علی محمد فرشی کی اس نظم میں’’ مشینہ‘‘ محض’’مشین‘‘کی تانیث تک محدود نہیں رہتی بلکہ ایک کثیرالمعنی علامت بن کر پورے عہد، اس کی نفسیات، اس کی تہذیبی سمت اور انسانی رشتوں کی نئی صورتِ حال کو سمیٹ لیتی ہے۔ اب تک اس نظم کے جو مناظر پیش کیے گئے ہیں انھیں یکجا پڑھنے سے واضح ہوتا ہے کہ مشینہ ایک کردار نہیں، ایک وجودی کیفیت ہے جو بیک وقت محبوبہ، سماج، ٹیکنالوجی، صارفیت اور خود انسان کی مسخ شدہ آدمیت کی نمائندگی کرتی ہے۔
ابتدائی منظر میں مشینہ ایک ایسی غیر مرئی ہستی کے طور پر سامنے آتی ہے جو سوشل میڈیا، خاص طور پر فیس بک کے آئینے میں جلوہ گر ہے۔ یہاں وہ انسان ہے نہ محض شبیہ، وہ شناختوں کے ہجوم میں گم ایک چہرہ ہے جسے شاعر پہچان تو لیتا ہے مگر اس تک پہنچ نہیں سکتا۔ مشینہ ڈیجیٹل عہد کی وہ محبوبہ ہے جو ’’تصویری کہانی‘‘ میں ڈھل چکی ہےجس میں لمس ہے نہ موجودگی نہ آواز۔ یوں وہ جدید انسان کے تنہائی زدہ تعلقات کی علامت بن جاتی ہے۔
دوسرے منظر میں یہ علامت مزید تہہ دار ہو جاتی ہے۔ مشینہ اب محض ایک ڈیجیٹل شبیہ نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی ذہنی و وجودی ساخت بن جاتی ہے جس میں انسان اپنی زخم خوردہ تمناؤں کو اسکرین کے اندر دفن کر دیتا ہے۔ اِن باکس کا درد ہو، تصویر میں مسکرانا ہو یا آنکھوں تک نہ آنے والے آنسو ہوں، یہ سب اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ مشینہ احساسات کو محفوظ تو کر لیتی ہے مگر انھیں شفا، تطہیر یا نجات فراہم نہیں کر سکتی۔ یہاں جذبات جینے کا تجربہ نہیں بنتے بلکہ ڈیٹا، فائل، امیج اور سرفیس میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور محبت آہستہ آہستہ فیشن سے باہر کی شے بن جاتی ہے۔
تیسرے منظر میں ’’گُل پری‘‘ایک نہایت معنی خیز کردار کے طور پر سامنے آتی ہے۔ گُل پری کوئی حقیقی عورت یا محض محبوبہ نہیں بلکہ وہ خواب، امکان، معصومیت، محبت اور رومان کا استعارہ ہے۔ ایک ایسی ہستی ہے جو ابھی مکمل طور پر مشینی تہذیب میں ضم نہیں ہوئی تھی۔ شاعر کی تلاش دراصل اسی گم شدہ خواب کی تلاش ہے جو ایک انسان کو دوسرے انسان سے جوڑتا تھا مگر یہ گُل پری، مشینہ کے سحر میں آ کر یا تو کھو جاتی ہے یا اپنی ماہیت بدل لیتی ہے؛ اسی لیے شاعر کا خوفناک سوال ابھرتا ہے کہ کہیں گُل پری خود ہی ’’مش ی ی ی نہ‘‘میں نہ ڈھل گئی ہو۔ یہ سوال اس المیے کی طرف اشارہ ہے کہ مشینی تہذیب صرف رشتوں کو نہیں، خوابوں کو بھی مسخ کر دیتی ہے۔ اسی طرح عورت کی خوشبو کا ’’مشینوں پر بکنا‘‘، ہنسی اور کھلونوں کا عجائب گھروں میں قید ہونا اور بچوں کے ماڈلز کا ونڈوز میں سجا دیا جانا اس بات کو واضح کرتا ہے کہ مشینہ محض ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک سرمایہ دارانہ، صارفیت زدہ نظام ہے جہاں ہر وجود شے میں بدل جاتا ہے حتیٰ کہ عورت، بچپن، یادیں اور خواب بھی۔ گُل پری اسی انسانی امکان کی علامت ہے جو اس نظام میں زندہ نہیں رہ سکتی اور اگر رہتی ہے تو اپنی اصل کھو بیٹھتی ہے۔
چوتھے منظر میں مشینہ محبوبہ کے روپ میں سامنے آتی ہے مگر یہ محبوبہ بھی روایتی نہیں۔ یہ وہ عورت ہے جو دھات کی ’’سنہری چمک‘‘کی طرف راغب ہو جاتی ہے، جو میلے کی موج میں شاعر کوموت کے کنویں میں گرا کر آگے بڑھ جاتی ہے مگر یہاں نظم عورت پر اخلاقی الزام عائد نہیں کرتی بلکہ مشینہ کے ذریعے اس عہد کی اس مجبوری کو دکھاتی ہے جہاں تعلقات شاعری کے ذریعے نہیں، منڈی کے ذریعے طے ہوتے ہیں۔ شاعر کا اعتراف کہ وہ لفظوں کو زندہ تو کر سکتا ہے مگر ان پر سونے کا پانی نہیں چڑھا سکتا، مشینہ کے معاشی و تہذیبی مفہوم کو مزید واضح کرتا ہے۔
پانچویں منظر میں مشینہ پوری طرح عہدِ جدید کا مجسم استعارہ بن جاتی ہے۔ تاریخ، جنگ، سرمایہ، سرکس، میڈیا، طاقت، ہیروشیما، ہٹلر، چرچل، امریکی و روسی، سب ایک تماشے میں بدل جاتے ہیں۔ یہاں مشینہ وہ عظیم مشین ہے جس میں آدمی خود اپنی انگلی پر ناچتا ہے، اپنی لاش اٹھائے اپنی میت کی سیلفی بناتا ہے۔ اس مقام پر مشینہ نہ عورت رہتی ہے، نہ محبوبہ، بلکہ ایک ایسا طاقتور نظام بن جاتی ہے جو فرد کے شعور اور ارادے کو قابو کر کے اس کی خود شناسی کو تباہ کر دیتا ہے۔
چھٹے، ساتویں اور آٹھویں منظر میں داخل ہوتے ہی نظم مشینہ ایک فیصلہ کن فکری موڑ لیتی ہے۔ اگر ابتدائی مناظر میں مشینہ ڈیجیٹل محبوبہ، سرمایہ دارانہ تہذیب اور صارفیت زدہ سماج کی علامت تھی تو اب وہ ایک ایسی مہیب اور نیم دیومالائی قوت میں تبدیل ہو جاتی ہے جو براہِ راست انسانی آدمیت، اخلاقیات، روحانیت اور تخلیقی جوہر پر حملہ آور ہے۔ یہاں مشینہ محض عہد کی نمائندہ نہیں رہتی بلکہ خود عہد کی خالق، اس کی قاتل اور اس کی واحد معبود بن جاتی ہے۔
چھٹے منظر میں شاعر مشینہ کو پہلی بار ایک واضح اخلاقی اور تہذیبی کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے۔ یہاں مشینہ کو’’وحشی قابیل‘‘ سے تشبیہ دینا انسان کی پہلی اخلاقی شکست کی یاد دہانی ہے۔ قابیل وہ پہلا انسان تھا جس نے جبلت کو وحی، طاقت کو محبت اور ملکیت کو اخوت پر ترجیح دی۔ مشینہ اسی قابیل کی جدید صورت ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب قتل ایک فرد کا نہیں بلکہ آدمیت کا ہو رہا ہے۔ اس منظرمیں آسمانی رحمت کو’’تاراج‘‘ کرنے کا استعارہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی اور جدید نظام نے وہ تمام امکانات جو محبت، صداقت، حسن اور تخلیق کے لیے نازل کیے گئے تھے، انھیں طاقت، منافع اور لذت میں بدل دیا ہے۔ مشینہ یہاں ایک ایسی مخلوق ہے جو نچلے بالوں کے جنگل میں چھپی وحشت کی قیدی بن چکی ہے؛ یعنی وہ شعور کی بلندی سے کٹ کر جبلت کے اسفل درجے میں جا گری ہے۔ یہاں شاعر کا خطاب محض تنقیدی نہیں بلکہ اصلاحی بھی ہے۔ وہ مشینہ کو آسمان کی طرف دیکھنے کی تلقین کرتا ہے تو یہ محض رہنمائی ہی نہیں بلکہ اس کے اندر چھپی ہوئی انسانی بصیرت کو جھنجھوڑنے کی ایک کوشش ہے۔’’عقلِ معاد‘‘کا حوالہ بھی یہی بتاتا ہے کہ مشینہ کی تقلیب صرف اخلاقی بیداری اور ما بعد الطبیعیاتی شعور میں مضمر ہے نہ کہ کسی مادی یا تکنیکی تبدیلی میں۔ پہلی بار نظم میں مشینہ کے لیے ’’آدم ‘‘بننے کا امکان ابھرتا ہے، اور اگرچہ یہ امکان کمزور ہے، پھر بھی اس میں انسانیت کی نشانی موجود ہے جو ممکنہ نجات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
ساتواں منظر اس نظم کا سب سے زیادہ تہذیبی، جمالیاتی اور فکری طور پر پیچیدہ حصہ ہے۔ یہاں مشینہ جدید دنیا کی اس بے حسی کی علامت بن جاتی ہے جو انسانی دکھ، فن، تاریخ اور جمالیات کو محض قیمت اور افادیت کے پیمانے پر پرکھتی ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ کی ’’شانتی، شانتی، شانتی‘‘جو روحانی سکون اور اختتام کی علامت ہے، مشینہ کے لیے محض ایک صوتی تخاطب رہ جاتی ہے۔ وہ مڑ کر دیکھتی تو ہے مگر اس نظر میں ہمدردی نہیں، صرف لوہے کے غمزے ہیں۔ گرتے ہوئے پل کے نیچے بیٹھے روتے انسان کے مقابل، مشینہ کے لیے اہم مسئلہ دریا میں بہتا ہوا تیل ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مشینہ مکمل طور پر سرمایہ دارانہ تہذیب کا مجسم پیکر بن جاتی ہے۔ ’’گورنیکا‘‘ کے میورل کے نیچے کھڑا خاموش آدمی ہو یا ڈالی کے شاہکار پر برسنے والے قہقہے، یہ سب اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ جدید مشینی ذہن کے لیے فن، احتجاج، تاریخ اور المیہ محض بصری اشیا ہیں جن سے اس کا کوئی اخلاقی یا انسانی رشتہ باقی نہیں رہا۔ یہاں حیض کا عدم انجذاب نظم کا سب سے زیادہ چونکا دینے والااور تکلیف دہ استعارہ بن کر ظاہر ہوتا ہے جس سے باور آتا ہے کہ مشینہ اب فن سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ زندگی کے حیاتیاتی اور تجارتی پہلوؤں کو جذب کرے، نہ کہ انسانی درد، روحانی سوال یا اخلاقی سچائی کو۔ گویا مشینہ کے عہد میں فن، محبت، احتجاج اور اخلاق سب غیر ضروری ہو چکے ہیں، کیونکہ وہ منڈی اور طاقت کے بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتے۔
آٹھواں منظر اس نظم کا سب سے فلسفیانہ، تمثیلی اور نسبتاً امید افزا حصہ ہے۔ یہاں شاعر پہلی بار مشینہ سے براہِ راست یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ’’مصنوعی زندگی کا بٹن آف‘‘ کرے۔ یہ محض ٹیکنالوجی پر بندش عائد کرنے کی بات نہیں بلکہ مصنوعی شعور، جعلی ترقی اور جھوٹی ہمہ دائی سے دستبرداری کی دعوت ہے۔ حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس کا حوالہ علم، طاقت اور معجزے کی نئی تعبیر پیش کرتا ہے۔ یہاں معجزہ خدائی نہیں، انسانی ہنر اور علم کا موجب ہے اور یہ بات مشینہ کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مشین کے مقابلے میں انسان ہی تخلیقی ہو سکتا ہے اور حیرت آفرین بھی۔ یہاں ہوا کی پری کا پرندوں سے خطاب بھی حدودِ علم کا استعارہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں شاعر واضح کرتا ہے کہ ہر شے کو جان لینے، ہر حد کو توڑنے اور ہر راز کو فتح کرنے کی خواہش دراصل موت کی طرف دوڑ ہے۔ مشینہ کی اصل غلطی یہی ہے کہ وہ دانائی کے واہمے میں مبتلا ہے۔ اس واہمے کے مقابل ’’حیرت‘‘ کو زندگی کا حاصل قرار دینا نظم کا سب سے گہرا فلسفیانہ بیان ہے۔ حیرت وہ کیفیت ہے جو نہ ڈیٹا میں محفوظ ہو سکتی ہے، نہ اسے مشین پیدا کر سکتی ہے۔ لیکن یہی حیرت انسان کو بچا سکتی ہے، اگر وہ بچنا چاہے۔ اس منظر کے اختتام پر قیامت کا استعارہ محض مذہبی نہیں بلکہ تہذیبی ہے۔ زمین کی کہانی ختم ہو رہی ہے مگر شاعر کا یہ اصرار ہے کہ ذرا سی خوشی، ذرا سی حیرت اور ذرا سی انسانیت اب بھی ایک بڑی قوت بن سکتی ہے۔
اس تجزیے کے تناظر میں دیکھا جائے تو مشینہ کا استعارہ جاتی بیانیہ بتدریج خارجی تنقید سے داخلی کرب کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اور نظم ایک تہذیبی مرثیے سے آگے بڑھ کر فکری اور وجودی نوحہ بن جاتی ہے۔ غور کیجیے تو اس میں’’اسارت‘‘کا تصور پوری شدت کے ساتھ ابھرتا ہے جو نظم کے پورے بیانیے میں مسلسل سرایت کیے ہوئے ہے۔ یہ اسارت شعور اور جذبات تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ جسم اور جبلت کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ آگے چل کر یہی قید تاریخ اور نظام کی سطح پر ظاہر ہوتی ہے اور معنی کے زوال، وقت کی قید اور انسانی تجربے کی سطحیت بھی اسارت ہی کی صورتیں بن جاتی ہیں۔ سب سے گہری سطح لاادراک اسارت کی ہے جہاں قیدی کو اپنی قید کا شعور بھی نہیں رہتا۔ جب غلامی کو سہولت، تفریح اور ترقی کے نام پر قبول کر لیا جائے تو اس سے بڑی ذہنی اور فکری اسارت ممکن نہیں ہوتی۔ یہی اس نظم کا سب سے گہرا اور کرب ناک سچ ہے۔