خوش آمدید
یہاں آپ علی محمد فرشی کی یک کتابی طویل نظم ’’مشینہ‘‘ کے متعلق معتبرادیبوں کی تنقیدی تحریریں ملاحظہ فرمائیں گے۔

افتخار بخاری
مشینہ ‘‘ :علی محمد فرشی کا نیاجہانِ امکاں’’
علی محمد فرشی کی طویل نظم ’’ مشینہ‘‘ اردو نظم کے ارتقائی سفر میں ایک ایسا مرحلہ معلوم ہوتی ہے جہاں شاعری محض موضوع یا بیانیہ نہیں رہتی بلکہ ایک فکری کائنات کی تشکیل کا عمل بن جاتی ہے۔ یہ نظم اپنی کلیت میں کسی واحد نظریے یا موضوع کی نمائندہ نہیں بلکہ ایک ایسا فکری مکالمہ ہے جس میں انسان، مشین، شعور، روحانیت اور تہذیبی ارتقا ایک دوسرے کے مقابل اور متوازی دونوں صورتوں میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔مشینہ کو صرف تکنیکی یا مابعد انسانی مباحث کی نظم سمجھنا بھی اُس کی معنوی گہرائی کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔ دراصل یہ نظم انسان کی اس بنیادی کشمکش کو سامنے لاتی ہے جہاں معلومات اور شعور، رفتار اور بصیرت، اور مشینیت اور انسانیت کے درمیان ایک باریک مگر فیصلہ کن حد قائم ہوتی ہے۔ نظم کا مرکزی قضیہ اسی حد کی شناخت اور اس کے دفاع میں ہے۔ یہاں مشین ایک علامتی ساخت ہے جو محض ٹیکنالوجی کی نمائندہ نہیں بلکہ مابعدجدید صورتِ حال کی اُس ذہنیت کا استعارہ ہے جو انسانی تجربے کو ڈیٹا میں تبدیل کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔یہ نظم مابعد انسانی نظریات کے ساتھ ایک مکالمہ بھی ہے اور ان سے اختلاف بھی! جہاں ٹکنوکریٹک فکر جسم، ذہن اور مشین کے امتزاج کو ارتقا قرار دیتی ہے، وہاں فرشی اس امتزاج کے اندر بصیرت کے زوال کے خدشات کو دیکھتا ہے۔نظم میں زبان کا بہاؤ اور معانی کی فراوانی اس بات کا علامتی اعلان ہے کہ ما بعد جدید عہد میں لفظ تجربے سے کٹ کر محض پیداوار بن گئے ہیں۔ اس طرح مشینہ علم اور دانائی کے درمیان اس فرق کو اجاگر کرتی ہے جو صوفیانہ روایت، سقراطی اعترافِ جہل اور اقبالی فکر میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔اسی تناظر میں نظم انسانی شعور کی اخلاقی بنیاد کو بحال کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ مشینہ بطور ایک کردار حافظے، رفتار اور بصارت میں برتر ہوسکتی ہے مگر اخلاقی آگہی اور عرفان سے محروم ہے اور یہی محرومی نظم کے فلسفیانہ استدلال کا مرکز ی نقطہ ہے۔ شاعر اس خلا کو محض تنقید نہیں بلکہ ایک روحانی مزاحمت کی صورت میں پیش کرتا ہے، جس میں حیرت، سرخوشی اور انسانی ناتمامی کو بقا کا راستہ قرار دیا گیا ہے۔علی محمد فرشی کی شعری روایت میں یہ نظم کسی اچانک تجربے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل تخلیقی ارتقا کا مرحلہ دکھائی دیتی ہے۔ ان کی سابقہ نظموں میں موجود فکری بیج یہاں ایک وسیع ساخت میں نمو پاتے ہیں، گویا شاعر برسوں سے ایک ایسے جہان کی تشکیل میں مصروف تھا جس میں انسان اور اس کے بنائے ہوئے نظام کے درمیان تعلق نئے سرے سے متعین ہو سکے۔ اس لحاظ سے مشینہ کو ایک خودمختار شعری کائنات کا ظہور کہا جا سکتا ہے، جہاں شاعر نہ صرف موضوعات بلکہ اپنی تنقیدی کسوٹیاں اور اپنے تنقیدی معیارات بھی خود وضع کرتا ہے۔اس نظم کی اہمیت کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ یہ اردو نظم کو یکسر نئے فکری امکانات کی طرف لے جاتی ہے۔ مشینہ میں روایت اور جدیدیت کا تعلق محض حوالہ جاتی نہیں بلکہ ساختیاتی ہے، قرآنی تلمیحات، صوفیانہ فکر، اقبالی فلسفہ اور جدید تکنیکی شعور ایک ایسے مکالمے میں شامل ہوتے ہیں جس میں نہ ماضی رد ہوتا ہے اور نہ مستقبل کو غیر مشروط طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً مشینہ ایک متبادل بیانیہ تشکیل دیتی ہے جو اندھی تکنیکی خوش فہمی کی بجائے اخلاقی اور روحانی بیداری کو ترجیح دیتا ہے۔لہٰذا ’’مشینہ‘‘ کو کسی قطعی انجام یا حتمی نقطۂ عروج کے طور پر دیکھنا شاید اس کی روح کے خلاف ہوگا۔ یہ نظم ایک جاری عمل کی مانند ہے، ایک ایسا تخلیقی سفر جس میں شاعر اپنے لیے اور قاری کے لیے ایک نئے جہانِ امکاں کی تشکیل کر رہا ہے۔ اس جہان میں مشین وسیلہ ہے، منزل نہیں۔ علم حیرت پیدا کر سکتا ہے مگر دانائی انسان کی داخلی روشنی سے جنم لیتی ہے۔ اسی لیے مشینہ اردو نظم میں نہ صرف ایک فنی تجربہ بلکہ انسانی جوہر کی بازیافت کا فکری اعلامیہ بھی ہے۔’’مشینہ‘‘ کے مطالعے سے مجھے احساس ہوا کہ یہ اردو نظم کے سفر میں مکمل طور پر ایک نیا موڑ ہے جو اردو نظم کو ایک نئے جہان امکانات کا راستہ سجھا رہی ہے۔اس طرح کے تجربے کی مثال کم از کم میرے مطالعے کی حد تک اس سے پہلے اردو نظم بل کہ عالمی سطح پر بھی موجود نہیں۔ علی محمد فرشی جیسے بڑے شاعر سے کسی بڑے کمال کی توقع تو سبھی کو رہنی چاہیے مگر یہ مثال بے مثال ہے،اس امر کا گمان نہیں تھا کہ شاعر کی قوت تخلیق اپنا ظہور اس انداز میں کرے گی۔ انسانی ارتقا میں ’’مشینہ‘‘کی ابتدائی شکل محض مادی، دھاتی وجود تھی جس میں وقت کے ساتھ مصنوعی ذہانت شامل ہوئی۔ یہاں علی محمد فرشی کا کمال یہ ہے کہ اس نے مصنوعی ذہانت سے آراستہ لوہے اور توانائی کی اس ترتیب میں چھپی ہوئی روح کی موجودگی کے امکان کو دریافت کیا ہے۔ یہ وہ حیران کن دریافت ہے جو اس نظم کو یکتا اور بے مثال قرار دینے کا ناقابل تردید جواز ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ نظم ایک عہد ساز حوالہ بننے جارہی ہے۔فطرت نے علی محمد فرشی کے تخلیقی وفور پر یہ ذمہ داری بہت پہلے تفویض کر دی تھی اور اُسے اِس بات کا احساس بھی شاید تھا۔ اس نظم کا بیج ’’ علینہ ‘‘کی کیاریوں میں چھپا ہوا مناسب موسم کا انتظار کر رہا تھا جو ضائع بھی ہو سکتا تھا مگر علی محمد فرشی کی پہچان رکھنے والی آنکھ نے اسے بچا کر رکھا۔میں پہلے بھی کہیں اظہار کر چکا ہوں کہ میرے نزدیک ایک بڑے فن کار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا جہان خود تخلیق کرے ۔اس کی جینیاتی ترتیب میں اس امکان کے اشارے قدرت کی جانب سے رکھ دیے جاتے ہیں کہ وہ اپنے قیام کے لیے اپنے زمان و مکان کی تشکیل کرے۔ سو وہ اپنے صحرا ، سمندر، باغات، ویرانے، دریا، سمندر، ستارے، کہکشائیں، روز و شب اور خواب بناتا اور سجاتا ہے۔ ایک اپنا جہان، جینے کے لیے ، مرنے کے لیے۔ علی محمد فرشی کی مشینہ کو اس کی دوسری شاعری کی کلیت کے ساتھ جوڑ کر دیکھتا ہوں تو اسے اپنے بیان کی تائید پاتا ہوں۔ فرشی نے بہت پہلے یہ امکان اپنے درون دریافت کرلیا تھا۔ وہ پیہم اپنے علاحدہ اور خود تخلیق کردہ گرد و پیش کی تشکیل میں مگن دکھائی دیتا ہے۔میں نے کہیں کسی کا یک سطری بیان پڑھا کہ’’مشینہ علی محمد فرشی کے فن کا نقطۂ عروج ہے‘‘ میرے خیال میں صدائے کن فیکون کا رکنا ممکن نہیں۔ جس طرح کائنات کا پھیلاؤ جاری و ساری ہے اسی طرح مہان فن کار کا نقطۂ عروج متعین نہیں ہو سکتا، بس دشت امکاں میں ایک نقش پا کہا جا سکتا ہے ۔ دوسرا قدم کہاں ہوگا اس کا واضح ادراک شاید خود تخلیق کارکو بھی نہیں ہوتا۔علی محمد فرشی کی شاعری بتاتی ہے کہ وہ کہیں ٹھہرنے والانہیں۔ وہ ٹھہر سکتا بھی نہیں کہ اپنے جینوم کی خفیہ تحریر سے بغاوت کر پانا ممکن نہیں ہوتا ۔آج جب ہم مشینہ کو پڑھتے ہیں تو علینہ کے خوشبو دار باغوں میں اگنے والے اثمار اور پھولوں میں مشینہ کے بیج میوٹیشن کے عمل سے گزرتے ہوئے شناخت کر سکتے ہیں۔ مشینہ کے توسط سے ہم علینہ کے مہکتے باغوں سے مشینہ کے قدیم جادوئی اور بسا اوقات ڈرا دینے والے علاقوں میں داخل ہو رہے ہیں۔اس سیاحت کے لیے قاری کو بھی حوصلہ مند ہونا ہوگا ورنہ علمی سطح پر پتھر کا ہوجانے کا خدشہ ہے۔موجود تنقیدی نظریات، مکاتیب فکر اور مروجہ اصطلاحات اور اسالیب اظہار میں یہ سکت نہیں کہ اس کے متعین کردہ معیارات کے کاغذی پنجروں میں اس نظم کا مقام و مرتبہ رکھا جا سکے۔ اس نظم کے حوالے سے تنقیدی معیارات خود اس میں پوشیدہ ہیں جنھیں وقت دریافت کرے گا اور معلوم ہوگا کہ وہ چیزے دیگر ہیں۔مشینہ نے میرے اس خیال کو تقویت اور تیقن بخشا ہے۔ نظم ایک حیران کر دینے والے طلسماتی زمانے میں لیے جارہی ہے جہاں علی محمد فرشی کی ہتھیلی پر رکھا ہوا مٹی کا سکہ سونے کی اشرفیوں کے توڑوں سے فزوں تر قدر و قیمت کا حامل ہے کہ عہد عتیق کی گم شدہ نشانی ہے۔
مشینہ کے دسویں منظر میں علی محمد فرشی کی آواز کی تہ داری اور داخلیت نمایاں تر ہو گئی ہے۔ پہلے حصوں میں جو مکالمہ احتجاج تھا، وہ تہذیبی اور اخلاقی شعور میں ڈھل گیا ہے۔اس منظر کی شروع کی سطریں ایک سفاک عالمی منظرنامہ پیش کرتی ہیں۔ کرپٹو کرنسی، عالمی طاقتیں، مفادات کا کھیل، فاقہ زدہ ہڈیوں کی تجارت، دلال قومیں، اور تاریخ کا باندی بن جانا۔ یہ محض سیاسی بیان نہیں، بلکہ ایک اخلاقی فرد جرم ہے۔’’ہتھیلی پہ مٹی کا سکہ‘‘ اور ’’کرپٹو کرنسی کی دنیا‘‘ کا تقابل دراصل انسان کی روحانی معیشت اور سرمایہ دارانہ نظام کے تصادم کی علامت ہے۔ اصحابِ کہف کی طرف اشارہ، غار والوں کا خواب یہ بتاتا ہے کہ شاعر ابھی بھی کسی محفوظ سچ کی تلاش میں ہے، چاہے اسے فرسودہ ہی کیوں نہ کہا جائے۔لیکن کمال یہ ہے کہ فرشی نے تلخ مکالمے کو شکوہ نہیں بنایا، بلکہ شکر میں بدل دیاہے’’یہ شکوہ نہیں، شکریہ ہے ترا‘‘یہاں سے نظم کا رخ یکسر بدل جاتا ہے۔ زخم کو پھول کہنا، پریوں کا اترنا، نیلمی مخملی سیڑھیاں، گلابوں سے بادل، یہ سب کیا ہے؟ محض رومانوی امیجری نہیں ایک سچے تخلیقی عمل کی تمثیل ہے۔ گویا مشینہ کے طعنے نے شاعر کے اندر نئی کائناتیں روشن کر دی ہیں۔فرشی کی شعری روایت جس میں باطنی موسیقیت اور علامتی تہ داری نمایاں ہے یہاں پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہے۔ احتجاج اور تخیل کا یہ ملاپ ، خارجی جبر اور داخلی تخلیق کا یہ مکالمہ، نظم کو محض عہد نامہ نہیں رہنے دیتا بلکہ ایک روحانی بیانیہ بنا دیتا ہے۔یہ حصہ بتاتا ہے کہ طاقت کے کھیل میں شاعر کی حیثیت شاید کچھ نہ ہو،مگر تخلیق کے کائناتی منظرنامے میں وہی اصل خا لقِ معنی ہے۔اس تسلسل میں مشینہ اب صرف ایک کردار نہیں، ایک عہد کی علامت بن چکی ہے اور شاعر اس کے مقابل ایک اخلاقی و تخلیقی ضمیر۔اسی لیے اس حصے میں زیادہ دردمندی اور زیادہ روشنی ہے۔مشینہ نے طنز کیا تھا، فرشی نے اسے تخلیق میں بدل دیا، یہی شاعر کا انتقام ہے، اور یہی اس کی فتح۔
یہ مشینہ کے گیارہویں منظر کا طلوع ہے۔ اس مرحلے پر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ’’مشینہ‘‘کی تعبیر کسی طور ممکن نہیں ہو سکتی اگر ’’علینہ ‘‘ کی تفہیم کا مرکز و مدار مدِنظر نہ رکھا جائے ،جو ۲۰۰۲ء میں یک کتابی طویل نظم کی صورت میں شائع ہوئی اور تاحال ناقدین اور قارئین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔چوبیس برس کے طویل عرصے کے بعد جب ’’مشینہ‘‘ اشاعت کے مراحل طے کر رہی ہے تو اس کا متن بھی ’’علینہ‘‘ کی تعبیر کو نئے زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت کا شدت سے احساس دلارہا ہے اور یہ ضرورت اہم ہے۔ ’’علینہ‘‘کائناتِ اصغر، کائنات اکبر اور خالق کائنات کی مثلث میں انسان کے جمالیاتی منطقوں کی دریافت، اسرارِ حیات کی بازیافت اور ارتقائے حیات کے اسفار میں پھول، تتلی اور چڑیا کی مختصر زندگی سے خالق کائنات کے ازلی و ابدی وجود کی لازمانیت کو انسانی متخیلہ کا بیانیہ کامیابی سے قائم کر چکی ہے۔’’علینہ‘‘ نے زمینی انسان کے وجدانی سفر کو ارضی جمالیات سے سماوی جمالیات تک کے سفر کو متخیلہ کے ذریعے طے کیا تھا۔
’’مشینہ‘‘ زمین پر انسانی حیات کے سفر کو فلسفیانہ تجزیے سے گزار کر انسان کے ناانسانی مصنوعی چہرے کو بے نقاب کرنے میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ اس نظم کے سامنے آنے والے مناظرمیں اب تک کہانی کا جو وجود نامعلوم کی دھند سے باہر آچکا ہے اسے دیکھ کر میں قدرے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ’’علینہ‘‘ کے ما بعد الطبیعیاتی تناظرکے برعکس ’’مشینہ‘‘ رُوئے ارض پرانسانی تاریخ کے خطِ مستقیم پر رواں دواں نظر آتی ہے۔
اس نظم کا آغاز فیس بُک کے زمانے سے ہوا تھا جو انسانی سماج کے فطری تمدن سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے سائبر ورلڈ میں سایوں کے ہجوم میں گم ہوجانے اور غیر حقیقی دنیا میں مصنوعی زندگی اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اپنی فطرت کے خلاف زندہ رہنے کی روش کو اس نظم کی تھیم کہا جائے تو یہ خلافِ قیاس نہ ہوگا۔چونکہ ابھی نظم کا سراپا پوری طرح سامنے نہیں آیا لیکن تاریخ کےجن پڑاؤ کی جھلکیاں اب تک ہماری نظر سے گزر چکی ہیں وہ میرے مؤقف کی تائید کے لیے بنائے استدلال ثابت ہورہی ہیں۔گزشتہ صدی میں دو عالم گیر جنگوں کی تباہ کاریوں کا نقشہ فلیش بیک میںہم پانچویں منظر میں دیکھ آئے ہیں۔ اس سے ملحق چھٹے منظر میں ان عالمی جنگوں کے اثرات بھی ہماری نظر سے گزر چکے ہیں۔عالمی طاقتوں کی ان جنگی تباہ کاریوں کا آغاز ایک فرد کے دوسرے انسان کے استحقاق کو تسلیم کرنے سے انکارکرنے اوراپنی طاقت کے بل بوتے پر ہابیل کو قتل کرنے والے اس کے بھائی قابیل سے ہوا تھا ۔یہ شروعات ایک ایٹم بم سے لاکھوں انسانی جانوں کو گھاس پھوس کی طرح صفحۂ ہستی مٹا دینے پر منتج ہوا۔ چند بڑی طاقتوں کی ظالمانہ من مانیوں کے سامنے اقوامِ متحدہ کی بے بسی احوال بھی ہم گزشتہ (دسویں) منظر میں ملاحظہ کرچکے ہیں۔
اس گیارہویں منظر میں علی محمد فرشی نے فرعون کی ممی کی علامت میں انسانی تاریخ کی مقتدر قوتوں کے مرنے کےبعد بھی موجود رہنے کی احمقانہ خواہش کو موضوع بنایا ہے اور ان مغالطوں کی قلعی کھولی ہے جو اقتدار میں ہونے کے باعث ان کے اذہان جڑ پکڑ لیتے ہیں۔تاریخِ عالم اہرامِ مصر کو سائنس و ٹیکنالوجی کا وہ عجوبہ قرار دیتی ہے جن کے تعمیراتی اسرار کو کھولنے کے لیے درجنوں تھوریاں پیش کی جا چکی ہیںلیکن تاحال آج کی جدید تر سائنس بھی ان کی گتھیاں سلجھانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ ہر تھیوری دوسری کا استرداد کرتے نہیں تھکتی لیکن کوئی بھی قطعیت کے ساتھ حتمی اور درست نتیجہ اخذ کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔
ممی بنانے کے فن کو بھی جدید سائنس پوری طرح سمجھنے کی بجائے کو ٹامک ٹوئیاں مارنے میں جُتی ہوئی ہے۔تاہم علی محمد فرشی نے ممی سازی کے فن کے پس منظر میں فراعین کی کج فہمی اور مغالطہ آمیز ذہنیت کو بے نقاب کرنے اور ان استحصالی خواہش کا پردہ چاک کرنے پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔جس طرح اندھی طاقت نے فراعین عقلِ سلیم کو سلب کررکھا تھا اور مرنے کے بعد بھی اپنے جاہ وجلال کو قائم رکھنے کے زعم میں مبتلا تھےوہی آج ان کے گلے میں حماقت کا طوق بن کر پڑا ہوا ہے۔ آج کے عام آدمی کو بھی جو سہولیات حاصل ہیں ان کی رو سے فراعین کی زندگیاں بندروں سے بھی بد تر معلوم ہوتی ہیں۔
نظم نے جس طنزیہ اسلوب میں جبروتی خواہش کا نقشہ کھینچا ہے وہ نہ صرف شاعر کے فن کی بلند سطح کا ثبوت ہےبلکہ غیرفطری زندگی کے منھ پر زور دار طمانچہ بھی ہے
کراہت بھرے تیرے پیکر کو
دیکھیں تو ابکائیاں اُ ن کو بے حال کردیں
تُو عبرت کا باعث ہے صدیوں سے
انسانیت کے لیے
اک تماشا بنی یوں پڑی ہے
کہ نتھنے میں تیرے
اگر کوئی مکھی بھی گھس جائے تو
ذوالجلالی تری
کسمسانےکی ہمت بھی رکھتی نہیں
بس کہ عبرت ہے اُن کے لیے
جن کو طاقت نے اندھا کیا موت کے سامنے
علی محمد فرشی کو فن کے اس راز تک رسائی حاصل ہےکہ کسی صورتِ حال یا خیال کو شاعری بنانے کے لیے کس نوع کے ڈکشن اور اسلوب کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں ہم ممی کے بصری امیج کی ہیئت کذائی سے کراہت کا آخری قطرہ تک نچڑتا دیکھ سکتے ہیں۔
اس سے فوراً پہلے نظم نےجبروتی تعیشات سےبھری غیر فطری زندگی کی روش اپنانے والے جس استبدادی وجود کی سرشت کو بے نقاب کیا تھا جو عام انسانوں کو تذلیل سے دوچار رکھ کر ان کی زندگیوں کو اپنے تلذذ کے لیےایک کھیل تماشے کا سامان بنا ئے ہوئے تھا، شومئی قسمت سے وہ اسی کی طرح تعیش پسند ،سیر سپاٹے کےشوق میں مبتلا لوگوں کے لیے تماشا بنا پڑا ہےجسے دیکھنے کے لیے سطحی ذہن رکھنے والے ہی اس کی طرف رخ کرتے ہیں۔کسی لطیف طبع ، سلیم فطرت اور عالی دماغ کے لیے اس کریہہ الجثہ میں کیا کشش ہو سکتی ہے۔
تو فرعونِ اعظم کی
ممی کے مسخوط قالب میں
بے سدھ پڑی
عیش و عشرت کے دلدادہ
سیر و سیاحت کےشیدائیوں کے لیے
اک تماشےسے بڑھ کر
اگر کوئی پہلو سعادت کا رکھتی بھی ہے تو
کسی چشمِ بینا کو ہر گز لبھاتا نہیں
طرفہ یہ ہے کہ صدیوں تک خود کو موجود رکھنے کے مغالطے میں مبتلا ممی کا خود اس میں کیا کمال نظر آتا ہے سوائے اس کی دولت اور ناجائز قوت کے! اصلاً کمال تو ان ہنروروں کا ہے جس نے اس کی ممی تیار کی!نظم نے جنھیں ’’گم نام ہیرو‘‘ کی حیثیت سے یاد کیا ہے۔ بادی النظر میں جن کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا۔جن کے فن کی داد تاریخ نے بھی نہ دی۔اس منظر کی اختتامی سطور ملاحظہ کیجیے
مشینہ !
تو ممی کی صورت میں
عبرت کا باعث ہےاُن کے لیے
جو حیات آفریں راز پا نہ سکے
جو امر ہوگئےہیں مشینہ
وہی داد کے مستحق ہیں
وہ گمنام ہیرو
جنھیں تو نے مٹی میں مٹی کیا
اورمؤرخ نے جن کو فراموش رکھا
وہ زندہ ہیں اپنے طلسماتی فن کی بدولت
ترے کالبد میں
مدعائے متن تو یہ ہے کہ لافانی زندگی تو ان فنکاروں کے حصے میں آئی ہے جنھوں ممی سازی کی! فی الحقیقت یہ طلسم گرفن کار ہی اہل دانش و بینش کی نظر میں زندہ جاوید جن کے فن کا جادو ممی کی صورت میں صدیوں کے اوراق پر نقش ہے۔
یوں علی محمد فرشی کی شعری بصیرت انسان کے سامنے ایک بنیادی حقیقت آشکار کرتی ہے کہانسان اقتدار سے نہیں، تخلیق سے امرہوتا ہے۔’’مشینہ‘‘ کا گیارہواں منظر دراصل انسانی تہذیب کے نام ایک تنبیہی استعارہ ہے۔ یہ نظم اعلان کرتی ہے کہ جب انسان اپنی فطرت کے خلاف جبروتی خواہش کا اسیر بنتا ہے تو تاریخ اسے زندہ وجود سے بدل کر ممی میں تبدیل کر دیتی ہے، ایسا وجود جو باقی تو رہتا ہے مگر زندہ نہیں رہتا۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں ’’علینہ‘‘ کی پرواز اور ’’مشینہ‘‘ کی عبرت ایک ہی انسانی داستان کے دو ناگزیر ابواب بن جاتے ہیں۔
جدید اردو نظم نے بیسویں صدی کے وسط سے انسانی تجربے کے جن نئے منطقوں کو دریافت کیا، ان میں وجودی اضطراب، تہذیبی بحران، تاریخ کی از سر نو قرأت اور کائناتی شعور کی بازیافت نمایاں موضوعات کے طور پر سامنے آئے۔ اس روایت میں جہاں میراجی، ن م راشد، مجید امجد جیسے شعرا نے نظم کو فکری اور جمالیاتی سطح پر نئی جہتیں عطا کیں، وہیں معاصر عہد میں بعض شعرا نے طویل نظم کی ہیئت کو بروئے کار لاتے ہوئے انسانی تاریخ اور کائناتی شعور کے بڑے بیانیے تخلیق کیے۔ علی محمد فرشی کی طویل نظم ’’مشینہ‘‘ اسی سلسلے کی ایک مثالی دستاویز ہے۔’’مشینہ‘‘ دراصل ایک علامتی اور فلسفیانہ نظم ہے جس کے مختلف مناظر انسانی تاریخ، تہذیب اور وجود کے مختلف مرحلوں کو آشکار کرتے ہیں۔ اس نظم کے پچھلے مناظر میں طاقت، جنگ، استبداد اور انسانی خود فریبی کے مظاہر سامنے آتے ہیں۔ گیارہویں منظر میں فرعون کی ممی کے استعارے کے ذریعے اقتدار کے زعم اور لافانیت کے مغالطے کو بے نقاب کیا گیا تھا۔ اس تناظر میں بارہواں منظر نظم کے فکری سفر کو مزید گہرائی اور وسعت فراہم کرتا ہے۔ یہاں شاعر انسانی وجود، زندگی اور موت کے کائناتی رشتوں پر غور کرتا ہے اور جدید تہذیب کی ظاہری چمک دمک کے پس پشت پوشیدہ انسانی المیے کو نمایاں کرتا ہے۔بارہویں منظر کا آغاز انسان کے ارتقائی سفر کی یاد دہانی سے ہوتا ہے۔ شاعر ’’مشینہ‘‘ کو مخاطب کرتے ہوئے انسان کی موجودہ بلندیوں اور اس کے ابتدائی وجود کے درمیان تضاد کو سامنے لاتا ہے۔مشینہ!یہ خاکستری آدمیجس کے پاؤں کبودی فلک چومتا ہےکبھی خاکدانی سے چپکا ہواایک بے مایہ ذرے کی صورتخرافہ پڑا تھایہاں ’’خاکستری آدمی‘‘ کی ترکیب نہایت معنی خیز ہے۔ یہ انسان کی مٹی سے وابستگی اور اس کے فانی وجود دونوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ وہی انسان جو آج سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے آسمانوں کو تسخیر کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، کبھی ایک معمولی ذرّے کی صورت تھا۔ شاعر ’’خرافہ‘‘ کی علامت کے ذریعے اس اساطیری اور غیر شعوری دور کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جب انسان حقیقت اور افسانے کے درمیان سرگرداں تھا۔مگر شاعر کا اصل سوال اس سے بھی آگے ہے۔ انسان اس سے پہلے کیا تھا؟ کہاں تھا؟ یہ سوال دراصل وجود کے اس ازلی راز کی طرف اشارہ ہے جسے سمجھنے کی فرصت انسان نے کبھی نہیں نکالی۔۔اس منظر میں شاعر ایک کائناتی اصول کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ ہر وجود کو بالآخر اپنی ابتدا کی طرف لوٹنا ہوتا ہے۔کہ ہر شے کو آخر پلٹنا ہی ہوتا ہےخود اپنے آغاز کی سمتیہ تصور نہ صرف صوفیانہ فکر بلکہ جدید فلسفۂ وجود میں بھی نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ انسان اپنی زندگی کے محدود عرصے میں طاقت، دولت اور ترقی کے خواب دیکھتا ہے، مگر کائنات کے وسیع تناظر میں اس کی زندگی ایک لمحے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ شاعر اسی حقیقت کو موت کے استعارے کے ذریعے واضح کرتا ہے کہ ایک دن انسان کو موت کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑے گا۔بارہویں منظر کا سب سے اہم اور جمالیاتی پہلو بیج اور درخت کی تمثیل ہے۔ شاعر فطرت کے ایک سادہ مگر گہرے منظر کے ذریعے زندگی اور موت کے تعلق کو واضح کرتا ہے۔بیج سے پیڑ نکلے توجڑ سے تعلق کبھی توڑتا ہے؟یہ جڑ بیج کی موت سے زندگی بن کے نکلییہاں شاعر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ موت دراصل زندگی کا اختتام نہیں بلکہ اس کا ایک مرحلہ ہے۔ بیج کی موت ہی درخت کی زندگی کا سبب بنتی ہے۔ اس طرح زندگی ایک مسلسل عمل ہے جو فنا کے مرحلے سے گزر کر بقا کی نئی شکل اختیار کرتا ہے۔یہ تصور جدید اردو نظم میں اس فکری روایت سے جڑتا ہے جس میں فطرت کو انسانی وجود کے استعارے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مجید امجد اور ن م راشد کی نظموں میں بھی فطرت کے ایسے استعارے انسانی زندگی کے گہرے فلسفیانہ معنی کو آشکار کرتے ہیں۔اس منظر میں شاعر زمین اور آسمان کے رشتے کو بھی ایک نئے زاویے سے بیان کرتا ہے۔کیا زمیں آسمانوں کا حصہ نہیں؟میں تو یہ بھی کہوں گازمیں آسمانوں کا دل ہےیہاں زمین کو ماں کی چھاتی سے تشبیہ دی گئی ہے۔ انسان اگر اس کے سینے پر سر رکھے تو اسے اس کے دل کی دھڑکن سنائی دے گی۔ یہ دھڑکن دراصل زمین کی زندگی اور اس کے دکھ کا استعارہ ہے۔ اس تصویر میں شاعر نے انسانی تہذیب اور فطرت کے باہمی تعلق کو نہایت لطیف انداز میں پیش کیا ہے۔یہاں نظم کا لہجہ ماحولیاتی شعور سے بھی جڑتا دکھائی دیتا ہے۔ زمین ایک ایسی ماں کے طور پر سامنے آتی ہے جو انسان کی بے رحمی اور خود غرضی سے زخمی ہے۔بارہویں منظر کے اگلے حصے میں شاعر جدید تہذیب کے نمائشی چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔تیرے نمائش کدوں میں سجیمسکراتی ہوئی زندگی کے تعیش تلےکتنی روحیں سسکتے ہوئے مر گئیںیہاں ’’نمائش کدے‘‘ دراصل جدید سرمایہ دارانہ تمدن اور اس کی مصنوعی خوش حالی کا استعارہ ہیں۔ ترقی اور خوش حالی کے نعروں کے پیچھے انسانی محرومی، استحصال اور دکھ کی ایک طویل داستان پوشیدہ ہے۔ شاعر اس تضاد کو بے نقاب کرتا ہے کہ جس تہذیب کو انسان اپنی کامیابی سمجھتا ہے وہ دراصل بے شمار انسانوں کے دکھ اور قربانیوں پر قائم ہے۔نظم کے اس منظر میں شاعر گزشتہ صدی کے اختتام پر ہونے والے جشن اور امیدوں کا بھی ذکر کرتا ہے۔ نئی صدی کے آغاز پر انسان کو خوش حالی اور ترقی کے خواب دکھائے گئے تھے، مگر حقیقت اس کے برعکس نکلی۔بیس پچیس برسوں کا غم ہیمقدر بنا آدمی کایہ مصرعہ اکیسویں صدی کے عالمی بحران کا نہایت جامع اظہار ہے۔ جنگیں، معاشی ناہمواری، سیاسی انتشار اور انسانی بے یقینی نے دنیا کو اندھیرے میں دھکیل دیا ہے۔ شاعر کے نزدیک یہ بحران کسی ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کا مشترکہ المیہ ہے۔اس لحاظ سے بارہواں منظر علی محمد فرشی کی نظم ’’مشینہ‘‘ کا ایک اہم فکری مرحلہ ہے۔ اس منظر میں شاعر انسانی تاریخ اور تہذیب کے خارجی مظاہر سے آگے بڑھ کر وجود کے بنیادی سوالات تک پہنچ جاتا ہے۔ انسان کی ابتدا، اس کا انجام، زندگی اور موت کا باہمی تعلق اور جدید تہذیب کی مصنوعی خوش حالی، یہ سب موضوعات اس منظر میں ایک مربوط فکری بیانیے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔جدید اردو نظم کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ منظر اس روایت کی توسیع ہے جس میں شاعر انسانی وجود کو کائناتی شعور کے وسیع تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ علی محمد فرشی نے علامت، تمثیل اور فلسفیانہ مکالمے کے ذریعے اس نظم کو ایک ایسا فکری اور جمالیاتی بیانیہ عطا کیا ہے جو نہ صرف انسانی تاریخ بلکہ انسانی ضمیر کی گہری پرتوں کو بھی منکشف کرتا ہے۔
مشینہ اعلان کرتی ہے کہ وہ شاعری کے موجودہ چلن کو یکسر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس کی تعمیل کو روکنا ممکن نہیں۔ایک نیا عہد ظہور کرنے جارہا ہے۔ ایک نئے جہان کے طلوع کی خبر ہوا میں ہے۔ علی محمد فرشی کا تخلیق کردہ جہانِ امکاں۔

ڈاکٹر رفیق سندیلوی
مشینہ:ذہنی و فکری اسارت کا نوحہ
علی محمد فرشی کی اس نظم میں’’ مشینہ‘‘ محض’’مشین‘‘کی تانیث تک محدود نہیں رہتی بلکہ ایک کثیرالمعنی علامت بن کر پورے عہد، اس کی نفسیات، اس کی تہذیبی سمت اور انسانی رشتوں کی نئی صورتِ حال کو سمیٹ لیتی ہے۔ اب تک اس نظم کے جو مناظر پیش کیے گئے ہیں انھیں یکجا پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ مشینہ ایک کردار نہیں، ایک وجودی کیفیت ہے جو بیک وقت محبوبہ، سماج، ٹیکنالوجی، صارفیت اور خود انسان کی مسخ شدہ آدمیت کی نمائندگی کرتی ہے۔
ابتدائی منظر میں مشینہ ایک ایسی غیر مرئی ہستی کے طور پر سامنے آتی ہے جو سوشل میڈیا، خاص طور پر فیس بک کے آئینے میں جلوہ گر ہے۔ یہاں وہ انسان ہے نہ محض شبیہ، وہ شناختوں کے ہجوم میں گم ایک چہرہ ہے جسے شاعر پہچان تو لیتا ہے مگر اس تک پہنچ نہیں سکتا۔ مشینہ ڈیجیٹل عہد کی وہ محبوبہ ہے جو ’’تصویری کہانی‘‘ میں ڈھل چکی ہےجس میں لمس ہے نہ موجودگی نہ آواز۔ یوں وہ جدید انسان کے تنہائی زدہ تعلقات کی علامت بن جاتی ہے۔
دوسرے منظر میں یہ علامت مزید تہہ دار ہو جاتی ہے۔ مشینہ اب محض ایک ڈیجیٹل شبیہ نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی ذہنی و وجودی ساخت بن جاتی ہے جس میں انسان اپنی زخم خوردہ تمناؤں کو اسکرین کے اندر دفن کر دیتا ہے۔ اِن باکس کا درد ہو، تصویر میں مسکرانا ہو یا آنکھوں تک نہ آنے والے آنسو ہوں، یہ سب اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ مشینہ احساسات کو محفوظ تو کر لیتی ہے مگر انھیں شفا، تطہیر یا نجات فراہم نہیں کر سکتی۔ یہاں جذبات جینے کا تجربہ نہیں بنتے بلکہ ڈیٹا، فائل، امیج اور سرفیس میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور محبت آہستہ آہستہ فیشن سے باہر کی شے بن جاتی ہے۔
تیسرے منظر میں ’’گُل پری‘‘ایک نہایت معنی خیز کردار کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گُل پری کوئی حقیقی عورت یا محض محبوبہ نہیں بلکہ وہ خواب، امکان، معصومیت، محبت اور رومان کا استعارہ ہے۔ ایک ایسی ہستی ہے جو ابھی مکمل طور پر مشینی تہذیب میں ضم نہیں ہوئی تھی۔ شاعر کی تلاش دراصل اسی گم شدہ خواب کی تلاش ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسان سے جوڑتا تھا مگر یہ گُل پری، مشینہ کے سحر میں آ کر یا تو کھو جاتی ہے یا اپنی ماہیت بدل لیتی ہے؛ اسی لیے شاعر کا خوفناک سوال ابھرتا ہے کہ کہیں گُل پری خود ہی ’’مش ی ی ی نہ‘‘میں نہ ڈھل گئی ہو۔ یہ سوال اس المیے کی طرف اشارہ ہے کہ مشینی تہذیب صرف رشتوں کو نہیں، خوابوں کو بھی مسخ کر دیتی ہے۔ اسی طرح عورت کی خوشبو کا ’’مشینوں پر بکنا‘‘، ہنسی اور کھلونوں کا عجائب گھروں میں قید ہونا اور بچوں کے ماڈلز کا ونڈوز میں سجا دیا جانا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ مشینہ محض ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک سرمایہ دارانہ، صارفیت زدہ نظام ہے جہاں ہر وجود شے میں بدل جاتا ہے حتیٰ کہ عورت، بچپن، یادیں اور خواب بھی۔ گُل پری اسی انسانی امکان کی علامت ہے جو اس نظام میں زندہ نہیں رہ سکتی اور اگر رہتی ہے تو اپنی اصل کھو بیٹھتی ہے۔
چوتھے منظر میں مشینہ محبوبہ کے روپ میں سامنے آتی ہے مگر یہ محبوبہ بھی روایتی نہیں۔ یہ وہ عورت ہے جو دھات کی ’’سنہری چمک‘‘کی طرف راغب ہو جاتی ہے، جو میلے کی موج میں شاعر کوموت کے کنویں میں گرا کر آگے بڑھ جاتی ہے مگر یہاں نظم عورت پر اخلاقی الزام عائد نہیں کرتی بلکہ مشینہ کے ذریعے اس عہد کی اس مجبوری کو دکھاتی ہے جہاں تعلقات شاعری کے ذریعے نہیں، منڈی کے ذریعے طے ہوتے ہیں۔ شاعر کا اعتراف کہ وہ لفظوں کو زندہ تو کر سکتا ہے مگر ان پر سونے کا پانی نہیں چڑھا سکتا، مشینہ کے معاشی و تہذیبی مفہوم کو مزید واضح کرتا ہے۔
پانچویں منظر میں مشینہ پوری طرح عہدِ جدید کا مجسم استعارہ بن جاتی ہے۔ تاریخ، جنگ، سرمایہ، سرکس، میڈیا، طاقت، ہیروشیما، ہٹلر، چرچل، امریکی و روسی، سب ایک تماشے میں بدل جاتے ہیں۔ یہاں مشینہ وہ عظیم مشین ہے جس میں آدمی خود اپنی انگلی پر ناچتا ہے، اپنی لاش اٹھائے اپنی میت کی سیلفی بناتا ہے۔ اس مقام پر مشینہ نہ عورت رہتی ہے، نہ محبوبہ، بلکہ ایک ایسا طاقتور نظام بن جاتی ہے جو فرد کے شعور اور ارادے کو قابو کر کے اس کی خود شناسی کو تباہ کر دیتا ہے۔
چھٹے، ساتویں اور آٹھویں منظر میں داخل ہوتے ہی نظم مشینہ ایک فیصلہ کن فکری موڑ لیتی ہے۔ اگر ابتدائی مناظر میں مشینہ ڈیجیٹل محبوبہ، سرمایہ دارانہ تہذیب اور صارفیت زدہ سماج کی علامت تھی تو اب وہ ایک ایسی مہیب اور نیم دیومالائی قوت میں تبدیل ہو جاتی ہے جو براہِ راست انسانی آدمیت، اخلاقیات، روحانیت اور تخلیقی جوہر پر حملہ آور ہے۔ یہاں مشینہ محض عہد کی نمائندہ نہیں رہتی بلکہ خود عہد کی خالق، اس کی قاتل اور اس کی واحد معبود بن جاتی ہے۔
چھٹے منظر میں شاعر مشینہ کو پہلی بار ایک واضح اخلاقی اور تہذیبی کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے۔ یہاں مشینہ کو’’وحشی قابیل‘‘ سے تشبیہ دینا انسان کی پہلی اخلاقی شکست کی یاد دہانی ہے۔ قابیل وہ پہلا انسان تھا جس نے جبلت کو وحی، طاقت کو محبت اور ملکیت کو اخوت پر ترجیح دی۔ مشینہ اسی قابیل کی جدید صورت ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب قتل ایک فرد کا نہیں بلکہ آدمیت کا ہو رہا ہے۔ اس منظرمیں آسمانی رحمت کو’’تاراج‘‘ کرنے کا استعارہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی اور جدید نظام نے وہ تمام امکانات جو محبت، صداقت، حسن اور تخلیق کے لیے نازل کیے گئے تھے، انھیں طاقت، منافع اور لذت میں بدل دیا ہے۔ مشینہ یہاں ایک ایسی مخلوق ہے جو نچلے بالوں کے جنگل میں چھپی وحشت کی قیدی بن چکی ہے؛ یعنی وہ شعور کی بلندی سے کٹ کر جبلت کے اسفل درجے میں جا گری ہے۔ یہاں شاعر کا خطاب محض تنقیدی نہیں بلکہ اصلاحی بھی ہے۔ وہ مشینہ کو آسمان کی طرف دیکھنے کی تلقین کرتا ہے تو یہ محض رہنمائی ہی نہیں بلکہ اس کے اندر چھپی ہوئی انسانی بصیرت کو جھنجھوڑنے کی ایک کوشش ہے۔’’عقلِ معاد‘‘کا حوالہ بھی یہی بتاتا ہے کہ مشینہ کی تقلیب صرف اخلاقی بیداری اور ما بعد الطبیعیاتی شعور میں مضمر ہے نہ کہ کسی مادی یا تکنیکی تبدیلی میں۔ پہلی بار نظم میں مشینہ کے لیے ’’آدم ‘‘بننے کا امکان ابھرتا ہے، اور اگرچہ یہ امکان کمزور ہے، پھر بھی اس میں انسانیت کی نشانی موجود ہے جو ممکنہ نجات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
ساتواں منظر اس نظم کا سب سے زیادہ تہذیبی، جمالیاتی اور فکری طور پر پیچیدہ حصہ ہے۔ یہاں مشینہ جدید دنیا کی اس بے حسی کی علامت بن جاتی ہے جو انسانی دکھ، فن، تاریخ اور جمالیات کو محض قیمت اور افادیت کے پیمانے پر پرکھتی ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ کی ’’شانتی، شانتی، شانتی‘‘جو روحانی سکون اور اختتام کی علامت ہے، مشینہ کے لیے محض ایک صوتی تخاطب رہ جاتی ہے۔ وہ مڑ کر دیکھتی تو ہے مگر اس نظر میں ہمدردی نہیں، صرف لوہے کے غمزے ہیں۔ گرتے ہوئے پل کے نیچے بیٹھے روتے انسان کے مقابل، مشینہ کے لیے اہم مسئلہ دریا میں بہتا ہوا تیل ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مشینہ مکمل طور پر سرمایہ دارانہ تہذیب کا مجسم پیکر بن جاتی ہے۔ ’’گورنیکا‘‘ کے میورل کے نیچے کھڑا خاموش آدمی ہو یا ڈالی کے شاہکار پر برسنے والے قہقہے، یہ سب اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ جدید مشینی ذہن کے لیے فن، احتجاج، تاریخ اور المیہ محض بصری اشیا ہیں جن سے اس کا کوئی اخلاقی یا انسانی رشتہ باقی نہیں رہا۔ یہاں حیض کا عدم انجذاب نظم کا سب سے زیادہ چونکا دینے والااور تکلیف دہ استعارہ بن کر ظاہر ہوتا ہے جس سے باور آتا ہے کہ مشینہ اب فن سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ زندگی کے حیاتیاتی اور تجارتی پہلوؤں کو جذب کرے، نہ کہ انسانی درد، روحانی سوال یا اخلاقی سچائی کو۔ گویا مشینہ کے عہد میں فن، محبت، احتجاج اور اخلاق سب غیر ضروری ہو چکے ہیں، کیونکہ وہ منڈی اور طاقت کے بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتے۔
آٹھواں منظر اس نظم کا سب سے فلسفیانہ، تمثیلی اور نسبتاً امید افزا حصہ ہے۔ یہاں شاعر پہلی بار مشینہ سے براہِ راست یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ’’مصنوعی زندگی کا بٹن آف‘‘ کرے۔ یہ محض ٹیکنالوجی پر بندش عائد کرنے کی بات نہیں بلکہ مصنوعی شعور، جعلی ترقی اور جھوٹی ہمہ دائی سے دستبرداری کی دعوت ہے۔ حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس کا حوالہ علم، طاقت اور معجزے کی نئی تعبیر پیش کرتا ہے۔ یہاں معجزہ خدائی نہیں، انسانی ہنر اور علم کا موجب ہے اور یہ بات مشینہ کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مشین کے مقابلے میں انسان ہی تخلیقی ہو سکتا ہے اور حیرت آفرین بھی۔ یہاں ہوا کی پری کا پرندوں سے خطاب بھی حدودِ علم کا استعارہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شاعر واضح کرتا ہے کہ ہر شے کو جان لینے، ہر حد کو توڑنے اور ہر راز کو فتح کرنے کی خواہش دراصل موت کی طرف دوڑ ہے۔ مشینہ کی اصل غلطی یہی ہے کہ وہ دانائی کے واہمے میں مبتلا ہے۔ اس واہمے کے مقابل ’’حیرت‘‘ کو زندگی کا حاصل قرار دینا نظم کا سب سے گہرا فلسفیانہ بیان ہے۔ حیرت وہ کیفیت ہے جو نہ ڈیٹا میں محفوظ ہو سکتی ہے، نہ اسے مشین پیدا کر سکتی ہے۔ لیکن یہی حیرت انسان کو بچا سکتی ہے، اگر وہ بچنا چاہے۔ اس منظر کے اختتام پر قیامت کا استعارہ محض مذہبی نہیں بلکہ تہذیبی ہے۔ زمین کی کہانی ختم ہو رہی ہے مگر شاعر کا یہ اصرار ہے کہ ذرا سی خوشی، ذرا سی حیرت اور ذرا سی انسانیت اب بھی ایک بڑی قوت بن سکتی ہے۔
نواں منظر ’’مشینہ‘‘ کے فکری سفر کا وہ مقام ہے جہاں شاعر اور مشینہ کے درمیان اختلاف محض زاویۂ نظر کا نہیں رہتا بلکہ مزاج اور تصورِ صداقت کی سطح پر فیصلہ کن تصادم بن جاتا ہے۔ یہاں شاعر مشینہ کے دعوائے ہمہ دانی کو صوفیانہ اور تہذیبی روایت کی روشنی میں براہِ راست چیلنج کرتا ہے۔ مشینہ کو’’اے آئی کے پیٹ سے حاملہ‘‘ کہنا اس کی معلوماتی کثرت کا اعتراف بھی ہے اور اس پر طنز بھی۔ یہ علم ہے مگر حکمت نہیں، ذخیرہ ہے مگر تجربہ نہیں۔ اسی نکتے پر شاعر کا مزاج جو قلّتِ صداقت پر قناعت کرتا ہے، مشینہ کی کثرت پسند فہم سے الگ ہو جاتا ہے۔ غور کیجیے تو ’’نہ جاننے‘‘ کا اقرار لاعلمی نہیں بلکہ عجزِ دانا ہے جو صوفیانہ روایت میں معرفت کی پہلی شرط ہے۔ شاعر کا یہ اعتراف کہ وہ کچھ بھی نہیں جانتا، دراصل مشینہ کے تمام دعوؤں پر ایک تہذیبی ضرب ہے کیونکہ یہ اس علم کے خلاف شعوری مزاحمت بن جاتا ہے جو خود کو آخری سچ سمجھ لے۔ یہاں سقراط سے لے کر صوفی روایت تک کے حوالہ جات اسی علمی تہذیب کی طرف اشارہ ہیں جہاں علم کا اختتام یقین پر نہیں بلکہ حیرت پر ہوتا ہے۔ اس کے مقابل مشینہ ایک ایسی ہستی ہے جو ہر شے کو جان لینے، ہر راز کو کھول دینے اور ہر سوال کو ڈیٹا میں بدل دینے پر مصر ہے۔ یوں اصل تصادم علم بمقابلہ عرفان، معلومات بمقابلہ صداقت اور بصارت بمقابلہ بصیرت کا ہے۔ اس مقابلے میں مشینہ اپنی چکاچوند کے زیرِ اثر ہر فعل کے لیے دلیل گھڑ لیتی ہے، چاہے وہ جھوٹی ہی کیوں نہ ہو۔ یوں وہ ٹیکنالوجی سے بڑھ کر اقتدار اور بازاری علم کی علامت بن جاتی ہے۔ یہاں ناؤ کی تمثیل اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ معلوم و موجود محض وسیلہ ہیں، ٹھکانہ نہیں مگر مشینہ اسی ناؤ کو گھر بنا لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشینہ اور شاعر کا افتراق نظری نہیں، وجودی ہے اور اسی افتراق میں نظم اپنے قاری سے سوال کرتی ہے کہ وہ مشینہ کے ساتھ کھڑا ہے یا اُس’’نہ جاننے‘‘ والے انسان کے ساتھ جو حیرت کو ترجیح دیتا ہے۔ نظم کی اس منزل پر ایک ناگزیر سوال اٹھتا ہے کہ جب اس عہد میں ہر شے کو جان لینے کا دعویٰ ہی فہم کی علامت بن چکا ہے تو کیا اس دعوے سے انکار کرنے والا انسان واقعی نافہم ہے یا نافہم دراصل وہ’’فہم‘‘ہے جو خود کو مطلق سمجھ بیٹھا ہے؟ شاعر کے نزدیک اس سوال کا جواب بالکل واضح ہے کہ نہ جاننے والا انسان کمزور نہیں بلکہ وہ واحد اخلاقی امکان ہے جو مشینہ کے عہد میں انسان کو انسان رہنے دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظم میں اس انسان کے نزدیک بولنے، سننے اور دیکھنے کے دعوؤں سے کنارہ کشی ہی فکری آزادی کی شرط بن جاتی ہے۔ گویا گونگا ہونا بولنے کے دعوے سے، بہرا ہونا سننے کے دعوے سے اور نابینا ہونا صرف بصری معلومات پر انحصار نہ کرنے یعنی محض دیکھنے کے دعوے سے انکار ہے۔ اصلاً یہی انکار آزادی کے حقیقی ادراک کی وہ بنیاد ہے جو نہ صرف معلومات کے مطلق دعوے کو چیلنج کرتی ہے بلکہ قاری کو بھی اپنے فکری مؤقف پر غور و فکر کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
دسواں منظر عصرِ حاضر کے معاشی و اخلاقی نظام پر ایک فردِ جرم کا اثر رکھتا ہے۔ یہاں سرمایہ دارانہ مفادات کی ہمہ گیری ایک زندہ اور سفاک تجربے کے طور پر ظہور پذیر ہوتی ہے۔ فرد اس نظام میں ایک ایسا جز ہے جو اپنی داخلی حرارت کے باوجود بیرونی طاقت کے جال میں مقید ہے۔ مشینہ کا طعن دراصل اسی جال کی آواز ہے جو انسان کو اس کی بے وزنی کا احساس دلاتی ہے۔ غور کریں تو یہ منظر دو سطحوں پر بیک وقت حرکت کرتا ہے۔ پہلی سطح خارجی ہے جہاں عالمی طاقت، منافع، تجارت اور فیصلوں کی پوشیدہ میزیں انسانی تقدیر کا سودا کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہاں طاقت کسی اخلاقی جواز کی محتاج نہیں، وہ خود اپنا قانون وضع کرتی ہے۔ مشینہ جب شاعر سے اس کی’’اوقات‘‘پوچھتی ہے تو سوال صرف فرد سے نہیں، تخلیق، ضمیر اور آزادی سے بھی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں انسانی وقار کو منڈی کی زبان میں ناپا جا رہا ہوتا ہے مگر دوسری سطح پر معاملہ یکسر مختلف رخ اختیار کرتا ہے۔ وہ یوں کہ شاعر اس طعن کو رد نہیں کرتا، نہ اس سے مرعوب ہوتا ہے؛ وہ اسے جذب کرتا ہے۔ یہی انجذاب اس منظر کا جوہری نکتہ ہے۔ طعن زخم بنتا ہے اور زخم تخلیقی توانائی میں ڈھل جاتا ہے۔ یہاں زبان محض اظہار کا وسیلہ نہیں رہتی، ایک داخلی کیمیا میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ایک بالاتر تغیّر یا جبر کو امکان میں ڈھالنے کا عمل جس میں طاقت کی منطق اور تخلیق کی منطق یکساں نہیں ہوتی؛ پہلی حدوں میں جکڑتی ہے، دوسری انہی حدوں کے اندر سے وسعت تراش لیتی ہے۔ یہ وسعت حال کو ماضی کے آئینے میں دیکھنے پر مجبور کرتی ہے اور دونوں زمانوں کے تضاد کو بھی سامنے لاتی ہے۔’’غار والوں کا خواب‘‘اور’’فرسودہ پتھر کے دور‘‘کا حوالہ کسی سادہ رومانویت کی طرف واپسی نہیں، ایک اخلاقی امکان کی یاد دہانی ہے۔ شاعر اس امکان کو حال کے مقابل رکھ کر یہ دکھاتا ہے کہ تاریخی ارتقا نے مادی ترقی تو پیدا کی مگر اخلاقی سادگی اور انسانی حرمت کو پسِ پشت ڈال دیا۔ اس تقابل میں طنز بھی ہے اور حسرت بھی لیکن سب سے بڑھ کر ایک تہذیبی سوال ہے کہ کیا انسان اپنی ہی بنائی ہوئی قوتوں کا اسیر ہو چکا ہے؟ اہم بات یہ ہے کہ مشینہ اس منظر میں محض مخالف قوت نہیں رہتی، طاقت کی علامت کے ساتھ تخلیقی بیداری کا محرک بھی بن جاتی ہے۔ اس کے طعنے میں تحقیر ہے مگر اس تحقیر میں وہ چنگاری بھی پوشیدہ ہے جو داخلی آزادی کے احساس کو بھڑکاتی ہے۔ اس تناظر میں دیکھیں تو باور آتا ہے کہ انسان کا اصل جوہر خارجی جبر میں فنا نہیں ہوتا، اس کا تخلیقی شعور زندہ ہو تو سرمایہ دارانہ دباؤ، طاقت کی سیاست اور تاریخی ناانصافی کے باوجود اس کی ذات میں ایک ایسا منطقہ موجود رہتا ہے جہاں سے نئی معنویت جنم لیتی ہے۔ مشینہ کا طعن اسی منطقے کا دروازہ کھولتا ہے جس سے نظم کے متکلم کی اخلاقی برتری آشکار ہوتی ہے کہ وہ طاقت کے کھیل میں شریک نہ ہونے کے باوجود معنی کی تخلیق میں شامل ہے۔
گیارہویں منظر میں مشینہ فرعون کی ممی کے قالب میں انسانی طاقت، لافانی ہونے کی خواہش اور تاریخ میں موجودہ مظالم کے تسلسل کو یکجا کرتی ہے لیکن اس کی اہمیت صرف جسمانی یا تاریخی حوالہ تک محدود نہیں رہتی۔ گو کہ یہ ایک زمانی رجوع بھی ہے جس میں علامت ماضی کی طرف لوٹ کر اپنی جڑیں دکھاتی ہے تاہم یہ کوئی الگ علامت نہیں، وہی قدیم اقتداری ذہنیت ہے جو مختلف ادوار میں نئے چہروں کے ساتھ ظاہر ہوتی رہی ہے۔ یہ فرعون کی حالتِ زار پر ہی طنز نہیں، انسانی شعور کے اس تاریک گوشے کی جراحی بھی ہے جہاں طاقت خود کو ابدی سمجھنے لگتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شاعر کا مخاطبہ انسانی تاریخ اور اخلاق و اقتدار کی تفہیم کا ایک طریقہ بن جاتا ہے۔ ممی اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ طاقت اور دولت کی ظاہری چمک وقتی اور محدود ہے۔ ایک عظیم فرعون بھی موت کے سامنے بے بس ہے اور یہ عبرت انسانی شعور کے لیے نقطۂ آغاز بن سکتی ہے۔ اس منظر میں انسانی تاریخ اور موجودہ عالمی طاقتوں کے اعمال کا موازنہ ایک معاصر تناظر بھی مہیا کرتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طاقت کی سرکشی اور لافانی ہونے کی خواہش تاریخی لحاظ سے ایک تسلسل رکھتی ہے لیکن یہ تسلسل انسانیت اور اخلاقی شعور سے کٹ کر صرف جسمانی یا سیاسی اثر قائم نہیں رکھ سکتا۔ یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ نظم کی فضا میں ابتدا ہی سے ایک طرح کی شدت موجود ہے مگر یہ شدت جذباتی ابال میں ڈھلنے کے بجائے فکری احتساب کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
گیارہویں منظر میں شاعر ممی سے مخاطب ہے لیکن اصل میں وہ اُس ذہن سے مکالمہ کر رہا ہے جو اقتدار کے نشے میں حقیقت کو مسخ کر دیتا ہے۔ اس منظر کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ شاعر تاریخ کو عجوبے کے منصب سے اتار کر اخلاقی کٹہرے میں لا کھڑا کرتا ہے۔ ممی یہاں ایک منجمد دعویٰ بھی ہے جو کبھی الوہیت، جاہ و جلال اور لافانیت کے زعم میں کیا گیا تھا۔ شاعر اس دعوے کی تہہ میں اترتا ہے اور دکھاتا ہے کہ جسم کو محفوظ کرنا زندگی کو محفوظ کرنے کے مترادف نہیں ہوتا۔ یہی سبب ہے کہ جس وجود نے اپنی حیات میں انسانوں کو محض وسائل سمجھا، وہ خود مرنے کے بعد تماشا بن گیا۔ اس الٹ پھیر میں طنز کی کاٹ بھی پیدا ہوتی ہے اور تاریخ کا بے رحم انصاف بھی عمل میں آتا ہے۔ اصلاً اس کے پیچھے تخاطب کی تکنیک ہی کارفرما ہے جو لسانی سطح پر اقتدار کی تنسیخ کرتی ہے؛ غور کریں کہ زبان اُس فرعون کو بھی جواب دہ بنا دیتی ہے جو اپنی زندگی میں جواب دہی کے تصور سے ماورا تھا۔ اسی طرح نظم کی لسانی ساخت میں جو تمثالیت ابھرتی ہے، وہ کراہت سے بڑھ کر اس معنویت کو بے نقاب کرتی ہے جو اس کے اندر پوشیدہ ہے۔ ممی کے پیکر کو جس طرح بے بس اور بے جان دکھایا گیا ہے، وہ طاقت کی آخری حد کا افشا ہے۔ المختصر اس منظر میں تاریخ کے مرکزی کرداروں سے توجہ ہٹا کر اُن انسانوں کی طرف مبذول کی گئی ہے جنہوں نے خاموشی سے فن کی طرف رجوع کیا، کیونکہ فن کا حقیقی جوہر اُن گمنام ہاتھوں کی محنت میں پوشیدہ ہوتا ہے جنہیں تاریخ اپنے حاشیوں میں دفن کر دیتی ہے۔ خود ممی سازوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تاہم اس منظر کا کمال یہ ہے کہ شاعر ان حاشیوں کو متن میں بدل دیتا ہے تو امر ہونے کا مفہوم بھی پلٹ جاتا ہے۔ یہی وہ معنوی بقا ہے جو تخلیق کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔
’’مشینہ‘‘ خیالات یا جذبات کا اظہار ہی نہیں، بطورِ نظم ایک پیچیدہ ساخت بھی ہے جو تخاطب یا بولنے کے عمل کو ایک فعال ڈسکورس میں بدل دیتی ہے جس میں انسانی شعور، تاریخی یادداشت اور وجودی کشمکش کے متعدد دھاگے تحرک پذیر رہتے ہیں۔ بلاشُبہ اس نظم کے تمام مناظر ایک کثیرالجہت معنوی اور فکری تجربے کا جزو ہیں لیکن اس کا بارہواں منظر وسیع معنوں میں متکلم اور مشینہ کے درمیان قائم ایک ایسا ڈسکورس یا مخاطبہ ہے جو نظم کے پورے بیانیے کی گرہ کھولتا ہے۔ متکلم کا خطاب ایک ایسا شعوری عمل ہے جس میں انسانی وجود، تاریخ، احساسات اور تخلیقی امکان کی مختلف پرتیں بتدریج سامنے آتی ہیں۔ وہ مشینہ سے مخاطب ہو کر دراصل اس نظام، اس عہد اور اس ذہنی فضا سے گفتگو کر رہا ہے جس نے انسانی تجربے کی صورت اور اس کے معنی، دونوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اسی لیے اس کی مخاطبت میں فطرت، تاریخ، یادداشت اور انسانی جذبات کی طرف رجوع ملتا ہے۔ بیج اور شجر کی تمثال میں انسان کی فکری اور تہذیبی زندگی کا یہی اصول دکھائی دیتا ہے کہ نئی صورتیں اسی وقت جنم لیتی ہیں جب پرانی صورتیں ٹوٹتی یا تحلیل ہوتی ہیں۔ بیج کا مٹ جانا اور شجر کا ابھر آنا دراصل اس وجودی حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ بقا اور فنا ایک دوسرے کی نفی نہیں، ایک ہی تسلسل کے دو مرحلے ہیں۔ اسی طرح خاکستری و کبودی اور زمینی و افلاکی کے امیجز بھی انسان کی دوہری جڑت کو واضح کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ زمیں سے وابستہ مادی وجود ہے تو دوسری طرف اپنی فکر میں سماوی سطح تک پھیل جانے کی خواہش رکھتا ہے۔ نظم میں نیل گوں روشنی، کبودی فلک، آبی پرندے، نیلی آنکھیں، نیلا سمندر، دریائے نیل، جسم کے نیل اور نیلا زہریلا پانی جیسے پیکر بظاہر الگ الگ مقامات پر نمودار ہوتے ہیں، مگر جب انہیں باہم جوڑ کر دیکھا جائے تو ان کے درمیان ایک معنوی ربط قائم ہو جاتا ہے۔ یوں یہ عناصر محض فطری و حسی مظاہر نہیں رہتے بلکہ انسانی شعور اور وجود کے ایک پیچیدہ تجربے کا علامتی نظام تشکیل دینے لگتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شاعری اپنے میزان سے زائد کو گرفت میں لینے اور اسے سُجھانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرتی ہے، اور مادیت و روحانیت، محدودیت و وسعت کی کشمکش کو اس طرح منکشف کرتی ہے کہ انسانی شعور حرکت میں آ کر جستجو سے ہم کنار ہو جاتا ہے۔ تاریخ اور یادداشت کا حوالہ بھی اسی تسلسل کو واضح کرتا ہے، کیونکہ متکلم کے نزدیک انسان کی موجودہ حالت کو ماضی کے تجربات اور تہذیبی حافظے سے الگ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔ جب وہ یہ حوالہ مشینہ کے سامنے رکھتا ہے تو گویا یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ایک مشینی اور معلوماتی نظام انسانی یادداشت اور تجربے کی اس گہرائی کو تفہیم میں لا سکتا ہے جس سے تہذیب کا وقوف پیدا ہوتا ہے۔ متکلم کے بیان میں انسانی جذبات کے تذکرے سے بھی یہی باور آتا ہے کہ انسانی وجود عقل یا فکر پر ہی قائم نہیں ہوتا، احساسات و جذبات کی پیچیدہ دنیا بھی اس کی بنیادی ساخت کا حصہ ہوتی ہےجو اسے معنی عطا کرتی ہے اور اسی سے انسانی تجربے اور مشینی ادراک کے درمیان فرق کا پتہ چلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی مشینہ محبوبہ کی قربت کے استعارے میں دکھائی دیتی ہے، کبھی انسانی مسرتوں کی نمائندگی کرتی ہے اور کبھی یاس اور امید کے آئینے میں اپنی جھلک دکھاتی ہے۔ اس طرح متکلم کا مخاطبہ انسانی شعور کے ان متضاد پہلوؤں کو ایک ساتھ سامنے لاتا ہے جو زندگی کے حقیقی تجربے کو تشکیل دیتے ہیں۔ اسی تسلسل میں پانی، جھیل اور سمندر جیسے امیجز ابھرتے ہیں جو انسانی شعور اور اجتماعی تجربے کی گہرائی اور وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ متکلم ان مظاہر کے ذریعے یہ بتاتا ہے کہ زندگی کے امکانات اور خطرات، یادداشت اور تجربہ سب ایک وسیع اور پیچیدہ فضا میں جمع ہوتے ہیں جہاں انسان کی تخلیقی قوت اور اس کی تباہ کن صلاحیت ایک دوسرے کے مقابل آتی ہے اور ان کے درمیان ایک نازک توازن قائم رہتا ہے۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں متکلم کا بیان منظر نگاری کے درجے سے اوپر اٹھ جاتا ہے اور انسانی وجود کے اس بنیادی تضاد کو ظاہر کرنے لگتا ہے جس میں تخلیق اور تخریب دونوں ایک ہی شعور کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ یوں مخاطبہ بتدریج ایک فکری اور وجودی مکالمے میں ڈھل کر انسان اور اس کے عہد کے اضطرار و خلفشار کا عکس بن جاتا ہے اور نظم کے باطن تک پہنچنے کی کلید بھی۔ متکلم کی علامتی و استعاراتی گفتار کا کمال یہ ہے کہ قاری بھی اس مکالمے میں شامل ہو جاتا ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ سوال صرف مشینہ ہی سے نہیں انسان کی نہاد اور سمت سے بھی جُڑے ہیں۔ گو کہ یہ مخاطبہ جدید عہد کی پیچیدگیوں کے باوجود انسان کی اصل قوت اس کی شعوری جستجو اور تخلیقی صلاحیت میں یقین رکھتا ہے لیکن اس کا لہجہ اخلاقی احتساب کا ہے جو جدید مشینی عہد کے ان وعدوں کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے جو صدی کے آغاز میں انسانیت کے لیے خوش حالی و ترقی کی بشارت لے کر آئے تھے مگر جب متکلم اپنے عہد کا جائزہ لیتا ہے تو اسے ان وعدوں کے برعکس ایک ایسی دنیا دکھائی دیتی ہے جہاں انسانیت خونچکاں اور نوحہ خواں ہے اور روشنی کے بدن پر تاریکی کے داغ گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اسی لیے اس منظر کا اختتام ایک تلخ اور اضطراب انگیز سوال پر ہوتا ہے۔ متکلم مشینہ کو مخاطب کر کے گویا پورے عہد سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ اگر اس کے پاس حقیقی بصیرت ہے تو وہ انسان کی اس حالت کو دیکھے جس تک پہنچنے میں اسی کی وعید اور اسی کی تہذیب کا ہاتھ ہے۔ الغرض یہ منظر ایک ایسے مکالمے پر منتج ہوتا ہے جہاں انسانی ابتلاؤں، ٹوٹے ہوئے خوابوں اور مشینی ترقی کے دعووں کا تضاد پوری شدت کے ساتھ آشکار ہو جاتا ہے۔
اس تجزیے کے تناظر میں دیکھا جائے تو مشینہ کا استعارہ جاتی بیانیہ بتدریج خارجی تنقید سے داخلی کرب کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور نظم ایک تہذیبی مرثیے سے آگے بڑھ کر فکری اور وجودی نوحہ بن جاتی ہے۔ غور کیجیے تو اس میں’’اسارت‘‘کا تصور پوری شدت کے ساتھ ابھرتا ہے جو نظم کے پورے بیانیے میں مسلسل سرایت کیے ہوئے ہے۔ یہ اسارت شعور اور جذبات تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ جسم اور جبلت کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ آگے چل کر یہی قید تاریخ اور نظام کی سطح پر ظاہر ہوتی ہے اور معنی کے زوال، وقت کی قید اور انسانی تجربے کی سطحیت بھی اسارت ہی کی صورتیں بن جاتی ہیں۔ سب سے گہری سطح لاادراک اسارت کی ہے جہاں قیدی کو اپنی قید کا شعور بھی نہیں رہتا۔ جب غلامی کو سہولت، تفریح اور ترقی کے نام پر قبول کر لیا جائے تو اس سے بڑی ذہنی اور فکری اسارت ممکن نہیں ہوتی۔ یہی اس نظم کا سب سے گہرا اور کرب ناک سچ ہے۔

یامین
مشینہ:ڈسٹوپیا
آدمی کے نادمی بن جانے کا
نظم کے تیسرے منظر کا آغاز ہمیں علینہ کی یاد دلاتا ہے۔
یہ اُس رُت کا قصہ ہے
جب میںترے کان میں
’گُل پری‘ کَہ کےسرگوشی کرتا
تو رخسار تیرے گُل سرخ بن کردہکتے
مہکتے، بہکتے ہوئے تُو
چلی آئی یو ں ہی
مری نظم کے خواب میں
یہاں فرشی صاحب کی ایک پرانی نظم ’’سابیریا‘‘کا اتصال نظم مشینہ کے اندر اس طرح وجود پذیر ہوا ہے کہ پوری کی پوری نظم مشینہ کے متن کا حصہ بن گئی ہے ۔ یہ بین المتونیت کی نادر مثال ہے کہ اس سے پہلےاردو نظم میں کہیں شاعر کی اپنی نظم کا راست اقتباس دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس عمل سے بہت سی باتیں سامنے آئی ہیں۔ ایک یہ کہ شاعر کا اپنے ہی متن کو بین المتونیت کے طور پر استعمال کرنا اس کے تخلیقی انفراد اور ذہانت کی دلیل ہے۔ دوسرے یہ کہ شاعر کے زرخیز ذہن میں اس نظم (مشینہ) کے بیج پہلے سے موجود تھے اور اگر کوئی نظم شاعر کے حافظےمیں پچیس تیس برس تک پڑی رہے تو اس کا مطلب ہے کہ زندگی اُس کے ہاں زمانی مکانی کے ٹکڑوں میں بٹی ہوئی نہیں بلکہ ایک فلسفیانہ تخلیقی کلیت میں ڈھلی ہوئی نامیاتی وحدت ہےاوراُس کے وجود کےلاشعوری سمندر میں انسانی تاریخ، آرکی ٹائپس ،کائناتی شعور،تہذیبی رشتوں،مابعد الطبیعیاتی تصورِ حیات اور تخلیقی وجدان کے ہفت رنگی شعاعوں کی یکجائی کی منزل پرابدیت آشنا ہوچکا ہے۔ اس کی نگاہ دور بین ، سرمایہ دارانہ نظام کے ارتقا یعنی اس کے ماضی سے مستقبل بعید تک کا احاطہ کر سکتی ہے۔نظم ’’سابیریا‘‘کی تخلیق کا زمانہ۲۰۰۲ءسے پہلے کا ہے کیوں کہ یہ پہلی بار ’’آفاق‘‘راولپنڈی کے ستمبر۲۰۰۲ءکے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ اس وقت ہمارے دوست، ذہین نقاد اور منفرد تخلیق کار زیف سید نے اس کا بڑا خوبصورت تجزیہ کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ نظم اردو کا پہلا ڈسٹوپیا ہے۔ اس نظم کی دنیا ایک دور دراز اور دور ازکار دنیا ہے لیکن انسان اس کی طرف بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ آج بائیس برس بعد یہ تجزیہ پڑھ کر ہم سوچتے ہیں کہ اس دنیا میں دکھائی جانے والی بہت سی باتیں تو ظہور پذیر ہو چکی ہیں۔یہ انوکھی دنیا کیا ہے ،زیف سید کے الفاظ میں پڑھیے
” نظم کا عنوان دو انگریزی مادوں، یعنی سائبر اور ایریا کے ادغام سے وضع کیا گیا ہے، جس سے ذہن کمپیوٹر کی دنیا کی طرف مائل ہوتاہے۔ لیکن لفظ سائبیریا کی صوتیات ہمیں روس کے صوبے کی طرف بھی متوجہ کرتی ہیں۔ نظم میں مونتاژ کی تکنیک سے کام لیتے ہوئے چھوٹے چھوٹے کئی مناظر بیان کیے گئے ہیں جو ہمیں اس سائبیریا کے بارے میںمعلومات فراہم کرتے ہیں۔ یہ مستقبل بعید کا ایک ایسا زمانہ ہے جس میں انسان غالباً مکمل طور پر کمپیوٹر سے ہم کنار ہو چکا ہے۔ انسان اور کمپیوٹر کی یکجائی اور یکجانی کے بارے میں بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ مستقبل میں ایسا ممکن ہے کہ انسان کے جسمانی دماغ (برین) کو کمپیوٹر سے منسلک کرکے شعوری دماغ (ماینڈ) کو ہارڈ ڈسک پر اتار لیا جائے۔ اگر انھی خطوط پر سوچتے ہوئے آگے بڑھا جائے تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ ایسے دماغ انٹرنیٹ کی وساطت سے ساری دنیا میں جاری وساری ہو جائیں گے اور ایک سائبر کمیونٹی وجود میں آ جائے گی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسےنظم ’’سابیریا‘‘کے انسان بھی اسی طرح کی کسی کمیونٹی میں ’’بس‘‘ رہے ہیں جہاں وہ ’’جسم‘‘ او ر اس کے متعلقات سے مکمل طور پر چھٹکارا حاصل کر چکے ہیں۔ نظم کے بند ۲ تا ۵ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں جنس سے حظ حاصل کرنے کا تصوربھی فنا ہو چکا ہے اور جہاں عورت کی خوش بو ’’بغلوں‘‘ میں چھڑک کر کام چلایا جاتاہے۔ جہاں کھانے پینے کا تصور بھی ناپید ہوچکا ہے اور لوگ اپنے اپنے کیمروں میں کھانے کے خواب دیکھتے ہیں۔ جہاں ہنسی ، بچپن، معصومیت، بچے، سبھی عجائب گھروں کی زینت بن چکے ہیں۔ اس عہد میں مقدر، دعا اور محبت جیسے جذبے بھی موت کے گھاٹ اتر گئے ہیں‘‘۔
(زیف سید، آفاق راولپنڈی، ۴؍جنوری ۲۰۰۴ء ص ۱۷۳)
اور بھی بہت سی قابل غور چیزیں ہیں جو اس نظم سائبیریا میں دکھائی اور بتائی گئی ہیں۔اگر ان پر بات کریں تو یہ تحریر طوالت کا شکار ہو جائے گی۔ زیر تذکرہ نظم (مشینہ) کے تیسرے منظر میں جب اس نظم کا اقتباس اختتام کو پہنچتا ہے تو نظم کی آخری سطر کا ان کہا واضح طور پر نظر آنے لگتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ گل پری وہی علینہ ہے جو اب اپنے پاکیزہ لباس کو اتار کر مشینہ کے روپ میں ڈھل چکی ہے۔علینہ کا زمانہ یکسر بدل چکا ہے۔ کیا وقت تھا جب ہمارے شاعر کو علینہ نے ایسا پرم رس پلایا تھا کہ پھر وہ اس کے باغوں سے واپس نہ آ سکا۔اسے ان باغوں کی سیر سے اتنی بھی فرصت نہیں تھی کہ علینہ کے ان باغات کی کہانی لکھ سکے جہاں اس کی جوانی سانس روکے کھڑی تھی۔اور اب یہ عالم ہے کہ نہ علینہ رہی، نہ وہ باغات ۔ اب تو پھول پر تتلی کے بوسے کی طرح اترتا ہوا وہ نام بھی ہمیں نہیں مل پائے گا جس کا رس لوری کے بولوں میں گھل کر ہمیں خوابوں کی جنت میں پہنچا دیتا تھا۔یہ کون سا علاقہ ہےجس میں نہ تو پھول ہوتے ہیں نہ تتلیاں اور نہ ہی وہ آنکھیں جو دیدۂ بینا کہلا سکیں۔ جمود برف کی طرح جم چکا ہے ۔۔۔ کہیں یہ سائبیریا تو نہیں۔۔۔ گویا سائبرکا مفتوحہ علاقہ جہاں مشینہ کی حکم رانی قائم ہو چکی ہے۔
نظم کے ساتویں منظر میں جہاں مشینی اقتدار کی ستھِرتا دکھائی گئی ہےوہاں اس کی انسان دشمنی کے خلاف اٹھنے والے ستھیارتھی کو بھی ایلیٹ کی شکل میں دکھایا گیا ہے۔ شاعری کے ساتھ ساتھ دیگر فنون لطیفہ جن کی تخلیق انسان دوستی کے خمیر سے اٹھتی ہے ان کی نمائندہ تخلیقات کا ذکر کر کے آرٹ کے منصب کا تعین بھی کیا گیا ہے کہ آرٹ (بشمول شاعری جس میں کہ آرٹ کے تمام تر فنون جمع ہو جاتے ہیں ۔جیسا کہ اس نظم میںا بھی آرٹ کے کئی مظاہر ہیں جنھیں دیکھا ، سنا اور محسوس کیا جا سکتا ہے) ہی اس سرمایہ داری کی تہذیب پر ضرب کاری لگانے کا اہل ہے اگر اس نے اپنے تہذیبی سرچشمے سے اپنی زبان تر کی ہو۔ نظم کے اس ساتویں منظر میں ہمیں آرٹ نے کیا کیا دکھایا ہے۔ پکاسو، ڈالی اور ایم ایف حسین جسے بھارت کا پکاسو کہا گیا۔ گج گامنی میں پھرتی ہوئی حسن کی تصویریں، لندن برج اور وہ امیج جن میں ٹیمز خوبصورتی سے بہہ رہا ہے۔ ہنسی کے انگار، پھولوں کے افکار، کینوس ، ڈالر کی کمر تھامے ہوئے گوریاں ، ذرا تصور کریں کہ شاعر نے طاقت ورکرنسی کو کیسے پرسونیفائی کیاہے۔یہ وہ پتلی کمر ہے جو مشرق و مغرب میں یکساں مقبول ہے۔اڑتے لبادے اور مے کے پیالے ،روبوٹ جو مدہوش جسموں پر گرتے ہیں۔یہاں جو امیج استعارے اور ایکسٹنڈڈ میٹافر کے کمالات نظر آ رہے ہیں ان کی جمالیات پر ایک علاحدہ مضمون لکھا جا سکتا ہے۔ تمام تر امیجری، اور سمبلزم جو اس نظم کے اندر کار فرما ہے فن کا ایک اچھوتا مظاہرہ ہے اور یہ شاعری آرٹ کی تمام شاخوں کی تازہ کاری کا عظیم مرقع بن گئی ہے۔
یہ محبت کا تھل جو ہمارے آس پاس پھیلا ہوا ہے اس کو کون اپنے آنسووں سے سرسبز گلستان میں بدل سکتا ہے۔ ایسا صاحب نظر ایک تو دریائے ٹیمز کے کنارے پر تھا اور دوسرا سندھو کے اندر اپنی کہانی میں غرق ہو کر اپنے خوابوں سے محبت کے تھل کو شانتی کے باغ میں تبدیل کرنے کا خواب دکھا رہا ہے۔
ویسے تو نظم “مشینہ ” کا سارا منظرنامہ آدمی سے نادمی بننے کی داستان ہےلیکن اس کا چھٹا منظر ہمیں آدم کی داستان کے بالکل آغاز میں لے جاتا ہے۔ جبلت کی اسفل سطح کے اظہار کے لیے قابیل سے زیادہ بلیغ علامت اور کوئی نہیں۔حسد کی آگ ، برتری کا جذبہ اور دوسرے کو تسلیم نہ کرنے کی خو انسانی جبلت میں موجود ہیں ۔ یہ ہمارے باطنی حواس؍حقائق ہیں۔ یہ جب تک اپنا ظہور نہیں کرتے معروضی حقیقت نہیں بنتے۔ معروض میں ان کا ظہور ہی آدم کے امتحان کا جواز ہے۔ ایسی صورت حال میں امید کا پرچم بلند رکھنا اور مشینی فکر سے نجات کا راستہ تلاش کرنا نظم کا بڑا موضوع ہے۔ افتخار بخاری صاحب نے خوب نشاندہی کی ہےکہ آخری سطر انسان کی مشینیت اور وحشت سے نجات کا راستہ دکھاتی ہے۔ فرشی صاحب کی اس نظم کا خاصہ یہی ہے کہ اس میں مشینی زندگی کا بالعکس نقشا بھی ہمیں نظر آتا ہے اور اس نقشے میں امید کا ٹمٹماتا ہوا ستارہ ، عقل معاد کی علامت میںڈھل کر راہ نجات کو روشن کرتا ہے۔
آٹھویں منظر میں قرآنی تلمیحات کے گنج گراں مایہ میں سے ایک خوبصورت تلمیح اٹھائی گئی ہے اور اس کے ذریعے یہ باور کرایا گیا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی مصنوعی، عارضی اور نا پائدار ہے۔حضرت سلیمان کی حاکمیت کا رنگ اور ریاست کا نظم چلانے کا طریقہ آج کے صنعتی انقلاب اور سرمایہ داری نظام سے کہیں زیادہ شاندار حقیقی اور ترقی یافتہ تھا۔معاشرے کا ہر فرد ( آدمی) اپنی تمام تر صلاحیتوں سے لیس تھا اور جانتا تھا کہ اس کے دست قدرت میں کیا کیا ہے۔ ایک آدمی جس کا نام آصف بن برخیا خیال کیا جاتا ہے کس قدر طاقتور روحانی قوتوں کا تصرف کرنے کا اہل تھا۔ یہ وہی روحانی تجربہ ہے جسے اقبال اپنے پہلے خطبے میں وجدان سے تعبیر کرتے ہیں۔ ہماری تہذیبی روایت میں مذہبی مشاہدات کا غالب اثر نظر آتا ہے۔ اقبال اپنے پہلے خطبے میں اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ مذہبی مشاہدات کے حقائق بھی دوسرے انسانی تجربات کی طرح معتبر حقائق ہیں اس لیے اس تجربے کو محض وہم کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔ آصف بن برخیا کے پاس وجدان سے حاصل کردہ علم ہی تھا جس کے ذریعے اس نے پلک جھپکنے میں کوسوں کا سفر طے کر لیا تھا۔
اس منظر میں سرمایہ دارانہ ترقی، مادیت پرستی اور حرص و ہوس کی نمائندہ مشینہ کو عہد سلیمانی کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے۔ یہ منظر دکھانے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی ترقی صرف مادے کی ترقی نہیں ہے بلکہ پورے انسان کی ترقی ہے۔ ساتھ ہی شاعر نے ایک مصلح ، دانشور اور صاحب علم کی حیثیت سے دعوت کا فریضہ بھی ادا کر دیا ہے۔ فلک سے بغاوت نے آدمی کو نادمی بنا دیا ہے۔شاعر نے یہ بات پرندوں کی علامت کے ذریعے سمجھائی ہے۔ اگرچہ پرندوں کی زبان میٹھی ہوتی ہے ، وہ بلند پرواز ہوتے ہیں ، ان پر الہامی قوتیں اپنا تصرف رکھتی ہیں اور ان کی جبلت انھیں راستوں کی پہچان کروا دیتی ہے لیکن مقراض لا تک ان کی پہنچ کیسے ہو سکتی ہے۔جہاں جبریل کے پر جلتے ہوں وہاں ہما شما کی کیا حیثیت ہے۔ اس نظم میں پرندوں کا در آنا دراصل ان خوبیوں کی وجہ سے ہے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ مشینہ کا کرداران سارے رازوں سے واقف ہے ۔ وہ سب علامتوں کو سمجھتی ہے مگر چپ ہے۔ شاید اندر سے یہ سمجھتی ہو کہ ٹیکنالوجی ان پرندوں کی علامتیں بھی اپنے تصرف میں لا چکی ہے۔ٹویٹ کا شہرہ عام اس کی ایک نمایاںمثال ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اندر ہی اندر اپنی فتح پر خوش ہے۔وہ خوش تو ہے لیکن وہ سرخوشی سےآشنا نہیں ہے۔آدمی کے پاس تو حیرت سے نمود کرنے والی سرخوشی کا خزانہ ہے۔نادمی کے پاس کیا ہے۔ شاعر کی آرزو ہے کہ اب، جب زمین کی کہانی ختم ہونے والی ہے ، مشینہ (نادمی) کو چاہیے کہ وہ حیرت بھری سرخوشی کو بچا لے۔یہ وہ آرزو ہے جس کو اقبال نے اپنی نظم ” ابلیس کی مجلسِ شوریٰ‘‘ میں شرار ِآرزو “کہا ہے۔ ہما رے عہد سے پہلے اقبال واحد ادبی شخصیت تھے جو سرمایہ داری کے سامنے پورے سیاسی سماجی اور دینی شعور کے ساتھ تنہا کھڑےتھے۔ آج علی محمد فرشی اسی مقام پر کھڑے نظر آتے ہیں اور افسوس کہ وہ بھی تنہا ہیں۔
مشینہ کا نواں منظر بھی روح عصر کے ساتھ ساتھ تاریخ کے گہرے شعور اور مستقبل کے ادراک کو پورے شعری جوہر کے ذریعے بیان کرتا ہے۔اس منظر کا آغازمصنوعی ذہانت (اے۔آئی)کی حیران کن صلاحیت اور اس دنیائے کاف و نون میں اس کی عملداری کے اعتراف میں چند سطروں سے ہوتا ہے
مشینہ
تو سب جانتی ہے
ترا پیٹ اے آئی کا حاملہ
ان گنت پوتھیوں،تھیلیوں سے بھرا
جن میں لاکھوں برس زندگی کی
کہانی کے اسرار محفوظ ہیں
ایک ننھے سے تارے میں
جھرمٹ ہوں جیسے
کئی کہکشاؤں کےرقصاں
گھمرتے،جھمرتے
گھمریاکے چکر سے
باہر نکلنےکو بے تاب
جیسے کہ نوری زمانوںکا سیلاب اُمڈ تا ہے
صدیوں سے لمبے فلیتےنکلتے ہیں
اس کے بعد کی ساری سطریں اور نظم کا سارا متن مشینہ کی مئے بے رنگ کے سامنے سقراط، داتا علی ہجویری، للّہ عارفہ، مولائے روم اور علی بخش حیدری کی مئے گلفام کی قدرو منزلت کو اجاگر کرتا ہے۔ (یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام بہت ہے۔۔۔غالب) ہمارے ان تہذیبی و تاریخی کرداروںسے ہماری نسل تو خوب واقف ہے لیکن ما بعد انسانی عہد میں ان کا تعارف گم شدہ جوہر انسانی کا تعارف بن جاتا ہے۔مجھ سے پہلے اپنے تجزیے میں برادرم افتخار بخاری نےاس فکر کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔وہ مشینہ کو ایک ایسی مابعد انسانی ہستی قرار دیتے ہیں جو حافظے، سرعت رفتار اور بصارت میں انسان سے کہیں زیادہ صلاحیت کی مالک ہے۔ لیکن اس ہستی کوذرا بھی علم نہیں کہ وہ اخلاقی وجود، شعور ذات اور عرفان و صداقت جیسی نعمتوں سے یکسر محروم ہے۔ یہ منظر درحقیقت بصیرت ، فراست اور صداقت کے عہد زوال کا نوحہ ہےاگرچہ گوہر معانی تک رسائی میں کوئی دقت نہیں ہےلیکن ان فنی حربوں کو پہچاننا اگر ضروری نہیں تو ان پر ایک طالب علمانہ نگاہ ڈالنے میں کوئی حرج بھی نہیں جن کو بروئے کار لانے سےمعانی کا طلسم وجود میں آیا ہے۔مشینہ کا تانیثی کردار اور اس کا اے آئی سے حاملہ ہو جانا اور وہ بھی نظم کے نویں منظر میں لفظی و معنوی مناسبت کا خوبصورت اظہار ہے۔زبان اگرچہ سادہ ہے لیکن سمبل و علامتیں ایسی ہیں کہ ادب و شعر کا ذوق دونا ہو جاتا ہے۔ تنقیدی تحریروں میں ، تشبیہات کا ذکر آ جائے تو ہم اکثر نادر تشبیہ کی ترکیب استعمال کرتے ہیں۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ نادر تشبیہ لانا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ یہاں اس نظم اور اس منظر میں واقعی تشبیہات میں نادر و نایاب امیج نظر آتے ہیں۔ ان نوادر کی تخلیق و تکوین کا عمل اگرچہ لاشعوری رو میں خود بہ خود ظہور پذیر ہو جاتا ہے لیکن اس کے پیچھے وقت کا متخیلہ اور علم کا کتنا بڑا سفر ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ذرا دیکھیے یہ الفاظ، یہ تراکیب اور یہ امیج کیسے آپ کے ذہن کو گرماتے اور للچاتے ہیں:’’ پوتھیوں، تھیلیوں سے بھرا پیٹ‘‘،’’ صدیوں سے لمبے فلیتے‘‘، ’’ہتھیلی پہ آسودہ نازک بدن نازنین‘‘،’’ مچلتی چھاتیوں کے بٹن‘‘، ’’حیرت کی بجلی‘‘، ’’غیبی خزانے‘‘،’’ ساونی بادل‘‘،’’ معانی و الفاظ کی آبشاریں‘‘، ’’دانش کی پکنک‘‘، ’’حیرت کا ساحل‘‘، ‘‘معصومیت کے گھروندے‘‘،’’ ست کا پیالہ‘‘ ،’’ سہ قطرہ امرت‘‘، ’’غلامی کے جوتے‘‘، ’’معلوم و موجود کا باد گردی حمام‘‘،’’ دولے انسان‘‘۔اس فہرست میں نہ صرف نئی نکور اور نادر و نایاب تشبیہات ہیں بلکہ سمبل، علامتیں، استعارے، کنسیٹ، استعارے اور امیجز بھی ہیں جن کو الگ الگ دکھانے اور ان پر بحث کرنے کا محل نہیں ہے۔ تاہم توسیعی استعارے کی ایک جھلک دکھانے سے شاید کچھ اذہان کو اچھا لگے
میں نے للّہ (۲)کے
ست کے پیالے سے چھلکے ہوئے
ایک سہ قطرہ امرت کے
چھینٹے میں دل کو بھگویا
وہ نورانی بارش
مجھے دھو گئی اس طرح
جیسے زم زم کے جھالوںسے
ہونے نہ ہونے کاسارا جہاں دُھل گیا ہو
ست کا پیالہ، ایک توسیعی استعارہ ہے جس سے ایک اور توسیعی استعارہ’’سہ قطرہ امرت‘‘بھی جنم لیتا ہے۔ اور پورے پیراگراف پر اپنی ایک الگ فضا بنا کر تاثر کو گہرائی عطا کرتا ہے۔ست کا مفہوم جوہر حیات بھی ہے، سچائی اور راستی بھی، پاک دامنی و پارسائی بھی، استقامت و استحکام بھی۔ خالص ذات اور خالص شعور بھی یعنی دانش اور حکمت جو للّہ کے ذہن رسا سے چھلک رہی تھی اور شاعر کے ذہن میں اتر رہی تھی، اسے دکھانے کے لیے شاعر نے ست کے پیالے کا استعارہ بنا کر اس کے چھلکنے، اس کے امرت قطرے کے چھینٹے سے دل کو بھگونے نورانی بارش اور زم زم کے جھالوں کے مناظر تک اس استعارے کو توسیع دے کر شاعر نے ہماری اور اپنی ذات کو ہی نہیں سارے جہان کی پاکیزگی کو پھول کی طرح مہکا دیا ہے۔ یہ کام توسیعی استعارے کے بغیر ممکن نہیں تھا۔اے آئی کو ہماری تہذیب کے جن کرداروں سے شاعر نے متعارف کروایا ہے ان میں سے مولائے روم اور للّہ عارفہ کی شاعری کو اس نظم کے اندر ایک مرصع ساز کی طرح ٹانک دیا ہے۔ للّہ عارفہ کی وہ دانش شاعر نےخوبصورت لفظوں میں بیان کر دی ہے۔ کہ اگر سننا چاہتے ہو تو بہرے بن جاؤ، کچھ کہنا چاہتے ہو تو گونگے ہو جاؤ اور اگر دیکھنا چاہتے ہو تو اندھے بن کر رہو۔للّہ عارفہ کی یہ روشنی اس نظم کے کئی منظروں میں چمک رہی ہے۔ بلکہ اس نظم کی تکمیل میں بھی للّہ عارفہ کی روحانی توجہ کا دخل ہے۔ نظم کے زیر نظر منظر کا جوہر للّہ عارفہ کی واکھ سے اخذ کردہ دانش ہے
مشینہ
صداقت ہمیشہ بہت کم ملے گی
مگر دیکھتے ہی اسے
دل مچلنے لگے گا
کہ تسلیم ہے
ہاں ! یہی حسنِ اوّل کی تعظیم ہے
مشینہ کا دسواں منظر طلوع ہوتے ہی پہلی کرن کرنسی پر پڑتی ہے لیکن یہ کرنسی سونے چاندی کی نہیں، مٹی کی ہے۔ مٹی کی اشرفی۔ نظم میں یہ اشرفی استعارہ یا علامت نہیں سمبل کے مرتبے پر فائز لفظ ہے جس کی پہنچ نہ جانے وقت کے کن منطقوں تک ہے۔یہ حجری دور کی کوئی یادگار ہے یا یہ وہ اشرفی ہے جو اصحاب کہف میں سے ایک شخص کے ہاتھ میں تھی اور وہ اجنبی اپنے وقت سے سینکڑوں برس دور کسی بازار میں اشرفی لیے گھومتا پھر رہا تھا۔یہ اشرفی موہنجوڈارو کی تہذیب کی نشانی بھی ہو سکتی ہے ۔ موہنجو ڈارو سندھو دریا کے کنارے آباد ہے جس کا نام (سندھو کے جل میں ) نظم میں پہلے آ چکا ہے۔ یہ وہ تہذیب ہے جس کی کھدائی کے دوران کوئی شاہی مقبرہ یا لڑائی کا ہتھیار برآمد نہیں ہوا۔اس کے برعکس خوبصورت شہری منصوبہ بندی، اعلا ثقافت اور خوش حال معاشرے کے ثبوت ملے ہیں۔وہ دور اس لیے اعلا تہذیب کا علمبردار تھا کیوں کہ اس زمانے میں کرنسی نہیں اسم اسرار کا ورد چلتا تھا۔دھوپ کی حکم رانی تھی یا بارش کی مہربانی۔پانی کا نور تھا یا مٹی کی خوشبو کا وفور۔انسان انسان کا غلام نہیں تھا۔محنت کا راج تھا ۔محنت کا سکہ چلتا تھا جسےشاعر نے انسان کی ہتھیلی سے جوڑ دیا ہے۔یہ اشرفی (سکہ) قسمت کا سمبل بھی ہے کہ انسان اپنی قسمت اپنے ہاتھ سے ہی بناتا ہے۔مگر یہ وہ زمانہ نہیں ہے۔ مشینہ عہد حاضر کی ایک چلتی پھرتی تصویر دکھاتی ہے۔ اور شاعر کو خبردار کرتی ہے کہ یہ عالمی طاقتوں کے مفادات کے کھیل کا دور ہے۔ پانچ بڑی طاقتیں جو دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کے نقشے پر مسلط ہوئی ہیں انھیں نظم میں ابلیس زادوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔ نظم کا یہ حصہ سادہ زبان کے عوامی بول چال کے الفاظ سے بھرا ہوا ہے۔ شاعر کا مقصد یہ ہے کہ مشینہ کا مدعا سرعت سے کھل کر بیان میں آ جائے۔ ایسا لگتا ہے کہ شاعر خود مشینہ کے مکھوٹے میں چھپ کر بول رہا ہے۔ مگر جب شاعر مشینہ سے مخاطب ہوتا ہے تو الفاظ فوری طور پر ادبی چاشنی اور معنوی طاقت سے بھر جاتے ہیں۔یہ وہ تقریری اسلوب ہے جس سے مقدس کتابوں کے صفحات مہکتے ہیں اور جو ادب کی اسپرٹ سے مملو دلوں کے اندر اتر جاتی ہے
مشینہ
یہ شکوہ نہیں شکریہ ہے ترا
زخم پھول ہوتے ہیں
خوشبو پہ جن کی
اترتی ہیں پریاں
نئی نظمیں پہنے ہوئے
تو جنھیں اک نظر دیکھ لے تو
ترے سارے موسم بدل جائیں یک دم۔۔۔۔
نظم کا یہ حصہ علی محمد فرشی کی شعری دنیا کا اصل چہرہ ہے۔ پہلے حصے میں مشین کی زبان چل رہی ہے اور اس دوسرے حصے میں ایک تہذیب ، تخلیق اور روحانی سرشاری بول رہی ہے۔ یہ حصہ مشینی اظہار کے مقابل، تخلیقی اظہار کی جداگانہ شان کو بڑی خوبی سے بیان کر رہا ہے۔
مشینہ سے شاعر کا مخاطبہ جاری ہے۔ یہ مخاطبہ دسویں منظر میں جس تقریری اسلوب میں تھا اسی اسلوب میں یہاں گیارہویں منظر میں بھی جاری ہے۔اس منظر میں مشینہ کا متلون سمبل ایک نئے روپ میں سامنے آیا ہے۔ یہاں مشینہ رعمیسس دوم منفتاح نامی فرعون کے حنوط شدہ قالب میں ایک نشان عبرت کے طور پر ہزاروں برس کی تاریخ کی صورت میں پڑی ہوئی ہے اور شاعر کی تقریر غور سے سن رہی ہے۔ دراصل مشینہ کا یہ کردار ایک تصور یا ایک رویے کی شکل میںبھی ہے اور فزیکل (مادی) شکل میں بھی ۔یہاںمقدس صحیفوں کے اسلوب کی جھلک بھی دکھائی اور سنائی دیتی ہے:
بس کہ عبرت ہے اُن کے لیے
جن کو طاقت نے اندھا کیا موت کے سامنے
انسان کو لافانی ہونے کی تمنا نے ہمیشہ اضطراب میں مبتلا رکھا ہے۔ تاریخ میں ایسے کئی شواہد ہمارے مطالعے اور تجربے میں آتے ہیں کہ انسان بنیادی ضرورت ، آرام و عیش اور اقتدار و اختیار کے مراحل طے کر کے جب طاقت کے انتہائی درجے پر قدم رکھتا ہے تو اس کی جون بدل جاتی ہے ، یعنی وہی مجبور و محکوم و فقیر انسان خدا بن جاتا ہے۔جن و ا نس کی سرکشی کا سبب یہی احساس برتری ہے۔ ابلیس کی کہانی بھی ہمیںیہی بتاتی ہے کہ جانتے بوجھتے ہوئے اس نے تکبر کا راستا اسی لیے چنا کہ وہ اپنی ذات کے بارے میں احساس تفوق میں مبتلا تھا۔بڑائی اور سرکشی کا یہ عنصر فرد کی سطح پر بھی نمود کرتا ہے اور اجتماعی یا ریاست اور قوم کی سطح پر بھی نمودار ہوتا ہے۔ آج کے امریکا ، اسرائیل، ڈونلڈ ٹرمپ ، نیتن یاہو، امریکی سرمایہ کار اور سزا یافتہ طفلی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے لے کر فراعنہ مصر تک سرکشی اور لافانی ہونے کے جنون کی ایک طویل داستان ہے۔ سرمایا داری اورطاقت و اقتدار کی یہ شکل پرانی شکلوں سے مختلف نہیں ہے۔ دنیا میں فراعنہ مصر اس زعم اور بڑائی کی علامت ہیں۔ نظم کا یہ منظر اسی علامت کا ایک روپ ہے جہاں سرمایا دار کی طاقت مشینہ کی صورت میں مصر کے فرعون کی ممی میں داخل ہو کر بیک وقت پنی بڑائی کی شان اور زوال کی پہچان بن گئی ہے۔ یہ منظر ہمیں طاقت اور اختیار کی حقیقت دکھاتے ہوئے یہ باور کرواتا ہے کہ اصل طاقت انسان کی نہیں ہے۔ کائنات کے اس مالک کی ہے جس نے انسان کے بارے میں یہ کہا ہے : لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ پھر یہ انسان کون سا انسان ہے جو ہزاروں برس سے عبرت کا نشان بن کر تابوت میں پڑا ہوا ہے۔ جو ایک تماشے کے طور پر دنیا والوں کے لیے تفریحی شے بن کر رہ گیا ہے۔ جس نے سچائی کی واضح نشانیاں دیکھ کر بھی سرکشی کی راہ اختیار کی اور اپنے زعم میں یہ سمجھتا رہا کہ وہ ناقابل شکست بن چکا ہے۔ آج امریکا نے ایران پر حملہ کر کے اسی ذہنیت کو دہرایا ہے۔ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خمینائی اور ان کے معتبر ساتھیوں کو شہید کیا ہے۔ طاقتور ہونے کا احساس اس قدر غالب ہے کہ امریکا نے مذاکرات کے دوران ہی حملے کا قدم اٹھا لیا ہے اور اس حرکت پر اسے کوئی شرمندگی نہیں ہوئی۔ ظالم سامراج نے اس حرکت سے اسی تاریخ کو دہرانے کی کوشش کی ہے جو آج مصر میں تابوت کے تعفن میں لپٹی ہوئی ٹورزم کے ایک آئٹم سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔
فرشی صاحب کی شہکار نظم’’مشینہ‘‘ کا بارہواں منظر نسبتا طویل (کم و بیش ۱۳۰ سطروں پر مشتمل ) ہے۔ نظم اگرچہ اختصار کا پیکر ہوتی ہے لیکن طویل نظم میں موضوعات کی کثرت کی وجہ سے طول کھینچنا ضروری ہوتا ہے۔ نظم کے اس حصے میں آدمی کی خِلقت سے لے کر موجودہ عہد کے مسائل (ماحولیاتی و سماجی)، تہذیبی فاصلے پر برپا ہنگامہ، شورو شغب، جنگ و جدل کے علاوہ موت و حیات کی کشمکش اور ما بعد الطبیعیاتی مضامین تک زیر بحث ہیں۔ یعنی اس منظر میں ہماری تہذیب کا عکس بھی تھرتھراتا ہے، تاریخ کی ہلچل بھی سنائی دیتی ہے اور حیات و کائنات کا شعور بھی دکھائی دیتا ہے۔
منظر کے آغاز میں خاکستری آدمی سے واسطہ پڑتا ہے۔ خاکی کی بجائے خاکستری کا لفظ استعمال کرنے کی کوئی تو وجہ ہونی چاہیے۔ ایک تو یہ ہے جیسے اقبال نے آدم خاکی کی ترکیب استعمال کی پھر یہ کثرت سے استعمال ہونا شروع ہو گئی۔ علی محمد فرشی پرانے کو نیا کرنے کا فن خوب جانتے ہیں۔ جیسے اسی نظم کی ابتدائی سطروں میں انھوں نے زمین کو خاکدانی لکھا ہے۔ سرمہ دانی کی طرح خاکدانی کا امیج کائنات کی عظیم وسعت میں ایک معمولی شے کو کس قدر نمایاں کرتا ہے۔ یہ بھی ایک شعری ڈیوائس ’ہائپربولے‘ہے جس میں شاعر اسم مکبر کی تصغیر کرتا ہے یا اس کے الٹ کر کے جذبات و احساسات پراثرات کو گہرا کرتا ہے۔ اسی طرح شاعر نے یہاں آدم خاکی کی بجائےخاکستری آدمی کی ترکیب کو بہتر جانا۔ خاکستری ایک رنگ ہے جو اگلی سطر میں کبودی کے ساتھ رنگت کی وجہ سے مناسبت رکھتا ہے۔ خاکستری ، تضاد اور توازن کا رنگ ہے۔ یہ سیاہ اور سفید کے درمیان کا رنگ ہے، نہ بہت روشن نہ بہت گہرا۔ آدمی وہی ہے جو ایک انتہا پر نہ کھڑا ہو ۔ ظاہر ہے اسے یہ مقام بڑی طویل جدوجہد(ارتقا) کے بعد میسر آیا ہے ۔یہی آدمی جسے آج فلک بھی جھک کر سلام کر رہا ہے کبھی ایک بے مایہ ذرہ تھا ، نادان و نا معقول۔ شاعر نے اس کی نا معقول اور کج رو شخصیت کو ایک علامت ” خرافہ”میں پیش کیا ہے۔اور خرافہ کے اسم معرفہ کو اسم کیفیت میں ڈھال دیا ہے۔ خرافہ ایک تہذیبی کردار ہےجو اس نظم میں علامت کے طور پر نمودار ہوا ہے۔ یہ علامت آدمی کی ابتدائی حالت اور اس کی شخصیت کو بخوبی بیان کر سکتی ہے۔ لیکن شاعر کی توجہ اس حالت سے قبل آدمی کی اس حالت پر ہے جسے اس نے اپنے حافظے سے محو کر دیا ہے۔ یعنی آج آدمی کی الست پر کو ئی غور نہیں کرتا۔ جبکہ الست ہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف لوٹنا آدمی کا مقدر ہے۔ عربی زبان کا مشہور مقولہ ہے ’’ کُل شئی یرجع إلی اصلہ‘‘ ، اس سے کسی چیز کی اصلیت بتانا مقصود ہوتا ہے، یہ ضرب المثل بتاتی ہے کہ کوئی بھی چیز عارضی طور پر اپنی حالت بدل سکتی ہے، لیکن اسےایک نہ ایک دن اپنی حقیقی حالت یا بنیاد کی طرف واپس آنا ہوتا ہے۔ یعنی ہر شے کی فطرت آخرکار ظاہر ہو کر رہتی ہے، چاہے کتنا ہی وقت کیوں نہ گزر جائے۔لیکن اتنی بڑی حقیقت کی طرف آدمی کا دھیان ہی نہیں جاتا
ہاں مگر،اس سے پہلے
وہ کیا تھا؟
کہاں تھا؟
تجھے اس حقیقت کو
معلوم کرنے کی فرصت نہیں ہے
یہ خطاب مشینہ سے ہے۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ مشینہ ایک سمبل ہے اس لیے اس کے روپ بدلتے رہتے ہیں۔ نظم کے اس مقام پر اسے دور حاضر کی سائنس کا پرسونا سمجھنا چاہیے۔ شاعر سائنس سے مخاطب ہے کہ تجھے آدمی کے الست (پہل) پر غور کرنے کی فرصت کہاں۔ تجھے سپر سونک میزائل بنانے سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ نہ ہی تجھے اس جانب سوچنے کی ضرورت ہےکیوں کہ تیری حیثیت طاقت اور سرمائے کے کھیل میں ایک مہرے کی ہے اس لیے
ضرورت نہیں غور کرنےکی تجھ کو
کہ ہر شے کو آخرپلٹنا ہی ہوتا ہے
خود اپنے آغازکی سمت
اُدھر ہی ؛جہاں سے
وہ آئی تھی؍لائی گئی تھی!
تجھے کون لایا تھا؟
ہونے نہ ہونےکی گھاٹی میں
دونوں طرف جس کے
افلاک پیما پہاڑوں کا پہرہ ہے
سو سال کی زندگی میں
(بہ معنیٰ )ہزاروں برس
آج کا آدمی موج مستی کرےتو کرے
موت کے اژدھے کا نوالہ
مگر ایک دن اُس کو بننا پڑے گا
زمان و مکان کے اس فریب اور کائناتی وسعت کی اس بیکراں تنہائی میں آدمی کی سرگزشت ذرا سی ہی تو ہے۔ ایک دن اسے موت نے آ لینا ہے۔ آدمی کے لیے موت سے رستگاری ممکن نہیں۔اگرچہ اسی دنیا میں چند انواع ایسی بھی ہیں جو حیاتیاتی طور پر لافانی ہیں ۔ یعنی جب تک ان کے ماحول میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہ آئے وہ زندہ ہی رہتی ہیں۔ ان میں جیلی فش کی ایک قسم اور کچھ دیگر جاندار مثلا پلینیریا اور ہائڈرا وغیرہ شامل ہیں۔ جیلی فش سمندر میں لافانی ہے۔ اسے موت نہیں آتی کیوں کہ وہ واپس اوائل عمری کی طرف پلٹ کر موت کو بائی پاس کرنے کا راز جانتی ہے۔ لیکن اگر ہم اسے اٹھا کر گھر لے آئیں تو اپنے سازگار ماحول کے چھن جانے کی وجہ سے اسے موت آنی لازم ہے۔ لہذا یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ہر جاندارکو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ موت زندگی پر ہمہ وقت نگران ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک کی موت دوسرے کی زندگی بھی ہے۔ حشرات میں تو یہ عام مظہر قدرت (فنامنا)ہے۔میٹا مارفوسس کا عمل اس کا بین ثبوت ہے۔مردہ زمین سے نباتات کا اگنا، بیج کی موت سے درخت کا نکلنا بھی اسی حقیقت اور فطرت کے قانون کے تحت ہے۔ افتخار بخاری نے بالکل درست لکھا ہے کہ بارہویں منظر کا سب سے اہم اور جمالیاتی پہلو بیج اور درخت کی تمثیل ہے۔ادب کے ناقدین اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ آرٹ کو جانچنے کے لیے سب سے پہلی چیز جمالیات ہے۔ جس فن پارے کی جمالیات اعلیٰ ہو گی اس کی ادبی قدروقیمت بھی اعلیٰ ہو گی۔ اس منظر میں درخت اور بیج کی تمثیل میں شاعر نے اپنے فن کا مظاہرہ بہترین جمالیاتی شعور سے کیا ہے۔ اس تمثیل سے یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ زندگی کے تسلسل میں موت کے وقفے رکاوٹ نہیں بنتے۔ہماری تہذیب میں حیات ابدی کی روایت موجود ہے، بلکہ یہ تہذیب ابدیت کے تصور پر ہی قائم ہے۔ بقول اقبال
موت کو سمجھے ہے غافل اختتام زندگی۔۔۔یہ ہے شام زندگی صبح دوام زندگی
اقبال کے نزدیک یہ زندگی جاوداں ، پیہم رواں اور ہر دم جواں ہے۔ اس سے بڑی نعمت کوئی نہیں۔ یہ نعمت آسماں سے لاکر زمین پر آراستہ کی گئی ہے۔لہذا زمین بھی ایک عظیم نعمت ہے۔اسی لیے زمین کو ہمارے ہاں ماں کا درجہ دیا جاتا ہے۔ شاعر یہاں اپنا مقولہ درج کرتا ہے
زمیں آسمانوں کا دل ہے
اس زمین پر زندگی شر نہیں خیر ہے۔ اور زندگی جب ملتی ہے تو خیر کو پھیلانا اس کا فرض ہوتا ہے۔زندگی کا یہ تسلسل تشکر کی ایک صورت ہے۔
بیج کی موت سے گر شجر کو ملی زندگی
تو تشکر کی صورت میں اس نے
کئی ڈھیر بیجوں کے موتی
بکھیرے زمیں پر
ان سطروں میں آسماں ، زمین اور ماحولیات کا شعور بڑی خوبی سے اجاگرکیا گیا ہے۔ زمین کا سینہ دھک دھک کی صورت دہلتا ہے اور وہ کسی دق زدہ کی طرح اپنے مرنے کے دن گن رہی ہے۔ سائنس یہ سب جانتی ہے لیکن اسے زمین کی اس حالت پر کوئی تشویش نہیں ہوتی۔ شاعری اس پر غم زدہ ہے اورزمین کے دکھ پر آنسو بہا تے ہوئے سائنس سےپوچھتی ہے
تجھے تو یقیناًیہ معلوم ہوگا
کہ کتنے دنوں کی وہ مہمان ہے
مگر سائنس کو اس کی کوئی فکر نہیں۔ شاعری کو یہ رنج ہے کہ سائنس سرمایہ دارانہ تمدن اور تعیش کدوں کی مصنوعی زندگی پر جی جان سے لہلوٹ ہو رہی ہے جس کے کلبوں، بال روموں، اور عیاشی کے اڈوں پر تھرکتے ہوئے پاؤں کے نیچے کروڑوں انسان سسک سسک کر جی رہے ہیں اور بے مقصد چھیڑی جانے والی پراکسی وارز میں چیونٹیوں کی طرح مر رہے ہیں۔ شاعر یہاں فلسفیانہ مکالمے کے ذریعے مشینہ کو یاد دلاتا ہے کہ صدی کے آغاز پر اس نے کیا کہا تھا
میں نےپچھلی صدی کے
کنارے پہ تجھ سے کہا تھا
پچھلی صدی کا کنارا ،۱۹۹۹ءکا سال تھا جب علی محمد فرشی کی ایک نظم’’ تم اپنے سمندر بچاؤ‘‘ سہ ماہی تسطیر میں شائع ہوئی۔ یہ نظم ماحولیاتی شعور سے مالا مال نظم ہے۔ اس وقت جب عوام تو کیا خواص میں بھی ماحولیاتی شعور اس درجے کا نہیں تھا کہ اس کا اظہار تخلیقی سطح پر کیا جاتا۔ علی محمد فرشی نے ماحولیات جیسے نازک اور نادر مسئلے پر قلم اٹھایا اور جھیلوں سی آنکھوں یعنی یورپ کو باور کروایا کہ
مرے سارے دریا
تمھارے سمندر کی جانب رواں ہیں
اے جھیلوں سی آنکھو
کبھی اس طرف بھی سمندر تھا
نیلا سمندر
آج ماحولیاتی تنقید بھی وجود میں آ چکی ہے۔ اور اس وقت عالمی سطح پر ماحولیات کا موضوع لکھنے والوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ علی محمد فرشی نے مذکورہ نظم کو بین المتونیت کے ذریعے نظم مشینہ کا حصہ بنا کر فنی سطح پر بھی اپنی انفرادیت کو قائم رکھا ہے اور فکری سطح پر اہل یورپ سے مکالمہ کر کے کئی تہذیبی اور انسانی سوالات ااٹھائے ہیں۔ علی محمد فرشی نے یورپ کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ اے نیلی آنکھوں والو۔۔میرے جسم پر جو نیل ہی نیل ہیں یہ تمھارے ظلم اور تشدد کے نشان ہیں جو تم نے ایشیائی ترقی پذیر قوموں پر روا رکھا۔ ہمارے دیش کالونیوں میں بدل کر رکھ دیے۔ ہماری پیداوار کو لوٹا اور، ہمیں اندھیروں میں دھکیلا اور خود پر تعیش زندگی کے مزے لوٹتے رہے ۔ ہمیں ماحولیاتی آلودگی کا تحفہ دیا اور اپنی آب و ہوا پر آنچ نہ آنے دی۔
اے جھیلوں سی آنکھو
مرے جسم کے گہرے نیلوں سی آنکھو
مرے جسم پر نیل ہی نیل ہیں
میں یہاں نیل و سندھو کے
پہلو میں لت پت پڑا ہوں
مرے سارے دریا
تمھارے سمندر کی جانب رواں ہیں
مرا نیلا زہریلا پانی
تمھارے سمندر کی جانب
رواں موت ہے
یہ آلودگی صرف سمندر میں نہیں تہذیب میں بھی پھیلی ہوئی ہے۔ ہماری قدیم ترین سندھ ، نیل اور عکادی تہذیبوں کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا اور یونانی تہذیب کے گن گائے گئے۔ تم نے ہماری تہذیبوں سے استفادہ کیا لیکن کبھی اقرار نہیں کیا۔ ہم نے یونانی تہذیب سے استفادہ کیا تو افلاطون کو معلم اول مانا، ان کو تعظیم دی ۔ اس کے برعکس تم نے ابن ِسیناکا نام ہی بگاڑ کرایوے سنا کر دیا۔
آخر میں شاعر نےنئے سال کے جشن اور آدمیت کی خوشحالی کے خواب کا تذکرہ کیا ہے۔ نیا سال یہاں سمبل ہے تبدیلی اور بدلتے ہوئے منظر کا۔ یہ وہ وقت تھا جب ایک صدی ختم ہو رہی تھی اور نئی کی آمد کا نقارہ بج رہا تھا اور ترقی یافتہ دنیا نےہمیں یہ خواب دکھایا تھا کہ نئی صدی آدمیت کی معراج ثابت ہو گی۔ مگر بیس پچیس برسوں میں ہی یہ خواب چکنا چور ہو گیا ہے۔
تو نے مژدہ سنایا تھا خوشحالیوں کا
نئے خواب دنیا کو تو نے دیے
اورکہا یہ مبارک صدی
آدمیّت کی معراج ہو گی!
مشینہ!
تواتر سے امید کی سمت میں
دیکھتے دیکھتے
بیس پچیس برسوں کا غم ہی
مقدر بنا آدمی کا!
وہ مشرق کا ہو چاہے مغرب کا
اُس کے لیے ہر طرف تیر گی ہے
مشینہ
اگر تو کبھی دیکھنے کا تکلف کرے تو
بارہواں منظر’’ مشینہ‘‘ کے مرکزی تھیم کا ایک بڑا حصہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس کے متن سے کئی صفحات برآمد کیے جا سکتے ہیں۔ مختصر یہ کہ یہ منظر مشرقی و مغربی تہذیبوں کا تقابل پیش کرتا ہے اور مغرب کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ مشرقی تہذیب کی شناخت روحانی ہے اور مغربی تہذیب مادی شناخت رکھتی ہے۔ مشینہ مغربی تہذیب کا اصل چہرہ ہے جس پر یہ منظر ایک زوردا ر طمانچہ رسید کرتاہے۔