خوش آمدید
یہاں آپ علی محمد فرشی کی یک کتابی طویل نظم ’’مشینہ‘‘ کے متعلق معتبرادیبوں کی تنقیدی تحریریں ملاحظہ فرمائیں گے۔

افتخار بخاری
مشینہ ‘‘ :علی محمد فرشی کا نیاجہانِ امکاں’’
علی محمد فرشی کی طویل نظم ’’ مشینہ‘‘ اردو نظم کے ارتقائی سفر میں ایک ایسا مرحلہ معلوم ہوتی ہے جہاں شاعری محض موضوع یا بیانیہ نہیں رہتی بلکہ ایک فکری کائنات کی تشکیل کا عمل بن جاتی ہے۔ یہ نظم اپنی کلیت میں کسی واحد نظریے یا موضوع کی نمائندہ نہیں بلکہ ایک ایسا فکری مکالمہ ہے جس میں انسان، مشین، شعور، روحانیت اور تہذیبی ارتقا ایک دوسرے کے مقابل اور متوازی دونوں صورتوں میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔مشینہ کو صرف تکنیکی یا مابعد انسانی مباحث کی نظم سمجھنا بھی اُس کی معنوی گہرائی کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔ دراصل یہ نظم انسان کی اس بنیادی کشمکش کو سامنے لاتی ہے جہاں معلومات اور شعور، رفتار اور بصیرت، اور مشینیت اور انسانیت کے درمیان ایک باریک مگر فیصلہ کن حد قائم ہوتی ہے۔ نظم کا مرکزی قضیہ اسی حد کی شناخت اور اس کے دفاع میں ہے۔ یہاں مشین ایک علامتی ساخت ہے جو محض ٹیکنالوجی کی نمائندہ نہیں بلکہ مابعدجدید صورتِ حال کی اُس ذہنیت کا استعارہ ہے جو انسانی تجربے کو ڈیٹا میں تبدیل کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔یہ نظم مابعد انسانی نظریات کے ساتھ ایک مکالمہ بھی ہے اور ان سے اختلاف بھی! جہاں ٹکنوکریٹک فکر جسم، ذہن اور مشین کے امتزاج کو ارتقا قرار دیتی ہے، وہاں فرشی اس امتزاج کے اندر بصیرت کے زوال کے خدشات کو دیکھتا ہے۔
نظم میں زبان کا بہاؤ اور معانی کی فراوانی اس بات کا علامتی اعلان ہے کہ ما بعد جدید عہد میں لفظ تجربے سے کٹ کر محض پیداوار بن گئے ہیں۔ اس طرح مشینہ علم اور دانائی کے درمیان اس فرق کو اجاگر کرتی ہے جو صوفیانہ روایت، سقراطی اعترافِ جہل اور اقبالی فکر میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔اسی تناظر میں نظم انسانی شعور کی اخلاقی بنیاد کو بحال کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ مشینہ بطور ایک کردار حافظے، رفتار اور بصارت میں برتر ہوسکتی ہے مگر اخلاقی آگہی اور عرفان سے محروم ہے اور یہی محرومی نظم کے فلسفیانہ استدلال کا مرکز ی نقطہ ہے۔ شاعر اس خلا کو محض تنقید نہیں بلکہ ایک روحانی مزاحمت کی صورت میں پیش کرتا ہے، جس میں حیرت، سرخوشی اور انسانی ناتمامی کو بقا کا راستہ قرار دیا گیا ہے۔
علی محمد فرشی کی شعری روایت میں یہ نظم کسی اچانک تجربے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل تخلیقی ارتقا کا مرحلہ دکھائی دیتی ہے۔ ان کی سابقہ نظموں میں موجود فکری بیج یہاں ایک وسیع ساخت میں نمو پاتے ہیں، گویا شاعر برسوں سے ایک ایسے جہان کی تشکیل میں مصروف تھا جس میں انسان اور اس کے بنائے ہوئے نظام کے درمیان تعلق نئے سرے سے متعین ہو سکے۔ اس لحاظ سے مشینہ کو ایک خودمختار شعری کائنات کا ظہور کہا جا سکتا ہے، جہاں شاعر نہ صرف موضوعات بلکہ اپنی تنقیدی کسوٹیاں اور اپنے تنقیدی معیارات بھی خود وضع کرتا ہے۔
اس نظم کی اہمیت کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ یہ اردو نظم کو یکسر نئے فکری امکانات کی طرف لے جاتی ہے۔ مشینہ میں روایت اور جدیدیت کا تعلق محض حوالہ جاتی نہیں بلکہ ساختیاتی ہے، قرآنی تلمیحات، صوفیانہ فکر، اقبالی فلسفہ اور جدید تکنیکی شعور ایک ایسے مکالمے میں شامل ہوتے ہیں جس میں نہ ماضی رد ہوتا ہے اور نہ مستقبل کو غیر مشروط طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً مشینہ ایک متبادل بیانیہ تشکیل دیتی ہے جو اندھی تکنیکی خوش فہمی کی بجائے اخلاقی اور روحانی بیداری کو ترجیح دیتا ہے۔لہٰذا ’’مشینہ‘‘ کو کسی قطعی انجام یا حتمی نقطۂ عروج کے طور پر دیکھنا شاید اس کی روح کے خلاف ہوگا۔ یہ نظم ایک جاری عمل کی مانند ہے، ایک ایسا تخلیقی سفر جس میں شاعر اپنے لیے اور قاری کے لیے ایک نئے جہانِ امکاں کی تشکیل کر رہا ہے۔ اس جہان میں مشین وسیلہ ہے، منزل نہیں۔ علم حیرت پیدا کر سکتا ہے مگر دانائی انسان کی داخلی روشنی سے جنم لیتی ہے۔ اسی لیے مشینہ اردو نظم میں نہ صرف ایک فنی تجربہ بلکہ انسانی جوہر کی بازیافت کا فکری اعلامیہ بھی ہے۔
’’مشینہ‘‘ کے مطالعے سے مجھے احساس ہوا کہ یہ اردو نظم کے سفر میں مکمل طور پر ایک نیا موڑ ہے جو اردو نظم کو ایک نئے جہان امکانات کا راستہ سجھا رہی ہے۔اس طرح کے تجربے کی مثال کم از کم میرے مطالعے کی حد تک اس سے پہلے اردو نظم بل کہ عالمی سطح پر بھی موجود نہیں۔ علی محمد فرشی جیسے بڑے شاعر سے کسی بڑے کمال کی توقع تو سبھی کو رہنی چاہیے مگر یہ مثال بے مثال ہے،اس امر کا گمان نہیں تھا کہ شاعر کی قوت تخلیق اپنا ظہور اس انداز میں کرے گی۔ انسانی ارتقا میں ’’مشینہ‘‘کی ابتدائی شکل محض مادی، دھاتی وجود تھی جس میں وقت کے ساتھ مصنوعی ذہانت شامل ہوئی۔ یہاں علی محمد فرشی کا کمال یہ ہے کہ اس نے مصنوعی ذہانت سے آراستہ لوہے اور توانائی کی اس ترتیب میں چھپی ہوئی روح کی موجودگی کے امکان کو دریافت کیا ہے۔ یہ وہ حیران کن دریافت ہے جو اس نظم کو یکتا اور بے مثال قرار دینے کا ناقابل تردید جواز ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ نظم ایک عہد ساز حوالہ بننے جارہی ہے۔
فطرت نے علی محمد فرشی کے تخلیقی وفور پر یہ ذمہ داری بہت پہلے تفویض کر دی تھی اور اُسے اِس بات کا احساس بھی شاید تھا۔ اس نظم کا بیج ’’ علینہ ‘‘کی کیاریوں میں چھپا ہوا مناسب موسم کا انتظار کر رہا تھا جو ضائع بھی ہو سکتا تھا مگر علی محمد فرشی کی پہچان رکھنے والی آنکھ نے اسے بچا کر رکھا۔میں پہلے بھی کہیں اظہار کر چکا ہوں کہ میرے نزدیک ایک بڑے فن کار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا جہان خود تخلیق کرے ۔اس کی جینیاتی ترتیب میں اس امکان کے اشارے قدرت کی جانب سے رکھ دیے جاتے ہیں کہ وہ اپنے قیام کے لیے اپنے زمان و مکان کی تشکیل کرے۔ سو وہ اپنے صحرا ، سمندر، باغات، ویرانے، دریا، سمندر، ستارے، کہکشائیں، روز و شب اور خواب بناتا اور سجاتا ہے۔ ایک اپنا جہان، جینے کے لیے ، مرنے کے لیے۔ علی محمد فرشی کی مشینہ کو اس کی دوسری شاعری کی کلیت کے ساتھ جوڑ کر دیکھتا ہوں تو اسے اپنے بیان کی تائید پاتا ہوں۔ فرشی نے بہت پہلے یہ امکان اپنے درون دریافت کرلیا تھا۔ وہ پیہم اپنے علاحدہ اور خود تخلیق کردہ گرد و پیش کی تشکیل میں مگن دکھائی دیتا ہے۔میں نے کہیں کسی کا یک سطری بیان پڑھا کہ’’مشینہ علی محمد فرشی کے فن کا نقطۂ عروج ہے‘‘ میرے خیال میں صدائے کن فیکون کا رکنا ممکن نہیں۔ جس طرح کائنات کا پھیلاؤ جاری و ساری ہے اسی طرح مہان فن کار کا نقطۂ عروج متعین نہیں ہو سکتا، بس دشت امکاں میں ایک نقش پا کہا جا سکتا ہے ۔ دوسرا قدم کہاں ہوگا اس کا واضح ادراک شاید خود تخلیق کارکو بھی نہیں ہوتا۔
علی محمد فرشی کی شاعری بتاتی ہے کہ وہ کہیں ٹھہرنے والانہیں۔ وہ ٹھہر سکتا بھی نہیں کہ اپنے جینوم کی خفیہ تحریر سے بغاوت کر پانا ممکن نہیں ہوتا ۔آج جب ہم مشینہ کو پڑھتے ہیں تو علینہ کے خوشبو دار باغوں میں اگنے والے اثمار اور پھولوں میں مشینہ کے بیج میوٹیشن کے عمل سے گزرتے ہوئے شناخت کر سکتے ہیں۔ مشینہ کے توسط سے ہم علینہ کے مہکتے باغوں سے مشینہ کے قدیم جادوئی اور بسا اوقات ڈرا دینے والے علاقوں میں داخل ہو رہے ہیں۔اس سیاحت کے لیے قاری کو بھی حوصلہ مند ہونا ہوگا ورنہ علمی سطح پر پتھر کا ہوجانے کا خدشہ ہے۔موجود تنقیدی نظریات، مکاتیب فکر اور مروجہ اصطلاحات اور اسالیب اظہار میں یہ سکت نہیں کہ اس کے متعین کردہ معیارات کے کاغذی پنجروں میں اس نظم کا مقام و مرتبہ رکھا جا سکے۔ اس نظم کے حوالے سے تنقیدی معیارات خود اس میں پوشیدہ ہیں جنھیں وقت دریافت کرے گا اور معلوم ہوگا کہ وہ چیزے دیگر ہیں۔
مشینہ نے میرے اس خیال کو تقویت اور تیقن بخشا ہے۔ نظم ایک حیران کر دینے والے طلسماتی زمانے میں لیے جارہی ہے جہاں علی محمد فرشی کی ہتھیلی پر رکھا ہوا مٹی کا سکہ سونے کی اشرفیوں کے توڑوں سے فزوں تر قدر و قیمت کا حامل ہے کہ عہد عتیق کی گم شدہ نشانی ہے۔مشینہ اعلان کرتی ہے کہ وہ شاعری کے موجودہ چلن کو یکسر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس کی تعمیل کو روکنا ممکن نہیں۔ایک نیا عہد ظہور کرنے جارہا ہے۔ ایک نئے جہان کے طلوع کی خبر ہوا میں ہے۔ علی محمد فرشی کا تخلیق کردہ جہانِ امکاں

ڈاکٹر رفیق سندیلوی
مشینہ:ذہنی و فکری اسارت کا نوحہ
علی محمد فرشی کی اس نظم میں’’ مشینہ‘‘ محض’’مشین‘‘کی تانیث تک محدود نہیں رہتی بلکہ ایک کثیرالمعنی علامت بن کر پورے عہد، اس کی نفسیات، اس کی تہذیبی سمت اور انسانی رشتوں کی نئی صورتِ حال کو سمیٹ لیتی ہے۔ اب تک اس نظم کے جو مناظر پیش کیے گئے ہیں انھیں یکجا پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ مشینہ ایک کردار نہیں، ایک وجودی کیفیت ہے جو بیک وقت محبوبہ، سماج، ٹیکنالوجی، صارفیت اور خود انسان کی مسخ شدہ آدمیت کی نمائندگی کرتی ہے۔
ابتدائی منظر میں مشینہ ایک ایسی غیر مرئی ہستی کے طور پر سامنے آتی ہے جو سوشل میڈیا، خاص طور پر فیس بک کے آئینے میں جلوہ گر ہے۔ یہاں وہ انسان ہے نہ محض شبیہ، وہ شناختوں کے ہجوم میں گم ایک چہرہ ہے جسے شاعر پہچان تو لیتا ہے مگر اس تک پہنچ نہیں سکتا۔ مشینہ ڈیجیٹل عہد کی وہ محبوبہ ہے جو ’’تصویری کہانی‘‘ میں ڈھل چکی ہےجس میں لمس ہے نہ موجودگی نہ آواز۔ یوں وہ جدید انسان کے تنہائی زدہ تعلقات کی علامت بن جاتی ہے۔
دوسرے منظر میں یہ علامت مزید تہہ دار ہو جاتی ہے۔ مشینہ اب محض ایک ڈیجیٹل شبیہ نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی ذہنی و وجودی ساخت بن جاتی ہے جس میں انسان اپنی زخم خوردہ تمناؤں کو اسکرین کے اندر دفن کر دیتا ہے۔ اِن باکس کا درد ہو، تصویر میں مسکرانا ہو یا آنکھوں تک نہ آنے والے آنسو ہوں، یہ سب اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ مشینہ احساسات کو محفوظ تو کر لیتی ہے مگر انھیں شفا، تطہیر یا نجات فراہم نہیں کر سکتی۔ یہاں جذبات جینے کا تجربہ نہیں بنتے بلکہ ڈیٹا، فائل، امیج اور سرفیس میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور محبت آہستہ آہستہ فیشن سے باہر کی شے بن جاتی ہے۔
تیسرے منظر میں ’’گُل پری‘‘ایک نہایت معنی خیز کردار کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گُل پری کوئی حقیقی عورت یا محض محبوبہ نہیں بلکہ وہ خواب، امکان، معصومیت، محبت اور رومان کا استعارہ ہے۔ ایک ایسی ہستی ہے جو ابھی مکمل طور پر مشینی تہذیب میں ضم نہیں ہوئی تھی۔ شاعر کی تلاش دراصل اسی گم شدہ خواب کی تلاش ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسان سے جوڑتا تھا مگر یہ گُل پری، مشینہ کے سحر میں آ کر یا تو کھو جاتی ہے یا اپنی ماہیت بدل لیتی ہے؛ اسی لیے شاعر کا خوفناک سوال ابھرتا ہے کہ کہیں گُل پری خود ہی ’’مش ی ی ی نہ‘‘میں نہ ڈھل گئی ہو۔ یہ سوال اس المیے کی طرف اشارہ ہے کہ مشینی تہذیب صرف رشتوں کو نہیں، خوابوں کو بھی مسخ کر دیتی ہے۔ اسی طرح عورت کی خوشبو کا ’’مشینوں پر بکنا‘‘، ہنسی اور کھلونوں کا عجائب گھروں میں قید ہونا اور بچوں کے ماڈلز کا ونڈوز میں سجا دیا جانا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ مشینہ محض ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک سرمایہ دارانہ، صارفیت زدہ نظام ہے جہاں ہر وجود شے میں بدل جاتا ہے حتیٰ کہ عورت، بچپن، یادیں اور خواب بھی۔ گُل پری اسی انسانی امکان کی علامت ہے جو اس نظام میں زندہ نہیں رہ سکتی اور اگر رہتی ہے تو اپنی اصل کھو بیٹھتی ہے۔
چوتھے منظر میں مشینہ محبوبہ کے روپ میں سامنے آتی ہے مگر یہ محبوبہ بھی روایتی نہیں۔ یہ وہ عورت ہے جو دھات کی ’’سنہری چمک‘‘کی طرف راغب ہو جاتی ہے، جو میلے کی موج میں شاعر کوموت کے کنویں میں گرا کر آگے بڑھ جاتی ہے مگر یہاں نظم عورت پر اخلاقی الزام عائد نہیں کرتی بلکہ مشینہ کے ذریعے اس عہد کی اس مجبوری کو دکھاتی ہے جہاں تعلقات شاعری کے ذریعے نہیں، منڈی کے ذریعے طے ہوتے ہیں۔ شاعر کا اعتراف کہ وہ لفظوں کو زندہ تو کر سکتا ہے مگر ان پر سونے کا پانی نہیں چڑھا سکتا، مشینہ کے معاشی و تہذیبی مفہوم کو مزید واضح کرتا ہے۔
پانچویں منظر میں مشینہ پوری طرح عہدِ جدید کا مجسم استعارہ بن جاتی ہے۔ تاریخ، جنگ، سرمایہ، سرکس، میڈیا، طاقت، ہیروشیما، ہٹلر، چرچل، امریکی و روسی، سب ایک تماشے میں بدل جاتے ہیں۔ یہاں مشینہ وہ عظیم مشین ہے جس میں آدمی خود اپنی انگلی پر ناچتا ہے، اپنی لاش اٹھائے اپنی میت کی سیلفی بناتا ہے۔ اس مقام پر مشینہ نہ عورت رہتی ہے، نہ محبوبہ، بلکہ ایک ایسا طاقتور نظام بن جاتی ہے جو فرد کے شعور اور ارادے کو قابو کر کے اس کی خود شناسی کو تباہ کر دیتا ہے۔
چھٹے، ساتویں اور آٹھویں منظر میں داخل ہوتے ہی نظم مشینہ ایک فیصلہ کن فکری موڑ لیتی ہے۔ اگر ابتدائی مناظر میں مشینہ ڈیجیٹل محبوبہ، سرمایہ دارانہ تہذیب اور صارفیت زدہ سماج کی علامت تھی تو اب وہ ایک ایسی مہیب اور نیم دیومالائی قوت میں تبدیل ہو جاتی ہے جو براہِ راست انسانی آدمیت، اخلاقیات، روحانیت اور تخلیقی جوہر پر حملہ آور ہے۔ یہاں مشینہ محض عہد کی نمائندہ نہیں رہتی بلکہ خود عہد کی خالق، اس کی قاتل اور اس کی واحد معبود بن جاتی ہے۔
چھٹے منظر میں شاعر مشینہ کو پہلی بار ایک واضح اخلاقی اور تہذیبی کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے۔ یہاں مشینہ کو’’وحشی قابیل‘‘ سے تشبیہ دینا انسان کی پہلی اخلاقی شکست کی یاد دہانی ہے۔ قابیل وہ پہلا انسان تھا جس نے جبلت کو وحی، طاقت کو محبت اور ملکیت کو اخوت پر ترجیح دی۔ مشینہ اسی قابیل کی جدید صورت ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب قتل ایک فرد کا نہیں بلکہ آدمیت کا ہو رہا ہے۔ اس منظرمیں آسمانی رحمت کو’’تاراج‘‘ کرنے کا استعارہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی اور جدید نظام نے وہ تمام امکانات جو محبت، صداقت، حسن اور تخلیق کے لیے نازل کیے گئے تھے، انھیں طاقت، منافع اور لذت میں بدل دیا ہے۔ مشینہ یہاں ایک ایسی مخلوق ہے جو نچلے بالوں کے جنگل میں چھپی وحشت کی قیدی بن چکی ہے؛ یعنی وہ شعور کی بلندی سے کٹ کر جبلت کے اسفل درجے میں جا گری ہے۔ یہاں شاعر کا خطاب محض تنقیدی نہیں بلکہ اصلاحی بھی ہے۔ وہ مشینہ کو آسمان کی طرف دیکھنے کی تلقین کرتا ہے تو یہ محض رہنمائی ہی نہیں بلکہ اس کے اندر چھپی ہوئی انسانی بصیرت کو جھنجھوڑنے کی ایک کوشش ہے۔’’عقلِ معاد‘‘کا حوالہ بھی یہی بتاتا ہے کہ مشینہ کی تقلیب صرف اخلاقی بیداری اور ما بعد الطبیعیاتی شعور میں مضمر ہے نہ کہ کسی مادی یا تکنیکی تبدیلی میں۔ پہلی بار نظم میں مشینہ کے لیے ’’آدم ‘‘بننے کا امکان ابھرتا ہے، اور اگرچہ یہ امکان کمزور ہے، پھر بھی اس میں انسانیت کی نشانی موجود ہے جو ممکنہ نجات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
ساتواں منظر اس نظم کا سب سے زیادہ تہذیبی، جمالیاتی اور فکری طور پر پیچیدہ حصہ ہے۔ یہاں مشینہ جدید دنیا کی اس بے حسی کی علامت بن جاتی ہے جو انسانی دکھ، فن، تاریخ اور جمالیات کو محض قیمت اور افادیت کے پیمانے پر پرکھتی ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ کی ’’شانتی، شانتی، شانتی‘‘جو روحانی سکون اور اختتام کی علامت ہے، مشینہ کے لیے محض ایک صوتی تخاطب رہ جاتی ہے۔ وہ مڑ کر دیکھتی تو ہے مگر اس نظر میں ہمدردی نہیں، صرف لوہے کے غمزے ہیں۔ گرتے ہوئے پل کے نیچے بیٹھے روتے انسان کے مقابل، مشینہ کے لیے اہم مسئلہ دریا میں بہتا ہوا تیل ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مشینہ مکمل طور پر سرمایہ دارانہ تہذیب کا مجسم پیکر بن جاتی ہے۔ ’’گورنیکا‘‘ کے میورل کے نیچے کھڑا خاموش آدمی ہو یا ڈالی کے شاہکار پر برسنے والے قہقہے، یہ سب اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ جدید مشینی ذہن کے لیے فن، احتجاج، تاریخ اور المیہ محض بصری اشیا ہیں جن سے اس کا کوئی اخلاقی یا انسانی رشتہ باقی نہیں رہا۔ یہاں حیض کا عدم انجذاب نظم کا سب سے زیادہ چونکا دینے والااور تکلیف دہ استعارہ بن کر ظاہر ہوتا ہے جس سے باور آتا ہے کہ مشینہ اب فن سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ زندگی کے حیاتیاتی اور تجارتی پہلوؤں کو جذب کرے، نہ کہ انسانی درد، روحانی سوال یا اخلاقی سچائی کو۔ گویا مشینہ کے عہد میں فن، محبت، احتجاج اور اخلاق سب غیر ضروری ہو چکے ہیں، کیونکہ وہ منڈی اور طاقت کے بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتے۔
آٹھواں منظر اس نظم کا سب سے فلسفیانہ، تمثیلی اور نسبتاً امید افزا حصہ ہے۔ یہاں شاعر پہلی بار مشینہ سے براہِ راست یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ’’مصنوعی زندگی کا بٹن آف‘‘ کرے۔ یہ محض ٹیکنالوجی پر بندش عائد کرنے کی بات نہیں بلکہ مصنوعی شعور، جعلی ترقی اور جھوٹی ہمہ دائی سے دستبرداری کی دعوت ہے۔ حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس کا حوالہ علم، طاقت اور معجزے کی نئی تعبیر پیش کرتا ہے۔ یہاں معجزہ خدائی نہیں، انسانی ہنر اور علم کا موجب ہے اور یہ بات مشینہ کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مشین کے مقابلے میں انسان ہی تخلیقی ہو سکتا ہے اور حیرت آفرین بھی۔ یہاں ہوا کی پری کا پرندوں سے خطاب بھی حدودِ علم کا استعارہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شاعر واضح کرتا ہے کہ ہر شے کو جان لینے، ہر حد کو توڑنے اور ہر راز کو فتح کرنے کی خواہش دراصل موت کی طرف دوڑ ہے۔ مشینہ کی اصل غلطی یہی ہے کہ وہ دانائی کے واہمے میں مبتلا ہے۔ اس واہمے کے مقابل ’’حیرت‘‘ کو زندگی کا حاصل قرار دینا نظم کا سب سے گہرا فلسفیانہ بیان ہے۔ حیرت وہ کیفیت ہے جو نہ ڈیٹا میں محفوظ ہو سکتی ہے، نہ اسے مشین پیدا کر سکتی ہے۔ لیکن یہی حیرت انسان کو بچا سکتی ہے، اگر وہ بچنا چاہے۔ اس منظر کے اختتام پر قیامت کا استعارہ محض مذہبی نہیں بلکہ تہذیبی ہے۔ زمین کی کہانی ختم ہو رہی ہے مگر شاعر کا یہ اصرار ہے کہ ذرا سی خوشی، ذرا سی حیرت اور ذرا سی انسانیت اب بھی ایک بڑی قوت بن سکتی ہے۔
اس تجزیے کے تناظر میں دیکھا جائے تو مشینہ کا استعارہ جاتی بیانیہ بتدریج خارجی تنقید سے داخلی کرب کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور نظم ایک تہذیبی مرثیے سے آگے بڑھ کر فکری اور وجودی نوحہ بن جاتی ہے۔ غور کیجیے تو اس میں’’اسارت‘‘کا تصور پوری شدت کے ساتھ ابھرتا ہے جو نظم کے پورے بیانیے میں مسلسل سرایت کیے ہوئے ہے۔ یہ اسارت شعور اور جذبات تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ جسم اور جبلت کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ آگے چل کر یہی قید تاریخ اور نظام کی سطح پر ظاہر ہوتی ہے اور معنی کے زوال، وقت کی قید اور انسانی تجربے کی سطحیت بھی اسارت ہی کی صورتیں بن جاتی ہیں۔ سب سے گہری سطح لاادراک اسارت کی ہے جہاں قیدی کو اپنی قید کا شعور بھی نہیں رہتا۔ جب غلامی کو سہولت، تفریح اور ترقی کے نام پر قبول کر لیا جائے تو اس سے بڑی ذہنی اور فکری اسارت ممکن نہیں ہوتی۔ یہی اس نظم کا سب سے گہرا اور کرب ناک سچ ہے۔

یامین
مشینہ:ڈسٹوپیا
آدمی کے نادمی بن جانے کا
نظم کے تیسرے منظر کا آغاز ہمیں علینہ کی یاد دلاتا ہے۔
یہ اُس رُت کا قصہ ہے
جب میںترے کان میں
’گُل پری‘ کَہ کےسرگوشی کرتا
تو رخسار تیرے گُل سرخ بن کردہکتے
مہکتے، بہکتے ہوئے تُو
چلی آئی یو ں ہی
مری نظم کے خواب میں
یہاں فرشی صاحب کی ایک پرانی نظم “Cyberia “کا اتصال نظم مشینہ کے اندر اس طرح وجود پذیر ہوا ہے کہ پوری کی پوری نظم مشینہ کے متن کا حصہ بن گئی ہے ۔ یہ بین المتونیت(Intertextuality) کی نادر مثال ہے کہ اس سے پہلےاردو نظم میں کہیں شاعر کی اپنی نظم کا Direct Quote دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس عمل سے بہت سی باتیں سامنے آئی ہیں۔ ایک یہ کہ شاعر کا اپنے ہی متن کو انٹر ٹیکسچویلٹی کے طور پر استعمال کرنا اس کے تخلیقی انفراد اور ذہانت کی دلیل ہے۔ دوسرے یہ کہ شاعر کے زرخیز ذہن میں اس نظم (مشینہ) کے Traces پہلے سے موجود تھے اور اگر کوئی نظم شاعر کے حافظےمیں پچیس تیس برس تک پڑی رہے تو اس کا مطلب ہے کہ زندگی اُس کے ہاں زمانی مکانی کے ٹکڑوں میں بٹی ہوئی نہیں بلکہ ایک فلسفیانہ تخلیقی کلیت میں ڈھلی ہوئی نامیاتی وحدت ہےاوراُس کے وجود کےلاشعوری سمندر میں انسانی تاریخ، آرکی ٹائپس ،کائناتی شعور،تہذیبی رشتوں،مابعد الطبیعیاتی تصورِ حیات اور تخلیقی وجدان کے ہفت رنگی شعاعوں کی یکجائی کی منزل پرابدیت آشنا ہوچکا ہے۔ اس کی نگاہ دور بین ، سرمایہ دارانہ نظام کے ارتقا یعنی اس کے ماضی سے مستقبل بعید تک کا احاطہ کر سکتی ہے۔نظم “Cyberia ” کی تخلیق کا زمانہ 2002 سے پہلے کا ہے کیوں کہ یہ پہلی بار ’’آفاق‘‘راولپنڈی کے ستمبر2002کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ اس وقت ہمارے دوست، ذہین نقاد اور منفرد تخلیق کار زیف سید نے اس کا بڑا خوبصورت تجزیہ کیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ نظم اردو کا پہلا ڈسٹوپیا ہے۔ اس نظم کی دنیا ایک دور دراز اور دور ازکار دنیا ہے لیکن انسان اس کی طرف بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ آج بائیس برس بعد یہ تجزیہ پڑھ کر ہم سوچتے ہیں کہ اس دنیا میں دکھائی جانے والی بہت سی باتیں تو ظہور پذیر ہو چکی ہیں۔یہ انوکھی دنیا کیا ہے ،زیف سید کے الفاظ میں پڑھیے
” نظم کا عنوان دو انگریزی مادوں، یعنی سائبر اور ایریا کے ادغام سے وضع کیا گیا ہے، جس سے ذہن کمپیوٹر کی دنیا کی طرف مائل ہوتاہے۔ لیکن لفظ سائبیریا کی صوتیات ہمیں روس کے صوبے کی طرف بھی متوجہ کرتی ہیں۔ نظم میں مونتاژ کی تکنیک سے کام لیتے ہوئے چھوٹے چھوٹے کئی مناظر بیان کیے گئے ہیں جو ہمیں اس سائبیریا کے بارے میںمعلومات فراہم کرتے ہیں۔ یہ مستقبل بعید کا ایک ایسا زمانہ ہے جس میں انسان غالباً مکمل طور پر کمپیوٹر سے ہم کنار ہو چکا ہے۔ انسان اور کمپیوٹر کی یکجائی اور یکجانی کے بارے میں بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ مستقبل میں ایسا ممکن ہے کہ انسان کے جسمانی دماغ (brain) کو کمپیوٹر سے منسلک کرکے شعوری دماغ (mind) کو ہارڈ ڈسک پر اتار (download) لیا جائے۔ اگر انھی خطوط پر سوچتے ہوئے آگے بڑھا جائے تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ ایسے دماغ انٹرنیٹ کی وساطت سے ساری دنیا میں جاری وساری ہو جائیں گے اور ا یک cyber-community وجود میں آ جائے گی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسےنظم “Cyberia ” کے انسان بھی اسی طرح کی کسی کمیونٹی میں ’’بس‘‘ رہے ہیں جہاں وہ ’’جسم‘‘ او ر اس کے متعلقات سے مکمل طور پر چھٹکارا حاصل کر چکے ہیں۔ نظم کے بند ۲ تا ۵ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاشرے میں جنس سے حظ حاصل کرنے کا تصوربھی فنا ہو چکا ہے اور جہاں عورت کی خوش بو ’’بغلوں‘‘ میں چھڑک کر کام چلایا جاتاہے۔ جہاں کھانے پینے کا تصور بھی ناپید ہوچکا ہے اور لوگ اپنے اپنے کیمروں میں کھانے کے خواب دیکھتے ہیں۔ جہاں ہنسی ، بچپن، معصومیت، بچے، سبھی عجائب گھروں کی زینت بن چکے ہیں۔ اس عہد میں مقدر، دعا اور محبت جیسے جذبے بھی موت کے گھاٹ اتر گئے ہیں”۔
(زیف سید، آفاق راولپنڈی، 4 جنوری 2004، ص 173)
اور بھی بہت سی قابل غور چیزیں ہیں جو اس نظم سائبیریا میں دکھائی اور بتائی گئی ہیں۔اگر ان پر بات کریں تو یہ تحریر طوالت کا شکار ہو جائے گی۔ زیر تذکرہ نظم (مشینہ) کے تیسرے منظر میں جب اس نظم کا اقتباس اختتام کو پہنچتا ہے تو نظم کی آخری سطر کا ان کہا واضح طور پر نظر آنے لگتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ گل پری وہی علینہ ہے جو اب اپنے پاکیزہ لباس کو اتار کر مشینہ کے روپ میں ڈھل چکی ہے۔علینہ کا زمانہ یکسر بدل چکا ہے۔ کیا وقت تھا جب ہمارے شاعر کو علینہ نے ایسا پرم رس پلایا تھا کہ پھر وہ اس کے باغوں سے واپس نہ آ سکا۔اسے ان باغوں کی سیر سے اتنی بھی فرصت نہیں تھی کہ علینہ کے ان باغات کی کہانی لکھ سکے جہاں اس کی جوانی سانس روکے کھڑی تھی۔اور اب یہ عالم ہے کہ نہ علینہ رہی، نہ وہ باغات ۔ اب تو پھول پر تتلی کے بوسے کی طرح اترتا ہوا وہ نام بھی ہمیں نہیں مل پائے گا جس کا رس لوری کے بولوں میں گھل کر ہمیں خوابوں کی جنت میں پہنچا دیتا تھا۔یہ کون سا علاقہ ہےجس میں نہ تو پھول ہوتے ہیں نہ تتلیاں اور نہ ہی وہ آنکھیں جو دیدۂ بینا کہلا سکیں۔ جمود برف کی طرح جم چکا ہے ۔۔۔ کہیں یہ سائبیریا تو نہیں۔۔۔ گویا سائبرکا مفتوحہ علاقہ جہاں مشینہ کی حکم رانی قائم ہو چکی ہے۔
نظم کے ساتویں منظر میں جہاں مشینی اقتدار کی ستھِرتا دکھائی گئی ہےوہاں اس کی انسان دشمنی کے خلاف اٹھنے والے ستھیارتھی کو بھی ایلیٹ کی شکل میں دکھایا گیا ہے۔ شاعری کے ساتھ ساتھ دیگر فنون لطیفہ جن کی تخلیق انسان دوستی کے خمیر سے اٹھتی ہے ان کی نمائندہ تخلیقات کا ذکر کر کے آرٹ کے منصب کا تعین بھی کیا گیا ہے کہ آرٹ (بشمول شاعری جس میں کہ آرٹ کے تمام تر فنون جمع ہو جاتے ہیں ۔جیسا کہ اس نظم میںا بھی آرٹ کے کئی مظاہر ہیں جنھیں دیکھا ، سنا اور محسوس کیا جا سکتا ہے) ہی اس سرمایہ داری کی تہذیب پر ضرب کاری لگانے کا اہل ہے اگر اس نے اپنے تہذیبی سرچشمے سے اپنی زبان تر کی ہو۔ نظم کے اس ساتویں منظر میں ہمیں آرٹ نے کیا کیا دکھایا ہے۔ پکاسو، ڈالی اور ایم ایف حسین جسے بھارت کا پکاسو کہا گیا۔ گج گامنی میں پھرتی ہوئی حسن کی تصویریں، لندن برج اور وہ امیج جن میں ٹیمز خوبصورتی سے بہہ رہا ہے۔ ہنسی کے انگار، پھولوں کے افکار، کینوس ، ڈالر کی کمر تھامے ہوئے گوریاں ، ذرا تصور کریں کہ شاعر نے طاقت ورکرنسی کو کیسے پرسونیفائی کیاہے۔یہ وہ پتلی کمر ہے جو مشرق و مغرب میں یکساں مقبول ہے۔اڑتے لبادے اور مے کے پیالے ،روبوٹ جو مدہوش جسموں پر گرتے ہیں۔یہاں جو امیج استعارے اور ایکسٹنڈڈ میٹافر کے کمالات نظر آ رہے ہیں ان کی جمالیات پر ایک علاحدہ مضمون لکھا جا سکتا ہے۔ تمام تر امیجری، اور سمبلزم جو اس نظم کے اندر کار فرما ہے فن کا ایک اچھوتا مظاہرہ ہے اور یہ شاعری آرٹ کی تمام شاخوں کی تازہ کاری کا عظیم مرقع بن گئی ہے۔
یہ محبت کا تھل جو ہمارے آس پاس پھیلا ہوا ہے اس کو کون اپنے آنسووں سے سرسبز گلستان میں بدل سکتا ہے۔ ایسا صاحب نظر ایک تو دریائے ٹیمز کے کنارے پر تھا اور دوسرا سندھو کے اندر اپنی کہانی میں غرق ہو کر اپنے خوابوں سے محبت کے تھل کو شانتی کے باغ میں تبدیل کرنے کا خواب دکھا رہا ہے۔
ویسے تو نظم “مشینہ ” کا سارا منظرنامہ آدمی سے نادمی بننے کی داستان ہےلیکن اس کا چھٹا منظر ہمیں آدم کی داستان کے بالکل آغاز میں لے جاتا ہے۔ جبلت کی اسفل سطح کے اظہار کے لیے قابیل سے زیادہ بلیغ علامت اور کوئی نہیں۔حسد کی آگ ، برتری کا جذبہ اور دوسرے کو تسلیم نہ کرنے کی خو انسانی جبلت میں موجود ہیں ۔ یہ ہمارے باطنی حواس؍حقائق ہیں۔ یہ جب تک اپنا ظہور نہیں کرتے معروضی حقیقت نہیں بنتے۔ معروض میں ان کا ظہور ہی آدم کے امتحان کا جواز ہے۔ ایسی صورت حال میں امید کا پرچم بلند رکھنا اور مشینی فکر سے نجات کا راستہ تلاش کرنا نظم کا بڑا موضوع ہے۔ افتخار بخاری صاحب نے خوب نشاندہی کی ہےکہ آخری سطر انسان کی مشینیت اور وحشت سے نجات کا راستہ دکھاتی ہے۔ فرشی صاحب کی اس نظم کا خاصہ یہی ہے کہ اس میں مشینی زندگی کا بالعکس نقشا بھی ہمیں نظر آتا ہے اور اس نقشے میں امید کا ٹمٹماتا ہوا ستارہ ، عقل معاد کی علامت میںڈھل کر راہ نجات کو روشن کرتا ہے۔
آٹھویں منظر میں قرآنی تلمیحات کے گنج گراں مایہ میں سے ایک خوبصورت تلمیح اٹھائی گئی ہے اور اس کے ذریعے یہ باور کرایا گیا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی مصنوعی، عارضی اور نا پائدار ہے۔حضرت سلیمان کی حاکمیت کا رنگ اور ریاست کا نظم چلانے کا طریقہ آج کے صنعتی انقلاب اور سرمایہ داری نظام سے کہیں زیادہ شاندار حقیقی اور ترقی یافتہ تھا۔معاشرے کا ہر فرد ( آدمی) اپنی تمام تر صلاحیتوں سے لیس تھا اور جانتا تھا کہ اس کے دست قدرت میں کیا کیا ہے۔ ایک آدمی جس کا نام آصف بن برخیا خیال کیا جاتا ہے کس قدر طاقتور روحانی قوتوں کا تصرف کرنے کا اہل تھا۔ یہ وہی روحانی تجربہ ہے جسے اقبال اپنے پہلے خطبہ Knowledge and Relegious Experience میں وجدان سے تعبیر کرتے ہیں۔ ہماری تہذیبی روایت میں مذہبی مشاہدات کا غالب اثر نظر آتا ہے۔ اقبال اپنے پہلے خطبے میں اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ مذہبی مشاہدات کے حقائق بھی دوسرے انسانی تجربات کی طرح معتبر حقائق ہیں اس لیے اس تجربے کو محض وہم کہہ کر رد نہیں کیا جا سکتا۔ آصف بن برخیا کے پاس وجدان سے حاصل کردہ علم ہی تھا جس کے ذریعے اس نے پلک جھپکنے میں کوسوں کا سفر طے کر لیا تھا۔
اس منظر میں سرمایہ دارانہ ترقی، مادیت پرستی اور حرص و ہوس کی نمائندہ مشینہ کو عہد سلیمانی کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے۔ یہ منظر دکھانے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کی ترقی صرف مادے کی ترقی نہیں ہے بلکہ پورے انسان کی ترقی ہے۔ ساتھ ہی شاعر نے ایک مصلح ، دانشور اور صاحب علم کی حیثیت سے دعوت کا فریضہ بھی ادا کر دیا ہے۔ فلک سے بغاوت نے آدمی کو نادمی بنا دیا ہے۔شاعر نے یہ بات پرندوں کی علامت کے ذریعے سمجھائی ہے۔ اگرچہ پرندوں کی زبان میٹھی ہوتی ہے ، وہ بلند پرواز ہوتے ہیں ، ان پر الہامی قوتیں اپنا تصرف رکھتی ہیں اور ان کی جبلت انھیں راستوں کی پہچان کروا دیتی ہے لیکن مقراض لا تک ان کی پہنچ کیسے ہو سکتی ہے۔جہاں جبریل کے پر جلتے ہوں وہاں ہما شما کی کیا حیثیت ہے۔ اس نظم میں پرندوں کا در آنا دراصل ان خوبیوں کی وجہ سے ہے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ مشینہ کا کرداران سارے رازوں سے واقف ہے ۔ وہ سب علامتوں کو سمجھتی ہے مگر چپ ہے۔ شاید اندر سے یہ سمجھتی ہو کہ ٹیکنالوجی ان پرندوں کی علامتیں بھی اپنے تصرف میں لا چکی ہے۔ٹویٹ کا شہرہ عام اس کی ایک نمایاںمثال ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اندر ہی اندر اپنی فتح پر خوش ہے۔وہ خوش تو ہے لیکن وہ سرخوشی سےآشنا نہیں ہے۔آدمی کے پاس تو حیرت سے نمود کرنے والی سرخوشی کا خزانہ ہے۔نادمی کے پاس کیا ہے۔ شاعر کی آرزو ہے کہ اب، جب زمین کی کہانی ختم ہونے والی ہے ، مشینہ (نادمی) کو چاہیے کہ وہ حیرت بھری سرخوشی کو بچا لے۔یہ وہ آرزو ہے جس کو اقبال نے اپنی نظم ” ابلیس کی مجلسِ شوریٰ” میں “شرار ِآرزو “کہا ہے۔ ہما رے عہد سے پہلے اقبال واحد ادبی شخصیت تھے جو سرمایہ داری کے سامنے پورے سیاسی سماجی اور دینی شعور کے ساتھ تنہا کھڑےتھے۔ آج علی محمد فرشی اسی مقام پر کھڑے نظر آتے ہیں اور افسوس کہ وہ بھی تنہا ہیں۔
مشینہ کا نواں منظر بھی روح عصر کے ساتھ ساتھ تاریخ کے گہرے شعور اور مستقبل کے ادراک کو پورے شعری جوہر کے ذریعے بیان کرتا ہے۔اس منظر کا آغازمصنوعی ذہانت ( اے۔آئی)کی حیران کن صلاحیت اور اس دنیائے کاف و نون میں اس کی عملداری کے اعتراف میں چند سطروں سے ہوتا ہے
مشینہ
تو سب جانتی ہے
ترا پیٹ اے آئی کا حاملہ
ان گنت پوتھیوں،تھیلیوں سے بھرا
جن میں لاکھوں برس زندگی کی
کہانی کے اسرار محفوظ ہیں
ایک ننھے سے تارے میں
جھرمٹ ہوں جیسے
کئی کہکشاؤںکےرقصاں
گھمرتے،جھمرتے
گھمریاکے چکر سے
باہر نکلنےکو بے تاب !
جیسے کہ نوری زمانوںکا سیلاب اُمڈ تا ہے
صدیوں سے لمبے فلیتےنکلتے ہیں
اس کے بعد کی ساری سطریں اور نظم کا سارا متن مشینہ کی مئے بے رنگ کے سامنے سقراط، داتا علی ہجویری، للّہ عارفہ، مولائے روم اور علی بخش حیدری کی مئے گلفام کی قدرو منزلت کو اجاگر کرتا ہے۔ (یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام بہت ہے۔۔۔غالب) ہمارے ان تہذیبی و تاریخی کرداروںسے ہماری نسل تو خوب واقف ہے لیکن ما بعد انسانی عہد میں ان کا تعارف گم شدہ جوہر انسانی کا تعارف بن جاتا ہے۔مجھ سے پہلے اپنے تجزیے میں برادرم افتخار بخاری نےاس فکر کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔وہ مشینہ کو ایک ایسی مابعد انسانی ہستی قرار دیتے ہیں جو حافظے، سرعت رفتار اور بصارت میں انسان سے کہیں زیادہ صلاحیت کی مالک ہے۔ لیکن اس ہستی کوذرا بھی علم نہیں کہ وہ اخلاقی وجود، شعور ذات اور عرفان و صداقت جیسی نعمتوں سے یکسر محروم ہے۔ یہ منظر درحقیقت بصیرت ، فراست اور صداقت کے عہد زوال کا نوحہ ہےاگرچہ گوہر معانی تک رسائی میں کوئی دقت نہیں ہےلیکن ان فنی حربوں کو پہچاننا اگر ضروری نہیں تو ان پر ایک طالب علمانہ نگاہ ڈالنے میں کوئی حرج بھی نہیں جن کو بروئے کار لانے سےمعانی کا طلسم وجود میں آیا ہے۔مشینہ کا تانیثی کردار اور اس کا اے آئی سے حاملہ ہو جانا اور وہ بھی نظم کے نویں منظر میں لفظی و معنوی مناسبت کا خوبصورت اظہار ہے۔زبان اگرچہ سادہ ہے لیکن سمبل و علامتیں ایسی ہیں کہ ادب و شعر کا ذوق دونا ہو جاتا ہے۔ تنقیدی تحریروں میں ، تشبیہات کا ذکر آ جائے تو ہم اکثر نادر تشبیہ کی ترکیب استعمال کرتے ہیں۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ نادر تشبیہ لانا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ یہاں اس نظم اور اس منظر میں واقعی تشبیہات میں نادر و نایاب امیج نظر آتے ہیں۔ ان نوادر کی تخلیق و تکوین کا عمل اگرچہ لاشعوری رو میں خود بہ خود ظہور پذیر ہو جاتا ہے لیکن اس کے پیچھے وقت کا متخیلہ اور علم کا کتنا بڑا سفر ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ذرا دیکھیے یہ الفاظ، یہ تراکیب اور یہ امیج کیسے آپ کے ذہن کو گرماتے اور للچاتے ہیں:’’ پوتھیوں، تھیلیوں سے بھرا پیٹ‘‘،’’ صدیوں سے لمبے فلیتے‘‘، ’’ہتھیلی پہ آسودہ نازک بدن نازنین‘‘،’’ مچلتی چھاتیوں کے بٹن‘‘، ’’حیرت کی بجلی‘‘، ’’غیبی خزانے‘‘،’’ ساونی بادل‘‘،’’ معانی و الفاظ کی آبشاریں‘‘، ’’دانش کی پکنک‘‘، ’’حیرت کا ساحل‘‘، ‘‘معصومیت کے گھروندے‘‘،’’ ست کا پیالہ‘‘ ،’’ سہ قطرہ امرت‘‘، ’’غلامی کے جوتے‘‘، ’’معلوم و موجود کا باد گردی حمام‘‘،’’ دولے انسان‘‘۔اس فہرست میں نہ صرف نئی نکور اور نادر و نایاب تشبیہات ہیں بلکہ سمبل، علامتیں، استعارے، کنسیٹ، استعارے اور امیجز بھی ہیں جن کو الگ الگ دکھانے اور ان پر بحث کرنے کا محل نہیں ہے۔ تاہم توسیعی استعارے (Extended Metaphor) کی ایک جھلک دکھانے سے شاید کچھ اذہان کو اچھا لگے
میں نے للّہ (۲)کے
ست کے پیالے سے چھلکے ہوئے
ایک سہ قطرہ امرت کے
چھینٹے میں دل کو بھگویا
وہ نورانی بارش
مجھے دھو گئی اس طرح
جیسے زم زم کے جھالوںسے
ہونے نہ ہونے کاسارا جہاں دُھل گیا ہو
ست کا پیالہ، ایک توسیعی استعارہ ہے جس سے ایک اور توسیعی استعارہ’’سہ قطرہ امرت‘‘بھی جنم لیتا ہے۔ اور پورے پیراگراف پر اپنی ایک الگ فضا بنا کر تاثر کو گہرائی عطا کرتا ہے۔ست کا مفہوم جوہر حیات بھی ہے، سچائی اور راستی بھی، پاک دامنی و پارسائی بھی، استقامت و استحکام بھی۔ خالص ذات اور خالص شعور بھی یعنی دانش اور حکمت جو للّہ کے ذہن رسا سے چھلک رہی تھی اور شاعر کے ذہن میں اتر رہی تھی، اسے دکھانے کے لیے شاعر نے ست کے پیالے کا استعارہ بنا کر اس کے چھلکنے، اس کے امرت قطرے کے چھینٹے سے دل کو بھگونے نورانی بارش اور زم زم کے جھالوں کے مناظر تک اس استعارے کو توسیع دے کر شاعر نے ہماری اور اپنی ذات کو ہی نہیں سارے جہان کی پاکیزگی کو پھول کی طرح مہکا دیا ہے۔ یہ کام توسیعی استعارے کے بغیر ممکن نہیں تھا۔اے آئی کو ہماری تہذیب کے جن کرداروں سے شاعر نے متعارف کروایا ہے ان میں سے مولائے روم اور للّہ عارفہ کی شاعری کو اس نظم کے اندر ایک مرصع ساز کی طرح ٹانک دیا ہے۔ للّہ عارفہ کی وہ دانش شاعر نےخوبصورت لفظوں میں بیان کر دی ہے۔ کہ اگر سننا چاہتے ہو تو بہرے بن جاؤ، کچھ کہنا چاہتے ہو تو گونگے ہو جاؤ اور اگر دیکھنا چاہتے ہو تو اندھے بن کر رہو۔للّہ عارفہ کی یہ روشنی اس نظم کے کئی منظروں میں چمک رہی ہے۔ بلکہ اس نظم کی تکمیل میں بھی للّہ عارفہ کی روحانی توجہ کا دخل ہے۔ نظم کے زیر نظر منظر کا جوہر للّہ عارفہ کی واکھ سے اخذ کردہ دانش ہے
مشینہ
صداقت ہمیشہ بہت کم ملے گی
مگر دیکھتے ہی اسے
دل مچلنے لگے گا
کہ تسلیم ہے
ہاں ! یہی حسنِ اوّل کی تعظیم ہے