ بن کردہکتے
مہکتے، بہکتے ہوئے تُو
چلی آئی یو ں ہی
مری نظم کے خواب میں
یہاں فرشی صاحب کی ایک پرانی نظم “Cyberia “کا اتصال نظم مشینہ کے اندر اس طرح وجود پذیر ہوا ہے کہ پوری کی پوری نظم مشینہ کے متن کا حصہ بن گئی ہے ۔ یہ بین المتونیت(Intertextuality) کی نادر مثال ہے کہ اس سے پہلےاردو نظم میں کہیں شاعر کی اپنی نظم کا Direct Quote دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس عمل سے بہت سی باتیں سامنے آئی ہیں۔ ایک یہ کہ شاعر کا اپنے ہی متن کو انٹر ٹیکسچویلٹی کے طور پر استعمال کرنا اس کے تخلیقی انفراد اور ذہانت کی دلیل ہے۔ دوسرے یہ کہ شاعر کے زرخیز ذہن میں اس نظم (مشینہ) کے Traces پہلے سے موجود تھے اور اگر کوئی نظم شاعر کے حافظےمیں پچیس تیس برس تک پڑی رہے تو اس کا مطلب ہے کہ زندگی اُس کے ہاں زمانی مکانی کے ٹکڑوں میں بٹی ہوئی نہیں بلکہ ایک فلسفیانہ تخلیقی کلیت میں ڈھلی ہوئی نامیاتی وحدت ہےاوراُس کے وجود کےلاشعوری سمندر میں انسانی تاریخ، آرکی ٹائپس ،کائناتی شعور،تہذیبی رشتوں،مابعد الطبیعیاتی تصورِ حیات اور تخلیقی وجدان کے ہفت رنگی شعاعوں کی یکجائی کی منزل پرابدیت آشنا ہوچکا ہے۔ اس کی نگاہ دور بین ، سرمایہ دارانہ نظام کے ارتقا یعنی اس کے ماضی سے مستقبل بعید تک کا احاطہ کر سکتی ہے۔نظم “Cyberia ” کی تخلیق کا زمانہ 2002 سے پہلے کا ہے کیوں کہ یہ پہلی بار ’’آفاق‘‘راولپنڈی کے ستمبر2002کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ اس وقت ہمارے دوست، ذہین نقاد اور منفرد تخلیق کار زیف سید نے اس کا بڑا خوبصورت تجزیہ کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ نظم اردو کا پہلا ڈسٹوپیا ہے۔ اس نظم کی دنیا ایک دور دراز اور دور ازکار دنیا ہے لیکن انسان اس کی طرف بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ آج بائیس برس بعد یہ تجزیہ پڑھ کر ہم سوچتے ہیں کہ اس دنیا میں دکھائی جانے والی بہت سی باتیں تو ظہور پذیر ہو چکی ہیں۔یہ انوکھی دنیا کیا ہے ،زیف سید کے الفاظ میں پڑھیے:
” نظم کا عنوان دو انگریزی مادوں، یعنی سائبر اور ایریا کے ادغام سے وضع کیا گیا ہے، جس سے ذہن کمپیوٹر کی دنیا کی طرف مائل ہوتاہے۔ لیکن لفظ سائبیریا کی صوتیات ہمیں روس کے صوبے کی طرف بھی متوجہ کرتی ہیں۔ نظم میں مونتاژ کی تکنیک سے کام لیتے ہوئے چھوٹے چھوٹے کئی مناظر بیان کیے گئے ہیں جو ہمیں اس سائبیریا کے بارے میںمعلومات فراہم کرتے ہیں۔ یہ مستقبل بعید کا ایک ایسا زمانہ ہے جس میں انسان غالباً مکمل طور پر کمپیوٹر سے ہم کنار ہو چکا ہے۔ انسان اور کمپیوٹر کی یکجائی اور یکجانی کے بارے میں بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ مستقبل میں ایسا ممکن ہے کہ انسان کے جسمانی دماغ (brain) کو کمپیوٹر سے منسلک کرکے شعوری دماغ (mind) کو ہارڈ ڈسک پر اتار (download) لیا جائے۔ اگر انھی خطوط پر سوچتے ہوئے آگے بڑھا جائے تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ ایسے دماغ انٹرنیٹ کی وساطت سے ساری دنیا میں جاری وساری ہو جائیں گے اور ا یک cyber-community وجود میں آ جائے گی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسےنظم “Cyberia ” کے انسان بھی اسی طرح کی کسی کمیونٹی میں ’’بس‘‘ رہے ہیں جہاں وہ ’’جسم‘‘ او ر اس کے متعلقات سے مکمل طور پر چھٹکارا حاصل کر چکے ہیں۔ نظم کے بند ۲ تا ۵ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں جنس سے حظ حاصل کرنے کا تصوربھی فنا ہو چکا ہے اور جہاں عورت کی خوش بو ’’بغلوں‘‘ میں چھڑک کر کام چلایا جاتاہے۔ جہاں کھانے پینے کا تصور بھی ناپید ہوچکا ہے اور لوگ اپنے اپنے کیمروں میں کھانے کے خواب دیکھتے ہیں۔ جہاں ہنسی ، بچپن، معصومیت، بچے، سبھی عجائب گھروں کی زینت بن چکے ہیں۔ اس عہد میں مقدر، دعا اور محبت جیسے جذبے بھی موت کے گھاٹ اتر گئے ہیں۔”
(زیف سید، آفاق راولپنڈی، 4 جنوری 2004، ص 173)
اور بھی بہت سی قابل غور چیزیں ہیں جو اس نظم سائبیریا میں دکھائی اور بتائی گئی ہیں۔اگر ان پر بات کریں تو یہ تحریر طوالت کا شکار ہو جائے گی۔ زیر تذکرہ نظم (مشینہ) کے تیسرے منظر میں جب اس نظم کا اقتباس اختتام کو پہنچتا ہے تو نظم کی آخری سطر کا ان کہا واضح طور پر نظر آنے لگتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ گل پری وہی علینہ ہے جو اب اپنے پاکیزہ لباس کو اتار کر مشینہ کے روپ میں ڈھل چکی ہے۔علینہ کا زمانہ یکسر بدل چکا ہے۔ کیا وقت تھا جب ہمارے شاعر کو علینہ نے ایسا پرم رس پلایا تھا کہ پھر وہ اس کے باغوں سے واپس نہ آ سکا۔اسے ان باغوں کی سیر سے اتنی بھی فرصت نہیں تھی کہ علینہ کے ان باغات کی کہانی لکھ سکے جہاں اس کی جوانی سانس روکے کھڑی تھی۔اور اب یہ عالم ہے کہ نہ علینہ رہی، نہ وہ باغات ۔ اب تو پھول پر تتلی کے بوسے کی طرح اترتا ہوا وہ نام بھی ہمیں نہیں مل پائے گا جس کا رس لوری کے بولوں میں گھل کر ہمیں خوابوں کی جنت میں پہنچا دیتا تھا۔یہ کون سا علاقہ ہےجس میں نہ تو پھول ہوتے ہیں نہ تتلیاں اور نہ ہی وہ آنکھیں جو دیدۂ بینا کہلا سکیں۔ جمود برف کی طرح جم چکا ہے ۔۔۔ کہیں یہ سائبیریا تو نہیں۔۔ سائبر کا مفتوحہ علاقہ جہاں مشینہ کی حکم رانی قائم ہو چکی ہے۔
نظم کے ساتویں منظر میں جہاں مشینی اقتدار کی ستھِرتا دکھائی گئی ہےوہاں اس کی انسان دشمنی کے خلاف اٹھنے والے ستھیارتھی کو بھی ایلیٹ کی شکل میں دکھایا گیا ہے۔ شاعری کے ساتھ ساتھ دیگر فنون لطیفہ جن کی تخلیق انسان دوستی کے خمیر سے اٹھتی ہے ان کی نمائندہ تخلیقات کا ذکر کر کے آرٹ کے منصب کا تعین بھی کیا گیا ہے کہ آرٹ (بشمول شاعری جس میں کہ آرٹ کے تمام تر فنون جمع ہو جاتے ہیں ۔جیسا کہ اس نظم میںا بھی آرٹ کے کئی مظاہر ہیں جنھیں دیکھا ، سنا اور محسوس کیا جا سکتا ہے) ہی اس سرمایہ داری کی تہذیب پر ضرب کاری لگانے کا اہل ہے اگر اس نے اپنے تہذیبی سرچشمے سے اپنی زبان تر کی ہو۔ نظم کے اس ساتویں منظر میں ہمیں آرٹ نے کیا کیا دکھایا ہے۔ پکاسو، ڈالی اور ایم ایف حسین جسے بھارت کا پکاسو کہا گیا۔ گج گامنی میں پھرتی ہوئی حسن کی تصویریں، لندن برج اور وہ امیج جن میں ٹیمز خوبصورتی سے بہہ رہا ہے۔ ہنسی کے انگار، پھولوں کے افکار، کینوس ، ڈالر کی کمر تھامے ہوئے گوریاں ، ذرا تصور کریں کہ شاعر نے طاقت ورکرنسی کو کیسے پرسونیفائی کیاہے۔یہ وہ پتلی کمر ہے جو مشرق و مغرب میں یکساں مقبول ہے۔اڑتے لبادے اور مے کے پیالے ،روبوٹ جو مدہوش جسموں پر گرتے ہیں۔یہاں جو امیج استعارے اور ایکسٹنڈڈ میٹافر کے کمالات نظر آ رہے ہیں ان کی جمالیات پر ایک علاحدہ مضمون لکھا جا سکتا ہے۔ تمام تر امیجری، اور سمبلزم جو اس نظم کے اندر کار فرما ہے فن کا ایک اچھوتا مظاہرہ ہے اور یہ شاعری آرٹ کی تمام شاخوں کی تازہ کاری کا عظیم مرقع بن گئی ہے۔
یہ محبت کا تھل جو ہمارے آس پاس پھیلا ہوا ہے اس کو کون اپنے آنسووں سے سرسبز گلستان میں بدل سکتا ہے۔ ایسا صاحب نظر ایک تو دریائے ٹیمز کے کنارے پر تھا اور دوسرا سندھو کے اندر اپنی کہانی میں غرق ہو کر اپنے خوابوں سے محبت کے تھل کو شانتی کے باغ میں تبدیل کرنے کا خواب دکھا رہا ہے۔
مشینہ:(آٹھواں منظر)یامین
ویسے تو نظم “مشینہ ” کا سارا منظرنامہ آدمی سے نادمی بننے کی داستان ہےلیکن اس کا چھٹا منظر ہمیں آدم کی داستان کے بالکل آغاز میں لے جاتا ہے۔ جبلت کی اسفل سطح کے اظہار کے لیے قابیل سے زیادہ بلیغ علامت اور کوئی نہیں۔حسد کی آگ ، برتری کا جذبہ اور دوسرے کو تسلیم نہ کرنے کی خو انسانی جبلت میں موجود ہیں ۔ یہ ہمارے باطنی حواس؍حقائق ہیں۔ یہ جب تک اپنا ظہور نہیں کرتے معروضی حقیقت نہیں بنتے۔ معروض میں ان کا ظہور ہی آدم کے امتحان کا جواز ہے۔ ایسی صورت حال میں امید کا پرچم بلند رکھنا اور مشینی فکر سے نجات کا راستہ تلاش کرنا نظم کا بڑا موضوع ہے۔ افتخار بخاری صاحب نے خوب نشاندہی کی ہےکہ آخری سطر انسان کی مشینیت اور وحشت سے نجات کا راستہ دکھاتی ہے۔ فرشی صاحب کی اس نظم کا خاصہ یہی ہے کہ اس میں مشینی زندگی کا بالعکس نقشا بھی ہمیں نظر آتا ہے اور اس نقشے میں امید کا ٹمٹماتا ہوا ستارہ ، عقل معاد کی علامت میںڈھل کر راہ نجات کو روشن کرتا ہے۔
آٹھویں منظر میں قرآنی تلمیحات کے گنج گراں مایہ میں سے ایک خوبصورت تلمیح اٹھائی گئی ہے اور اس کے ذریعے یہ باور کرایا گیا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی مصنوعی، عارضی اور نا پائدار ہے۔حضرت سلیمان کی حاکمیت کا رنگ اور ریاست کا نظم چلانے کا طریقہ آج کے صنعتی انقلاب اور سرمایہ داری نظام سے کہیں زیادہ شاندار حقیقی اور ترقی یافتہ تھا۔معاشرے کا ہر فرد ( آدمی) اپنی تمام تر صلاحیتوں سے لیس تھا اور جانتا تھا کہ اس کے دست قدرت میں کیا کیا ہے۔ ایک آدمی جس کا نام آصف بن برخیا خیال کیا جاتا ہے کس قدر طاقتور روحانی قوتوں کا تصرف کرنے کا اہل تھا۔ یہ وہی روحانی تجربہ ہے جسے اقبال اپنے پہلے خطبہ Knowledge and Relegious Experience میں وجدان سے تعبیر کرتے ہیں۔ ہماری تہذیبی روایت میں مذہبی مشاہدات کا غالب اثر نظر آتا ہے۔ اقبال اپنے پہلے خطبے میں اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ مذہبی مشاہدات کے حقائق بھی دوسرے انسانی تجربات کی طرح معتبر حقائق ہیں اس لیے اس تجربے کو محض وہم کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔ آصف بن برخیا کے پاس وجدان سے حاصل کردہ علم ہی تھا جس کے ذریعے اس نے پلک جھپکنے میں کوسوں کا سفر طے کر لیا تھا۔
اس منظر میں سرمایہ دارانہ ترقی، مادیت پرستی اور حرص و ہوس کی نمائندہ مشینہ کو عہد سلیمانی کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے۔ یہ منظر دکھانے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی ترقی صرف مادے کی ترقی نہیں ہے بلکہ پورے انسان کی ترقی ہے۔ ساتھ ہی شاعر نے ایک مصلح ، دانشور اور صاحب علم کی حیثیت سے دعوت کا فریضہ بھی ادا کر دیا ہے۔ فلک سے بغاوت نے آدمی کو نادمی بنا دیا ہے۔شاعر نے یہ بات پرندوں کی علامت کے ذریعے سمجھائی ہے۔ اگرچہ پرندوں کی زبان میٹھی ہوتی ہے ، وہ بلند پرواز ہوتے ہیں ، ان پر الہامی قوتیں اپنا تصرف رکھتی ہیں اور ان کی جبلت انھیں راستوں کی پہچان کروا دیتی ہے لیکن مقراض لا تک ان کی پہنچ کیسے ہو سکتی ہے۔جہاں جبریل کے پر جلتے ہوں وہاں ہما شما کی کیا حیثیت ہے۔ اس نظم میں پرندوں کا در آنا دراصل ان خوبیوں کی وجہ سے ہے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ مشینہ کا کرداران سارے رازوں سے واقف ہے ۔ وہ سب علامتوں کو سمجھتی ہے مگر چپ ہے۔ شاید اندر سے یہ سمجھتی ہو کہ ٹیکنالوجی ان پرندوں کی علامتیں بھی اپنے تصرف میں لا چکی ہے۔ٹویٹ کا شہرہ عام اس کی ایک نمایاںمثال ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اندر ہی اندر اپنی فتح پر خوش ہے۔وہ خوش تو ہے لیکن وہ سرخوشی سےآشنا نہیں ہے۔آدمی کے پاس تو حیرت سے نمود کرنے والی سرخوشی کا خزانہ ہے۔نادمی کے پاس کیا ہے۔ شاعر کی آرزو ہے کہ اب، جب زمین کی کہانی ختم ہونے والی ہے ، مشینہ (نادمی) کو چاہیے کہ وہ حیرت بھری سرخوشی کو بچا لے۔یہ وہ آرزو ہے جس کو اقبال نے اپنی نظم ” ابلیس کی مجلسِ شوریٰ” میں “شرار ِآرزو “کہا ہے۔ ہما رے عہد سے پہلے اقبال واحد ادبی شخصیت تھے جو سرمایہ داری کے سامنے پورے سیاسی سماجی اور دینی شعور کے ساتھ تنہا کھڑےتھے۔ آج علی محمد فرشی اسی مقام پر کھڑے نظر آتے ہیں اور افسوس کہ وہ بھی تنہا ہیں۔
مشینہ کا نواں منظر بھی روح عصر کے ساتھ ساتھ تاریخ کے گہرے شعور اور مستقبل کے ادراک کو پورے شعری جوہر کے ذریعے بیان کرتا ہے۔اس منظر کا آغازمصنوعی ذہانت ( اے۔آئی)کی حیران کن صلاحیت اور اس دنیائے کاف و نون میں اس کی عملداری کے اعتراف میں چند سطروں سے ہوتا ہے:
’’مشینہ!
تو سب جانتی ہے
ترا پیٹ اے آئی کا حاملہ
ان گنت پوتھیوں،تھیلیوں سے بھرا
جن میں لاکھوں برس زندگی کی
کہانی کے اسرار محفوظ ہیں
ایک ننھے سے تارے میں
جھرمٹ ہوں جیسے
کئی کہکشاؤںکےرقصاں
گھمرتے،جھمرتے
گھمریاکے چکر سے
باہر نکلنےکو بے تاب !
جیسے کہ نوری زمانوںکا سیلاب اُمڈ تا ہے
صدیوں سے لمبے فلیتےنکلتے ہیں‘‘
اس کے بعد کی ساری سطریں اور نظم کا سارا متن مشینہ کی مئے بے رنگ کے سامنے سقراط، داتا علی ہجویری، للّہ عارفہ، مولائے روم اور علی بخش حیدری کی مئے گلفام کی قدرو منزلت کو اجاگر کرتا ہے۔ (یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام بہت ہے۔۔۔غالب) ہمارے ان تہذیبی و تاریخی کرداروںسے ہماری نسل تو خوب واقف ہے لیکن ما بعد انسانی عہد میں ان کا تعارف گم شدہ جوہر انسانی کا تعارف بن جاتا ہے۔مجھ سے پہلے اپنے تجزیے میں برادرم افتخار بخاری نےاس فکر کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔وہ مشینہ کو ایک ایسی مابعد انسانی ہستی قرار دیتے ہیں جو حافظے، سرعت رفتار اور بصارت میں انسان سے کہیں زیادہ صلاحیت کی مالک ہے۔ لیکن اس ہستی کوذرا بھی علم نہیں کہ وہ اخلاقی وجود، شعور ذات اور عرفان و صداقت جیسی نعمتوں سے یکسر محروم ہے۔ یہ منظر درحقیقت بصیرت ، فراست اور صداقت کے عہد زوال کا نوحہ ہےاگرچہ گوہر معانی تک رسائی میں کوئی دقت نہیں ہےلیکن ان فنی حربوں کو پہچاننا اگر ضروری نہیں تو ان پر ایک طالب علمانہ نگاہ ڈالنے میں کوئی حرج بھی نہیں جن کو بروئے کار لانے سےمعانی کا طلسم وجود میں آیا ہے۔مشینہ کا تانیثی کردار اور اس کا اے آئی سے حاملہ ہو جانا اور وہ بھی نظم کے نویں منظر میںلفظی و معنوی مناسبت کا خوبصورت اظہار ہے۔زبان اگرچہ سادہ ہے لیکن سمبل و علامتیں ایسی ہیں کہ ادب و شعر کا ذوق دونا ہو جاتا ہے۔ تنقیدی تحریروں میں ، تشبیہات کا ذکر آ جائے تو ہم اکثر نادر تشبیہ کی ترکیب استعمال کرتے ہیں۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ نادر تشبیہ لانا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ یہاں اس نظم اور اس منظر میں واقعی تشبیہات میں نادر و نایاب امیج نظر آتے ہیں۔ ان نوادر کی تخلیق و تکوین کا عمل اگرچہ لاشعوری رو میں خود بہ خود ظہور پذیر ہو جاتا ہے لیکن اس کے پیچھے وقت کا متخیلہ اور علم کا کتنا بڑا سفر ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ذرا دیکھیے یہ الفاظ، یہ تراکیب اور یہ امیج کیسے آپ کے ذہن کو گرماتے اور للچاتے ہیں:’’ پوتھیوں، تھیلیوں سے بھرا پیٹ‘‘،’’ صدیوں سے لمبے فلیتے‘‘، ’’ہتھیلی پہ آسودہ نازک بدن نازنین‘‘،’’ مچلتی چھاتیوں کے بٹن‘‘، ’’حیرت کی بجلی‘‘، ’’غیبی خزانے‘‘،’’ ساونی بادل‘‘،’’ معانی و الفاظ کی آبشاریں‘‘، ’’دانش کی پکنک‘‘، ’’حیرت کا ساحل‘‘، ‘‘معصومیت کے گھروندے‘‘،’’ ست کا پیالہ‘‘ ،’’ سہ قطرہ امرت‘‘، ’’غلامی کے جوتے‘‘، ’’معلوم و موجود کا باد گردی حمام‘‘،’’ دولے انسان‘‘۔اس فہرست میں نہ صرف نئی نکور اور نادر و نایاب تشبیہات ہیں بلکہ سمبل، علامتیں، استعارے، کنسیٹ، استعارے اور امیجز بھی ہیں جن کو الگ الگ دکھانے اور ان پر بحث کرنے کا محل نہیں ہے۔ تاہم توسیعی استعارے (Extended Metaphor) کی ایک جھلک دکھانے سے شاید کچھ اذہان کو اچھا لگے:
میں نے للّہ (۲)کے
ست کے پیالے سے چھلکے ہوئے
ایک سہ قطرہ امرت کے
چھینٹے میں دل کو بھگویا
وہ نورانی بارش
مجھے دھو گئی اس طرح
جیسے زم زم کے جھالوںسے
ہونے نہ ہونے کاسارا جہاں دُھل گیا ہو!
ست کا پیالہ، ایک توسیعی استعارہ ہے جس سے ایک اور توسیعی استعارہ’’سہ قطرہ امرت‘‘بھی جنم لیتا ہے۔ اور پورے پیراگراف پر اپنی ایک الگ فضا بنا کر تاثر کو گہرائی عطا کرتا ہے۔ست کا مفہوم جوہر حیات بھی ہے، سچائی اور راستی بھی، پاک دامنی و پارسائی بھی، استقامت و استحکام بھی۔ خالص ذات اور خالص شعور بھی یعنی دانش اور حکمت جو للّہ کے ذہن رسا سے چھلک رہی تھی اور شاعر کے ذہن میں اتر رہی تھی، اسے دکھانے کے لیے شاعر نے ست کے پیالے کا استعارہ بنا کر اس کے چھلکنے، اس کے امرت قطرے کے چھینٹے سے دل کو بھگونے نورانی بارش اور زم زم کے جھالوں کے مناظر تک اس استعارے کو توسیع دے کر شاعر نے ہماری اور اپنی ذات کو ہی نہیں سارے جہان کی پاکیزگی کو پھول کی طرح مہکا دیا ہے۔ یہ کام توسیعی استعارے کے بغیر ممکن نہیں تھا۔اے آئی کو ہماری تہذیب کے جن کرداروں سے شاعر نے متعارف کروایا ہے ان میں سے مولائے روم اور للّہ عارفہ کی شاعری کو اس نظم کے اندر ایک مرصع ساز کی طرح ٹانک دیا ہے۔ للّہ عارفہ کی وہ دانش شاعر نےخوبصورت لفظوں میں بیان کر دی ہے۔ کہ اگر سننا چاہتے ہو تو بہرے بن جاؤ، کچھ کہنا چاہتے ہو تو گونگے ہو جاؤ اور اگر دیکھنا چاہتے ہو تو اندھے بن کر رہو۔للّہ عارفہ کی یہ روشنی اس نظم کے کئی منظروں میں چمک رہی ہے۔ بلکہ اس نظم کی تکمیل میں بھی للّہ عارفہ کی روحانی توجہ کا دخل ہے۔ نظم کے زیر نظر منظر کا جوہر للّہ عارفہ کی واکھ سے اخذ کردہ دانش ہے یعنی:
’’مشینہ!
صداقت ہمیشہ بہت کم ملے گی
مگر دیکھتے ہی اسے
دل مچلنے لگے گا
کہ تسلیم ہے !
ہاں !یہی حسنِ اوّل کی تعظیم ہے!!‘‘